Today News
طالبان فیصلہ کریں کہ انہیں دہشت گردوں کو بچانا ہے یا افغانستان کو، ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ہمارا افغان شہریوں سے کوئی مسئلہ نہیں، جنگ کا خاتمہ صرف ایک ہی صورت ممکن ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف دہشت گردی کیلیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی جائے۔
تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان سے اس سے پہلے بھی براہ راست، دوست ممالک کے ذریعے بات چیت ہوئی جس میں صرف اسی بات کی گارنٹی مانگی گئی کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام، حکومت اور افواج نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ہر صورت دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے، اب افغان طالبان کو سوچنا چاہیے کہ انہیں ٹی ٹی پی کو بچانا ہے یا پھر افغانستان کو۔
مزید پڑھیں : حکومت کا عیدالفطر کے پیش نظر افغانستان میں آپریشن غضب للحق میں عارضی وقفے کا اعلان
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کابل میں عسکری اور ڈرون اسٹوریج کرنے والے اڈے کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اس حوالے سے کیے جانے والے افغان طالبان اور دیگر کے دعوے بے بنیاد ہیں کیونکہ ہمارے پاس اس کے ثبوت ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ افغان طالبان نے منشیات کے عادی لوگوں کو اکھٹا کر کے رکھا ہے اور انہیں دہشت گردی کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ سویلین آبادی پر حملے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آدھے سے زیادہ خوارج اور طالبان سویلین کپڑوں میں ہوتے ہیں جس وجہ سے باتیں بنائی جاتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے افغانستان میں 81 فضائی حملے کر کے اُن کی اہم تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا، ایک بار یقین دہانی کروادی جائے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہوگی اور اگر ہوئی تو پھر کارروائی ہوگی تو آپریشن غضب للحق رُک سکتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سرحد بند ہونے سے کچھ لوگوں کا نقصان ہورہا ہے مگر اس کے ذریعے اسمگلنگ بھی بند ہوئی ہے جبکہ آپریشن غضب للحق کیوجہ سے اب پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات بھی کم ہورہے ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ آپریشن غضب للحق صرف دہشت گردوں کیخلاف ہے اور ٹی ٹی پی سمیت خوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، افغانستان کو دہشت گردوں کا مرکز بنادیا گیا تھا مگر پاکستان کو اس دروازے کو دھکا دے کر بند کردیا۔
Today News
پاک افغان تعلقات اور چین کا کردار
پچھلے کچھ برسوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا ماحول ہے ۔اس ماحول نے اب ایک باقاعدہ کھلی جنگ کی صورتحال اختیار کرلی ہے۔دو طرفہ بات چیت کے جتنے بھی امکانات تھے یا جو بھی بڑی بڑی سیاسی بیٹھکیں سجائی گئیں کہ دو طرفہ مکالمہ کی بنیاد پر مسائل کا حل نکل سکے وہ بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکا ۔
اس وقت جنگ کا ماحول ہے ۔ یہ ماحول پورے خطے کی سیاست کے لیے بھی مستقبل میں اچھے امکانات پیدا نہیں کررہا جو خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے ۔قطر، دوحہ اور سعودی عرب نے جو کوششیں کیں وہ بھی فوری طور پر کوئی بڑا مثبت نتیجہ نہیں دے سکیں اور اس کی بنیادی وجہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کے تحفظات پر کسی بھی طرز کی تحریری ضمانت نہ دینے کا فیصلہ تھا جو ڈیڈ لاک کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
