Today News
امریکی تنہائی اور جنگ کے بڑھتے عالمی اثرات
ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران اتحادی ممالک کی جانب سے مدد کی درخواستیں مسترد ہونے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔ دوسری جانب ایران کے سینئر سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی شہید ہوگئے۔ ایران نے بدلہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے جاری جنگ کے دوران خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ تیزکردیا ہے، جس کے باعث پورا خطہ شدید کشیدگی کی زد میں آ گیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک ایسے نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے جہاں تاریخ، سیاست، معیشت اور عسکری طاقت ایک دوسرے میں اس طرح الجھ چکے ہیں کہ ان کو الگ الگ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری جنگ اب کسی ایک خطے یا چند ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ محض ایک جنگ نہیں بلکہ طاقت، اثر و رسوخ، نظریات اور عالمی قیادت کی کشمکش ہے جس کے اثرات آنے والی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ امریکا کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، بظاہر ایک مضبوط اور خود مختار پالیسی کا اظہار ہے، مگر اس کے پس منظر میں ایک گہری سفارتی تنہائی چھپی ہوئی نظر آتی ہے۔ امریکا طویل عرصے سے عالمی اتحادوں کا محور رہا ہے، خصوصاً نیٹو جیسا طاقتور عسکری اتحاد اس کی قیادت میں کام کرتا رہا ہے، مگر موجودہ صورتحال میں جب یہی اتحادی امریکا کے ساتھ کھڑے ہونے سے گریز کر رہے ہیں، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا امریکا کی عالمی قیادت کمزور ہو رہی ہے یا دنیا ایک نئے کثیر القطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
نیٹو پر تنقید اور یورپی رہنماؤں، خصوصاً فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون، کے بیانات پر سخت ردعمل اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ مغربی اتحاد میں دراڑیں واضح ہو چکی ہیں۔ یورپ کی بڑی طاقتیں اس جنگ میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کر رہی ہیں کیونکہ وہ اس کے طویل المدتی نتائج سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یورپ پہلے ہی یوکرین جنگ کے اثرات، توانائی بحران اور مہنگائی جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے، ایسے میں ایک نئی جنگ میں شامل ہونا اس کے لیے خودکشی کے مترادف ہو سکتا ہے۔یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا جیسے امریکا کے قریبی اتحادیوں کا محتاط رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں ’’اندھا اتحاد‘‘ کا دور ختم ہو رہا ہے۔ اب ممالک اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے فیصلے کر رہے ہیں، چاہے اس کا مطلب امریکا جیسے طاقتور اتحادی سے فاصلہ ہی کیوں نہ ہو۔
دوسری جانب ایران نے جس حکمت عملی کے تحت خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا ہے، وہ ایک وسیع تر علاقائی پیغام کا حصہ ہے۔ ایران یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوگا تو پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ سعودی عرب، کویت، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملے دراصل ایک ’’ڈیٹرنس‘‘ پالیسی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد دشمن کو یہ باور کرانا ہے کہ جنگ کی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔
یہ صورتحال خلیجی ممالک کے لیے انتہائی پیچیدہ ہے۔ ایک طرف وہ امریکا کے اتحادی ہیں اور سیکیورٹی کے لیے اس پر انحصار کرتے ہیں، دوسری طرف وہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک نے دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے اپنے فضائی دفاعی نظام کو متحرک رکھا ہے، مگر کسی بڑی عسکری کارروائی سے گریز کیا ہے۔
اس تنازع کا ایک اور اہم پہلو اسرائیل کا کردار ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا آیا ہے، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ کے باعث۔ حالیہ حملوں میں تہران میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیل اس موقع کو ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ تاہم اس حکمت عملی کے بھی خطرات ہیں،کیونکہ ایران کے پاس براہِ راست اور بالواسطہ جواب دینے کی صلاحیت موجود ہے، جیسا کہ لبنان، شام اور دیگر علاقوں میں اس کے اتحادی گروپوں کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے۔
لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور وادی بقاع میں حملے اس بات کی علامت ہیں کہ یہ جنگ ایک ’’ پراکسی وار‘‘ سے نکل کر ایک مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، اگر حزب اللہ جیسے گروہ مکمل طور پر اس جنگ میں شامل ہو جاتے ہیں تو اسرائیل کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔اس تمام صورتحال کا سب سے بڑا اور فوری اثر عالمی معیشت پر پڑا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ توانائی کی سپلائی کس قدر غیر مستحکم ہو چکی ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت میں 40 فیصد اضافہ اور ایل این جی کی قیمتوں میں 60 فیصد تک اضافہ عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
آبنائے ہرمز، جو دنیا کی توانائی کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، اگر مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات کسی عالمی مالیاتی بحران سے کم نہیں ہوں گے۔دنیا کے درجنوں ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث مہنگائی میں اضافہ اور عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ کئی ممالک نے ہنگامی اقدامات کے طور پر ایندھن کی بچت کے لیے نئی پالیسیاں متعارف کروائی ہیں، جیسے کہ کم ورکنگ ڈیز، ریموٹ ورک اور ایندھن کی راشننگ۔ یہ اقدامات وقتی طور پر مددگار ہو سکتے ہیں، مگر طویل مدت میں یہ اقتصادی سرگرمیوں کو سست کر دیتے ہیں۔اسٹاک مارکیٹوں میں مندی اور سرمایہ کاروں کا غیر یقینی صورتحال کا شکار ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی معیشت ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو عالمی کساد بازاری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں خلیجی جنگوں کے دوران دیکھا گیا تھا۔
امریکا کے اندر بھی اس جنگ کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ ایک اعلیٰ انسداد دہشت گردی عہدیدار کا استعفیٰ اور اس کا یہ کہنا کہ جنگ اسرائیل کے دباؤ کے باعث شروع ہوئی، امریکی پالیسی سازی میں موجود اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اختلافات مستقبل میں امریکا کی خارجہ پالیسی کو متاثر کر سکتے ہیں، خصوصاً اگر عوامی سطح پر بھی اس جنگ کے خلاف ردعمل بڑھتا ہے۔
ایران کے اندر انسانی نقصان بھی تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ بڑی تعداد میں افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کا سب سے بڑا بوجھ عام شہری اٹھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اندرونی سیکیورٹی اقدامات، جیسے کہ جاسوسی کے الزام میں سزائے موت، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران داخلی سطح پر بھی دباؤ کا شکار ہے۔
اگر اس جنگ کے ممکنہ مستقبل پر نظر ڈالی جائے تو کئی خطرناک منظرنامے سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ جنگ مزید پھیل کر ایک مکمل علاقائی جنگ بن جائے، جس میں خلیجی ممالک، لبنان اور شاید دیگر طاقتیں بھی شامل ہو جائیں۔ دوسرا یہ کہ عالمی طاقتیں براہِ راست مداخلت کریں، جس سے یہ تنازع ایک عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ تیسرا منظرنامہ یہ ہے کہ طویل جنگ کے باعث عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہو جائے، جس کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر سب سے زیادہ ہوں گے۔تاہم ایک مثبت امکان بھی موجود ہے، اور وہ ہے سفارت کاری کا راستہ۔ اگر عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ، چین اور دیگر غیر جانبدار طاقتیں مؤثر کردار ادا کریں تو جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے، مگر اس کے لیے تمام فریقوں کو لچک دکھانی ہوگی اور اپنے فوری مفادات سے بالاتر ہو کر طویل المدتی استحکام کو ترجیح دینی ہوگی۔
