Today News
جنگ سے کب کسی کا فائدہ ہوا ہے؟
انسانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے اور وہ ہے جنگ۔ تہذیبوں کے آغاز سے لے کر آج کے جدید دور تک انسان نے ترقی بھی کی اور تباہی کے طریقے بھی ایجاد کیے۔
بظاہر جنگیں مختلف وجوہ کی بنا پر لڑی جاتی ہیں،کبھی سرحدی تنازعات،کبھی نظریاتی اختلافات کبھی مذہب اورکبھی قومی مفادات کے نام پر۔ مگر جب ان جنگوں کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے جنگ واقعی کیوں کرائی جاتی ہے اور آخر اس سے فائدہ کس کو ہوتا ہے؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنگ عموماً عوام کی خواہش نہیں ہوتی۔ عام انسان امن، روزگار، تعلیم اور بہتر زندگی چاہتا ہے۔ جنگ کا فیصلہ زیادہ تر ریاستی قیادت طاقتور حلقوں یا عالمی طاقتوں کے مفادات کے تحت ہوتا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جنگوں کے پسِ پردہ اکثر معاشی سیاسی اور جغرافیائی مفادات ہوتے ہیں جنہیں عوام کے سامنے کسی اور شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔
جنگ کی ایک بڑی وجہ وسائل پر قبضہ ہے۔ دنیا کے کئی خطوں میں تیل، گیس، معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل موجود ہیں۔ طاقتور ممالک یا گروہ ان وسائل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے براہِ راست یا بالواسطہ جنگوں کو ہوا دیتے ہیں۔
جب کسی خطے میں وسائل کی اہمیت بڑھتی ہے تو وہاں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو جاتا ہے اور اکثر یہی عدم استحکام جنگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
اس طرح وسائل پرکنٹرول حاصل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری اہم وجہ سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ ہے۔ عالمی سیاست میں ہر بڑی طاقت اپنی برتری قائم رکھنا چاہتی ہے۔
اس مقصد کے لیے وہ اپنے اتحادیوں کو مضبوط کرتی ہے اور مخالف قوتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
بعض اوقات یہ کشمکش براہِ راست جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ سرد جنگ کے دور میں دنیا نے دیکھا کہ کس طرح بڑی طاقتیں مختلف خطوں میں پراکسی جنگوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھاتی رہیں۔
جنگ کی ایک اور وجہ قوم پرستی اور جذباتی بیانیہ بھی ہوتا ہے۔ بعض اوقات حکومتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے قوم پرستی کو ابھارتی ہیں۔
میڈیا اور سیاسی بیانات کے ذریعے ایسا ماحول بنایا جاتا ہے کہ دشمن کے خلاف جنگ کو قومی فریضہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس طرح عوام جذباتی طور پر جنگ کی حمایت کرنے لگتے ہیں حالانکہ اصل فیصلے کہیں اور کیے جا رہے ہوتے ہیں۔
اگر یہ دیکھا جائے کہ جنگ سے فائدہ کس کو ہوتا ہے تو اس کا جواب زیادہ پیچیدہ نہیں ہے۔ جنگ سے سب سے زیادہ فائدہ اسلحہ بنانے والی صنعتوں کو ہوتا ہے۔ دنیا میں اسلحے کی صنعت ایک بہت بڑی معیشت بن چکی ہے۔
جب کہیں جنگ یا کشیدگی بڑھتی ہے تو ہتھیاروں کی طلب بھی بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً اس صنعت سے وابستہ کمپنیاں اور طاقتور معاشی حلقے اربوں ڈالر کماتے ہیں۔اس کے علاوہ بعض سیاسی قیادتیں بھی جنگ سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔
جب کسی ملک میں اندرونی مسائل بڑھ جاتے ہیں جیسے معاشی بحران سیاسی عدم استحکام یا عوامی ناراضگی تو بعض حکومتیں بیرونی دشمن کا بیانیہ بنا کر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دیتی ہیں۔ اس حکمت عملی کو تاریخ میں کئی بار استعمال کیا گیا ہے۔ جنگی فضا پیدا ہونے سے حکومت کو وقتی طور پر عوامی حمایت بھی مل جاتی ہے۔
جنگ کا ایک فائدہ جغرافیائی اور اسٹرٹیجک کنٹرول کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے، اگر کوئی طاقتور ملک کسی اہم خطے پر کنٹرول حاصل کر لے تو اسے عالمی سیاست میں زیادہ طاقت مل جاتی ہے۔
سمندری راستوں معدنی وسائل یا اہم تجارتی گزرگاہوں پر قبضہ عالمی طاقتوں کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔ اس لیے بعض جنگیں دراصل ان علاقوں کے کنٹرول کے لیے لڑی جاتی ہیں۔تاہم جنگ کے نقصانات ہمیشہ عام انسان کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔
