Today News
’’دعا کریں میری بھی شادی ہوجائے‘‘، ہانیہ عامر کی ویڈیو کال وائرل
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ ہانیہ عامر ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئی ہیں، اس بار وجہ ان کی ایک مداح کے ساتھ ہونے والی ویڈیو کال ہے، جس کا مختصر کلپ تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہانیہ عامر ایک خاتون مداح کے ساتھ نہایت دوستانہ انداز میں گفتگو کر رہی ہیں۔ دورانِ بات چیت مداح نے نہ صرف اداکارہ بلکہ ان کے والدین کی خیریت دریافت کی بلکہ رمضان کے روزوں سے متعلق بھی سوال کیا۔
اداکارہ نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ ان کے روزے اچھے گزر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ وہ اپنے کام میں بھی مصروف ہیں۔ اس موقع پر مداح نے ان کے ایک نجی ٹی وی ڈرامے میری زندگی ہے تو کی تعریف کی اور پھر ذاتی نوعیت کا سوال کرتے ہوئے ان سے شادی کے بارے میں پوچھ لیا۔
اس سوال پر ہانیہ عامر نے ہلکے پھلکے انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ابھی ان کی شادی نہیں ہوئی، اور مداح سے کہا کہ وہ ان کے لیے دعا کریں۔ جس پر خاتون نے اداکارہ کے لیے اچھے نصیب اور جلد شادی کی دعا بھی دی۔
View this post on Instagram
یہ مختصر مگر دلچسپ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جہاں صارفین اس پر مختلف انداز میں تبصرے کر رہے ہیں اور اداکارہ کے سادہ اور خوش اخلاق رویے کو سراہ رہے ہیں۔
Source link
Today News
رمضان، عید اور پٹرول بم
وہ رمضان المبارک اپنی تمام تر رحمتوں، برکتوں اور سعادتوں کے ساتھ اہلِ ایمان پر سایہ فگن رہ کر رخصت ہونے کو ہے جسے اللہ نے ہدایت کا سرچشمہ قرار دیا، رمضان اللہ کے قریب ہونے، گناہوں پر ندامت کے آنسو بہانے، مغفرت کے دروازوں کھلوانے، رب کو راضی کرنے اور دوزخ کی آگ سے نجات کا مہینہ ہے۔
خوش نصیبوں نے رمضان کو اس کی شان کے مطابق گزارا ہوگا، روزوں کے اہتمام اور فرض عبادات کے ساتھ قیام الیل سے منور کیا ہوگا۔ قرآن عظیم الشان کی تلاوت کو معمول بنایا ہوگا، صدقات و خیرات کے ذریعے مستحق مخلوق کا سہارا بن کر خالق کا قرب حاصل اور اپنی لغزشوں کو معاف کروایا ہوگا۔ رمضان کا حق ادا کرنے والوں کے لئے رمضان یقیناً مغفرت، رحمت اور جہنم سے نجات کا پروانہ بن کر آتا ہے۔ رمضان باطن کی تطہیر اور کردار کی تعمیر کا مہینہ ہے۔ رمضان کے روزے صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، یہ صبر و شکر، تقویٰ، ایثار، تحمل اور ہمدردی کو زندگی کا حصہ بنانے کا سالانہ عملی تربیتی کورس ہے۔ رمضان کو رضا الہی کا طالب بن کر گزار جایا تو روحانی انقلاب کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔
رمضان کی آخری ساعتیں ہیں، سوچنا چاہیے کہ ہم نے رمضان سے کیا حاصل کیا؟ کہ ہماری زندگیوں میں عبادت، اخلاق، دیانت اور انسان دوستی کا رنگ گہرا ہوا ہے کہ نہیں اور ہم اپنی زندگی کو تقویٰ، انصاف اور خیر کی بنیادوں پر استوار کرنے اور اس کیفیت کو عملی زندگی کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوئے کہ نہیں، اگر ایسا ہے تو ہمیں اور معاشرہ دونوں کو فلاح و کامیابی کی طرف لے جائے گا انشاء اللہ۔