اب پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری میں ایک بڑے موثر کردار ادا کرنے کے لیے فرنٹ فٹ پر ہم چین کے کردار کو دیکھ رہے ہیں ۔یہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمہ میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے ۔ موجودہ حالات میں یہ بات سمجھ آرہی تھی کہ امریکا اور چین کی ثالثی کے بغیر پاکستان افغانستان تعلقات میں فوری طور پر بہتری کے امکانات پیدا نہیں ہوسکیں گے۔ آج کی دنیا میں طاقت اور سفارت کاری یا بڑی معیشت کی حکمرانی ہے ۔اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ چین اپنی سیاسی اور معاشی سطح پر موجود طاقت کی بنیاد پر ایک فعالیت پر مبنی کردار ادا کرسکتا ہے ۔
حالیہ کچھ عرصہ میں ہم نے اس کردار کی کچھ اہم جھلکیاں بھی دیکھی ہیں۔ ایک طرف چین کی معاشی طاقت تو دوسری طرف دونوں ممالک کے ساتھ اس کے گہرے تعلقات اور علاقائی استحکام کے لیے اپنی اپنی سطح پر اسٹرٹیجک ضرورت بھی ہے۔چین کی قیادت اس وقت شٹل ڈپلومیسی اور یا پس پردہ ڈپلومیسی کی بنیاد پر دونوںممالک کے درمیان بہتر تعلقات چاہتی ہے اور اسی تعلقات کی بہتری میں چین کے اپنے معاشی مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان چین کے خصوصی نمائندے اس وقت دونوں ممالک کی قیادت سے رابطوں میں ہیں اور جو کچھ بات چیت ہو رہی ہے اس میں چین کا کردار ہی شامل ہے۔
چین سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو جہاں چین کے معاشی مفاد کو فائدہ ہوگا وہیں یہ دونوں سطح کے ممالک کو سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹوسے پاکستان کی سیکیورٹی ، افغانستان کو سرمایہ کاری اور معدنیات کی ترقی میں فائدہ پہنچ سکتا ہے جو دونوں ممالک کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔کیونکہ اگر دونوں ممالک بہتر تعلقات کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو اس خطہ میں چین کی سرمایہ کاری بڑھے گی اور اس کا فائدہ دونوں ممالک کو معاشی ترقی کی صورت میں ہوگا۔یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ اگر چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتر ہیں تو خود افغان حکومت بھی چین کے ساتھ نہ صرف بہتر تعلقات رکھے ہوئے ہے بلکہ افغان حکومت معاشی ترقی کے عمل میں چین پر بڑا انحصار کر رہی ہے۔
اس لیے چین اس پوزیشن میں نظر آتا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیا ن تعلقات کی خرابی کو کم کرنے میں بہت کچھ کرسکتا ہے۔اسی طرح یہ جو افغان حکومت کا جھکاؤ بھارت کی جانب بڑھ رہا ہے اور جس کی بنیاد پاکستان دشمنی ہے اس کو بھی کم کرنے میں چین کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ وہ افغانستان کو یہ باور کروا سکتا ہے کہ اس کے بھارت سے تعلقات کی بنیاد پاکستان دشمنی کی بنیاد پر نہیں ہونے چاہیے اور جو پاکستان کے تحفظات ہیں اسے ہر صورت افغان حکومت کو بات چیت کی مدد سے دور کرنا چاہیے۔
