Connect with us

Today News

ڈیجیٹل تبدیلی نے زکوٰۃ دینا آسان بنادیا ہے

Published

on



زکوٰۃ اور خیرات اسلامی معاشرے کی اخلاقی اور روحانی دھڑکن ہیں۔ اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہونے کے ناتے زکوٰۃ عبادت کا ایک عمل، مال کی پاکیزگی کا ذریعہ اور ضرورت مند افراد کی اعانت کا ایک اہم رکن ہے۔

ہر سال دنیا بھر کے مسلمان ضرورت مندوں کی مدد کے لیے نمایاں وسائل خرچ کرتے ہیں، لیکن یہ سخاوت کا ثقافتی پہلو پاکستان میں سب سے نمایاں ہے۔

معاشی چیلنجز کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر سب سے زیادہ خیرات کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان گیونگ رپورٹ 2025 کے مطابق 2024 میں 73 فیصد پاکستانیوں نے سماجی مقاصد کے لیے رقوم عطیہ کیں، جو عالمی اوسط 64 فیصد سے کہیں زیادہ ہے، اور انہوں نے اپنی آمدن کا 1.64 فیصد حصہ عطیہ کیا، جو عالمی اوسط 1.04 فیصد سے زائد ہے۔

آئی سی ٹی ڈی اور LUMS کے تعاون سے کی گئی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ 2024 میں پاکستان کے 5 کروڑ سے زائد افراد نے اجتماعی طور پر 619 ارب روپے (2.19 ارب ڈالر) زکوٰۃ کی مد میں عطیہ کیے، جبکہ فی عطیہ دہندہ نے اوسطاً تقریباً 15 ہزار روپے دیے۔ یہ غیرمعمولی رقم جو پاکستان کی سالانہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولیوں سے بھی زیادہ ہے ملک میں موجود فلاحی کاموں کی گہری جڑوں کو اجاگر کرتی ہے۔

رمضان المبارک خاص طور پر اس جذبے کو بڑھا دیتا ہے۔ روایتی طور پر یہی وہ مقدس مہینہ ہے جب زکوٰۃ کی تقسیم اپنے عروج پر ہوتی ہے اور فلاحی اداروں، رفاہی اقدامات اور کمیونٹی کی سطح پر چلنے والے منصوبوں میں غیرمعمولی سرگرمی اور شراکت دیکھنے میں آتی ہے۔

عطیہ دینا ذاتی نوعیت کا عمل ہے اور دو تہائی سے زیادہ عطیہ دہندگان زکوٰۃ براہِ راست دینے کو ترجیح دیتے ہیں، مگر منظم، شفاف اور ادارہ جاتی معاونت یافتہ خیراتی ذرائع کی طرف بھی رجحان بڑھ رہا ہے۔

یہ تبدیلی صرف عطیہ دہندگان کی توقعات میں تبدیلی کی وجہ سے نہیں بلکہ پاکستان کے مالیاتی شعبے کے بڑھتے ہوئے کردار کی وجہ سے بھی سامنے آرہی ہے، خاص طور پر اسلامی بینکنگ اور ڈیجیٹل بینکنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے جو خیرات دینے کے عمل کو زیادہ قابل رسائی، ٹریس کرنے کے قابل اور محفوظ بناتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں پاکستان کے تجارتی اور اسلامی بینک خیراتی سرگرمیوں کو آسان بنانے میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ ادارے زکوٰۃ اور عطیات کے لیے تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع ہیں، جو عطیہ دہندگان کے لیے شفافیت یقینی بناتے ہیں اور اس بات کو بھی یقینی بناتے ہیں کہ عطیات معتبر خیراتی اداروں تک پہنچیں۔

بینکنگ سیکٹر کی ڈیجیٹلائزیشن نے اس نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج کے عطیہ دہندگان موبائل ایپس، آن لائن بینکنگ پورٹلز، کیو آر انٹیگریشنز اور ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے گھر بیٹھے بغیر کسی کاغذی کاروائی یا نقد رقم  کے فوری عطیات دے سکتے ہیں۔

اس تبدیلی کا اہم سنگ میل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا روشن سماجی خدمت اقدام ہے، جو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے دنیا کے کسی بھی حصے سے منظور شدہ خیراتی اداروں کو ڈیجیٹل طور پر زکواۃ اور عطیات دینے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس اقدام نے لاکھوں افراد کی فلاحی رسائی کو بڑھایا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مقامی فلاحی کاموں میں بغیر کسی رکاوٹ کے حصہ لینے کے قابل بنایا ہے۔