عید الفطر کی آمد آمد ہے، رمضان اور عیدالفطر دونوں قرب الہی حاصل کرنے، معاشرے میں اخوت و محبت، ضرورت مندوں کی مدد اور محتاجوں کے ساتھ ہمدردی کا درس دیتے ہیں۔ لیکن جب معاشرے کا ایک بڑا طبقہ غربت کی چکی میں پس رہا ہو تو رمضان اور عید دونوں آزمائش میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مہنگائی نے غریبوں کی زندگی تو پہلے سے اجیرن کی تھی مگر بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے متوسط طبقے کا بھی جینا دوبھر کردیا گیا۔قیمتوں میں پہلے8 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا اورٹھیک ایک ہفتے کے بعد 55 روپے لیٹر کا ظالمانہ اضافہ کیا گیا یوں فی لیٹر قیمت میں 63 روپے اضافہ ہوا تو ماہ رمضان میں مہنگائی کا بے قابو جن دستک دیئے بغیر غریبوں کے گھروں میں دھما چوکڑی کرنے داخل ہوا تو رمضان اور عید کی خوشیاں نگل گیا۔اسلام میں ریاست صرف انتظامی ادارہ نہیں، اخلاقی ذمہ داریوں کا حامل ادارہ بھی ہوتا ہے۔ خلافتِ راشدہ کا درخشاں دور جس کی بہترین اور واضح مثالیں ہیں۔ خلیفہ دوم امیرالمومنین سیدنا عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت کے دو واقعات اسلامی ریاست اور حکمرانی کے تصور کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ ایک رات مدینہ کے اطراف گشت کے دوران حضرت عمرؓ نے ایک خیمے میں بچے کے رونے کی آواز سنی۔ تو پوچھا بچے پر کیوں ظلم کرکے رولا رہے ہیں آپ لوگ؟ مجبور ماں نے اندر سے جواب دیا کہ ظالم ہم ہیں کہ خلیفہ؟
امیرالمومنین سیدنا عمر فاروقؓ نے پوچھا کہ خلیفہ نے کیا ظلم کیا؟ عورت نے جواب دیا کہ امیرالمومنین دودھ پیتے بچوں کو روزینہ نہیں دیتے، ہم غربت و افلاس کے مارے ہیں اس لئے بچے کا دودھ چھڑانا چاہتے ہیں تاکہ اس کا روزینہ شروع ہوجائے، گھر میں بچے کو کھلانے کے لئے کچھ اور ہے نہیں بچہ اس لئے رو رہا ہے۔ اگر یہ واقعہ آج کے کسی حکمران کے ساتھ پیش آتا تو شاید اس غریب عورت کی جھونپڑی جلا دیتا مگر امیر المومنین بہت غمگین ہوئے اور فوراً بیت المال سے بچے کے پیدائش کے ساتھ روزینہ شروع کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ ایک بار کسی گھر سے بچوں کی رونے کی آوازیں آرہی تھیں، معلوم کیا تو ماں خالی ہانڈی میں پانی ابال کر بھوکے بچوں کو بہلا رہی کہ سو جائیں، عمرؓ بہت غمگین ہوئے بیت المال گئے اور آٹا اور دیگر سامان عمرؓ نے اپنی پیٹھ پر اٹھا کر پہنچایا۔ خادم نے بوجھ اٹھانا چاہا تو عمرؓ نے جواب دیا کہ “قیامت کے دن بھی میرا بوجھ تم اٹھاؤ گے؟”
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور میں بیت المال کے نظم و نسق اور معاشی انصاف کی وجہ سے اکثر اوقات زکوٰۃ لینے والا کوئی مستحق نہیں ملتا تھا۔ یہ واقعات اس پر دلالت کرتے ہیں کہ اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داری عوام کی فلاح اور معاشی انصاف کو یقینی بنانا ہے۔ مگر ہم نے اپنی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔
کلمہ طیبہ کے نام پر بنے پاکستان میں اگر صحیح معنوں میں اسلام نافذ ہوجاتا تو کوئی غریب بھوکا سوتا نہ حکمرانوں کے لیے استثنا کے قوانین بنتے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی معاشی پالیسیاں تمام بوجھ عوام پر منتقل کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں۔ حالیہ پیٹرول بم اس کی ایک واضح مثال ہے۔ شریعت مطہرہ میں حکمرانوں کو عوامی مشکلات کو کم کرنے کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے کی تلقین کی گئی ہے لیکن یہاں ہر مشکل میں غریب کا سر ہی چکی میں دیا جاتا ہے، ریاستی جبر، بے رحمانہ اور ظالمانہ فیصلے آئیں گے تو پھر غریبوں، لاچاروں اور بے بس لوگوں کی ذمہ داری معاشرے کے آسودہ حال لوگوں پر عائد ہوجاتی ہے۔ رمضان اور عید کے مواقع پر ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ عیدالفطر صرف ایک تہوار نہیں یہ معاشرتی ہم آہنگی ، مساوات اور خوشیاں بانٹنے کا موقع ہوتا ہے، اس موقع پر غریبوں کو مانگنے کی نوبت نہیں آنی چاہیے۔
اگر خدانخواستہ آسودہ حال لوگ مدد نہیں کرینگے تو ان کی عید کی تیاریاں بنیادی ضروریات سے محروم غربا کی غربت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہوگا۔ ایسے مواقع پر غریبوں کا خیال رکھنا معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ علماء کرام، مخیر حضرات اور معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد پر واضح کریں کہ ان پر لازم ہے کہ وہ زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کے ذریعے معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد کریں، مگر حقیقت ہے کہ یہ فلاحی اقدامات وقتی ریلیف فراہم کرتے ہیں اور مستقل حل ایک متوازن شرعی معاشی نظام کے نفاذ میںہے مگر ہمارے سودی اور استحصالی معاشی نظام میں غریب کی کوئی گنجائش نہیں، یہاں پٹرول بم بہت سارے بموں کی ماں بن کر غریبوں کے آنگن میں گرتا ہے، جس کے اثرات صرف کرایوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ پوری معیشت اور عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔
جس ملک میں لاکھوں لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں، روز ہزاروں گر رہے ہوں اور متوسط طبقے کی قوتِ خرید جواب دے چکی ہو وہاں اس طرح کے پیٹرول بم عوام الناس کو جبری طور پر خط غربت سے نیچے دھکیل کر گرانے کے مترادف ہے۔ پٹرول بم، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کے طوفان کو جنم دیتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات معیشت و معاشرت دونوں کی شہہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو کرایوں میں اضافے کا بم اچانک گرتا ہے، ترسیل کے اخراجات بڑھنے کی وجہ سے اشیائے خور و نوش اور دیگر ضروری سامان کی قیمتیں بڑھ کر مہنگائی بم گرانے میں دیر نہیں لگتی۔
پٹرول بم بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافے کا سبب بن کر بجلی بم گرانے میں دیر نہیں لگاتا، بجلی بم گرنے سے صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے، جس کا بوجھ بھی آخرکار صارفین پر دوسرے مہنگائی بم کی شکل میں گرتا ہے۔ جو متوسط اور غریب طبقہ کے تنخواہ دار، دیہاڑی دار مزدور اور چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد کی جیبوں کے ساتھ دماغ میں جاکر پھٹتا تو نوبت فاقوں سے خود کشیوں تک پہنچ جاتی ہے۔یا ریاستی معاشی بمباری کی وجہ سے ناقابل برداشت مہنگائی مزید بڑھنے سے عوام میں بے چینی و مایوسی بڑھنے لگتی ہے جو بعض اوقات انقلاب کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔
حکومت اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، مالیاتی دباؤ اور اقتصادی مجبوریوں کی صورت میں سارے ڈاکے عوام کی جیبوں پر ڈالنے کی بجائے، معاشی پالیسیاں بناتے اور فیصلے کرتے وقت عوامی مشکلات کو پیش نظر رکھ کر پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں میں کمی، سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے پر توجہ دیتی تو شاید عوام کو کچھ ریلیف ملتا۔ معاشی پالیسیوں میں توازن وقت کا تقاضا اور ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے ضروری ہے تاکہ عام آدمی کو بھی جینے کا بہانہ مل جائے۔
Today News
حزب اختلاف کا ایجنڈا – ایکسپریس اردو
گزشتہ سال ہونے والے انتخابات جمہوریت کی تاریخ کے منفرد انتخابات تھے۔ 2018 کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت 2024کے انتخابات میں اپنے انتخابی نشان سے محروم تھی، مگر تحریک انصاف کے حامی اراکین کی ایک بڑی تعداد منتخب ہوئی، یوں عمر ایوب خان قومی اسمبلی اور شبلی فراز سینیٹ میں قائد حزب اختلاف قرار پائے۔ اس اسمبلی میں بلوچستان سے محمود خان اچکزئی بھی منتخب ہوئے جن کا حزب اختلاف میں رہنے کا طویل تجربہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسمبلی میں موجود ہیں۔
تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصرکی کوششوں سے مولانا فضل الرحمن اور تحریک انصاف میں بظاہر ہم آہنگی پیدا ہوئی مگر بہت سے زندہ حقائق کی بناء پر تحریک انصاف مولانا فضل الرحمن کو قائد حزب اختلاف بنانے پر آمادہ نہ ہوئی۔ مولانا فضل الرحمن نے آئین میں کی جانے والی ترمیم کے لیے تحریک انصاف کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی مگر تحریک انصاف کی قیادت اس معاملے میں مولانا فضل الرحمن سے متفق نہ ہوسکی۔ عمر ایوب خان کی قیادت میں حزب اختلاف نے اپنے قائد کی رہائی کے لیے مہم جوئی کی مگر حزب اختلاف نے اپنی تحریکوں میں عوام کے مسائل کو اہمیت نہ دی۔
یہ تحریکیں عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل نہ ہونے کی بناء پر متوقع نتائج نہ دے سکیں، مگر اس حقیقت کا اعتراف کرنا ضروری ہے کہ ان تحریکوں میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے بھرپور جدوجہد کی۔ اسلام آباد میں نومبر 2024میں خیبر پختون خوا کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں زبرست احتجاج ہوا۔ اس احتجاج کے موقع پر ہونے والے تصادم میں مبینہ طور پر 6 افراد جاں بحق ہوئے مگر تحریک انصاف میں دو سال قبل شامل ہونے والے سینئر وکیل لطیف کھوسہ نے ٹی وی چینلز پر یہ پراپیگنڈہ شروع کیا کہ اس تصادم میں سیکڑوں کارکنان ہلاک ہوئے مگر حقائق لطیف کھوسہ کے دعوے کی تردید کررہے تھے۔ اس بناء پر رائے عامہ میں کنفیوژن پیدا ہوئی اور اس تحریک کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں نے عمر ایوب خان اور شبلی فراز کو 7, 7 سال قید کی سزا سنائیں، یوں یہ دونوں رہنما اپنی نشستوں سے محروم ہوگئے۔
عجیب بات یہ ہے کہ عمر ایوب خان اور شبلی فراز نے اپنی سزا کے خلاف قانونی جنگ میں دلچسپی نہیں لی۔ یہ دونوں رہنما خیبر پختون خوا میں اپنے اپنے گھروں میں مقید ہوگئے۔ شاید دونوں رہنماؤں نے نجات کا یہ راستہ بہتر جانا۔ حزب اختلاف نے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں علامہ ناصر عباس کو حزب اختلاف کی سربراہی کے لیے نامزد کیا مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف تسلیم کرنے کے اعلان میں چھ ماہ لگا دیے گئے۔