چین نے زور دیا ہے کہ موجودہ حالات میں جہاں دونوں ممالک میں سخت کشیدگی ہے تو پہلے مرحلے میں دونوں ممالک ایسے عملی اقدامات اٹھائیں جو ماحول کو ابتدائی طور پر سازگار بنانے میں مدد کرسکیں ۔کیونکہ سخت کشیدگی ، الزامات یا جنگ کے ماحول میں بات چیت کے امکانات کافی حد تک کم ہوجاتے ہیں ۔چین کی ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ بہت زیادہ کسی ایک طرف جھکاؤ رکھ کر آگے بڑھنے کا حامی نہیں بلکہ اس کی پالیسی کو توازن کی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے اور ان میں معیشت کو اہم حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
اسی طرح چین یہ بھی سمجھتا ہے کہ اس خطہ میں اس کی معاشی ترقی کا ایک بڑا انحصار علاقائی بہتر تعلقات اور بالخصوص بہتر سیکیورٹی کے مسائل کی بنیاد سے جڑے ہوئے ہیں۔چین جتنی بھی علاقائی سطح پر دہشت گرد تنظیمیں ہیں چاہے وہ کسی بھی ملک میں بیٹھ کر کام کررہی ہیں ان کو اپنا مشترکہ دشمن سمجھتا ہے۔اسی طرح پاکستان بھی داعش سمیت ٹی ٹی پی کو اس خطہ کی سیاست میں دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے ۔اصولی طور پر تو اس خطہ میں دہشت گردی کے خاتمے میں تمام ممالک کی سطح پر ایک مشترکہ حکمت عملی ،میکنزم اور فریم ورک کی ضرورت ہے اور اس اہم کام میں چین بڑا کردار ادا کرسکتا ہے اور اس کے اس کردار سے انکار کرنا کسی بھی ملک کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔
یہ جو پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغانستان ہمیں ٹی ٹی پی کی جانب سے ان کی سرزمین دہشت گردی میںاستعمال نہ کرنے کی تحریری ضمانت دے اس میں بھی چین یہ کردار ادا کرسکتا ہے۔اگر افغانستان براہ راست پاکستان کو یہ ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں تو وہ یہ ضمانت چین کو بھی دے سکتا ہے جو پاکستان کے لیے قابل قبول ہوسکتی ہے۔اسی طرح سے افغانستان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اگر اسے عالمی سطح پر اپنے کردار کو بڑھانا ہے یا اپنی قبولیت کو ممکن بنانا ہے تو یہ پاکستان کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں اور پاکستان چاہے گا کہ افغانستان اس عمل میں ان کے دشمن ٹی ٹی پی کو ختم کرے اور ان کو ختم کیا جائے ۔چین کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ اسے اس عمل میں بھارت، ایران اور سعودی عرب کی حمایت بھی درکار ہے اور چین کبھی یکطرفہ پالیسی کی بنیاد پر کسی کی حمایت اور مخالفت میں سامنے نہیں آئے گا۔
Today News
کراچی میں طوفانی بارش، مختلف حادثات میں ہلاکتوں پر وزیراعلیٰ نے فوری نوٹس لے لیا
کراچی:
کراچی میں طوفانی بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث پیش آنے والے افسوسناک حادثات میں بلدیہ ٹاؤن سیکٹر 11 میں عمارت گرنے اور مواچھ گوٹھ میں دیوار گرنے کے نتیجے میں اب تک 13 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی ہدایت جاری کر دی۔
وزیراعلیٰ نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن تیز کرنے اور زخمیوں کو فوری و بہترین طبی امداد فراہم کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مواچھ گوٹھ میں دیوار گرنے کے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک 13 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ ریسکیو اور ریلیف ادارے موقع پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شہر بھر میں صفائی ستھرائی، نالوں کی صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
شرجیل میمن کے مطابق بعض علاقوں میں درخت اور بجلی کے پول گرنے کے باعث بجلی کی بندش نے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیدا کیں، تاہم متعلقہ ادارے صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب بلدیہ مدینہ کالونی مواچھ گوٹھ پہنچے جہاں انہوں نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور حکام سے بریفنگ لی۔
