Connect with us

Today News

خدا کا بندہ خدا سے ملا، اسرائیلی حملے میں علی لاریجانی شہید ہو گئے

Published

on


موجودہ صورتحال میں ایران کی طاقتور سیاسی و سکیورٹی شخصیت علی لاریجانی اسرائیل کے ہونے والے فضائی حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ جبکہ ایران کی اندرونی سیکیورٹی کے اہم کمانڈر اور بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی اسرائیل کے حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔  

ایرانی میڈیا نے بھی ان کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے جبکہ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی ریجانی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی ایک پوسٹ کی گئی ہے جس میں ان کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ، خدا کا بندا خدا سے ملا۔

اسرائیل ڈیفنس فورسز غیر ملکی میڈیا کے مطابق تہران میں ایک خفیہ ٹھکانے پر اسرائیلی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے علی لاریجانی کو نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی حکام نے انہیں ایران کا ڈی فیکٹو لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد عملی طور پر قیادت سنبھال چکے تھے، اسرائیل نے ان کی شہادت کو ایرانی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے منصوبے کا اہم حصہ قرار دیا تھا۔

علاوہ ازیں اسرائیل کے ایک اور علیحدہ حملے میں ایران کی بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کو بھی شہید کر دیا گیا، جو اندرونی سکیورٹی کے اہم ترین کمانڈرز میں شمار ہوتے تھے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایرانی پاسداران انقلاب کا علی لاریجانی اور دیگر شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان

Published

on


ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے علی لاریجانی اور دیگر شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا دوٹوک اعلان کر دیا ہے جس کے بعد خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔

ترجمان کے مطابق لاریجانی کا خون ایرانی عزت اور قومی بیداری کی علامت بن چکا ہے اور صہیونی طاقتوں کے خلاف حوصلہ مزید بلند کر رہا ہے۔

پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ شہید علی لاریجانی اور دیگر شہدا کی قربانی کو ہرگز فراموش نہیں کیا جائے گا اور ان کے خون کا حساب ضرور لیا جائے گا۔

اس بیان کے ساتھ ہی ایران نے اسرائیل کے خلاف ایک اور بڑا وار کیا، جس کے بعد تل ابیب اور یروشلم سمیت کئی علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔

دوسری جانب ایران نے اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں بھی ڈرون کارروائیاں کیں، جبکہ بغداد میں ایئرپورٹ کے قریب امریکی سفارتی مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ان حملوں نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پھیلنے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے شہید علی لاریجانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نمایاں اور قیمتی شخصیت تھے، جنہوں نے مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کردار ادا کیا۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آذربائیجان کے اپنے ہم منصب سے رابطہ کیا اور واضح کیا کہ دیگر ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈے ایران کے نزدیک جائز اہداف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی کارروائیاں صرف امریکی تنصیبات کے خلاف ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

صدر مملکت نے یوم پاکستان کی پریڈ اور تقریبات منسوخ کرنے کی منظوری دے دی

Published

on



صدر مملکت نے یومِ پاکستان 23 مارچ 2026 کی پریڈ اور تمام متعلقہ تقریبات نہ کرنے کی سمری کی منظوری دے دی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت نے کفایت شعاری اور توانائی بچت اقدامات کے تحت 23 مارچ کی پریڈ اور تمام تقریبات منسوخ کرنے کی سفارش کی تھی۔

صدر مملکت نے حکومت کی جانب سے بھیجی گئی سمری کو منظور کردیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ قومی وسائل کا محتاط اور ذمہ دارانہ استعمال ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔

دوسری جانب یومِ پاکستان کے موقع پر منعقد ہونے والی اعزازات کی تقریب اب 28 اپریل 2026 کو منعقد ہوگی۔



Source link

Continue Reading

Today News

سربیا میں 3000 سال قدیم اجتماعی قبر دریافت

Published

on



ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سربیا میں ایک اجتماعی قبر دریافت کی ہے جس میں درجنوں افراد کی باقیات پائی گئیں۔ یہ باقیات ’قدیم قتل و غارت‘ کے شواہد فراہم کرتی ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اجتماعی قبر میں پائی جانے والی لاشیں ان افراد کی ہیں جو قریب 3000 ہزار برس قبل گاؤں پر ہونے والے حملے سے بچنے کے لیے بھاگے تھے۔

محققین کی ٹیم نے یہ خوفناک دریافت سربیا میں گومالوا نامی علاے کا دوبارہ جائزہ لینے بعد کی۔ اس کے علاوہ ماہرین کو بلی چڑھائے گئے جانوروں کی باقیات بھی ملیں۔

آسٹرین آرکیالوجی انسٹیٹیوٹ کے ایک ماہر ماریو گیورینووچ (جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے) نے سائنس جرنل کو بتایا کہ یہ حیران کن دریافت ہے۔

یہ قبر سب سے پہلے 70 کی دہائی کی ابتداء میں دریافت کی گئی تھی جس کے متعلق محققین نے بتایا تھا کہ اس میں خواتین اور بچوں کی لاشیں تھیں جن کو 800 قبلِ مسیح کے قریب مارا گیا تھا۔

جبکہ جرنل نیچر ہومن بیہیویئر میں شائع ہونے والے مقالے میں، یونیورسٹی کالج ڈبلن سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے شریک مصنف ایسوسی ایٹ پروفیسر بیری مولائے کا کہنا تھا کہ ٹیم کو ایک ایسے گاؤں کی توقع تھی جو کسی بیماری کے سبب ختم ہو گیا ہو۔

تاہم، ان کا کہنا تھا کہ شواہد بتاتے ہیں کہ یہ ایک قدیم قتلِ عام تھا۔



Source link

Continue Reading

Trending