Connect with us

Today News

علی لاریجانی کے بعد …؟

Published

on


ایران کی نیشنل سیکیورٹی کے چیف ایڈوائزر علی لاریجانی کی شہادت کے بعد کیا ہوگا۔ یہ سوال اب سب کے ذہن میں ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ابھی منظر عام پر نہیں۔ ان کی صحت کے بارے میں بھی متضاد اطلاعات ہیں۔ جب سے وہ سپریم لیڈر منتخب ہوئے ہیں، ان کا نہ تو کوئی آڈیو اور نہ ہی کوئی ویڈیو پیغام منظر عام پر آیا ہے۔ جس سے ان کی صحت اور زندگی دونوں کی تصدیق ہو سکے۔ وہ زندہ ہیں اس پر سب کا اتفاق ہے۔ لیکن کتنے زخمی ہیں۔ کیا وہ ہوش میں ہیں۔ کیا وہ اس وقت ایران کی کمان کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ ان کو کتنے زخم آئے ہیں۔ وہ بول سکتے ہیں۔ وہ چل سکتے ہیں۔ سب سوال اپنی جگہ موجود ہیں۔

اسی لیے سوشل میڈیا میں ان کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ چند دن پہلے یہ افواہ تھی کہ وہ ایران میں نہیں ہیں بلکہ علاج کے لیے انھیں ماسکو شفٹ کر دیا گیا ہے۔لیکن یہ سب جھوٹ تھا۔ یہ اسرائیلی پراپیگنڈا تھا تاکہ وہ منظر عام پر آئیں۔ ان کی کوئی تصویر کوئی ویڈیو سامنے آئے۔ لیکن مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہیں یہ تو طے ہے۔ اس کی تو ایرانی بھی تصدیق کرتے ہیں۔ اس لیے مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہوتے ہوئے ایران کون چلا رہا ہے۔ پاسداران انقلاب کس کے کنٹرول میں ہے۔

اس لیے یہ کہا بلکہ یہ مانا جا رہا تھا کہ علی لاریجانی ساری جنگ کو دیکھ رہے تھے۔ وہی مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر موجودگی میں کمان میں ہیں۔ یہ درست ہے کہ وہ سپریم لیڈر کے لیے بھی ایک امیدوار تھے۔ انھیں آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی اپنے وارث کے طور پر نامزد کیا ہوا تھا۔ لیکن ان کا انتخاب نہیں ہوا۔ تا ہم وہ سب سے اہم تھے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ علی خامنہ ای کے بعد اسرائیل نے کسی سب سے اہم لیڈر کو نشانہ بنایا ہے تو وہ علی لاریجانی ہیں۔ وہی سب سے اہم تھے۔ سب کا ماننا ہے کہ وہی کمان میں تھے۔

گزشتہ دنوں امریکا نے ایران کی اہم شخصیت کی معلومات کے لیے بڑی انعامی رقوم کا بھی اعلان کیا۔ اس میں مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ علی لاریجانی کا نام بھی شامل تھا۔ اس لیے کیا کسی نے ان کی مخبری کر دی ہے ۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم رہے گا۔ سب سے پہلے ان کی شہادت کی خبر اسرائیل نے دی۔ اس کا مطلب اسرائیل کے لوگ وہاں موجود ہیں جنھوں نے علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کر کے اسرائیل کو آگاہ کیا۔ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد بھی یہی صورتحال سامنے آئی تھی کہ امریکی صدر نے اعلان کیا اور انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس تصاویر بھی ہیں۔ کسی نے تو موقع سے تصاویر اسرائیل اور امریکا کو دی تھیں۔

اس لیے دونوں واقعات یہ بتاتے ہیں کہ موساد کا نیٹ ورک ابھی تک ایران میں بہت مضبوط ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی اپنی بیٹی کے گھر جا رہے تھے تب انھیں نشانہ بنایا گیا۔ آخر کسی نے تو ان کی مخبری کی کہ وہ محفوظ بنکر سے باہر آئے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ علی لاریجانی کی شہادت کے بعد پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر بہت سخت حملہ کیا ہے۔ اسرائیل میں سو سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیل کی ریلوے سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ حملے اشارہ دیتے ہیں کہ علی لاریجانی کے بعد بھی ایران میں کمان کا ایک نظام موجود ہے۔ جیسے علی خامنہ ای کے بعد ایران کا نظام حکومت اور اس کی جنگی مشین کام کرتی رہی ۔ کوئی قیادت کا خلاء نظرنہیں آیا، جنگ جاری رہی، ایران کی مزاحمت جاری رہی۔ ایسے ہی علی لاریجانی کے بعد بھی ایران کی امریکا اور اسرائیل کے لیے مزاحمت جاری ہے بلکہ اس میں تیزی آئی ہے۔