اس موقع پر انہوں نے ریسکیو اداروں کو امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اور تمام متعلقہ ادارے امدادی کارروائیوں میں مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
ادھر اپوزیشن لیڈر سندھ علی خورشیدی نے بھی شدید بارشوں کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مزید تیز کی جائیں اور زخمیوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
Today News
کرپشن کی تلاش – ایکسپریس اردو
اس دن ’’کرپشن‘‘پر ایک بہت بڑے دانا دانشور کا دانش اوردانائی سے بھرپورکالم بلکہ مضمون بلکہ مقالہ پڑھ کر منہ سے بے اختیار عش عش نکلنا شروع ہوگیا اوراس وقت تک نکلتا رہا جب تک ہم پر غشی طاری نہیں ہوئی لیکن غشی میں بھی پہلے کی طرح یہ سوال ٹونگیں مارتا رہا کہ آخر یہ کرپشن ہے کیا؟جس کے اتنے چرچے ہیں اورہربار ہماری یہی کیفیت ہوجاتی ہے جب اس ناہنجار، نابکار، خدائی خوار،سراسر آزار اور سب کے سر پر سوار کرپشن کا نام سنتے ہیں یاکسی کالم میں پڑھتے ہیں یاکسی بیان میں دیکھتے ہیں کہ ایک مدت سے ہم اس کاذکر تو سنتے آئے ہیں لیکن کبھی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ کرپشن آخر چیز کیا ہے ؟ جو ہے بھی اورنہیں بھی بلکہ جہاں ہوتی ہے وہاں نہیں ہوتی ہے اورجہاں نہیں ہوتی وہاں ہوتی ہے کیا یہ کوئی پھل ہے ؟ سبزی ہے ، پکوان ہے؟ چرند ہے، پرند ہے یا خزند و درند ۔ بالکل وہی صورت حال ہے جو کسی شاعر کو کسی چیز کے بارے میں درپیش تھی کہ
کوئی جھنکار ہے نغمہ ہے صدا ہے کیا ہے ؟
تو کرن ہے کہ کلی ہے کہ صبا ہے کیا ہے ؟
نام ہونٹوں پہ ترا آئے تو راحت سی ملے
تو تسلی ہے دلاسہ ہے دعا ہے کیا ہے ؟
بلکہ کبھی شک ہوتا ہے کہ دوا بھی ہے شفا بھی اورنشہ بھی ، صرف اتنا ہی پتہ چلا ہے کہ جن لوگوں نے چکھی ہے وہ اسے میٹھا،بہت میٹھا اوربہت ہی میٹھا بتاتے ہیں ، کہ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شاید یہ کوئی نشہ ہو۔ اورہماری اس سے عدم واقفیت اورناآشنائی کی ایک وجہ تویہ ہے کہ ہماری سمجھ دانی بہت چھوٹی ہے اوریہ بہت بڑی شے ہے ،آخر جب ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہے تو وہ کوئی معمولی چیز تو ہوہی نہیں سکتی ، دوسرے یہ کہ ہم ٹھہرے اردومیڈیم اوریہ ہے میم یعنی انگلش میڈیم بلکہ اس سے بھی اونچی کیٹگری کی چیز، اورتیسری سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں یہ بالکل بھی نہیں ہوتی کہیں بھی نہیں ہوتی اورذرہ بھربھی نہیں ہوتی ، ظاہرہے کہ جب کوئی چیز ملک میں ہوتی ہی نہیں تو اس ملک کے لوگ اس کے بارے میں کیسے جانتے ہوں گے ،آپ کسی افغان سے ریل کے بارے میں، کسی عرب سے مچھلیوں کے بارے میں اورکسی تاجک سے ہاتھی کے بارے میں پوچھیں گے تو وہ آپ کو کیابتائے گا ؟ ہمارے ملک میں سب کچھ اتنا شفاف ہے کہ ذرا سادھبہ بھی پڑے تو دور سے نظر آجائے گا۔
سنا ہے اس سلسلے میں ہماری حکومت نے بلکہ حکومتوں نے بھی بہت کوشش کی ہے، بڑے بڑے محکمے بنائے، ادارے قائم کیے اوربڑے ماہرین کو تعینات کیا لیکن نہ تو اس کاکوئی سراغ ملا ، نہ کوئی کلیو اورنہ اتہ پتہ ، بلکہ کہیں شائبہ بھی نہیں پایا گیا، ہم نے خود اپنا ٹٹوئے تحقیق اتنا دوڑایا اتنادوڑایا کہ بیچارے کی سانس پھول گئی لیکن کم بخت کہیں بھی نہیں ملی، اس ملک میں جو کچھ بھی ہوتا ہے صاف وشفاف اورکرپشن لیس ہوتا ہے، مثال کے طور پر سیاست کو لے لیجیے ، بالکل صاف وشفاف جمہوریت دودھ کی دھلی ہوئی اورپارٹیاں اورلیڈر ، گنگا شنان۔
