Today News
امریکا ایران جنگ پر ٹرمپ کی پاکستان کو مبینہ وارننگ؟ حقیقت سامنے آگئی
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے گردش کرنے لگی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو ممکنہ جنگ میں شامل نہ ہونے کی وارننگ دی ہے۔
اس ویڈیو کو ہزاروں افراد دیکھ چکے ہیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا۔
وائرل کلپ میں مبینہ طور پر ٹرمپ کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ پاکستان نے اسرائیل اور امریکا کو خبردار کیا ہے اور اگر ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو پاکستان سخت ردعمل دے سکتا ہے۔
ویڈیو میں یہ بھی تاثر دیا گیا کہ پاکستان کی افواج ہائی الرٹ پر ہیں اور وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ ٹرمپ کے نام سے یہ پیغام بھی منسوب کیا گیا کہ پاکستان کو اس تنازعے سے دور رہنا چاہیے کیونکہ یہ ایران اور اسرائیل کے درمیان معاملہ ہے۔
خدا دی قسم خواجہ محمد آ صف صاحب اسی راضی ہاں تیرے تے۔۔ شہزادہ
پاکستان ہمیشہ زندہ باد pic.twitter.com/fGeV5Lo8ax
— Karachi da Patwari (@MS_Pml_n) March 3, 2026
تاہم فیکٹ چیک کے مطابق یہ تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وائرل ہونے والی یہ ویڈیو دراصل مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے اور اس میں شامل آڈیو بھی حقیقی نہیں۔
تحقیق کے دوران ویڈیو کے مختلف حصوں کو جانچنے کے لیے ریورس امیج سرچ کی گئی، جس سے پتا چلا کہ اصل فوٹیج 30 مئی 2025 کی ہے۔ یہ وہ موقع تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کی تھی، جو ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی سے کافی پہلے کی بات ہے۔
اس مکمل پریس کانفرنس میں کہیں بھی پاکستان کے وزیر دفاع یا کسی ممکنہ جنگی صورتحال کا ذکر نہیں کیا گیا۔ صرف ایک موقع پر پاکستان کا حوالہ آیا، جب ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے خاتمے پر دونوں ممالک کے حکام کا شکریہ ادا کیا تھا۔
مزید برآں، اے آئی مواد کی نشاندہی کرنے والے پلیٹ فارم Hive Moderation نے بھی اس ویڈیو کا تجزیہ کیا اور اسے 95 فیصد سے زائد امکان کے ساتھ مصنوعی قرار دیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس کی آواز بھی جعلی طور پر تیار کی گئی ہے۔
نتیجتاً یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران پر حملوں کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان، اس کی فوج یا وزیر دفاع کے حوالے سے کوئی حالیہ بیان سامنے نہیں آیا، اور وائرل ویڈیو محض گمراہ کن معلومات پر مبنی ہے۔
Source link
Today News
حزب اختلاف کا ایجنڈا – ایکسپریس اردو
گزشتہ سال ہونے والے انتخابات جمہوریت کی تاریخ کے منفرد انتخابات تھے۔ 2018 کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت 2024کے انتخابات میں اپنے انتخابی نشان سے محروم تھی، مگر تحریک انصاف کے حامی اراکین کی ایک بڑی تعداد منتخب ہوئی، یوں عمر ایوب خان قومی اسمبلی اور شبلی فراز سینیٹ میں قائد حزب اختلاف قرار پائے۔ اس اسمبلی میں بلوچستان سے محمود خان اچکزئی بھی منتخب ہوئے جن کا حزب اختلاف میں رہنے کا طویل تجربہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسمبلی میں موجود ہیں۔
تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصرکی کوششوں سے مولانا فضل الرحمن اور تحریک انصاف میں بظاہر ہم آہنگی پیدا ہوئی مگر بہت سے زندہ حقائق کی بناء پر تحریک انصاف مولانا فضل الرحمن کو قائد حزب اختلاف بنانے پر آمادہ نہ ہوئی۔ مولانا فضل الرحمن نے آئین میں کی جانے والی ترمیم کے لیے تحریک انصاف کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی مگر تحریک انصاف کی قیادت اس معاملے میں مولانا فضل الرحمن سے متفق نہ ہوسکی۔ عمر ایوب خان کی قیادت میں حزب اختلاف نے اپنے قائد کی رہائی کے لیے مہم جوئی کی مگر حزب اختلاف نے اپنی تحریکوں میں عوام کے مسائل کو اہمیت نہ دی۔