ڈیجیٹل بینکنگ نے خیرات دینے کے عمل کو بغیر رکاوٹ کے آسان بنا دیا ہے۔ اسمارٹ فون پر چند ٹپس کے ذریعے صارفین اب شراکت دار خیراتی اداروں کو دیکھ سکتے ہیں، مقاصد کا انتخاب کرسکتے ہیں اور فوری طور پر عطیات دے سکتے ہیں، جس سے سیکیورٹی، شفافیت اور سہولت یقینی بنتی ہے۔

یہ تکنیکی تبدیلی خاص طور پر رمضان المبارک کے دوران اہمیت اختیار کرجاتی ہے، جب عطیات کا حجم بڑھ جاتا ہے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے زیادہ ٹرانزیکشنز ہوتی ہے۔

اس تبدیلی کی حمایت کے لیے فیصل بینک سمیت پاکستان کے دیگر معروف اسلامی بینکوں نے عطیات کے روحانی اور ڈیجیٹل پہلوؤں کو متعین کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مکمل اسلامی بینکاری میں تبدیلی کے ساتھ بینک نے اپنی خدمات کو شریعہ کمپلائنٹ سے ہم آہنگ کیا ہے، جو زکوٰۃ کی تقسیم کے وقت عطیہ دہندگان کے لیے نہایت اہم عنصر ہوتا ہے۔

فیصل بینک کا DigiBank ایپ بھی ایک جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو عطیات دینے کے عمل کو آسان، محفوظ اور ہر کسی کے لیے قابل رسائی بناتی ہے۔ صارفین اس ایپ کے ذریعے تصدیق شدہ شراکت دار خیراتی اداروں کی فہرست دیکھ سکتے ہیں اور وہ مقاصد منتخب کرسکتے ہیں جن کی حمایت کرنا چاہتے ہیں۔ ایپ زکوٰۃ اور عطیات فوری اور ڈیجیٹل طور پر دینے کی سہولت فراہم کرتی ہے، جس سے پیچیدگیاں ختم ہوتی ہیں اور صارفین کے لیے عطیات دینے کا عمل آسان ہوجاتا ہے۔

شریعہ کمپلائنٹ مالی اصولوں پر مبنی اس پلیٹ فارم کے ذریعے صارفین کو یقین ہوتا ہے کہ ہر عطیہ اخلاقی طور پر اور اسلامی رہنما خطوط کے مطابق ہینڈل کیا جائے گا، جو اسے بامعنی خیرات کے لیے ایک معتبر اور قابلِ اعتماد ذریعہ بناتا ہے۔

رمضان کے دوران جب عطیات اپنی سالانہ بلند ترین سطح پر ہوتے ہیں، DigiBank اَیپ ان افراد کے لیے ایک اہم ذریعہ بن جاتی ہے جو چاہتے ہیں کہ ان کی زکواۃ بروقت اور محفوظ طریقے سے مستحقین تک پہنچے۔

جیسے جیسے ملک ایک زیادہ منظم اور شفاف فلاحی شعبے کی طرف بڑھ رہا ہے، اسٹیٹ بینک کے روشن سماجی خدمت اقدام اور فیصل بینک سمیت دیگر اسلامی بینکس اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ عطیات نہ صرف روحانی طور پر فائدہ مند ہوں بلکہ موثر اور قابلِ اعتماد بھی ہوں۔

زکوٰۃ سالانہ 619 ارب روپے سے بڑھ چکے ہیں اور اس حوالے سے ڈیجیٹلائزیشن کی شرح بڑھ رہی ہے، پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے، ایسا دور جہاں ایمان سے بھرپور سخاوت کو ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑھایا جا رہا ہے اور اسلامی بینکس روایت و جدیدیت کے درمیان پل کا کردار ادا کررہے ہیں۔
 

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کا فائنل بارش کے باعث منسوخ

Published

on



پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے فائنل میچ کو بارش کے باعث منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔

پشاور میں کھیلا جانے والا قومی ٹی ٹوئنٹی کا فائنل میچ ایبٹ آباد اور کراچی کے درمیان ہونا تھا، تاہم بارش کے باعث میچ ممکن نہ ہو سکا۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ خراب موسم کے باعث فائنل میچ شدید متاثر ہوا، جس کے بعد اسے منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

بورڈ کے مطابق فائنل میچ کی نئی تاریخ اور مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا جس کے لیے شائقین کو انتظار کرنا ہوگا۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