یہ بھی کمان کا نیا نظام ہے۔ جہاں کمانڈر کے جانے کے بعد بھی جنگ کی کمان جاری رہتی ہے۔ کمان کیسے بدلتی ہے، کون اصل میں کمان میں ہے، یہ بھی ایک سوال ہے۔ کون متبادل کا فیصلہ کرتا ہے۔ کون نیا کمانڈر منتخب کرتا ہے۔ کون نئی ہدایات دیتا ہے۔ یہ سب ابھی تک نا قابل فہم ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جس قدر شدید بمباری کی گئی ہے اس کی بھی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہزاروں مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے لیکن مزاحمت جاری ہے۔

ڈرون مارے جا رہے ہیں۔ میزائیل مارے جارہے ہیں۔ ایران نے اپنے نظام جنگ سے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ دیکھا جائے تو اس وقت یہ سوال موجود ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا بھی کچھ علم نہیں۔ علی لاریجانی شہید ہو گئے ہیں کون کمان میں ہے۔ لیکن کوئی تو ہے جو سب کچھ چلا رہا ہے۔ علی لاریجانی کے بارے میں یہی بتایا گیا ہے کہ وہ آخری موقع تک امام علی خامنہ ای کو محفوظ بنکر میں جانے کے لیے مناتے رہے۔ لیکن امام خامنہ ای نہیں مانے۔سوال یہ بھی ہے کہ علی لاریجانی محفوظ بنکر سے خود کیوں باہر آئے۔ انھوں نے کیوں اپنی حفاظت نہیں کی۔

اگر امریکا اور اسرائیل کا خیال تھا کہ علی لاریجانی کے بعد ایرانی فوج اور بالخصوص پاسداران انقلاب کمزور ہو جائیں گے۔ ان کے حوصلے پست ہو جائیں گے۔ کوئی کمان کرنے والا نہیں ہوگا تو ایسا نہیں ہوا۔ جیسے علی خامنہ ای کے بعد ایسا نہیں ہوا تھا۔ ایسا علی لاریجانی کے بعد بھی نہیں ہوا ہے۔ نظام جنگ اور نظام حکومت بھی چل رہا ہے۔ ایران میں ابھی تک سب ٹھیک چل رہا ہے۔ یہ بھی حیران کن ہے۔ دنیا حیران ہے۔

علی لاریجانی جنگ کے دوران عوامی مقامات پر نظر آتے رہے ہیں۔ یوم القدس کی ریلی میں موجود تھے۔ ان کی تصویربہت وائرل ہوئی۔ بلکہ یہ خبریں بھی آئیں کہ انھوں نے یوم القدس کی ریلی میں جو جیکٹ پہنی ہوئی تھی اس جیکٹ کی ایران میں بہت مانگ بڑھ گئی۔ نوجوان وہ جیکٹ پہننے لگ گئے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے ایرانی قیادت کو متنبہ کیا تھا کہ وہ یوم القدس کی ریلیوں میں شرکت نہ کریں ورنہ انھیں نشانہ بنایا جائے گا۔ جس ریلی میں علی لاریجانی شریک تھے اس کو نشانہ بھی بنایا گیا تھا لیکن وہ محفوظ رہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں موت کا خوف نہیں تھا۔ انھوں نے چند دن پہلے ٹوئٹ بھی کیا تھا کہ موت انھیں خوشی دے گی، وہ موت سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ علی لاریجانی کی شہادت امام علی خامنہ ای کے بعد ایران کا بہت بڑا نقصان ہے۔

