Connect with us

Today News

ایران اور اسرائیل جنگ – ایکسپریس اردو

Published

on


برطانیہ کے درجنوں اراکین پارلیمنٹ اور لارڈز نے اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کرنے پر حکومت برطانیہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔

برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ 1916ء کے بالفور معاہدے کے نتائج آج سامنے آرہے ہیں اسی معاہدے سے 1948ء میں فلسطینیوں کا قتل عام ہوا ۔

نقبہ یعنی 1948کی عرب اسرائیل جنگ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی گئی اور اسرائیل وجود میں آیا ۔ خط میں 1917ء تا1948ء فلسطینیوں پر ہوئی تاریخی زیادتیوں کی مذمت کی گئی ہے ۔ خط پر 45سے زائد برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور لارڈ ز نے دستخط کیے ہیں۔

ارض فلسطین میں اسرائیل کا قیام ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت برطانوی سامراج نے کیا تھا۔ اسرائیل کا قیام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔

وہ اس طرح کہ انیسویں صدی کے شروع میں برطانوی سامراج کو یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ سرزمین حجاز ایران اور دیگر عرب علاقوں میں تیل اور کئی نایاب معدنیات کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں ۔ صنعتی ترقی اور دنیا پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے یہ بلیک گولڈ ناگزیر تھا۔

یہ ہے اعلان بالفور کا تاریخی پس منظر، ان قیمتی قدرتی وسائل کی چوکیداری اور ان کی حفاظت کے لیے اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا کیونکہ دوسری طرف سوویت یونین بھی نظریاتی طور پر بڑی تیزی سے عرب خطے میں اپنا اثرورسوخ پھیلا رہا تھا۔

ایرانی شہنشاہیت کا خاتمہ امریکا کے لیے ایک ناقابل تلافی سٹرٹیجک تباہی تھی۔ انقلاب کی ابتداء میں ہی ایرانی پارلیمنٹ کو بم سے اُڑا دیا گیا جس میں 73اراکین پارلیمنٹ شہید ہوئے ۔

جس میں صدر، وزیر اعظم ، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، سائنسدان اور مذہبی اسکالر کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا اور یہ حالات اسلامی انقلاب کے ابتدائی تین سالوں کے ہیں ۔ مزید یہ کہ 8سال تک عراق کو ایران پر حملہ آور رکھا اس کے پیچھے امریکا سمیت دنیا کے درجنوں ممالک تھے ۔

شہنشاہ ایران کے خلاف احتجاجی تحریک ابھی ابتدائی مراحل میں تھی کہ مغربی سامراجی میڈیا اور اس کے گماشتوں نے اسے مذہبی شیعہ تحریک کا نام دے دیا تاکہ باقی مسلم دنیا کو اس سے دور رکھا جائے ۔

اسلامی دنیا میں ایران کے خلاف تعصب پھیلانے کے لیے مذہب کا بھر پور استعمال کیا گیا ۔ لیکن اس کا توڑ امام خمینی نے یہ نکالا کہ انھوں نے مولانا مودودی سمیت اسلامی دنیا کے تمام اہم مذہبی رہنماؤں سے تعلق قائم کر لیا۔

پاکستان کا یہ مؤقف دراصل اس اصولی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت پاکستان ہمیشہ علاقائی اور عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات کو ترجیح دیتا رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں استحکام پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ لاکھوں پاکستانی محنت کش اس خطے کے مختلف ممالک میں کام کر رہے ہیں اور پاکستان کی معیشت کے لیے ان کی ترسیلات زر انتہائی اہم ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان کے سعودی عرب، ایران اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات بھی ہیں۔46برس بیت گئے امریکی سامراجی سازشوں حملوں کا سیلاب تھما نہیں بلکہ گذشتہ برس جون میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ 12روزہ جنگ میں ایران کی ایٹمی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے ۔

28فروری کو ایران پر موجودہ حملہ اسی جھوٹ کے ساتھ شروع کیا گیا۔ اصل مقصد رجیم چینج تھا۔ ان کو یقین تھا کہ جیسے ہی امریکا ، اسرائیل ایران پر حملہ کریں گے ایرانی قوم لاکھوں کی تعداد میں امریکا اسرائیل کی حمایت میں نکل آئے گئی جنھیں ایرانی مذہبی قیادت نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے ۔