یہ جنگ ایک بار پھر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کا استعمال مسائل کو حل کرنے کے بجائے انھیں مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ جدید دنیا میں جہاں معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ٹیکنالوجی نے فاصلے ختم کر دیے ہیں، وہاں کسی ایک خطے میں جنگ کا اثر پوری دنیا پر پڑتا ہے۔
آخرکار، سوال یہ نہیں کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گا، بلکہ یہ ہے کہ اس جنگ کے بعد دنیا کیسی ہوگی۔ کیا ہم ایک زیادہ غیر مستحکم، تقسیم شدہ اور خطرناک دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں، یا ہم اس بحران سے سبق سیکھ کر ایک زیادہ متوازن اور پرامن عالمی نظام کی تشکیل کر سکتے ہیں؟ یہ فیصلہ آج کے رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے، اور تاریخ ان کے فیصلوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
Today News
وائب کوڈنگ کا پھیلاؤ، آئی ٹی سیکٹر کیلیے نیا سائبر خطرہ
کراچی:
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردارکیاہے کہ ”وائب کوڈنگ “کابڑھتا رجحان آئی ٹی سیکٹرکے لیے نیاسائبرخطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔
وائب کوڈنگ“میں صارفین صرف تحریری ہدایات دے کر مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایپلی کیشنز تیارکرتے ہیں، جوپاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے آئی ٹی اور فری لانس سیکٹرکیلیے نئے خطرات پیداکررہاہے۔
سائبر سیکیورٹی ریسرچر اعتزاز محسن کے مطابق جدید”ایجنٹک “اے آئی سسٹمزنہ صرف خود کوڈ لکھ سکتے ہیں، بلکہ اسے تبدیل اور اجرابھی کرسکتے ہیں،جس سے سیکیورٹی کے روایتی خطرات مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں۔
اگر ان پلیٹ فارمز میں خامیاں موجودہوں تو وہ”زیروکلک “حملوں کاذریعہ بن سکتی ہیں،جہاں صارف کی کسی کارروائی کے بغیر ہی سسٹم ہیک ہوسکتاہے۔
پاکستان، جودنیاکی بڑی فری لانس مارکیٹس میں شامل اپ ورک اور فیوور جیسے پلیٹ فارمز پر کام کرنیوالے ڈیولپرز تیزی سے اے آئی کوڈنگ ٹولز اپنارہے ہیں۔
مالی سال 2025-26 کے پہلے نصف میں پاکستانی فری لانسرز نے 500 ملین ڈالرسے زائدزرمبادلہ کمایا،جس میں ان ٹولز نے اہم کرداراداکیا۔
ای سافٹ حب کے شریک بانی ثوبان حنیف کے مطابق وائب کوڈنگ ایک ایساطریقہ ہے،جس میں صارف عام زبان میں ہدایات دے کر اے آئی سے مکمل ایپلی کیشن تیارکرواسکتاہے، تاہم انہوں نے خبردارکیاکہ اس عمل میں ”پرومپٹ انجیکشن“ اورنقصاندہ سافٹ ویئرکے خودکار اجراجیسے خطرات بھی شامل ہیں،جس سے غیرمجازرسائی ممکن ہوسکتی ہے۔
اعتزاز محسن کاکہناتھاکہ مسئلہ صرف اے آئی ماڈلز تک محدودنہیں، بلکہ ان پلیٹ فارمزکے بنیادی ڈھانچے میں موجودکمزوریاں بھی بڑاخطرہ ہیں،اگر ایک ڈیولپرزکاسسٹم متاثر ہوجائے تووہ بیک وقت کئی بین الاقوامی کلائنٹس کے ڈیٹاکوخطرے میں ڈال سکتاہے،جو ٹیکنالوجی پہلے صرف ریاستی سطح پر استعمال ہوتی تھی،اب عام سطح پر دستیاب ہورہی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں اے آئی سے جڑے نئے خطرات کیلیے مناسب حکمت عملی موجودنہیں،پی ٹی اے کی موجودہ پالیسیوں میں بھی اے آئی ڈویلپمنٹ پلیٹ فارمزکیلیے واضح رہنمااصولوں کافقدان ہے۔
ماہرین نے حکومت اورآئی ٹی اداروں پر زوردیاہے کہ وہ جلد اے آئی سیکیورٹی سے متعلق قوانین اور حفاظتی اقدامات متعارف کروائیں، تاکہ آئی ٹی ایکسپورٹ سیکٹرکوممکنہ نقصانات سے بچایاجاسکے۔
Today News
مکران کی نسیمہ کریم بلوچ کمرشل پائلٹ بننے کے لیے تیار
کراچی:
بلوچستان کے ساحلی علاقے مکران کی نسیمہ کریم بلوچ کی ساحل سے آسمان کی بلندیوں تک اڑان، کمرشل پائلٹ بننے کا خواب کچھ دوری پررہ گیا.
صنف نازک ہونے کے باوجود مردوں کیلیے مخصوص سمجھے جانیوالے شعبہ ہوابازی میں قدم رکھا،نسیمہ اپنی فلائنگ ٹریننگ کے 130 گھنٹے مکمل کر چکی ہیں، 200 فلائنگ آورزمکمل کرنے کے بعد وہ باقاعدہ طورپرکمرشل پائلٹ بن جائیں گی.
نسیمہ سیمو لیٹر اور ابتدائی گھنٹوں کی اڑان کے بعد پرائیوٹ پائلٹ لائسنس(پی پی ایل)حاصل کرچکی ہیں، اگلے مرحلے میں کمرشل پائلٹ لائسنس(سی پی ایل)کاامتحان دینگی۔
بلوچستان کے دورافتادہ ساحلی علاقے سے تعلق رکھنے والی باہمت اورباصلاحیت نوجوان لڑکی نسیمہ کریم بلوچ اپنے عزم اورہمت کی بدولت وہ مقام حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکی ہیں، جس کے بارے میں شاید خواب وخیال میں بھی نہیں سوچا جاتا ہو گا.
