Today News
پرعزم – ایکسپریس اردو
جی خوش ہوگیا ایک خصوصی کا بیان پڑھ کر کہ صوبائی حکومت صحافیوں کی فلاح وبہبود کے لیے ’’پرعزم‘‘ ہے، اگرچہ ہمارے اپنے لیے اس میں کوئی خوش خبری نہیں ہے کیوں کہ جس طرح تمام عمر ’’غریب‘‘ ہونے کے لیے ترستے رہے ہیں اورغربت کی سعادت کبھی نہ پاسکے۔
اسی طرح صحافی ہونے کے لیے بھی زندگی بھرترستے رہے ہیں لیکن صحافی ہونے کا مقام بلند بھی نہیں پاسکے ہیں، اس لیے دونوں سعادتوں کے لیے دل پر پتھر بلکہ چٹان رکھ چکے ہیں کہ
شفا اپنی قسمت میں تھی ہی نہیں
کہ مقدور بھر تو دوا کرچکے
بات اگر انصاف کی ہوتی اورتحریک کی نہ ہوتی تو میرٹ اورسینارٹی کی بنیاد پردونوں سعادتیں ہمیں مل جاناچاہیے تھیں لیکن کچھ تو کیا؟ کسی کچھ کے کچھ بھی نہ بن پائے، اس لیے صبر کو وظیفہ کرچکے ہیں۔ ویسے اس کے سوا ہم اورکربھی کیا سکتے ہیں ۔
اس عشق کی تلافی مکافات دیکھنا
رونے کی حسرتیں ہیں جب آنسو نہیں رہے
دراصل اس میں تھوڑی سی کنفیوژن ہے، ہمارے اورآپ کی سوچ کے درمیان ۔ شاید آپ اسے عام غربت اورصحافت سمجھ رہے ہیں لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔
ہم سرکاری طورپر رجسٹرڈ اورغربت کی بات کر رہے ہیں ورنہ وہ تو کسی اندھے ،گونگے اورلولے لنگڑے کو پتہ ہے کہ عوام بھی اورساتھ ہی کالانعام بھی ہیں۔
خیر چھوڑئیے! یہ رونا دھونا تو ہمارا روز کاکام ہے، بات ’’پرعزم‘‘ کی کررہے ہیں جو صوبائی حکومت صحافیوں کے بارے میں ہوچکی ہے۔
یہ خوشی بھی کچھ کم نہیں ہے کہ اپنی برادری والوں کا تو کچھ بھلا ہوجائے گا، وہ بھلے ہی ہمیں اپنا نہ سمجھیں، ہم تو ان کو اپنا سمجھتے ہیں کہ کچھ بھی سہی ۔ کم زوربلکہ نہ ہونے کے برابر سہی اپنی برادری سے تعلق تو ہے یا رہا ہے
گو واں نہیں یہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
تشویش اگر ہے تو وہ اس لفظ ’’پرعزم‘‘ سے ہے، یہ ان الفاظ میں جو بیانوں کے بیانوں کا جزو اعظم ہوتے ہیں جیسے پہلی ترجیح ، جنگی بنیادوں پر، ترجیحی بنیادوں پر ، سنجیدگی کے ساتھ ، میرٹ کی بنیادپر ، بانی کے وژن کے مطابق۔ ایک نیا اضافہ ہے ’’پرعزم‘‘ ۔کیاخوبصورت للچانے والا اورمنہ میں پانی بھر لانے والا لفظ’’پرعزم‘‘ ہے۔
اگرچہ اس کے ساتھ تھوڑا ڈاؤٹ بھی ہے بلکہ اب یہ ڈاؤٹ بڑا بھی ہوتا جارہا ہے کیوں کہ ہردوسرے سرکاری بیان میں کوئی نہ کوئی تو کسی نہ کسی طرح ’’پرعزم‘‘ ہوتا ہے اوروزیراعلیٰ اور ان کے وزیر تو ’’سینئر پرعزم‘‘ ٹھہرے ۔
سارے وزیر کسی نہ کسی کام کے لیے’’ پرعزم‘‘ اورسارے کے سارے مشیران کرام اورمعاونین عظام بھی ’’پرعزم‘‘ بلکہ بیانان کے تسلسل کو پرعزم اعظم ہوچکے ہیں اورمنتخب نمائندے۔
تو۔۔ ’’پر‘‘کو انگریزی میں فل کہتے ہیں جس میں پر سے زیادہ شدت سے اکثر لوگ اتنے ’’فل اورپر‘‘ہوجاتے ہیں کہ چورن اورسانس کے لیے بھی جگہ نہیں رہتی۔
ایک ’’بزرگ‘‘ کاتاریخی واقعہ ہے کہ اب اس ’’پر اورفل‘‘ ہونے کی وجہ سے وہ ’’گزرگ ‘‘بھی ہوگئے تھے، دراصل ان بزرگ کے اندر میٹر نہیں تھا ، شاید زیادہ بوجھ یارف استعمال سے ڈیڈ ہوچکا تھا چنانچہ جب وہ کسی چہلم یا برسی کی ’’وارادات‘‘ پر جاتے تھے اورایک شاگرد کو خصوصی طورپر ساتھ لے جاتے تھے تاکہ انہیں بروقت سرخ جھنڈی دکھا کر فل اسٹاپ کااشارہ دے دیں ۔
اب ان کی بدقسمتی یاعوام کی خوش قسمتی سے ایک مرتبہ وہ ایک بہت مرغن چرغن واردات پر گئے تو وہاں انتظام یہ تھا کہ خصوصیوں کے لیے الگ اورعوامیوں کے لیے الگ الگ انتظام تھا اوروہ شاگرد یا میٹر اس سے جدا ہوگیا۔
بزرگ دسترخوان پر بیٹھ گئے تو دستر خوان کے لوازمات اورشمولات دیکھ کر سب کچھ بھول گئے اورمیدان کارزار میں اتر گئے ، حملے پر حملے، فتوحات پر فتوحات اورمال غنیمت پر مال غنیمت ، چرتے چلے گئے ، بڑھتے چلے گئے، ٹھونستے چلے گئے۔
وہ شاگرد اپنا کام ختم کرکے استاد کی خبر لینے آئے تو باقی سارے لوگ اٹھ چکے تھے، صرف استاد اکیلے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ اس نے بلایا چلایا لیکن استاد نے کوئی رسپانس نہیں دیا ۔
پانی لاکر منہ سے برتن لگایا تو بھی کچھ نہ ہوا ، اس نے جیب سے چورن کی شیشی نکالی جو اسی ہنگامی حالات کے لیے جیب میں رکھتا تھا، چورن کھلانا چاہا، تب اتنے میں کچھ اورلوگ بھی آگئے، جن میں استاد جی کو جاننے والا ایک بزرگوار بھی تھا، اس نے شاگرد کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، فضول ہے برخوردار، میں اسے جانتا ہوں، چورن تو کیا اس نے سانس کے لیے بھی جگہ نہیں چھوڑی ہوگی، اس لیے ’’پھر‘‘ ہوچکے ہیں۔
یہی ہوتا ہے ہمیشہ زیادہ ’’پر‘‘ ہونے کے کا کہ سانس کی ’’ھ‘‘ بھی ’’پر‘‘ میں داخل ہوکر اسے ’’پھر‘‘ بنا دیتی ہے، اس لیے ہمارا ان ’’پرعزموں‘‘ کو بھی مشورہ ہے کہ ذراسنھبل کے پر عزم ہوجائیے گا کہ’’ پر‘‘ اور ’’پھر‘‘ میں صرف دوچشمی (ھ) کافرق ہے یا ایک آہ کا ۔
کھلے گا ترک تعلق کے بعد باب فنا
یہ ایک آہ کا پردہ بھی اب ہٹا ہی دو
ہمیں ان پرعزم جنابان عالی کی نیت پر کوئی شک نہیں ہے، جب وہ کہتے ہیں کہ پرعزم تو پرعزم ہی ہوں گے لیکن مسلہ یہ ہے کہ یہ کوئی آخری بار تو نہیں، سلسلہ اب بھی پہلی ترجیحات کا ، ترحیجی بنیادوں کا، جنگی بنیادوں پر تعمیر کا ، اسپرٹ آف میرٹ ، کام اور بانی کے وژن کا بھی پرعزم ہونے کا ہے۔ کیاپتہ آگے کچھ اورنہ نکل آئے ۔
یہاںپر ایک چھوٹی سی تشویش نے دم ہلانا شروع کردی ہے۔ نانی کی آنکھ کو خدا صحیح سلامت رکھے، کچھ تشویشناک چیزیں آرہی ہیں ورنہ پھر ’’وژن‘‘ کاکیابنے گا ، خدا ہر بری نظر سے بچائے بلکہ اچھی نظروں سے بھی۔ بہرحال ہمارا اورتو کچھ نہیں ہے، بس صرف دعا ہے اوروہ ہم دیتے رہیں گے ، بانی کو بھی، وژن کو بھی اورپراعظموں کو بھی ۔
Today News
کراچی میں ہتھوڑے کے وار اور فائرنگ کے واقعات میں خاتون سمیت 3 افراد زخمی
شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور ہتھوڑے کے وار سے خاتون سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے جس میں ایک شخص ڈاکوؤں کی فائرنگ کا نشانہ بنا۔
تفصیلات کے مطابق کھوکھراپار ڈھائی نمبر میں قائم ایل پی جی گیس شاپ پر موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے دوران فائرنگ کر کے دکاندار کو ٹانگ پر گولی مار کر زخمی کیا اور دکان سے نقدی اور موبائل فون چھین کر فرار ہوگئے۔
مضروب کو فوری طبی امداد کے لیے جناح اسپتال لیجایا گیا جہاں اس کی شناخت 45 سالہ ریاست کے نام سے کی گئی۔
شرافی گوٹھ کے علاقے میں قائم الجنت ریسٹورنٹ گلی نمبر ایک میں فائرنگ سے 24 سالہ اعجاز خان نامی نوجوان زخمی ہوگیا جسے فوری طبی امداد کے لیے جناح اسپتال لیجایا گیا۔
شرافی گوٹھ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ ذاتی جھگڑے کے دوران پیش آیا ہے کی مزید چھان بین کی جا رہی ہے۔
دریں اثنا الفلاح کے علاقے عظیم پورہ نیئر پارک کے قریب گھر میں جھگڑے کے دوران ہتھوڑے کے وار سے زینب نامی خاتون زخمی ہوگئی۔
الفلاح پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ گھر کے اندر پیش آیا ہے جس میں شوہر ابرار نے جھگڑے کے دوران بیوی کو ہتھوڑے کے وار سے زخمی کیا ہے جسے طبی امداد کے لیے اسپتال لیجایا گیا اس حوالے سے پولیس مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔
Source link
Today News
بارش کے باعث لاہور وائٹس کا خواب ادھورا رہ گیا، ایبٹ آباد فائنل میں پہنچ گیا
پشاور:
پشاور میں کھیلے جانے والے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں ڈرامائی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب بارش کے باعث میچ مکمل نہ ہو سکا اور بالآخر منسوخ کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں ایبٹ آباد کی ٹیم پوائنٹس اور بہتر اوسط کی بنیاد پر فائنل میں پہنچ گئی۔
میچ میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے لاہور وائٹس نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 194 رنز بنائے اور ایبٹ آباد کو جیت کے لیے 195 رنز کا ہدف دیا۔
لاہور وائٹس کی جانب سے عمران ڈوگر نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 31 گیندوں پر 62 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی۔
ان کے علاوہ محمد اخلاق نے 42، فرحان یوسف نے 33 جبکہ محمد محسن نے 24 رنز اسکور کیے۔
ایبٹ آباد کی جانب سے شہاب خان نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے 28 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔
تاہم بارش کے باعث ایبٹ آباد کی اننگز کا آغاز ہی نہ ہو سکا اور امپائرز نے طویل انتظار کے بعد میچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔
اس طرح ٹورنامنٹ کے قوانین کے مطابق ایبٹ آباد کی ٹیم بہتر پوائنٹس اور رن ریٹ کی بنیاد پر فائنل کے لیے کوالیفائی کر گئی۔
اب قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے فائنل میں ایبٹ آباد کا مقابلہ کراچی وائٹس سے ہوگا، جس کے بعد شائقین کرکٹ کو ایک سنسنی خیز مقابلے کی توقع ہے۔
Today News
60 سیکنڈ میں دشمن کے 5 طیارے تباہ کرنے والے پائلٹ ایم ایم عالم کی آج 13 ویں برسی
کراچی:
پاک فضائیہ کے عظیم ہیرو ایم ایم عالم کی 13ویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
قوم اپنے اس جری سپوت کو خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہے جنہوں نے 1965 کی پاک-بھارت جنگ میں ایک ناقابلِ یقین کارنامہ سرانجام دے کر تاریخ رقم کی۔
جنگ ستمبر 1965 کے دوران سرگودھا کے محاذ پر ایم ایم عالم نے دشمن کے 5 بھارتی ہنٹر طیارے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں مار گرائے، جن میں سے 4 طیارے صرف 30 سیکنڈ کے اندر تباہ کیے گئے۔
یہ کارنامہ آج بھی جنگی ہوابازی کی تاریخ میں ایک منفرد عالمی ریکارڈ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
اس تاریخی مشن کے دوران وہ ایف 86 سیبر طیارہ اڑا رہے تھے۔ جنگ کے دوران مجموعی طور پر انہوں نے 11 دشمن طیاروں کو نشانہ بنایا، جن میں سے 9 مکمل تباہ جبکہ 2 کو جزوی نقصان پہنچا۔
ان کی اس شاندار کارکردگی کے اعتراف میں ان کے طیارے پر 11 بھارتی پرچم نمایاں کیے گئے تھے۔
ایم ایم عالم کی کامیابی کے پیچھے ان کی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ وطن سے بے پناہ محبت اور جذبۂ حب الوطنی کارفرما تھا جس نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔
ان کی جرات اور بہادری کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں ملک کے تیسرے بڑے فوجی اعزاز “ستارۂ جرأت” سے نوازا۔
ایم ایم عالم 18 مارچ 2013 کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے انہیں پی اے ایف بیس مسرور (ماڑی پور) کے شہداء قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
آج ان کی برسی کے موقع پر ملک بھر میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جہاں انہیں ایک عظیم قومی ہیرو کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے، جن کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Today News2 weeks ago
prime minister contact Lebanon counterpart solidarity against israeli aggression
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income
-
Business2 weeks ago
Global markets turmoil intensifies on Iran war – Business