جنگ کے میدان میں جان دینے والے زیادہ تر عام سپاہی ہوتے ہیں جو اکثر غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان کے خاندان جنگ کے بعد بھی صدمے اور مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ شہروں کی تباہی معیشت کی بربادی مہاجرین کا بحران اور سماجی انتشار جنگ کے وہ اثرات ہیں جو نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔
جنگ کا سب سے بڑا نقصان انسانی جانوں کا ضیاع ہے۔ ہر جنگ ہزاروں بلکہ لاکھوں انسانوں کی جان لے لیتی ہے۔
اس کے علاوہ تعلیم، صحت اور ترقی کے وسائل بھی جنگی اخراجات میں صرف ہو جاتے ہیں، اگر یہی وسائل عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کیے جائیں تو دنیا کہیں زیادہ پرامن اور خوشحال ہو سکتی ہے۔
جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ سماج کی نفسیات پر بھی گہرے اثرات چھوڑتی ہیں۔ نفرت، عدم برداشت اور خوف کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔
بچے اور نوجوان ایسے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں جہاں تشدد کو معمول سمجھا جانے لگتا ہے۔ اس طرح جنگ کے اثرات صرف موجودہ نسل ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
آج کے دور میں جب دنیا سائنسی ترقی اور عالمی رابطوں کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جنگ کی ضرورت اور بھی کم ہو جانی چاہیے۔ مگر بدقسمتی سے طاقت مفادات اور سیاست کا کھیل اب بھی جاری ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری مکالمہ اور تعاون کو ترجیح دے۔حقیقت یہ ہے کہ جنگ کبھی بھی مستقل حل فراہم نہیں کرتی۔
جنگ عارضی طور پر کسی مسئلے کو دبا سکتی ہے مگر اس کے نتیجے میں نئے مسائل جنم لے لیتے ہیں۔ پائیدار امن صرف انصاف برابری اور باہمی احترام کے اصولوں پر ہی قائم ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جنگ کا اصل فائدہ چند طاقتور حلقوں کو ہوتا ہے جب کہ اس کی قیمت عام انسان ادا کرتا ہے۔
اس لیے انسانیت کی بقا اسی میں ہے کہ ہم جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دیں اور اختلافات کو مکالمے اور سمجھداری سے حل کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ ایک پرامن دنیا ہی وہ خواب ہے جس میں انسان اپنی اصل صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
Today News
60 سیکنڈ میں دشمن کے 5 طیارے تباہ کرنے والے پائلٹ ایم ایم عالم کی آج 13 ویں برسی
کراچی:
پاک فضائیہ کے عظیم ہیرو ایم ایم عالم کی 13ویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
قوم اپنے اس جری سپوت کو خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہے جنہوں نے 1965 کی پاک-بھارت جنگ میں ایک ناقابلِ یقین کارنامہ سرانجام دے کر تاریخ رقم کی۔
جنگ ستمبر 1965 کے دوران سرگودھا کے محاذ پر ایم ایم عالم نے دشمن کے 5 بھارتی ہنٹر طیارے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں مار گرائے، جن میں سے 4 طیارے صرف 30 سیکنڈ کے اندر تباہ کیے گئے۔
یہ کارنامہ آج بھی جنگی ہوابازی کی تاریخ میں ایک منفرد عالمی ریکارڈ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
اس تاریخی مشن کے دوران وہ ایف 86 سیبر طیارہ اڑا رہے تھے۔ جنگ کے دوران مجموعی طور پر انہوں نے 11 دشمن طیاروں کو نشانہ بنایا، جن میں سے 9 مکمل تباہ جبکہ 2 کو جزوی نقصان پہنچا۔
ان کی اس شاندار کارکردگی کے اعتراف میں ان کے طیارے پر 11 بھارتی پرچم نمایاں کیے گئے تھے۔
ایم ایم عالم کی کامیابی کے پیچھے ان کی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ وطن سے بے پناہ محبت اور جذبۂ حب الوطنی کارفرما تھا جس نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔
ان کی جرات اور بہادری کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں ملک کے تیسرے بڑے فوجی اعزاز “ستارۂ جرأت” سے نوازا۔
ایم ایم عالم 18 مارچ 2013 کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے انہیں پی اے ایف بیس مسرور (ماڑی پور) کے شہداء قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