نسیمہ بلوچ کے مطابق ابتدائی فلائنگ گھنٹوں کی تکمیل اورامتحان کے وہ پرائیوٹ پائلٹ لائسنس حاصل کرچکی ہیں، حالیہ فلائنگ کمرشل پائلٹ لائسنس کے حصول کیلیے ہیں،جس میں سے130گھنٹے مکمل ہوچکے ہیں۔
نسیمہ بلوچ کے مطابق ان کا تعلق بھی پاکستان کے ان پسماندہ ترین علاقوں میں شامل مقام سے ہے،جہاں خواہش کے مطابق عملی طورپربڑھناجوئے شیرلانے کے مترادف ہے.
مگران کی خوش قسمتی کہہ لیں کہ ابتدائی اوربیشتر تعلیم متحدہ عرب امارات میں ہوئی،جس کی وجہ سے کئی مراحل بہت زیادہ پیچیدہ نہیں رہے،وہ اس لحاظ سے بہت زیادہ خوش قسمت رہیں کہ انھیں نہ صرف گھروالوں اورپورے خاندان کی بھرپورسپورٹ ملی۔
ان کا کہنا ہے کہ اسے آسمان کی بلندیوں پراڑنے والے پرندوں سے خصوصی شغف رہا۔ ماہرین ہوابازی کے مطابق پاکستان میں عموماہوابازی کے شعبے میں خواتین کارحجان بہت زیادہ نہیں ،تاہم نسیمہ یاان جیسی دیگرخواتین کاشعبے کوچنناخوش آئندہے۔
Today News
ایران جنگ سے کراچی کی فضا میں زہریلے مواد کی افواہیں بے بنیاد ہیں، ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات
محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر انجم نذیرضیغم نے ایران جنگ کی وجہ سے کراچی کی فضا میں زہریلے مواد اور ہوا کا معیار خراب ہونے کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا ماحول فی الحال کسی بھی قسم کےخطرے سے باہرہے، ماضی کے مقابلے میں آج جدید آلات کے ذریعے زہریلے مادوں اور دھویں کے بادلوں کا پتا لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر انجم نذیر ضیغم نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کراچی میں کہیں آلودہ اور کہیں کالی بارش جیسی صورت حال پیدا ہونے کے معاملے میں کوئی صداقت نہیں ہے، نئے مغربی سلسلے کے زیراثر بلوچستان کے مختلف مقامات پر بارش ریکارڈ ہو رہی ہے تاہم کسی بھی جگہ سےکوئی غیرمعمولی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بارش کےعلاوہ ایک اور تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ مشرق وسطی اور ایران میں جنگی صورت حال کی وجہ سےکراچی میں ہواؤں کا معیار انتہائی خراب ہوسکتا ہے لیکن یہ تبصرے بھی بے بنیاد ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں داخل ہونے والے مغربی سسٹم کی وجہ سے سمندری ہواؤں کی مختصر وقت کے لیے بندش اور شمال مغربی ہواؤں کے اثرات کی وجہ سے ہواؤں میں معلق گردوغبار کی وجہ سےائیرکوالٹی انڈیکس میں اگر کسی وقت اضافہ محسوس ہوتا ہے، تو وہ معمول کی صورت حال کا نتیجہ ہوگا۔
انجم نذیر ضیغم نے کہا کہ بمباری ایران کے شمال مغربی حصے میں ہو رہی ہے، پاکستان کا بارڈر ایران کے جنوبی حصے سے ملتا ہے جہاں حالات معمول کے مطابق ہیں، ایران کی صورت حال 1992 کی خلیجی جنگ جیسی نہیں ہے جب بڑے پیمانے پر تیل کے کنوؤں کو آگ لگائی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات بلوچستان، پنجاب اور بالائی سندھ میں ہونے والی بارش میں کوئی منفی اثرات نہیں دیکھے گئے تاہم محکمہ موسمیات بارش کے پانی کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہےکہ پانی میں غیرمعمولی ذرات تو شامل نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 1992 کے برعکس آج ہمارے پاس جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی موجود ہے، سیٹلائٹ فضا میں کسی بھی زہریلے مادے یا دھوئیں کے بادلوں کا فوری پتا لگانےکی صلاحیت رکھتے ہیں، اب تک کی سیٹلائٹ تصاویر پاکستان کی فضائی حدود کو بالکل صاف ظاہر کر رہی ہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات نے کہا کہ عوام افواہوں پر کان نہ دھریں، حکومت اور متعلقہ ادارے صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، بارش فضا کو ہر قسم کی گرد اور آلودگی سےصاف کر دیتی ہے۔
Source link
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Today News2 weeks ago
prime minister contact Lebanon counterpart solidarity against israeli aggression
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income
-
Magazines5 days ago
Story time: The price of a typo
-
Sports2 weeks ago
‘There will be nerves’: India face New Zealand for T20 World Cup glory – Sport