الیکشن کو لے لیجیے ، سنا ہے دوسرے ملکوں میں جب ہوتے ہیں ،کرپشن بھرے ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں، دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضوکریں، ہمارے الیکشن اتنے شفاف ہوتے ہیں کہ شیشہ بھی اس کے آگے خجل ہوجائے اورپھر اس الیکشن کے نتیجے میں جو جمہوری شہنشاہ جلوہ گر ہو جاتے ہیں، وہ اتنے شفاف ہوتے ہیں کہ ایج جی ویلز کا ناول ’’ان وزیبل مین ‘‘ یاد آجاتا ہے اوران کے پاس جو مینڈیٹ ہوتا ہے واہ جی واہ ، اس میں کرپشن کا نام و نشان تک نہیں ہوتا اورہاں فنڈز۔
زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے میری زباں کے لیے
کسی نے بتایا تھا کہ کرپشن کو سرکاری محکمے اور ادارے بہت پسند ہوتے ہیں لیکن یہ بھی صرف افواہ نکلی، الزام نکلا جھوٹ نکلا، کیوں کہ ہم خود اپنا ٹٹوئے تحقیق لے کر سرکاری دفاتر میں گئے ، محکموں میں ڈھونڈا، اداروں میں دیکھا ،کہیں بھی کرپشن کا نام ونشان نہیں پایا بلکہ ہمارے کہنے پر ہمارے ٹٹوئے تحقیق نے اپنی ناک کااستعمال بھی کیا لیکن کہیںسے ہلکی سی ’’سمیل‘‘ (smell)بھی کرپشن کی نہیں آئی۔ اس کے بعد ہم نے تھانوں پٹوارخانوں میں تلاش کیا وہاں تو کوئی اس کے نام سے بھی واقف نہیں تھا ہم نے جب اس کانام لیاتو لوگ کانوں کو ہاتھ لگا لگا کرتوبہ توبہ کرنے لگے کہ اس منحوس ، ایمان چوس ، ضمیر بھوس کرپشن کا یہاں کیا کام؟ یہاں آئے تو ہم اس کی ٹانگیں توڑ کر اس کے ہاتھوں میں نہ دیں ، اس کی آنکھیں نکال کر کانوں میں نہ لٹکا دیں ۔یہاں مایوس ہوکر ہم نے کچہریوں کا رخ کیا کہ اکثر ایسے ویسے لوگ یہاں آتے جاتے رہتے ہیں، شاید یہاںاس کاکوئی سراغ ملے ، لیکن یہاںبھی کم بخت نہیں ملی ،ایسے ویسے لوگوں کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا ہے کہ ایسے ویسے لوگ یہاں آکر نیک یعنی سدھرجاتے ہیں کیوں کہ یہاں جو ’’صالحین ‘‘ بیٹھے ہوتے ہیں ان کی صحبت اتنی پرتاثیر ہوتی ہے کہ اگر کالا چور بھی آئے تو سفید ہوجاتا ہے بلکہ اس تلاش میں ہمیں یہ پتہ چلاکہ صرف ہم ہی اسے تلاش نہیں کررہے ہیں بلکہ اوربھی بہت سارے لوگ اسے کھوج رہے ہیں، کئی سرکاری ادارے بھی اس کی ڈھونڈ میں پریشان ہیں تاکہ اسے ڈھونڈکر کیفرکردار تک پہنچایا جاسکے، اس کے ساتھ آہنی ہاتھ کے ساتھ نمٹیں۔ مطلب یہ کہ
تمام شہر ہی اس کی تلاش میں گم تھا
میں اس کے گھر کاپتہ کس سے پوچھتا یارو
اب آپ ہی انصاف بلکہ تحریک انصاف سے کام لے کر بتائیں کہ ایسے صاف وشفاف ’’کرپشن لیس‘‘ ملک میں ہم اس بدمعاش ، بدقماش اورعیاش وفحاش کرپشن کو کہاں ڈھونڈیں اورجب کرپشن یہاں ہے ہی نہیں تو ہم کیاجانیں کہ کرپشن کیاہوتی ہے ، کیسی ہوتی ہے اورکہاں ہوتی ہے ؟
نہ شعلہ میں کرشمہ نہ برق میں یہ ادا
وئی بتائے کہ وہ شوخ تندخو کیا ہے ؟
اب آپ سے انصاف بلکہ تحریک انصاف کرکے بتائیں کہ ہم ایسے صاف وشفاف ملک میں اس بدمعاش اورعیاش وفحاش کرپشن کو کہاں ڈھونڈیں اور جب یہاں کرپشن ہے ہی نہیں تو ہم کیا بتائیں کہ کرپشن کیسی ہوتی ہے ۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Today News2 weeks ago
prime minister contact Lebanon counterpart solidarity against israeli aggression
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income
-
Magazines5 days ago
Story time: The price of a typo
-
Sports2 weeks ago
‘There will be nerves’: India face New Zealand for T20 World Cup glory – Sport