یہ تحریکیں عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل نہ ہونے کی بناء پر متوقع نتائج نہ دے سکیں، مگر اس حقیقت کا اعتراف کرنا ضروری ہے کہ ان تحریکوں میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے بھرپور جدوجہد کی۔ اسلام آباد میں نومبر 2024میں خیبر پختون خوا کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں زبرست احتجاج ہوا۔ اس احتجاج کے موقع پر ہونے والے تصادم میں مبینہ طور پر 6 افراد جاں بحق ہوئے مگر تحریک انصاف میں دو سال قبل شامل ہونے والے سینئر وکیل لطیف کھوسہ نے ٹی وی چینلز پر یہ پراپیگنڈہ شروع کیا کہ اس تصادم میں سیکڑوں کارکنان ہلاک ہوئے مگر حقائق لطیف کھوسہ کے دعوے کی تردید کررہے تھے۔ اس بناء پر رائے عامہ میں کنفیوژن پیدا ہوئی اور اس تحریک کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں نے عمر ایوب خان اور شبلی فراز کو 7, 7 سال قید کی سزا سنائیں، یوں یہ دونوں رہنما اپنی نشستوں سے محروم ہوگئے۔
عجیب بات یہ ہے کہ عمر ایوب خان اور شبلی فراز نے اپنی سزا کے خلاف قانونی جنگ میں دلچسپی نہیں لی۔ یہ دونوں رہنما خیبر پختون خوا میں اپنے اپنے گھروں میں مقید ہوگئے۔ شاید دونوں رہنماؤں نے نجات کا یہ راستہ بہتر جانا۔ حزب اختلاف نے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں علامہ ناصر عباس کو حزب اختلاف کی سربراہی کے لیے نامزد کیا مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف تسلیم کرنے کے اعلان میں چھ ماہ لگا دیے گئے۔
اس پارلیمنٹ کے بننے کے بعد پہلی دفعہ حزب اختلاف مکمل ہوئی۔ محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے وزیر اعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ سے مذاکرات ہوئے۔ بعض باخبر صحافیوں کا کہنا ہے کہ یوں لگتا تھا کہ شاید حکومت تحریک انصاف کے بانی کو ریلیف دینے پر تیار ہو جائے بعد ازاں صدر زرداری اچانک رحیم یار خان میں کارکنوں سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے اور تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف زوردار زبانی بمباری کی۔ شاید اسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمام معاملات رک گئے۔
گزشتہ مہینے متحدہ حزب اختلاف کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس کی روداد کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس اجلاس میں ایک تجویز اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہونے کی تھی۔ اجلاس نے ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور مسلمان ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی فضائی حدود کسی اور ملک کو استعمال نہ کرنے دیں۔ اس اجلاس میں بلوچستان اور خیبر پختون خوا کی صورتحال، مہنگائی میں مسلسل اضافہ،کارخانوں سے مزدوروں کی برطرفی، کارخانوں میں لے آف اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں مسلسل اضافے کے خلاف کسی طرح کے احتجاج کا فیصلہ نہیں ہوا۔ حزب اختلاف نے اب تک جتنی تحریکیں چلائیں وہ محض ایک شخص کی رہائی کے مطالبے کو منوانے تک محدود رہی ہیں۔
ان تحریکوں کے لیے صرف کارکنوں کی ایک مخصوص تعداد ہی متحرک ہوئی جس کی بناء پر تحریک انصاف کی قیادت مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکی۔ ملک کے معروضی حقائق کے جائزے سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ فوری طور پر کوئی مہم جوئی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ تحریک انصاف کے لاہور میں قید رہنماؤں نے بھی اس حقیقت کو محسوس کیا ہے۔ ان رہنماؤں کے ایک خط سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ فوری طور پر تحریک چلانے کے حق میں نہیں تھے، اس بناء پر ضروری ہے کہ حزب اختلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے دیگر طریقوں کو آزمائے۔ یہ وقت ہے کہ حزب اختلاف اپنے ایجنڈے کو توسیع دے۔