لیکن ہوااس کے برعکس۔ دور نہ جائیں ابھی چند دن پیشتر لاکھوں ایرانی شہری پورے ایران خاص طور پر تہران اور اصفہان وغیرہ میں موجودہ مذہبی قیادت کی حمایت میں نکل آئے جس میں بے شمار خواتین بھی شامل تھیں ۔

جب کہ عین اسی وقت امریکی وزیر دفاع یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ ایرانی اعلی قیادت زیر زمین چھپ گئی ہے جب کہ ایرانی صدر سمیت تمام اعلی قیادت یوم القدس پر لاکھوں ایرانی عوام کی سڑکوں پر قیادت کر رہی تھی۔

ایران رجیم چینج تو نہ ہو سکی لیکن اس جنگ کے تباہ کن اثرات نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ اب امریکا اسرائیل ہر صورت اس جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔

لیکن ایران کسی صورت جنگ بندی پر آمادہ نہیں مگر اپنی شرائط پر ۔ واشنگٹن پوسٹ نے امریکا کی 18مختلف خفیہ ایجنسیوں کے حوالے سے بتایا کہ انھوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو 20فروری کو ہی بتا دیا تھا کہ ایران میں رجیم چینج ناممکن ہے اس کے باوجود ایران پر حملہ کردیاگیا ۔

موجودہ امریکا اسرائیل ایران جنگ بھیانک مرحلے میں داخل ہونے والی ہے 19مارچ اور اس کے بعد ۔ مارچ ، اپریل،مئی انتہائی خطرناک مہینے ہیں جو بہت کچھ تبدیل کرکے گزر جائیں گے ۔

سربراہان مملکت اور حکومتیں سخت خطرے میں ہیں ۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو بھی بدترین وقت میں داخل ہوگئے ہیں۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ اﷲ خیر کرے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سربیا میں 3000 سال قدیم اجتماعی قبر دریافت

Published

on



ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سربیا میں ایک اجتماعی قبر دریافت کی ہے جس میں درجنوں افراد کی باقیات پائی گئیں۔ یہ باقیات ’قدیم قتل و غارت‘ کے شواہد فراہم کرتی ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اجتماعی قبر میں پائی جانے والی لاشیں ان افراد کی ہیں جو قریب 3000 ہزار برس قبل گاؤں پر ہونے والے حملے سے بچنے کے لیے بھاگے تھے۔

محققین کی ٹیم نے یہ خوفناک دریافت سربیا میں گومالوا نامی علاے کا دوبارہ جائزہ لینے بعد کی۔ اس کے علاوہ ماہرین کو بلی چڑھائے گئے جانوروں کی باقیات بھی ملیں۔

آسٹرین آرکیالوجی انسٹیٹیوٹ کے ایک ماہر ماریو گیورینووچ (جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے) نے سائنس جرنل کو بتایا کہ یہ حیران کن دریافت ہے۔

یہ قبر سب سے پہلے 70 کی دہائی کی ابتداء میں دریافت کی گئی تھی جس کے متعلق محققین نے بتایا تھا کہ اس میں خواتین اور بچوں کی لاشیں تھیں جن کو 800 قبلِ مسیح کے قریب مارا گیا تھا۔

جبکہ جرنل نیچر ہومن بیہیویئر میں شائع ہونے والے مقالے میں، یونیورسٹی کالج ڈبلن سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے شریک مصنف ایسوسی ایٹ پروفیسر بیری مولائے کا کہنا تھا کہ ٹیم کو ایک ایسے گاؤں کی توقع تھی جو کسی بیماری کے سبب ختم ہو گیا ہو۔

تاہم، ان کا کہنا تھا کہ شواہد بتاتے ہیں کہ یہ ایک قدیم قتلِ عام تھا۔



Source link

Continue Reading

Today News

امارات کا آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کیلیے امریکی کاوشوں میں شامل ہونے پر غور