ایران کو اپنی قیادت کی حفاظت کرنی ہوگی۔ جب قیادت اس طرح نشانہ بنتی ہے تو اس کا بہرحال اثر پڑتا ہے۔ اس لیے ایران کو اپنی قیادت کو سنبھالنا ہے۔ یہ بھی دیکھنے کی بات ہے کہ اب علی لاریجانی کے بعد کون سامنے آتا ہے۔ اب نئے سپریم لیڈر نے ان کی جگہ کسی کو نامزد کرنا ہے۔ وہ کون ہے یہ بھی اہم ہوگا۔ اس سے نئے سپریم لیڈر کی ٹیم کا بھی اندازہ ہو جائے گا۔ وہ کس کو آگے لاتے ہیں اور اس کی کیا سوچ ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سوشل میڈیا کا دور، عید کارڈز کا برسوں پرانا رواج ختم

Published

on



لاہور:

جدید ٹیکنالوجی اورسوشل میڈیا کی گہماگہمی سے دلکش اور دل کوچھو جانے والی شاعری سے مزین عید کارڈز کا برسوں پرانا رواج دم توڑ گیا۔

کچھ عرصہ قبل جب سوشل میڈیا کا دور نہیں تھا تو رمضان المبارک شروع ہوتے ہی دکانوں، بازاروں اور جگہ، جگہ عیدکارڈزکے اسٹالز سج جاتے تھے۔

لوگ عید کارڈز خرید کر ان پر محبت بھرے پیغامات اور شاعری تحریرکرتے اور انہیں ڈاک، خود یاکسی کے ذریعے اپنے دوستوں،عزیز و اقارب کو بھیجتے تھے۔

ڈاک خانوں پر عید کارڈزکی بکنگ عید سے تقریباً ایک ہفتہ قبل بند کردی جاتی تھی، تاکہ کارڈز بروقت منزل تک پہنچ سکیں۔

عیدکارڈ موصول ہونے پر لوگوں کی خوشی دوبالاہوجاتی تھی اور وہ اسے یادگارکے طور پر سنبھال کر بھی رکھتے تھے۔

اب واٹس ایپ، ایس ایم ایس، فیس بک اوردیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے عید کی مبارکباد چند لمحوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی ہے۔

پوسٹ ماسٹر جنرل سینٹر پنجاب ضیاء اللہ کاکہناہے کہ ایک دور تھاکہ رمضان شروع ہوتے ہی پوسٹ آفس میں تھیلوں کے تھیلے صرف عید کارڈز کے ہوتے تھے۔





Source link

Continue Reading

Today News

وائب کوڈنگ کا پھیلاؤ، آئی ٹی سیکٹر کیلیے نیا سائبر خطرہ

Published

on



کراچی:

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردارکیاہے کہ ”وائب کوڈنگ “کابڑھتا رجحان آئی ٹی سیکٹرکے لیے نیاسائبرخطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔

وائب کوڈنگ“میں صارفین صرف تحریری ہدایات دے کر مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایپلی کیشنز تیارکرتے ہیں، جوپاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے آئی ٹی اور فری لانس سیکٹرکیلیے نئے خطرات پیداکررہاہے۔

سائبر سیکیورٹی ریسرچر اعتزاز محسن کے مطابق جدید”ایجنٹک “اے آئی سسٹمزنہ صرف خود کوڈ لکھ سکتے ہیں، بلکہ اسے تبدیل اور اجرابھی کرسکتے ہیں،جس سے سیکیورٹی کے روایتی خطرات مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں۔

اگر ان پلیٹ فارمز میں خامیاں موجودہوں تو وہ”زیروکلک “حملوں کاذریعہ بن سکتی ہیں،جہاں صارف کی کسی کارروائی کے بغیر ہی سسٹم ہیک ہوسکتاہے۔

پاکستان، جودنیاکی بڑی فری لانس مارکیٹس میں شامل اپ ورک اور فیوور جیسے پلیٹ فارمز پر کام کرنیوالے ڈیولپرز تیزی سے اے آئی کوڈنگ ٹولز اپنارہے ہیں۔

مالی سال 2025-26 کے پہلے نصف میں پاکستانی فری لانسرز نے 500 ملین ڈالرسے زائدزرمبادلہ کمایا،جس میں ان ٹولز نے اہم کرداراداکیا۔