اس وقت سب سے زیادہ بے چینی بلوچستان میں پائی جاتی ہے۔ بلوچ نوجوانوں کی اکثریت فرسٹریشن کا شکار ہے۔ نوجوانوں کی شکایات حقیقت پر مبنی ہیں، اس بناء پر ضروری ہے کہ حزب اختلاف اپنے ایجنڈے میں بلوچستان کو سرفہرست رکھے۔ اس وقت نچلے متوسط طبقے کے حالاتِ کار انتہائی خراب ہیں۔ عالمی اداروں کا تخمینہ ہے کہ ملک میں گزشتہ دو برسوں کے دوران غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ ملک کے مختلف حصوں سے بے روزگاری اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے افراد کی خودکشی کی خبریں اخبارات میں شائع ہوتی ہیں۔ ایران، امریکا، اسرائیل جنگ کے نتیجے میں پیٹرولیم کی مصنوعات اور بجلی کے نرخ بڑھ گئے ہیں۔
افغانستان سے تجارت بند ہونے سے صرف وہ تاجر ہی متاثر نہیں ہوئے، جو اس کاروبار سے منسلک ہیں بلکہ پنجاب اور سندھ کے کسان بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں برآمدات کم ہونے سے ایک نیا بحران پیدا ہوا ہے اورکئی کارخانوں نے پیداوار روک دی ہے۔ کارخانوں میں لے آف سے مزدور بے روزگاری کا شکار ہیں۔ حکومت اب تک طلبہ یونین کو بحال کرنے پر تیار نہیں ہے اور یونیورسٹیوں کی فیسوں میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ ملک کی سرکاری یونیورسٹیاں مالیاتی اور انتظامی بحران کا شکار ہیں۔ مجموعی طور پر متوسط طبقے میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ حزب اختلاف کو اپنے ایجنڈے میں مظلوم طبقات کے مسائل کو ترجیح دی جائے۔ حزب اختلاف کے اجلاس میں یہ تجویز آئی ہے کہ اراکین اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں۔ اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہونے کا تجربہ ناکام ہوچکا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے گزشتہ دور میں اسمبلیوں سے استعفے دیے۔
پنجاب اور خیبر پختون خوا کی حکومتوں کو مستعفیٰ ہونے کا سارا فائدہ کسی اور قوت کو ہوا تھا۔ اس اسمبلی سے سردار اختر مینگل نے استعفیٰ دیدیا۔ اب قومی اسمبلی میں بلوچستان کے مصائب بیان کرنے والی کوئی آواز موجود نہیں ہے، اس بناء پر حزب اختلاف کو ماضی کے تجربات سے سیکھنا چاہیے۔ فوری طور پرکوئی تحریک چلانے کے بجائے عوام کو منظم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ پارلیمانی نظام میں حزب اقتدارکے ساتھ حزب اختلاف کی بھی یکساں اہمیت ہوتی ہے۔
حکمران حزب اختلاف کی اہمیت کو بخوبی محسوس کرتے ہیں۔ حکومت نے اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملے کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے جائزے کے لیے خفیہ اجلاس میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کو مدعو کیا تھا مگر حکومت نے حزب اختلاف کے رہنماؤں کو بانی تحریک انصاف سے مشاورت کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے انھوں نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی، اگر انھیں اپنے قائد سے مشاورت کی اجازت دی جاتی تو وہ زیادہ آسانی سے اظہارِ رائے کرسکتے تھے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کو حزب اختلاف سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ حزب اختلاف کے کچھ مطالبات مان کر ملک میں ایک اچھی سیاسی فضاء پیدا کی جاسکتی ہے۔ پاکستان خطے کی صورتحال کی بناء پر شدید مشکلات کا شکار ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ حکومت حزب اختلاف کو اعتماد میں لے۔
Today News
علی لاریجانی کے بعد …؟
ایران کی نیشنل سیکیورٹی کے چیف ایڈوائزر علی لاریجانی کی شہادت کے بعد کیا ہوگا۔ یہ سوال اب سب کے ذہن میں ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ابھی منظر عام پر نہیں۔ ان کی صحت کے بارے میں بھی متضاد اطلاعات ہیں۔ جب سے وہ سپریم لیڈر منتخب ہوئے ہیں، ان کا نہ تو کوئی آڈیو اور نہ ہی کوئی ویڈیو پیغام منظر عام پر آیا ہے۔ جس سے ان کی صحت اور زندگی دونوں کی تصدیق ہو سکے۔ وہ زندہ ہیں اس پر سب کا اتفاق ہے۔ لیکن کتنے زخمی ہیں۔ کیا وہ ہوش میں ہیں۔ کیا وہ اس وقت ایران کی کمان کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ ان کو کتنے زخم آئے ہیں۔ وہ بول سکتے ہیں۔ وہ چل سکتے ہیں۔ سب سوال اپنی جگہ موجود ہیں۔