Published

on


متحدہ عرب امارات نے صدر ٹرمپ کی اپیل پر آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے امریکی قیادت میں ہونے والی عالمی اقدام میں شامل ہونے کا  عندیہ دیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ بیان متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے ایک آن لائن تقریب کے دوران دیا جو امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز کی جانب سے منعقد کی گئی تھی۔

آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انور قرقاش نے کہا کہ خلیج میں بڑھتی کشیدگی اور جہاز رانی کو لاحق خطرات کے باعث آبنائے ہرمز کی سکیورٹی عالمی سطح پر اہم مسئلہ بن چکی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا کی قیادت میں کسی بین الاقوامی بحری اقدام کا آغاز کیا جاتا ہے تو متحدہ عرب امارات اس میں شمولیت پر غور کر سکتا ہے۔

انور قرقاش نے مزید بتایا کہ کسی بھی سطح پر اس وقت متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ کشیدگی کے دوران خطے میں استحکام برقرار رکھنا اور عالمی تجارت کو متاثر ہونے سے بچانا ضروری ہے۔

خیال رہے کہ دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ جہاں سے عالمی تیل منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔خلیج کے بیشتر تیل برآمد کرنے والے ممالک اسی بحری راستے پر انحصار کرتے ہیں۔

ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کیا ہوا ہے اور یہاں سے گزرنے والے غیرملکی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جس پر صدر ٹرمپ نے نیٹو ممالک سے اپیل کی تھی کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے اپنے بحری جہاز بھیجیں تاکہ ایران کیخلاف امریکی جنگ میں کام آئیں تاہم کسی ملک نے آمادگی ظاہر نہیں کی۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

پٹرولیم مصنوعات کا بڑھتا قومی بوجھ

Published

on


پٹرولیم مصنوعات کی مہنگی قیمتوں کے بوجھ تلے عوام پر وفاقی حکومت نے یہ مہربانی کی اور عالمی منڈی میں اضافے کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید نہ بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب حکومت کے مخالف سیاسی حلقے حکومت کی مسلسل مذمت کرتے آ رہے ہیں کہ پاکستانی حکومت نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے فاضل ذخیرے کی موجودگی کے دعوے کیے تھے اور اس پر پہلے دس روپے پھر 55 روپے لیٹر اضافہ ناجائز طور کیا۔

کیونکہ پرانے نرخوں پر موجود پٹرولیم مصنوعات کی اچانک قیمتوں میں اضافے کا کوئی جواز نہیں تھا اور اضافے کا جواز پرانے مال پر نہیں بلکہ مہنگے مال کے منگوانے پر بنتا ہے اور حکومت نے لیوی میں بھی 20 روپے اضافہ کر کے خود اپنی آمدنی بڑھائی ہے جب کہ پڑوسی ملک بھارت نے قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جہاں کھپت پاکستان سے کہیں زیادہ مگر پٹرولیم مصنوعات سستی ہیں۔

ملک میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد ضرورت سے بہت زیادہ اور مہنگی گاڑیاں بھی سرکاری محکموں میں ضرورت سے زیادہ ہیں اور وفاقی اور صوبائی تمام حکومتیں ہر محکمے میں نہ صرف غیر ضروری گاڑیاں فراہم کرتی آئی ہیں بلکہ سیاسی حکومتیں اپنے مفاد کے لیے بیورو کریسی کو مہنگی گاڑیاں خرید کر نواز چکی ہیں جن پر سرکاری پٹرول بے انتہا استعمال ہوتا آ رہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے وفاقی محکموں کے پاس جتنی سرکاری گاڑیاں ہیں ، یورپ کے کئی چھوٹے ملک ایسی ہوں گے، جن کے پورے ملک میں اتنی بڑی تعداد میں سرکاری گاڑیاں نہیں ہوں گی حالانکہ پاکستان ایک غریب اور مقروض ملک ہے ۔

 سیلانی ٹرسٹ کے بانی و چیئرمین مولانا محمد بشیر فاروق قادری نے حکومت وقت کا شکریہ ادا کیا ہے اور متوقع توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے زیادہ تعداد میں گاڑیاں رکھنے والے گھرانوں کے لیے پٹرول کوٹہ نافذ کرنے اورکار سواروں پر دفتری اوقات میں اکیلے سفر پر پابندی کی تجویز دی ہے۔

انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ وزرا اور ماہرین معاشیات کے ساتھ بیٹھ کر ان کی تجاویز کا جائزہ لیں اور پاکستان کو مزید مقروض ہونے سے بچائیں۔

انھوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کرنے کا وزیر اعظم کا فیصلہ ان حالات میں بہتر قدم ہے کیونکہ 55 روپے لیٹر حالیہ اضافے نے پہلے ہی غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے اور مہنگا پٹرول اسی تناسب سے غریب عوام پر ڈال دیا گیا ہے ۔

حکومت اشرافیہ کے لیے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرے خواہ وہ سرکاری افسران ہوں یا تاجر و صنعت کار خاص طور پر زیادہ تعداد میں گاڑیاں رکھنے والوں کے پٹرول کوٹے کو محدود کیا جائے اور سرکاری محکموں میں دستیاب ڈیٹا کی مدد سے ملک میں کوٹہ سسٹم بنایا اور فوری نافذ کیا جائے۔

ملک کے ایک بڑے فلاحی ادارے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ جو عالمی سطح پر خدمات انجام دے رہا ہے کہ چیئرمین مولانا بشیر فاروق قادری نے جو مشورہ دیا ہے وہ ایک بہترین اور بروقت مشورہ ہے۔

مگر یقین ہے کہ حکومت اس پر عمل کرے گی اور نہ وزیروں کی فوج اور سرکاری ماہرین معیشت ان تجاویز کی حمایت کریں گے کیونکہ مولانا کی تجویز سے حکومت، وزیر مشیر اور اعلیٰ سرکاری افسران خود متاثر ہوں گے اور یہ سب کبھی نہیں چاہیں گے کہ انھیں ملنے والے سرکاری مفادات متاثر ہوں۔

بلکہ وہ تو یہ چاہیں گے کہ ان کی سرکاری مراعات میں اضافہ ہو اور عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کے مزید اضافے کا بوجھ صرف عوام پر ڈالا جائے جو پٹرولیم مصنوعات، بجلی و گیس کے سرکاری بوجھ کو برداشت کرنے کے عادی ہو چکے ہیں اور وہ حکومت کا ہر فیصلہ مانیں گے۔

حکومت اور اس کے سیاسی و سرکاری حکام جانتے ہیں کہ غریب عوام مہنگائی کا بوجھ مجبوری میں برداشت کر رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس سرکاری احکامات ماننے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے اور وہ عشروں سے نام نہاد جمہوری حکومتوں کے فیصلے تسلیم کرتے آ رہے ہیں اور یہ وہی سویلین حکومتیں ہیں جن کے لیے کہا جاتا ہے کہ یہ عوام نے خود منتخب کی ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

 پاکستان میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد زیادہ ہے جن پر روزانہ لاکھوں لیٹر پٹرول استعمال ہوتا ہے اور بڑی تعداد میں پٹرول غیر سرکاری طور پر ضایع کیا جا رہا ہے۔

سرکاری گاڑیاں وزیر و مشیر اور سرکاری افسران ہی نہیں بلکہ ان کے اہل خانہ، دوست اور بچے تک استعمال کرتے ہیں مگر انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ سرکاری پٹرول کی پرچیاں رشوت کے طور پر بھی دی جاتی ہیں جب کہ سرکاری گاڑیوں کا غیر قانونی استعمال عام ہے۔

حکومتی ذمے دار اور سرکاری افسران سرکاری گاڑیوں اور سرکاری پٹرول پر عیاشی اور غیر سرکاری استعمال کرتے ہیں جس کا بوجھ ملک کے عوام قومی بوجھ سمجھ کر برداشت کر رہے ہیں اور حکومتوں نے پٹرولیم مصنوعات کو بجلی و گیس کی طرح اپنی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بنا رکھا ہے۔

وزیر اعظم نے کٹوتیوں کا جو فیصلہ کیا ہے وہ دو ماہ کے لیے ہے جب کہ سب سے زیادہ ضرورت سرکاری گاڑیوں کی تعداد کم کرنے اور سرکاری پٹرول بچانے کی ہے جس پر عمل سے ہی عوام پر پڑتا ہوا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending