Connect with us

Today News

Karachi storm and rain – ایکسپریس اردو

Published

on


شہر قائد کے مختلف علاقوں میں شدید طوفانی ہواؤں کے بعد موسلادھار بارش ہوئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی کے تقریبا تمام ہی علاقوں میں شدید طوفانی ہواؤں کے بعد گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ شروع ہوا جو تاحال جاری ہے۔

طوفانی ہواؤں کے باعث کئی علاقوں میں بل بورڈ اور درخت گرنے کی اطلاعات ہیں تاہم اس کی حتمی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

گلشن اقبال، گلستان جوہر، ملیر، لانڈھی، کورنگی، اورنگی، لیاقت آباد، اولڈ سٹی ایریا، نمائش، صدر سمیت کئی علاقوں میں طوفانی ہواؤں کے بعد تیز بارش ہوئی۔

واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے شہر کی جانب سسٹم بڑھنے کی پیش گوئی کر رکھی تھی جس کے بعد یہ سلسلہ رات گئے تک جاری ہے گا اور جمعے ہفتے کو نیا سسٹم داخل ہوگا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق شاہراہ فیصل پر ہواؤں کی رفتار90 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ ماڑی پور میں ہواؤں کی زیادہ سے زیادہ رفتار 97 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایک اسلامی ملک عید کا چاند نظر آگیا؛ آج بروز جمعرات عید الفطر منائی جائے گی

Published

on


طالبان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے متعدد علاقوں سے چاند نظر آنے کی مصدقہ شہادتیں موصول ہوئی ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان سپریم کورٹ نے باضابطہ طور پر مختلف صوبوں میں شوال کا چاند نظر آنے کا اعلان کردیا۔ اس طرح افغانستان میں عید الفطر آج (بروز جمعرات) عید الفطر منائی جائے گی۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ شوال کا چاند فرح، ہلمند اور غور سمیت کئی علاقوں میں دیکھا گیا جس کے بعد عید منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

طالبان حکومت کی جانب سے عید کے موقع پر 4 ہزار 596 قیدیوں کو رہا جب کہ 4 ہزار 407 قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کی گئی۔ 

افغان حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ عید کی نماز اور دیگر تقریبات کے دوران نظم و ضبط کا خیال رکھیں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں تاکہ یہ تہوار پرامن ماحول میں منایا جا سکے۔

یاد رہے کہ آج سعودی عرب سمیت متحدہ عرب امارات، عراق، یمن، لبنان، کویت، بحرین، قطر اور دیگر خلیجی ممالک میں شوّال کا چاند نظر نہیں آیا۔ اس لیے عید بروز جمعہ 20 مارچ کو ہوگی۔

جمعرات کو جن ممالک میں چاند دیکھا جائے گا ان میں پاکستان سمیت ترکیہ، انڈونیشیا، ملیشیا، برونائی، سنگاپور، سعودی عرب، بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان، ایران، عراق کے کچھ حصے، عمان، اردن، شام، مصر، لیبیا، تیونیس، الجزائر، مراکش، اور موریطانیہ شامل ہیں۔

خیال رہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں چاند کی رویت کے لیے الگ الگ طریقہ کار اپنایا جاتا ہے۔ زیادہ تر ممالک میں روایتی رویت کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ بعض جگہوں پر فلکیاتی حسابات اور دیگر ممالک کے اعلانات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔

ماہرین موسمیات کے مطابق چاند کی رویت ہر سال موسمی حالات اور جغرافیائی پوزیشن کے باعث مختلف ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے مختلف ممالک میں عید کے دن میں فرق آ جاتا ہے۔

مسلمانوں کے لیے عید الفطر خوشی اور شکرانے کا تہوار ہے جو رمضان کے روزوں کی تکمیل کے بعد منایا جاتا ہے اور اس موقع پر خصوصی عبادات اور سماجی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

عالمی دہشت گردی کا تدارک

Published

on


1990 میں پاکستان کی اپوزیشن نے امریکا کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا جس کا ثبوت یوں تو امریکا نے متعدد بار دیا مگر دوسری بار امریکی صدر منتخب ہونے والے موجودہ صدر ٹرمپ نے دہشت گردی کا جو نیا ریکارڈ قائم کیا ہے وہ ماضی میں امریکا کا کوئی صدر قائم نہیں کر سکا تھا مگر آج یہ حالات ہوگئے ہیں کہ دنیا کی واحد سپر پاور امریکا کے جارحانہ مزاج کے حامل صدر کو آبنائے ہرمز پر امریکا کے اتحادی ممالک نے بھی ان کی مدد سے انکار کر دیا ہے اور واضح کر دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی آبی گزرگاہ کھلوانے کے لیے اپنے بحری جہاز نہیں بھیجیں گے۔ اس انکار کے جواب میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ، آسٹریلیا، جاپان، جرمنی اور نیٹو نے ہماری مدد نہ کی تو اس کا مستقبل برا ہوگا، اس لیے اب چین اور جنوبی کوریا آگے آئیں اور آبنائے ہرمز کھلوائیں۔

امریکی صدر یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ امریکا کا اس عالمی گزرگاہ سے کوئی تعلق ہے نہ مفاد کیونکہ اس کی بندش سے امریکا کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی وہاں سے امریکی جہاز تیل لے کر آتے ہیں مگر ایران نے آبنائے ہرمز بند کرکے دنیا میں تیل کی قلت پیدا کی ہے جس سے نرخ بھی بڑھے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے امریکا کا دعویٰ ہے کہ اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا جب کہ یہ حقیقت ہے کہ امریکی خام تیل 2 فی صد مہنگا ہوگیا ہے اس قیمت میں اضافے کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت 102 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

دنیا بھر میں ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ایران کو بھی آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا اور ایران کی طرف سے بھی کہا گیا کہ دنیا میں تیل کی قلت اور مہنگائی ہوگی جس کے نتیجے میں پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو کر 6 سو روپے فی لیٹر تک قیمت بڑھ سکتی ہے۔

پاکستانی حکومت تو اپنے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمت بڑھنے کے انتظار میں رہتی ہے تاکہ پٹرولیم مہنگا اور حکومت کی آمدنی بڑھتی رہے کیونکہ پاکستان میں پٹرول، بجلی و گیس حکومت کی اہم کمائی کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ حکمرانوں کو پٹرولیم کمپنیوں، بجلی بنانے والے اداروں میں اپنوں کو نوازنا ہوتا ہے اور ہر حکومت میں اپنوں کو نوازا جاتا رہا ہے۔ دو امریکی صدور جارج بش اور ان کے والد صدر بش کے دور سے دنیا میں امریکی دہشت گردی میں اضافہ ہوا تھا اور امریکا نے تیل پر قبضہ کرنے کے لیے تیل پیدا کرنے والے دو مسلم ممالک عراق اور لیبیا پر جھوٹے الزامات لگا کر حملہ کیا تھا اور وہاں کی قیادت تبدیل کرا کر وہاں اپنے حامی حکمران مسلط کرائے تھے اور وہاں تیل کی پیداوار اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا شروع کی تھی۔

امریکی صدر ٹرمپ کی بے لگام طاقت نے دنیا بھر میں عالمی نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں جس سے امریکی چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلوں کو محدود کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ امریکی صدر کے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے کے بعد عالمی ماہرین قانون اور تجزیہ کاروں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام اور بین الاقوامی قوانین پر سوالات اٹھا دیے ہیں کہ دوسری بار صدر بن کر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی طاقت کے بے روک استعمال میں تشویش ناک اضافہ ہوا ہے۔ وہ منتخب ہونے کے بعد تیل پیدا کرنے والے ملک وینزویلا کے صدر کو گرفتار کر چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے دنیا میں ایسا غلط کام کیا ہے کہ جس سے امریکا کی ہاں میں ہاں نہ ملانے والے ممالک بھی غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر نے یہ منفرد کام بھی کر دکھایا کہ امریکی فوج کے ذریعے رات کے وقت وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرایا اور امریکا لا کر وہاں دونوں کو قید کر رکھا ہے اور اپنی مرضی کے حکمران وہاں مسلط کرکے وینزویلا کے تیل پر قبضہ کر لیا جو اب امریکا کی مرضی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