اس پارلیمنٹ کے بننے کے بعد پہلی دفعہ حزب اختلاف مکمل ہوئی۔ محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے وزیر اعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ سے مذاکرات ہوئے۔ بعض باخبر صحافیوں کا کہنا ہے کہ یوں لگتا تھا کہ شاید حکومت تحریک انصاف کے بانی کو ریلیف دینے پر تیار ہو جائے بعد ازاں صدر زرداری اچانک رحیم یار خان میں کارکنوں سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے اور تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف زوردار زبانی بمباری کی۔ شاید اسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمام معاملات رک گئے۔
گزشتہ مہینے متحدہ حزب اختلاف کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس کی روداد کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس اجلاس میں ایک تجویز اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہونے کی تھی۔ اجلاس نے ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور مسلمان ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی فضائی حدود کسی اور ملک کو استعمال نہ کرنے دیں۔ اس اجلاس میں بلوچستان اور خیبر پختون خوا کی صورتحال، مہنگائی میں مسلسل اضافہ،کارخانوں سے مزدوروں کی برطرفی، کارخانوں میں لے آف اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں مسلسل اضافے کے خلاف کسی طرح کے احتجاج کا فیصلہ نہیں ہوا۔ حزب اختلاف نے اب تک جتنی تحریکیں چلائیں وہ محض ایک شخص کی رہائی کے مطالبے کو منوانے تک محدود رہی ہیں۔
ان تحریکوں کے لیے صرف کارکنوں کی ایک مخصوص تعداد ہی متحرک ہوئی جس کی بناء پر تحریک انصاف کی قیادت مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکی۔ ملک کے معروضی حقائق کے جائزے سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ فوری طور پر کوئی مہم جوئی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ تحریک انصاف کے لاہور میں قید رہنماؤں نے بھی اس حقیقت کو محسوس کیا ہے۔ ان رہنماؤں کے ایک خط سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ فوری طور پر تحریک چلانے کے حق میں نہیں تھے، اس بناء پر ضروری ہے کہ حزب اختلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے دیگر طریقوں کو آزمائے۔ یہ وقت ہے کہ حزب اختلاف اپنے ایجنڈے کو توسیع دے۔
اس وقت سب سے زیادہ بے چینی بلوچستان میں پائی جاتی ہے۔ بلوچ نوجوانوں کی اکثریت فرسٹریشن کا شکار ہے۔ نوجوانوں کی شکایات حقیقت پر مبنی ہیں، اس بناء پر ضروری ہے کہ حزب اختلاف اپنے ایجنڈے میں بلوچستان کو سرفہرست رکھے۔ اس وقت نچلے متوسط طبقے کے حالاتِ کار انتہائی خراب ہیں۔ عالمی اداروں کا تخمینہ ہے کہ ملک میں گزشتہ دو برسوں کے دوران غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ ملک کے مختلف حصوں سے بے روزگاری اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے افراد کی خودکشی کی خبریں اخبارات میں شائع ہوتی ہیں۔ ایران، امریکا، اسرائیل جنگ کے نتیجے میں پیٹرولیم کی مصنوعات اور بجلی کے نرخ بڑھ گئے ہیں۔
افغانستان سے تجارت بند ہونے سے صرف وہ تاجر ہی متاثر نہیں ہوئے، جو اس کاروبار سے منسلک ہیں بلکہ پنجاب اور سندھ کے کسان بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں برآمدات کم ہونے سے ایک نیا بحران پیدا ہوا ہے اورکئی کارخانوں نے پیداوار روک دی ہے۔ کارخانوں میں لے آف سے مزدور بے روزگاری کا شکار ہیں۔ حکومت اب تک طلبہ یونین کو بحال کرنے پر تیار نہیں ہے اور یونیورسٹیوں کی فیسوں میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ ملک کی سرکاری یونیورسٹیاں مالیاتی اور انتظامی بحران کا شکار ہیں۔ مجموعی طور پر متوسط طبقے میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ حزب اختلاف کو اپنے ایجنڈے میں مظلوم طبقات کے مسائل کو ترجیح دی جائے۔ حزب اختلاف کے اجلاس میں یہ تجویز آئی ہے کہ اراکین اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں۔ اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہونے کا تجربہ ناکام ہوچکا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے گزشتہ دور میں اسمبلیوں سے استعفے دیے۔
پنجاب اور خیبر پختون خوا کی حکومتوں کو مستعفیٰ ہونے کا سارا فائدہ کسی اور قوت کو ہوا تھا۔ اس اسمبلی سے سردار اختر مینگل نے استعفیٰ دیدیا۔ اب قومی اسمبلی میں بلوچستان کے مصائب بیان کرنے والی کوئی آواز موجود نہیں ہے، اس بناء پر حزب اختلاف کو ماضی کے تجربات سے سیکھنا چاہیے۔ فوری طور پرکوئی تحریک چلانے کے بجائے عوام کو منظم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ پارلیمانی نظام میں حزب اقتدارکے ساتھ حزب اختلاف کی بھی یکساں اہمیت ہوتی ہے۔
حکمران حزب اختلاف کی اہمیت کو بخوبی محسوس کرتے ہیں۔ حکومت نے اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملے کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے جائزے کے لیے خفیہ اجلاس میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کو مدعو کیا تھا مگر حکومت نے حزب اختلاف کے رہنماؤں کو بانی تحریک انصاف سے مشاورت کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے انھوں نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی، اگر انھیں اپنے قائد سے مشاورت کی اجازت دی جاتی تو وہ زیادہ آسانی سے اظہارِ رائے کرسکتے تھے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کو حزب اختلاف سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ حزب اختلاف کے کچھ مطالبات مان کر ملک میں ایک اچھی سیاسی فضاء پیدا کی جاسکتی ہے۔ پاکستان خطے کی صورتحال کی بناء پر شدید مشکلات کا شکار ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ حکومت حزب اختلاف کو اعتماد میں لے۔
Today News
علی لاریجانی کے بعد …؟
ایران کی نیشنل سیکیورٹی کے چیف ایڈوائزر علی لاریجانی کی شہادت کے بعد کیا ہوگا۔ یہ سوال اب سب کے ذہن میں ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ابھی منظر عام پر نہیں۔ ان کی صحت کے بارے میں بھی متضاد اطلاعات ہیں۔ جب سے وہ سپریم لیڈر منتخب ہوئے ہیں، ان کا نہ تو کوئی آڈیو اور نہ ہی کوئی ویڈیو پیغام منظر عام پر آیا ہے۔ جس سے ان کی صحت اور زندگی دونوں کی تصدیق ہو سکے۔ وہ زندہ ہیں اس پر سب کا اتفاق ہے۔ لیکن کتنے زخمی ہیں۔ کیا وہ ہوش میں ہیں۔ کیا وہ اس وقت ایران کی کمان کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ ان کو کتنے زخم آئے ہیں۔ وہ بول سکتے ہیں۔ وہ چل سکتے ہیں۔ سب سوال اپنی جگہ موجود ہیں۔
اسی لیے سوشل میڈیا میں ان کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ چند دن پہلے یہ افواہ تھی کہ وہ ایران میں نہیں ہیں بلکہ علاج کے لیے انھیں ماسکو شفٹ کر دیا گیا ہے۔لیکن یہ سب جھوٹ تھا۔ یہ اسرائیلی پراپیگنڈا تھا تاکہ وہ منظر عام پر آئیں۔ ان کی کوئی تصویر کوئی ویڈیو سامنے آئے۔ لیکن مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہیں یہ تو طے ہے۔ اس کی تو ایرانی بھی تصدیق کرتے ہیں۔ اس لیے مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہوتے ہوئے ایران کون چلا رہا ہے۔ پاسداران انقلاب کس کے کنٹرول میں ہے۔
اس لیے یہ کہا بلکہ یہ مانا جا رہا تھا کہ علی لاریجانی ساری جنگ کو دیکھ رہے تھے۔ وہی مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر موجودگی میں کمان میں ہیں۔ یہ درست ہے کہ وہ سپریم لیڈر کے لیے بھی ایک امیدوار تھے۔ انھیں آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی اپنے وارث کے طور پر نامزد کیا ہوا تھا۔ لیکن ان کا انتخاب نہیں ہوا۔ تا ہم وہ سب سے اہم تھے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ علی خامنہ ای کے بعد اسرائیل نے کسی سب سے اہم لیڈر کو نشانہ بنایا ہے تو وہ علی لاریجانی ہیں۔ وہی سب سے اہم تھے۔ سب کا ماننا ہے کہ وہی کمان میں تھے۔
گزشتہ دنوں امریکا نے ایران کی اہم شخصیت کی معلومات کے لیے بڑی انعامی رقوم کا بھی اعلان کیا۔ اس میں مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ علی لاریجانی کا نام بھی شامل تھا۔ اس لیے کیا کسی نے ان کی مخبری کر دی ہے ۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم رہے گا۔ سب سے پہلے ان کی شہادت کی خبر اسرائیل نے دی۔ اس کا مطلب اسرائیل کے لوگ وہاں موجود ہیں جنھوں نے علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کر کے اسرائیل کو آگاہ کیا۔ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد بھی یہی صورتحال سامنے آئی تھی کہ امریکی صدر نے اعلان کیا اور انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس تصاویر بھی ہیں۔ کسی نے تو موقع سے تصاویر اسرائیل اور امریکا کو دی تھیں۔
اس لیے دونوں واقعات یہ بتاتے ہیں کہ موساد کا نیٹ ورک ابھی تک ایران میں بہت مضبوط ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی اپنی بیٹی کے گھر جا رہے تھے تب انھیں نشانہ بنایا گیا۔ آخر کسی نے تو ان کی مخبری کی کہ وہ محفوظ بنکر سے باہر آئے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ علی لاریجانی کی شہادت کے بعد پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر بہت سخت حملہ کیا ہے۔ اسرائیل میں سو سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیل کی ریلوے سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ حملے اشارہ دیتے ہیں کہ علی لاریجانی کے بعد بھی ایران میں کمان کا ایک نظام موجود ہے۔ جیسے علی خامنہ ای کے بعد ایران کا نظام حکومت اور اس کی جنگی مشین کام کرتی رہی ۔ کوئی قیادت کا خلاء نظرنہیں آیا، جنگ جاری رہی، ایران کی مزاحمت جاری رہی۔ ایسے ہی علی لاریجانی کے بعد بھی ایران کی امریکا اور اسرائیل کے لیے مزاحمت جاری ہے بلکہ اس میں تیزی آئی ہے۔