اسی لیے سوشل میڈیا میں ان کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ چند دن پہلے یہ افواہ تھی کہ وہ ایران میں نہیں ہیں بلکہ علاج کے لیے انھیں ماسکو شفٹ کر دیا گیا ہے۔لیکن یہ سب جھوٹ تھا۔ یہ اسرائیلی پراپیگنڈا تھا تاکہ وہ منظر عام پر آئیں۔ ان کی کوئی تصویر کوئی ویڈیو سامنے آئے۔ لیکن مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہیں یہ تو طے ہے۔ اس کی تو ایرانی بھی تصدیق کرتے ہیں۔ اس لیے مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہوتے ہوئے ایران کون چلا رہا ہے۔ پاسداران انقلاب کس کے کنٹرول میں ہے۔
اس لیے یہ کہا بلکہ یہ مانا جا رہا تھا کہ علی لاریجانی ساری جنگ کو دیکھ رہے تھے۔ وہی مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر موجودگی میں کمان میں ہیں۔ یہ درست ہے کہ وہ سپریم لیڈر کے لیے بھی ایک امیدوار تھے۔ انھیں آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی اپنے وارث کے طور پر نامزد کیا ہوا تھا۔ لیکن ان کا انتخاب نہیں ہوا۔ تا ہم وہ سب سے اہم تھے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ علی خامنہ ای کے بعد اسرائیل نے کسی سب سے اہم لیڈر کو نشانہ بنایا ہے تو وہ علی لاریجانی ہیں۔ وہی سب سے اہم تھے۔ سب کا ماننا ہے کہ وہی کمان میں تھے۔
گزشتہ دنوں امریکا نے ایران کی اہم شخصیت کی معلومات کے لیے بڑی انعامی رقوم کا بھی اعلان کیا۔ اس میں مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ علی لاریجانی کا نام بھی شامل تھا۔ اس لیے کیا کسی نے ان کی مخبری کر دی ہے ۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم رہے گا۔ سب سے پہلے ان کی شہادت کی خبر اسرائیل نے دی۔ اس کا مطلب اسرائیل کے لوگ وہاں موجود ہیں جنھوں نے علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کر کے اسرائیل کو آگاہ کیا۔ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد بھی یہی صورتحال سامنے آئی تھی کہ امریکی صدر نے اعلان کیا اور انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس تصاویر بھی ہیں۔ کسی نے تو موقع سے تصاویر اسرائیل اور امریکا کو دی تھیں۔
اس لیے دونوں واقعات یہ بتاتے ہیں کہ موساد کا نیٹ ورک ابھی تک ایران میں بہت مضبوط ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی اپنی بیٹی کے گھر جا رہے تھے تب انھیں نشانہ بنایا گیا۔ آخر کسی نے تو ان کی مخبری کی کہ وہ محفوظ بنکر سے باہر آئے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ علی لاریجانی کی شہادت کے بعد پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر بہت سخت حملہ کیا ہے۔ اسرائیل میں سو سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیل کی ریلوے سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ حملے اشارہ دیتے ہیں کہ علی لاریجانی کے بعد بھی ایران میں کمان کا ایک نظام موجود ہے۔ جیسے علی خامنہ ای کے بعد ایران کا نظام حکومت اور اس کی جنگی مشین کام کرتی رہی ۔ کوئی قیادت کا خلاء نظرنہیں آیا، جنگ جاری رہی، ایران کی مزاحمت جاری رہی۔ ایسے ہی علی لاریجانی کے بعد بھی ایران کی امریکا اور اسرائیل کے لیے مزاحمت جاری ہے بلکہ اس میں تیزی آئی ہے۔
یہ بھی کمان کا نیا نظام ہے۔ جہاں کمانڈر کے جانے کے بعد بھی جنگ کی کمان جاری رہتی ہے۔ کمان کیسے بدلتی ہے، کون اصل میں کمان میں ہے، یہ بھی ایک سوال ہے۔ کون متبادل کا فیصلہ کرتا ہے۔ کون نیا کمانڈر منتخب کرتا ہے۔ کون نئی ہدایات دیتا ہے۔ یہ سب ابھی تک نا قابل فہم ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جس قدر شدید بمباری کی گئی ہے اس کی بھی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہزاروں مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے لیکن مزاحمت جاری ہے۔