عراق، لیبیا اور وینز ویلا کے تیل پر قبضے کے بعد امریکی صدر نے اپنے اعلانات پر عمل کرتے ہوئے ایران پر حملہ کیا اور اسرائیل سے بھی حملہ کرایا۔ ایران پر حملے سے خود امریکی اور دنیا حیران ہے کہ وہاں امریکا کا کوئی لینا دینا نہیں تھا مگر خود امریکی صدر کا مقصد ایران کے تیل پر بھی قبضہ کرنا تھا جس کے لیے انھوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کو جواز بنایا اور ایرانی قیادت کو تبدیل کرانے کی کوشش کی اور اسرائیلی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کو شہید کرا کر دنیا کو حیران اور ایرانیوں کو مشتعل اور متحد کرا دیا۔ اپنے پہلے منصوبے میں امریکا نے ایران میں حکومت کے خلاف پرتشدد مظاہرے کرائے جن میں ناکام ہو کر امریکا ایک طرف ایران سے مذاکرات بھی کرتا رہا جس کی کامیابی کی امید دیکھ کر امریکا نے ایران پر خود حملہ کیا اور اسرائیل سے بھی کرایا۔ ایران سے مذاکرات کی کامیابی کا امریکا کو خوف تھا اور اس نے اپنے اصل مقصد کے لیے ایران پر حملہ کرنا ہی کرنا تھا جو اس نے کیا مگر ایرانیوں کے جذبوں کے باعث دو ہفتوں سے حملوں میں ناکام رہا ہے۔ امریکی دہشت گردی کے متعدد واقعات ہو چکے ہیں جس پر اب اس کے اتحادی بھی اب اس کا ساتھ نہیں دے رہے اب امریکی اتحادیوں، یورپی یونین اور مسلم ممالک کو مل کر دنیا کو امریکی دہشت گردی کا تدارک کرنا ہوگا تاکہ دنیا امریکی جارحیت سے محفوظ رہ سکے۔





Source link

Continue Reading

Today News

رمضان، عید اور پٹرول بم

Published

on


وہ رمضان المبارک اپنی تمام تر رحمتوں، برکتوں اور سعادتوں کے ساتھ اہلِ ایمان پر سایہ فگن رہ کر رخصت ہونے کو ہے جسے اللہ نے ہدایت کا سرچشمہ قرار دیا، رمضان اللہ کے قریب ہونے، گناہوں پر ندامت کے آنسو بہانے، مغفرت کے دروازوں کھلوانے، رب کو راضی کرنے اور دوزخ کی آگ سے نجات کا مہینہ ہے۔

خوش نصیبوں نے رمضان کو اس کی شان کے مطابق گزارا ہوگا، روزوں کے اہتمام اور فرض عبادات کے ساتھ قیام الیل سے منور کیا ہوگا۔ قرآن عظیم الشان کی تلاوت کو معمول بنایا ہوگا، صدقات و خیرات کے ذریعے مستحق مخلوق کا سہارا بن کر خالق کا قرب حاصل اور اپنی لغزشوں کو معاف کروایا ہوگا۔ رمضان کا حق ادا کرنے والوں کے لئے رمضان یقیناً مغفرت، رحمت اور جہنم سے نجات کا پروانہ بن کر آتا ہے۔ رمضان باطن کی تطہیر اور کردار کی تعمیر کا مہینہ ہے۔ رمضان کے روزے صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، یہ صبر و شکر، تقویٰ، ایثار، تحمل اور ہمدردی کو زندگی کا حصہ بنانے کا سالانہ عملی تربیتی کورس ہے۔ رمضان کو رضا الہی کا طالب بن کر گزار جایا تو روحانی انقلاب کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔

رمضان کی آخری ساعتیں ہیں، سوچنا چاہیے کہ ہم نے رمضان سے کیا حاصل کیا؟ کہ ہماری زندگیوں میں عبادت، اخلاق، دیانت اور انسان دوستی کا رنگ گہرا ہوا ہے کہ نہیں اور ہم اپنی زندگی کو تقویٰ، انصاف اور خیر کی بنیادوں پر استوار کرنے اور اس کیفیت کو عملی زندگی کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوئے کہ نہیں، اگر ایسا ہے تو ہمیں اور معاشرہ دونوں کو فلاح و کامیابی کی طرف لے جائے گا انشاء اللہ۔