آج ان کی برسی کے موقع پر ملک بھر میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جہاں انہیں ایک عظیم قومی ہیرو کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے، جن کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔
Today News
اسرائیل نے ایران اعلیٰ قیادت کو قتل کرنے کیلیے اپنی فوج کو’لائسنس ٹو کِل‘دیدیا
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے ایران اور حزب اللہ کی اعلیٰ قیادت کو قتل کرنے کے لیے فوج کو کھلی چھوٹی دیدی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیراعظم اور وزیر دفاع نے فوج کو غیر معمولی اختیارات دیتے ہوئے ہدایت جاری کی ہے کہ جہاں بھی انٹیلی جنس معلومات دستیاب ہوں وہاں اجازت لیے بغیر فوری طور پر ایرانی یا حزب اللہ کے اعلیٰ رہنماؤں کو نشانہ بنایا جائے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق اس نئی ہدایت کے تحت فوج کو اب ایسے اہداف پر حملے کے لیے معمول کے سیاسی اور عسکری منظوری کے مراحل کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایران کے خلاف جاری امریکی-اسرائیلی فضائی مہم کے دوران آپریشنل کارروائیوں میں تاخیر کو روکنا ہے تاکہ کسی اچھے نادر موقع کو ضائع نہ کیا جائے۔
خیال رہے کہ حالیہ ہدایت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے ایران کی اہم اور طاقتور ترین شخصیات چیف سیکیورٹی انچارج علی لاریجانی اور بسیج ملیشیا کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے شہر شیراز اور دیگر علاقوں میں ہونے والے ان حملوں میں ایران کے نیم فوجی دستے بسیج فورس کے کئی کمانڈرز اور بڑی تعداد میں اہلکار بھی مارے گئے۔
اسرائیلی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں بھی بسیج فورس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ جس نے حکومت کے مخالف مظاہروں کو طاقت کے ذریعے سختی سے کچلا تھا۔
وزیراعظم نیتن یاہو اس سے پہلے بھی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کا مقصد ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن میں ایرانی عوام حکومت کے خلاف بغاوت کر سکیں۔
Today News
ایرانی پاسداران انقلاب کا علی لاریجانی اور دیگر شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے علی لاریجانی اور دیگر شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا دوٹوک اعلان کر دیا ہے جس کے بعد خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق لاریجانی کا خون ایرانی عزت اور قومی بیداری کی علامت بن چکا ہے اور صہیونی طاقتوں کے خلاف حوصلہ مزید بلند کر رہا ہے۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ شہید علی لاریجانی اور دیگر شہدا کی قربانی کو ہرگز فراموش نہیں کیا جائے گا اور ان کے خون کا حساب ضرور لیا جائے گا۔
اس بیان کے ساتھ ہی ایران نے اسرائیل کے خلاف ایک اور بڑا وار کیا، جس کے بعد تل ابیب اور یروشلم سمیت کئی علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
دوسری جانب ایران نے اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں بھی ڈرون کارروائیاں کیں، جبکہ بغداد میں ایئرپورٹ کے قریب امریکی سفارتی مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ان حملوں نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پھیلنے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے شہید علی لاریجانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نمایاں اور قیمتی شخصیت تھے، جنہوں نے مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کردار ادا کیا۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آذربائیجان کے اپنے ہم منصب سے رابطہ کیا اور واضح کیا کہ دیگر ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈے ایران کے نزدیک جائز اہداف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی کارروائیاں صرف امریکی تنصیبات کے خلاف ہیں۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Today News2 weeks ago
prime minister contact Lebanon counterpart solidarity against israeli aggression
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income
-
Business2 weeks ago
Global markets turmoil intensifies on Iran war – Business