ڈرون مارے جا رہے ہیں۔ میزائیل مارے جارہے ہیں۔ ایران نے اپنے نظام جنگ سے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ دیکھا جائے تو اس وقت یہ سوال موجود ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا بھی کچھ علم نہیں۔ علی لاریجانی شہید ہو گئے ہیں کون کمان میں ہے۔ لیکن کوئی تو ہے جو سب کچھ چلا رہا ہے۔ علی لاریجانی کے بارے میں یہی بتایا گیا ہے کہ وہ آخری موقع تک امام علی خامنہ ای کو محفوظ بنکر میں جانے کے لیے مناتے رہے۔ لیکن امام خامنہ ای نہیں مانے۔سوال یہ بھی ہے کہ علی لاریجانی محفوظ بنکر سے خود کیوں باہر آئے۔ انھوں نے کیوں اپنی حفاظت نہیں کی۔
اگر امریکا اور اسرائیل کا خیال تھا کہ علی لاریجانی کے بعد ایرانی فوج اور بالخصوص پاسداران انقلاب کمزور ہو جائیں گے۔ ان کے حوصلے پست ہو جائیں گے۔ کوئی کمان کرنے والا نہیں ہوگا تو ایسا نہیں ہوا۔ جیسے علی خامنہ ای کے بعد ایسا نہیں ہوا تھا۔ ایسا علی لاریجانی کے بعد بھی نہیں ہوا ہے۔ نظام جنگ اور نظام حکومت بھی چل رہا ہے۔ ایران میں ابھی تک سب ٹھیک چل رہا ہے۔ یہ بھی حیران کن ہے۔ دنیا حیران ہے۔
علی لاریجانی جنگ کے دوران عوامی مقامات پر نظر آتے رہے ہیں۔ یوم القدس کی ریلی میں موجود تھے۔ ان کی تصویربہت وائرل ہوئی۔ بلکہ یہ خبریں بھی آئیں کہ انھوں نے یوم القدس کی ریلی میں جو جیکٹ پہنی ہوئی تھی اس جیکٹ کی ایران میں بہت مانگ بڑھ گئی۔ نوجوان وہ جیکٹ پہننے لگ گئے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے ایرانی قیادت کو متنبہ کیا تھا کہ وہ یوم القدس کی ریلیوں میں شرکت نہ کریں ورنہ انھیں نشانہ بنایا جائے گا۔ جس ریلی میں علی لاریجانی شریک تھے اس کو نشانہ بھی بنایا گیا تھا لیکن وہ محفوظ رہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں موت کا خوف نہیں تھا۔ انھوں نے چند دن پہلے ٹوئٹ بھی کیا تھا کہ موت انھیں خوشی دے گی، وہ موت سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ علی لاریجانی کی شہادت امام علی خامنہ ای کے بعد ایران کا بہت بڑا نقصان ہے۔
ایران کو اپنی قیادت کی حفاظت کرنی ہوگی۔ جب قیادت اس طرح نشانہ بنتی ہے تو اس کا بہرحال اثر پڑتا ہے۔ اس لیے ایران کو اپنی قیادت کو سنبھالنا ہے۔ یہ بھی دیکھنے کی بات ہے کہ اب علی لاریجانی کے بعد کون سامنے آتا ہے۔ اب نئے سپریم لیڈر نے ان کی جگہ کسی کو نامزد کرنا ہے۔ وہ کون ہے یہ بھی اہم ہوگا۔ اس سے نئے سپریم لیڈر کی ٹیم کا بھی اندازہ ہو جائے گا۔ وہ کس کو آگے لاتے ہیں اور اس کی کیا سوچ ہے۔
Today News
امریکی تنہائی اور جنگ کے بڑھتے عالمی اثرات
ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران اتحادی ممالک کی جانب سے مدد کی درخواستیں مسترد ہونے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔ دوسری جانب ایران کے سینئر سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی شہید ہوگئے۔ ایران نے بدلہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے جاری جنگ کے دوران خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ تیزکردیا ہے، جس کے باعث پورا خطہ شدید کشیدگی کی زد میں آ گیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک ایسے نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے جہاں تاریخ، سیاست، معیشت اور عسکری طاقت ایک دوسرے میں اس طرح الجھ چکے ہیں کہ ان کو الگ الگ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری جنگ اب کسی ایک خطے یا چند ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ محض ایک جنگ نہیں بلکہ طاقت، اثر و رسوخ، نظریات اور عالمی قیادت کی کشمکش ہے جس کے اثرات آنے والی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ امریکا کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، بظاہر ایک مضبوط اور خود مختار پالیسی کا اظہار ہے، مگر اس کے پس منظر میں ایک گہری سفارتی تنہائی چھپی ہوئی نظر آتی ہے۔ امریکا طویل عرصے سے عالمی اتحادوں کا محور رہا ہے، خصوصاً نیٹو جیسا طاقتور عسکری اتحاد اس کی قیادت میں کام کرتا رہا ہے، مگر موجودہ صورتحال میں جب یہی اتحادی امریکا کے ساتھ کھڑے ہونے سے گریز کر رہے ہیں، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا امریکا کی عالمی قیادت کمزور ہو رہی ہے یا دنیا ایک نئے کثیر القطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
نیٹو پر تنقید اور یورپی رہنماؤں، خصوصاً فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون، کے بیانات پر سخت ردعمل اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ مغربی اتحاد میں دراڑیں واضح ہو چکی ہیں۔ یورپ کی بڑی طاقتیں اس جنگ میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کر رہی ہیں کیونکہ وہ اس کے طویل المدتی نتائج سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یورپ پہلے ہی یوکرین جنگ کے اثرات، توانائی بحران اور مہنگائی جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے، ایسے میں ایک نئی جنگ میں شامل ہونا اس کے لیے خودکشی کے مترادف ہو سکتا ہے۔یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا جیسے امریکا کے قریبی اتحادیوں کا محتاط رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں ’’اندھا اتحاد‘‘ کا دور ختم ہو رہا ہے۔ اب ممالک اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے فیصلے کر رہے ہیں، چاہے اس کا مطلب امریکا جیسے طاقتور اتحادی سے فاصلہ ہی کیوں نہ ہو۔
دوسری جانب ایران نے جس حکمت عملی کے تحت خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا ہے، وہ ایک وسیع تر علاقائی پیغام کا حصہ ہے۔ ایران یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوگا تو پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ سعودی عرب، کویت، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملے دراصل ایک ’’ڈیٹرنس‘‘ پالیسی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد دشمن کو یہ باور کرانا ہے کہ جنگ کی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔
یہ صورتحال خلیجی ممالک کے لیے انتہائی پیچیدہ ہے۔ ایک طرف وہ امریکا کے اتحادی ہیں اور سیکیورٹی کے لیے اس پر انحصار کرتے ہیں، دوسری طرف وہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک نے دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے اپنے فضائی دفاعی نظام کو متحرک رکھا ہے، مگر کسی بڑی عسکری کارروائی سے گریز کیا ہے۔
اس تنازع کا ایک اور اہم پہلو اسرائیل کا کردار ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا آیا ہے، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ کے باعث۔ حالیہ حملوں میں تہران میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیل اس موقع کو ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ تاہم اس حکمت عملی کے بھی خطرات ہیں،کیونکہ ایران کے پاس براہِ راست اور بالواسطہ جواب دینے کی صلاحیت موجود ہے، جیسا کہ لبنان، شام اور دیگر علاقوں میں اس کے اتحادی گروپوں کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے۔
لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور وادی بقاع میں حملے اس بات کی علامت ہیں کہ یہ جنگ ایک ’’ پراکسی وار‘‘ سے نکل کر ایک مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، اگر حزب اللہ جیسے گروہ مکمل طور پر اس جنگ میں شامل ہو جاتے ہیں تو اسرائیل کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔اس تمام صورتحال کا سب سے بڑا اور فوری اثر عالمی معیشت پر پڑا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ توانائی کی سپلائی کس قدر غیر مستحکم ہو چکی ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت میں 40 فیصد اضافہ اور ایل این جی کی قیمتوں میں 60 فیصد تک اضافہ عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