عید الفطر کی آمد آمد ہے، رمضان اور عیدالفطر دونوں قرب الہی حاصل کرنے، معاشرے میں اخوت و محبت، ضرورت مندوں کی مدد اور محتاجوں کے ساتھ ہمدردی کا درس دیتے ہیں۔ لیکن جب معاشرے کا ایک بڑا طبقہ غربت کی چکی میں پس رہا ہو تو رمضان اور عید دونوں آزمائش میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مہنگائی نے غریبوں کی زندگی تو پہلے سے اجیرن کی تھی مگر بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے متوسط طبقے کا بھی جینا دوبھر کردیا گیا۔قیمتوں میں پہلے8 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا اورٹھیک ایک ہفتے کے بعد 55 روپے لیٹر کا ظالمانہ اضافہ کیا گیا یوں فی لیٹر قیمت میں 63 روپے اضافہ ہوا تو ماہ رمضان میں مہنگائی کا بے قابو جن دستک دیئے بغیر غریبوں کے گھروں میں دھما چوکڑی کرنے داخل ہوا تو رمضان اور عید کی خوشیاں نگل گیا۔اسلام میں ریاست صرف انتظامی ادارہ نہیں، اخلاقی ذمہ داریوں کا حامل ادارہ بھی ہوتا ہے۔ خلافتِ راشدہ کا درخشاں دور جس کی بہترین اور واضح مثالیں ہیں۔ خلیفہ دوم امیرالمومنین سیدنا عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت کے دو واقعات اسلامی ریاست اور حکمرانی کے تصور کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ ایک رات مدینہ کے اطراف گشت کے دوران حضرت عمرؓ نے ایک خیمے میں بچے کے رونے کی آواز سنی۔ تو پوچھا بچے پر کیوں ظلم کرکے رولا رہے ہیں آپ لوگ؟ مجبور ماں نے اندر سے جواب دیا کہ ظالم ہم ہیں کہ خلیفہ؟

امیرالمومنین سیدنا عمر فاروقؓ نے پوچھا کہ خلیفہ نے کیا ظلم کیا؟ عورت نے جواب دیا کہ امیرالمومنین دودھ پیتے بچوں کو روزینہ نہیں دیتے، ہم غربت و افلاس کے مارے ہیں اس لئے بچے کا دودھ چھڑانا چاہتے ہیں تاکہ اس کا روزینہ شروع ہوجائے، گھر میں بچے کو کھلانے کے لئے کچھ اور ہے نہیں بچہ اس لئے رو رہا ہے۔ اگر یہ واقعہ آج کے کسی حکمران کے ساتھ پیش آتا تو شاید اس غریب عورت کی جھونپڑی جلا دیتا مگر امیر المومنین بہت غمگین ہوئے اور فوراً بیت المال سے بچے کے پیدائش کے ساتھ روزینہ شروع کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ ایک بار کسی گھر سے بچوں کی رونے کی آوازیں آرہی تھیں، معلوم کیا تو ماں خالی ہانڈی میں پانی ابال کر بھوکے بچوں کو بہلا رہی کہ سو جائیں، عمرؓ بہت غمگین ہوئے بیت المال گئے اور آٹا اور دیگر سامان عمرؓ نے اپنی پیٹھ پر اٹھا کر پہنچایا۔ خادم نے بوجھ اٹھانا چاہا تو عمرؓ نے جواب دیا کہ “قیامت کے دن بھی میرا بوجھ تم اٹھاؤ گے؟”

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور میں بیت المال کے نظم و نسق اور معاشی انصاف کی وجہ سے اکثر اوقات زکوٰۃ لینے والا کوئی مستحق نہیں ملتا تھا۔ یہ واقعات اس پر دلالت کرتے ہیں کہ اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داری عوام کی فلاح اور معاشی انصاف کو یقینی بنانا ہے۔ مگر ہم نے اپنی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔

کلمہ طیبہ کے نام پر بنے پاکستان میں اگر صحیح معنوں میں اسلام نافذ ہوجاتا تو کوئی غریب بھوکا سوتا نہ حکمرانوں کے لیے استثنا کے قوانین بنتے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی معاشی پالیسیاں تمام بوجھ عوام پر منتقل کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں۔ حالیہ پیٹرول بم اس کی ایک واضح مثال ہے۔ شریعت مطہرہ میں حکمرانوں کو عوامی مشکلات کو کم کرنے کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے کی تلقین کی گئی ہے لیکن یہاں ہر مشکل میں غریب کا سر ہی چکی میں دیا جاتا ہے، ریاستی جبر، بے رحمانہ اور ظالمانہ فیصلے آئیں گے تو پھر غریبوں، لاچاروں اور بے بس لوگوں کی ذمہ داری معاشرے کے آسودہ حال لوگوں پر عائد ہوجاتی ہے۔ رمضان اور عید کے مواقع پر ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ عیدالفطر صرف ایک تہوار نہیں یہ معاشرتی ہم آہنگی ، مساوات اور خوشیاں بانٹنے کا موقع ہوتا ہے، اس موقع پر غریبوں کو مانگنے کی نوبت نہیں آنی چاہیے۔

اگر خدانخواستہ آسودہ حال لوگ مدد نہیں کرینگے تو ان کی عید کی تیاریاں بنیادی ضروریات سے محروم غربا کی غربت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہوگا۔ ایسے مواقع پر غریبوں کا خیال رکھنا معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ علماء کرام، مخیر حضرات اور معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد پر واضح کریں کہ ان پر لازم ہے کہ وہ زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کے ذریعے معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد کریں، مگر حقیقت ہے کہ یہ فلاحی اقدامات وقتی ریلیف فراہم کرتے ہیں اور مستقل حل ایک متوازن شرعی معاشی نظام کے نفاذ میںہے مگر ہمارے سودی اور استحصالی معاشی نظام میں غریب کی کوئی گنجائش نہیں، یہاں پٹرول بم بہت سارے بموں کی ماں بن کر غریبوں کے آنگن میں گرتا ہے، جس کے اثرات صرف کرایوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ پوری معیشت اور عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔

جس ملک میں لاکھوں لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں، روز ہزاروں گر رہے ہوں اور متوسط طبقے کی قوتِ خرید جواب دے چکی ہو وہاں اس طرح کے پیٹرول بم عوام الناس کو جبری طور پر خط غربت سے نیچے دھکیل کر گرانے کے مترادف ہے۔ پٹرول بم، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کے طوفان کو جنم دیتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات معیشت و معاشرت دونوں کی شہہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو کرایوں میں اضافے کا بم اچانک گرتا ہے، ترسیل کے اخراجات بڑھنے کی وجہ سے اشیائے خور و نوش اور دیگر ضروری سامان کی قیمتیں بڑھ کر مہنگائی بم گرانے میں دیر نہیں لگتی۔

پٹرول بم بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافے کا سبب بن کر بجلی بم گرانے میں دیر نہیں لگاتا، بجلی بم گرنے سے صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے، جس کا بوجھ بھی آخرکار صارفین پر دوسرے مہنگائی بم کی شکل میں گرتا ہے۔ جو متوسط اور غریب طبقہ کے تنخواہ دار، دیہاڑی دار مزدور اور چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد کی جیبوں کے ساتھ دماغ میں جاکر پھٹتا تو نوبت فاقوں سے خود کشیوں تک پہنچ جاتی ہے۔یا ریاستی معاشی بمباری کی وجہ سے ناقابل برداشت  مہنگائی مزید بڑھنے سے عوام میں بے چینی و مایوسی بڑھنے لگتی ہے جو بعض اوقات انقلاب کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔

حکومت اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، مالیاتی دباؤ اور اقتصادی مجبوریوں کی صورت میں سارے ڈاکے عوام کی جیبوں پر ڈالنے کی بجائے، معاشی پالیسیاں بناتے اور فیصلے کرتے وقت عوامی مشکلات کو پیش نظر رکھ کر پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں میں کمی، سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے پر توجہ دیتی تو شاید عوام کو کچھ ریلیف ملتا۔ معاشی پالیسیوں میں توازن وقت کا تقاضا اور ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے ضروری ہے تاکہ عام آدمی کو بھی جینے کا بہانہ مل جائے۔





Source link

Continue Reading

Trending