انٹیلی جنس وزیر اسرائیل کے بزدلانہ حملے میں شہید ہوگئے؛ ایرانی صدر کی تصدیق

Published

on


ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب کی اسرائیل کے فضائی حملے میں شہادت کی تصدیق کردی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے اس بات کی تصدیق باضابطہ طور پر سوشل میڈیا پر فارسی زبان میں جاری اپنے بیان میں کی۔

مزید پڑھیں : اسرائیل کا ایران میں دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس کے ذخیرے پر حملہ؛ ویڈیو وائرل

انھوں نے کہا کہ میرے عزیز ساتھیوں اسماعیل خطیب، علی لاریجانی، اور عزیز ناصرزادہ کو بزدلانہ حملے میں قتل کیا گیا۔ ان کے ساتھ کچھ خاندان کے افراد اور ساتھ رہنے والی ٹیم بھی ہمارے درمیان نہ رہی۔

صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ میں ایران کے عظیم عوام سے ان دو کابینہ کے اراکین، مجلسِ عوام کے سیکرٹری، اور فوجی اور بسیج کے کمانڈروں کے شہادت پر تعزیت پیش کرتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران؛ اسرائیل کی جاسوسی کے الزام میں سویڈش شہری کو پھانسی

انھوں نے کہا کہ ہمارے ساتھیوں کو ہم سے جدا کرکے ہمیں بہت دکھ پہنچا گیا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ ان شہدا نے جس راستے پر جان دی وہ جدوجہد پہلے سے بھی زیادہ مضبوطی سے جاری رہے گی۔

یاد رہے کہ چند گھنٹوں قبل ہی اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے انٹیلی جنس منسٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ حملہ رات کے وقت کیا گیا۔

اسماعیل خطیب ایران کے اہم سیکیورٹی عہدیدار تھے جنہوں نے وزارتِ انٹیلی جنس کی ذمہ داری سنبھالی تھی اور مسلمان ممالک اور عالمی سلامتی کے معاملات میں ان کا کردار اہم سمجھا جاتا تھا۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

طالبان فیصلہ کریں کہ انہیں دہشت گردوں کو بچانا ہے یا افغانستان کو، ڈی جی آئی ایس پی آر

Published

on



ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ہمارا افغان شہریوں سے کوئی مسئلہ نہیں، جنگ کا خاتمہ صرف ایک ہی صورت ممکن ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف دہشت گردی کیلیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی جائے۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان سے اس سے پہلے بھی براہ راست، دوست ممالک کے ذریعے بات چیت ہوئی جس میں صرف اسی بات کی گارنٹی مانگی گئی کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام، حکومت اور افواج نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ہر صورت دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے، اب افغان طالبان کو سوچنا چاہیے کہ انہیں ٹی ٹی پی کو بچانا ہے یا پھر افغانستان کو۔

مزید پڑھیں : حکومت کا عیدالفطر کے پیش نظر افغانستان میں آپریشن غضب للحق میں عارضی وقفے کا اعلان

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کابل میں عسکری اور ڈرون اسٹوریج کرنے والے اڈے کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اس حوالے سے کیے جانے والے افغان طالبان اور دیگر کے دعوے بے بنیاد ہیں کیونکہ ہمارے پاس اس کے ثبوت ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ افغان طالبان نے منشیات کے عادی لوگوں کو اکھٹا کر کے رکھا ہے اور انہیں دہشت گردی کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ سویلین آبادی پر حملے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آدھے سے زیادہ خوارج اور طالبان سویلین کپڑوں میں ہوتے ہیں جس وجہ سے باتیں بنائی جاتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے افغانستان میں 81 فضائی حملے کر کے اُن کی اہم تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا، ایک بار یقین دہانی کروادی جائے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہوگی اور اگر ہوئی تو پھر کارروائی ہوگی تو آپریشن غضب للحق رُک سکتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سرحد بند ہونے سے کچھ لوگوں کا نقصان ہورہا ہے مگر اس کے ذریعے اسمگلنگ بھی بند ہوئی ہے جبکہ آپریشن غضب للحق کیوجہ سے اب پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات بھی کم ہورہے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ آپریشن غضب للحق صرف دہشت گردوں کیخلاف ہے اور ٹی ٹی پی سمیت خوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، افغانستان کو دہشت گردوں کا مرکز بنادیا گیا تھا مگر پاکستان کو اس دروازے کو دھکا دے کر بند کردیا۔

 



Source link

Continue Reading

Trending