آبنائے ہرمز، جو دنیا کی توانائی کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، اگر مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات کسی عالمی مالیاتی بحران سے کم نہیں ہوں گے۔دنیا کے درجنوں ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث مہنگائی میں اضافہ اور عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ کئی ممالک نے ہنگامی اقدامات کے طور پر ایندھن کی بچت کے لیے نئی پالیسیاں متعارف کروائی ہیں، جیسے کہ کم ورکنگ ڈیز، ریموٹ ورک اور ایندھن کی راشننگ۔ یہ اقدامات وقتی طور پر مددگار ہو سکتے ہیں، مگر طویل مدت میں یہ اقتصادی سرگرمیوں کو سست کر دیتے ہیں۔اسٹاک مارکیٹوں میں مندی اور سرمایہ کاروں کا غیر یقینی صورتحال کا شکار ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی معیشت ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو عالمی کساد بازاری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں خلیجی جنگوں کے دوران دیکھا گیا تھا۔
امریکا کے اندر بھی اس جنگ کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ ایک اعلیٰ انسداد دہشت گردی عہدیدار کا استعفیٰ اور اس کا یہ کہنا کہ جنگ اسرائیل کے دباؤ کے باعث شروع ہوئی، امریکی پالیسی سازی میں موجود اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اختلافات مستقبل میں امریکا کی خارجہ پالیسی کو متاثر کر سکتے ہیں، خصوصاً اگر عوامی سطح پر بھی اس جنگ کے خلاف ردعمل بڑھتا ہے۔
ایران کے اندر انسانی نقصان بھی تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ بڑی تعداد میں افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کا سب سے بڑا بوجھ عام شہری اٹھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اندرونی سیکیورٹی اقدامات، جیسے کہ جاسوسی کے الزام میں سزائے موت، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران داخلی سطح پر بھی دباؤ کا شکار ہے۔
اگر اس جنگ کے ممکنہ مستقبل پر نظر ڈالی جائے تو کئی خطرناک منظرنامے سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ جنگ مزید پھیل کر ایک مکمل علاقائی جنگ بن جائے، جس میں خلیجی ممالک، لبنان اور شاید دیگر طاقتیں بھی شامل ہو جائیں۔ دوسرا یہ کہ عالمی طاقتیں براہِ راست مداخلت کریں، جس سے یہ تنازع ایک عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ تیسرا منظرنامہ یہ ہے کہ طویل جنگ کے باعث عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہو جائے، جس کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر سب سے زیادہ ہوں گے۔تاہم ایک مثبت امکان بھی موجود ہے، اور وہ ہے سفارت کاری کا راستہ۔ اگر عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ، چین اور دیگر غیر جانبدار طاقتیں مؤثر کردار ادا کریں تو جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے، مگر اس کے لیے تمام فریقوں کو لچک دکھانی ہوگی اور اپنے فوری مفادات سے بالاتر ہو کر طویل المدتی استحکام کو ترجیح دینی ہوگی۔
یہ جنگ ایک بار پھر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کا استعمال مسائل کو حل کرنے کے بجائے انھیں مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ جدید دنیا میں جہاں معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ٹیکنالوجی نے فاصلے ختم کر دیے ہیں، وہاں کسی ایک خطے میں جنگ کا اثر پوری دنیا پر پڑتا ہے۔
آخرکار، سوال یہ نہیں کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گا، بلکہ یہ ہے کہ اس جنگ کے بعد دنیا کیسی ہوگی۔ کیا ہم ایک زیادہ غیر مستحکم، تقسیم شدہ اور خطرناک دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں، یا ہم اس بحران سے سبق سیکھ کر ایک زیادہ متوازن اور پرامن عالمی نظام کی تشکیل کر سکتے ہیں؟ یہ فیصلہ آج کے رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے، اور تاریخ ان کے فیصلوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Today News2 weeks ago
prime minister contact Lebanon counterpart solidarity against israeli aggression
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income
-
Magazines5 days ago
Story time: The price of a typo
-
Sports2 weeks ago
‘There will be nerves’: India face New Zealand for T20 World Cup glory – Sport