یہ بھی کمان کا نیا نظام ہے۔ جہاں کمانڈر کے جانے کے بعد بھی جنگ کی کمان جاری رہتی ہے۔ کمان کیسے بدلتی ہے، کون اصل میں کمان میں ہے، یہ بھی ایک سوال ہے۔ کون متبادل کا فیصلہ کرتا ہے۔ کون نیا کمانڈر منتخب کرتا ہے۔ کون نئی ہدایات دیتا ہے۔ یہ سب ابھی تک نا قابل فہم ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جس قدر شدید بمباری کی گئی ہے اس کی بھی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہزاروں مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے لیکن مزاحمت جاری ہے۔
ڈرون مارے جا رہے ہیں۔ میزائیل مارے جارہے ہیں۔ ایران نے اپنے نظام جنگ سے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ دیکھا جائے تو اس وقت یہ سوال موجود ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا بھی کچھ علم نہیں۔ علی لاریجانی شہید ہو گئے ہیں کون کمان میں ہے۔ لیکن کوئی تو ہے جو سب کچھ چلا رہا ہے۔ علی لاریجانی کے بارے میں یہی بتایا گیا ہے کہ وہ آخری موقع تک امام علی خامنہ ای کو محفوظ بنکر میں جانے کے لیے مناتے رہے۔ لیکن امام خامنہ ای نہیں مانے۔سوال یہ بھی ہے کہ علی لاریجانی محفوظ بنکر سے خود کیوں باہر آئے۔ انھوں نے کیوں اپنی حفاظت نہیں کی۔
اگر امریکا اور اسرائیل کا خیال تھا کہ علی لاریجانی کے بعد ایرانی فوج اور بالخصوص پاسداران انقلاب کمزور ہو جائیں گے۔ ان کے حوصلے پست ہو جائیں گے۔ کوئی کمان کرنے والا نہیں ہوگا تو ایسا نہیں ہوا۔ جیسے علی خامنہ ای کے بعد ایسا نہیں ہوا تھا۔ ایسا علی لاریجانی کے بعد بھی نہیں ہوا ہے۔ نظام جنگ اور نظام حکومت بھی چل رہا ہے۔ ایران میں ابھی تک سب ٹھیک چل رہا ہے۔ یہ بھی حیران کن ہے۔ دنیا حیران ہے۔
علی لاریجانی جنگ کے دوران عوامی مقامات پر نظر آتے رہے ہیں۔ یوم القدس کی ریلی میں موجود تھے۔ ان کی تصویربہت وائرل ہوئی۔ بلکہ یہ خبریں بھی آئیں کہ انھوں نے یوم القدس کی ریلی میں جو جیکٹ پہنی ہوئی تھی اس جیکٹ کی ایران میں بہت مانگ بڑھ گئی۔ نوجوان وہ جیکٹ پہننے لگ گئے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے ایرانی قیادت کو متنبہ کیا تھا کہ وہ یوم القدس کی ریلیوں میں شرکت نہ کریں ورنہ انھیں نشانہ بنایا جائے گا۔ جس ریلی میں علی لاریجانی شریک تھے اس کو نشانہ بھی بنایا گیا تھا لیکن وہ محفوظ رہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں موت کا خوف نہیں تھا۔ انھوں نے چند دن پہلے ٹوئٹ بھی کیا تھا کہ موت انھیں خوشی دے گی، وہ موت سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ علی لاریجانی کی شہادت امام علی خامنہ ای کے بعد ایران کا بہت بڑا نقصان ہے۔
ایران کو اپنی قیادت کی حفاظت کرنی ہوگی۔ جب قیادت اس طرح نشانہ بنتی ہے تو اس کا بہرحال اثر پڑتا ہے۔ اس لیے ایران کو اپنی قیادت کو سنبھالنا ہے۔ یہ بھی دیکھنے کی بات ہے کہ اب علی لاریجانی کے بعد کون سامنے آتا ہے۔ اب نئے سپریم لیڈر نے ان کی جگہ کسی کو نامزد کرنا ہے۔ وہ کون ہے یہ بھی اہم ہوگا۔ اس سے نئے سپریم لیڈر کی ٹیم کا بھی اندازہ ہو جائے گا۔ وہ کس کو آگے لاتے ہیں اور اس کی کیا سوچ ہے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Today News2 weeks ago
prime minister contact Lebanon counterpart solidarity against israeli aggression
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income
-
Magazines5 days ago
Story time: The price of a typo
-
Magazines4 days ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper