Connect with us

Today News

بھارتی کپتان کی ورلڈکپ جیتنے کے بعد بیان بازی جاری

Published

on



ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فاتح بھارتی کپتان سوریا کمار یادو کا کہنا ہے کہ جو پرسنٹیج انہوں نے اسکول اور کالج میں حاصل کرنے کی کوشش کی اب وہ کرکٹ میں حاصل کر رہے ہیں۔

میڈیا کو دیے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان نے ان کو پڑھانے کی بہت کوشش کی لیکن تھوڑے ہی عرصے میں ان کو سمجھ آگیا کہ لڑکے کا پڑھائی میں دھیان نہیں ہے۔

2024 اور 2026 کی ٹیموں میں ایک معمولی سا فرق ہے۔ 2024 کی ٹیم تجربہ کار اور پُر عزم تھی جبکہ 2026 کی ٹیم پُر جوش ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کھلاڑیوں کو یہ بتانا ضروری تھا کہ انڈیا میں ورلڈ کپ جیت کر کیسا محسوس ہوتا ہے، جب اسٹیڈیم میں 50 ہزار سے 1 لاکھ افراد تک آپ کی جیت پر چیخ رہے ہوں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

وفات کے تین سال بعد سدھو موسے والا کا ’اے آئی ٹور‘

Published

on



بھارتی پنجابی میوزک انڈسٹری کے مقبول گلوکار سدھو موسے والا کی وفات کے تین سال بعد ان کے نام سے ایک منفرد اے آئی ٹور کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس نے مداحوں کو حیران بھی کر دیا اور جذباتی بھی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گلوکار کی ٹیم نے ان کے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعے ’سائنڈ ٹو گاڈ‘ ٹور کی تفصیلات شیئر کیں۔ اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں کی بڑی تعداد اس غیر معمولی منصوبے پر گفتگو کر رہی ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس عالمی ٹور میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کیا گیا سدھو موسے والا کا ڈیجیٹل کردار اسٹیج پر پیش کیا جائے گا۔ اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مداح اپنے پسندیدہ گلوکار کو ایک نئے انداز میں دیکھ سکیں گے، حالانکہ وہ اس دنیا میں موجود نہیں۔

 

 

 

 

View this post on Instagram

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

’سائنڈ ٹو گاڈ‘ ٹور کے دوران یہ اے آئی کردار دنیا کے مختلف ممالک میں پرفارم کرے گا، جن میں امریکا، کینیڈا، متحدہ عرب امارات، بھارت، برطانیہ، آسٹریلیا اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ خاص طور پر پاکستان میں اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خوشی اور جوش و خروش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ سدھو موسے والا کو مئی 2022 میں بھارتی ریاست پنجاب میں فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا تھا، جس کا الزام لارنس بشنوئی کے گینگ سے وابستہ افراد پر عائد کیا گیا تھا۔ ان کی اچانک موت نے نہ صرف مداحوں بلکہ پوری میوزک انڈسٹری کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اسے بھارتی موسیقی کی تاریخ کے بڑے واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

ڈیجیٹل تبدیلی نے زکوٰۃ دینا آسان بنادیا ہے

Published

on



زکوٰۃ اور خیرات اسلامی معاشرے کی اخلاقی اور روحانی دھڑکن ہیں۔ اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہونے کے ناتے زکوٰۃ عبادت کا ایک عمل، مال کی پاکیزگی کا ذریعہ اور ضرورت مند افراد کی اعانت کا ایک اہم رکن ہے۔

ہر سال دنیا بھر کے مسلمان ضرورت مندوں کی مدد کے لیے نمایاں وسائل خرچ کرتے ہیں، لیکن یہ سخاوت کا ثقافتی پہلو پاکستان میں سب سے نمایاں ہے۔

معاشی چیلنجز کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر سب سے زیادہ خیرات کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان گیونگ رپورٹ 2025 کے مطابق 2024 میں 73 فیصد پاکستانیوں نے سماجی مقاصد کے لیے رقوم عطیہ کیں، جو عالمی اوسط 64 فیصد سے کہیں زیادہ ہے، اور انہوں نے اپنی آمدن کا 1.64 فیصد حصہ عطیہ کیا، جو عالمی اوسط 1.04 فیصد سے زائد ہے۔

آئی سی ٹی ڈی اور LUMS کے تعاون سے کی گئی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ 2024 میں پاکستان کے 5 کروڑ سے زائد افراد نے اجتماعی طور پر 619 ارب روپے (2.19 ارب ڈالر) زکوٰۃ کی مد میں عطیہ کیے، جبکہ فی عطیہ دہندہ نے اوسطاً تقریباً 15 ہزار روپے دیے۔ یہ غیرمعمولی رقم جو پاکستان کی سالانہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولیوں سے بھی زیادہ ہے ملک میں موجود فلاحی کاموں کی گہری جڑوں کو اجاگر کرتی ہے۔

رمضان المبارک خاص طور پر اس جذبے کو بڑھا دیتا ہے۔ روایتی طور پر یہی وہ مقدس مہینہ ہے جب زکوٰۃ کی تقسیم اپنے عروج پر ہوتی ہے اور فلاحی اداروں، رفاہی اقدامات اور کمیونٹی کی سطح پر چلنے والے منصوبوں میں غیرمعمولی سرگرمی اور شراکت دیکھنے میں آتی ہے۔

عطیہ دینا ذاتی نوعیت کا عمل ہے اور دو تہائی سے زیادہ عطیہ دہندگان زکوٰۃ براہِ راست دینے کو ترجیح دیتے ہیں، مگر منظم، شفاف اور ادارہ جاتی معاونت یافتہ خیراتی ذرائع کی طرف بھی رجحان بڑھ رہا ہے۔

یہ تبدیلی صرف عطیہ دہندگان کی توقعات میں تبدیلی کی وجہ سے نہیں بلکہ پاکستان کے مالیاتی شعبے کے بڑھتے ہوئے کردار کی وجہ سے بھی سامنے آرہی ہے، خاص طور پر اسلامی بینکنگ اور ڈیجیٹل بینکنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے جو خیرات دینے کے عمل کو زیادہ قابل رسائی، ٹریس کرنے کے قابل اور محفوظ بناتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں پاکستان کے تجارتی اور اسلامی بینک خیراتی سرگرمیوں کو آسان بنانے میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ ادارے زکوٰۃ اور عطیات کے لیے تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع ہیں، جو عطیہ دہندگان کے لیے شفافیت یقینی بناتے ہیں اور اس بات کو بھی یقینی بناتے ہیں کہ عطیات معتبر خیراتی اداروں تک پہنچیں۔

بینکنگ سیکٹر کی ڈیجیٹلائزیشن نے اس نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج کے عطیہ دہندگان موبائل ایپس، آن لائن بینکنگ پورٹلز، کیو آر انٹیگریشنز اور ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے گھر بیٹھے بغیر کسی کاغذی کاروائی یا نقد رقم  کے فوری عطیات دے سکتے ہیں۔

اس تبدیلی کا اہم سنگ میل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا روشن سماجی خدمت اقدام ہے، جو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے دنیا کے کسی بھی حصے سے منظور شدہ خیراتی اداروں کو ڈیجیٹل طور پر زکواۃ اور عطیات دینے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس اقدام نے لاکھوں افراد کی فلاحی رسائی کو بڑھایا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مقامی فلاحی کاموں میں بغیر کسی رکاوٹ کے حصہ لینے کے قابل بنایا ہے۔

ڈیجیٹل بینکنگ نے خیرات دینے کے عمل کو بغیر رکاوٹ کے آسان بنا دیا ہے۔ اسمارٹ فون پر چند ٹپس کے ذریعے صارفین اب شراکت دار خیراتی اداروں کو دیکھ سکتے ہیں، مقاصد کا انتخاب کرسکتے ہیں اور فوری طور پر عطیات دے سکتے ہیں، جس سے سیکیورٹی، شفافیت اور سہولت یقینی بنتی ہے۔

یہ تکنیکی تبدیلی خاص طور پر رمضان المبارک کے دوران اہمیت اختیار کرجاتی ہے، جب عطیات کا حجم بڑھ جاتا ہے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے زیادہ ٹرانزیکشنز ہوتی ہے۔

اس تبدیلی کی حمایت کے لیے فیصل بینک سمیت پاکستان کے دیگر معروف اسلامی بینکوں نے عطیات کے روحانی اور ڈیجیٹل پہلوؤں کو متعین کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مکمل اسلامی بینکاری میں تبدیلی کے ساتھ بینک نے اپنی خدمات کو شریعہ کمپلائنٹ سے ہم آہنگ کیا ہے، جو زکوٰۃ کی تقسیم کے وقت عطیہ دہندگان کے لیے نہایت اہم عنصر ہوتا ہے۔

فیصل بینک کا DigiBank ایپ بھی ایک جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو عطیات دینے کے عمل کو آسان، محفوظ اور ہر کسی کے لیے قابل رسائی بناتی ہے۔ صارفین اس ایپ کے ذریعے تصدیق شدہ شراکت دار خیراتی اداروں کی فہرست دیکھ سکتے ہیں اور وہ مقاصد منتخب کرسکتے ہیں جن کی حمایت کرنا چاہتے ہیں۔ ایپ زکوٰۃ اور عطیات فوری اور ڈیجیٹل طور پر دینے کی سہولت فراہم کرتی ہے، جس سے پیچیدگیاں ختم ہوتی ہیں اور صارفین کے لیے عطیات دینے کا عمل آسان ہوجاتا ہے۔

شریعہ کمپلائنٹ مالی اصولوں پر مبنی اس پلیٹ فارم کے ذریعے صارفین کو یقین ہوتا ہے کہ ہر عطیہ اخلاقی طور پر اور اسلامی رہنما خطوط کے مطابق ہینڈل کیا جائے گا، جو اسے بامعنی خیرات کے لیے ایک معتبر اور قابلِ اعتماد ذریعہ بناتا ہے۔

رمضان کے دوران جب عطیات اپنی سالانہ بلند ترین سطح پر ہوتے ہیں، DigiBank اَیپ ان افراد کے لیے ایک اہم ذریعہ بن جاتی ہے جو چاہتے ہیں کہ ان کی زکواۃ بروقت اور محفوظ طریقے سے مستحقین تک پہنچے۔

جیسے جیسے ملک ایک زیادہ منظم اور شفاف فلاحی شعبے کی طرف بڑھ رہا ہے، اسٹیٹ بینک کے روشن سماجی خدمت اقدام اور فیصل بینک سمیت دیگر اسلامی بینکس اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ عطیات نہ صرف روحانی طور پر فائدہ مند ہوں بلکہ موثر اور قابلِ اعتماد بھی ہوں۔

زکوٰۃ سالانہ 619 ارب روپے سے بڑھ چکے ہیں اور اس حوالے سے ڈیجیٹلائزیشن کی شرح بڑھ رہی ہے، پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے، ایسا دور جہاں ایمان سے بھرپور سخاوت کو ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑھایا جا رہا ہے اور اسلامی بینکس روایت و جدیدیت کے درمیان پل کا کردار ادا کررہے ہیں۔
 

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔



Source link

Continue Reading

Today News

صرف ٹرافی جیتنا ہی ضروری نہیں، نئے کھلاڑیوں کی تیاری بھی اہم ہے؛ شاہین آفریدی

Published

on



پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز لاہور قلندرز کے کپتان شاہین آفریدی نے کہا ہے کہ کامیابی صرف ٹرافی جیتنے کا نام نہیں بلکہ نئے کھلاڑیوں کی تیاری بھی اہم ہے۔

اسلام آباد میں جاری لاہور قلندرز کے کنڈیشنگ کیمپ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے کہا کہ ٹیم ہر سیزن سے قبل باقاعدہ کیمپ کا انعقاد کرتی ہے تاکہ کھلاڑی ایک دوسرے کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں اور ٹیم ماحول سے ہم آہنگ ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سے پانچ سال لاہور قلندرز کے لیے نہایت کامیاب رہے ہیں، تاہم اصل کامیابی یہ ہے کہ پلیئر ڈیولپمنٹ پروگرام کے ذریعے نئے ٹیلنٹ کو سامنے لایا گیا۔

قومی فاسٹ بولر کے مطابق ملک بھر میں ٹرائلز کے ذریعے باصلاحیت کھلاڑیوں کو منتخب کیا گیا، انہیں مواقع فراہم کیے گئے اور وہ قومی سطح تک پہنچے، جو ٹیم کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

شاہین آفریدی نے مزید کہا کہ رواں سال بھی ٹرائلز کے ذریعے نئے کھلاڑی سامنے آئے ہیں اور امید ہے کہ ایک یا دو باصلاحیت نوجوان پی ایس ایل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوں گے، جبکہ آئندہ برسوں کے لیے بھی مضبوط کھلاڑی تیار ہو رہے ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ٹیم میں شامل نئے مقامی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ نئے گراؤنڈز پر میچز کے انعقاد سے شائقین کرکٹ کو مزید دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔

 



Source link

Continue Reading

Trending