ای سافٹ حب کے شریک بانی ثوبان حنیف کے مطابق وائب کوڈنگ ایک ایساطریقہ ہے،جس میں صارف عام زبان میں ہدایات دے کر اے آئی سے مکمل ایپلی کیشن تیارکرواسکتاہے، تاہم انہوں نے خبردارکیاکہ اس عمل میں ”پرومپٹ انجیکشن“ اورنقصاندہ سافٹ ویئرکے خودکار اجراجیسے خطرات بھی شامل ہیں،جس سے غیرمجازرسائی ممکن ہوسکتی ہے۔

اعتزاز محسن کاکہناتھاکہ مسئلہ صرف اے آئی ماڈلز تک محدودنہیں، بلکہ ان پلیٹ فارمزکے بنیادی ڈھانچے میں موجودکمزوریاں بھی بڑاخطرہ ہیں،اگر ایک ڈیولپرزکاسسٹم متاثر ہوجائے تووہ بیک وقت کئی بین الاقوامی کلائنٹس کے ڈیٹاکوخطرے میں ڈال سکتاہے،جو ٹیکنالوجی پہلے صرف ریاستی سطح پر استعمال ہوتی تھی،اب عام سطح پر دستیاب ہورہی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں اے آئی سے جڑے نئے خطرات کیلیے مناسب حکمت عملی موجودنہیں،پی ٹی اے کی موجودہ پالیسیوں میں بھی اے آئی ڈویلپمنٹ پلیٹ فارمزکیلیے واضح رہنمااصولوں کافقدان ہے۔

ماہرین نے حکومت اورآئی ٹی اداروں پر زوردیاہے کہ وہ جلد اے آئی سیکیورٹی سے متعلق قوانین اور حفاظتی اقدامات متعارف کروائیں، تاکہ آئی ٹی ایکسپورٹ سیکٹرکوممکنہ نقصانات سے بچایاجاسکے۔





Source link

Continue Reading

Today News

مکران کی نسیمہ کریم بلوچ کمرشل پائلٹ بننے کے لیے تیار

Published

on



کراچی:

بلوچستان کے ساحلی علاقے مکران کی نسیمہ کریم بلوچ کی ساحل سے آسمان کی بلندیوں تک اڑان، کمرشل پائلٹ بننے کا خواب کچھ دوری پررہ گیا. 

صنف نازک ہونے کے باوجود مردوں کیلیے مخصوص سمجھے جانیوالے شعبہ ہوابازی میں قدم رکھا،نسیمہ اپنی فلائنگ ٹریننگ کے 130 گھنٹے مکمل کر چکی ہیں، 200 فلائنگ آورزمکمل کرنے کے بعد وہ باقاعدہ طورپرکمرشل پائلٹ بن جائیں گی.

نسیمہ سیمو لیٹر اور ابتدائی گھنٹوں کی اڑان کے بعد پرائیوٹ پائلٹ لائسنس(پی پی ایل)حاصل کرچکی ہیں، اگلے مرحلے میں کمرشل پائلٹ لائسنس(سی پی ایل)کاامتحان دینگی۔

بلوچستان کے دورافتادہ ساحلی علاقے سے تعلق رکھنے والی باہمت اورباصلاحیت نوجوان لڑکی نسیمہ کریم بلوچ اپنے عزم اورہمت کی بدولت وہ مقام حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکی ہیں، جس کے بارے میں شاید خواب وخیال میں بھی نہیں سوچا جاتا ہو گا.

نسیمہ بلوچ کے مطابق ابتدائی فلائنگ گھنٹوں کی تکمیل اورامتحان کے وہ پرائیوٹ پائلٹ لائسنس حاصل کرچکی ہیں، حالیہ فلائنگ کمرشل پائلٹ لائسنس کے حصول کیلیے ہیں،جس میں سے130گھنٹے مکمل ہوچکے ہیں۔

نسیمہ بلوچ کے مطابق ان کا تعلق بھی پاکستان کے ان پسماندہ ترین علاقوں میں شامل مقام سے ہے،جہاں خواہش کے مطابق عملی طورپربڑھناجوئے شیرلانے کے مترادف ہے.

مگران کی خوش قسمتی کہہ لیں کہ ابتدائی اوربیشتر تعلیم متحدہ عرب امارات میں ہوئی،جس کی وجہ سے کئی مراحل بہت زیادہ پیچیدہ نہیں رہے،وہ اس لحاظ سے بہت زیادہ خوش قسمت رہیں کہ انھیں نہ صرف گھروالوں اورپورے خاندان کی بھرپورسپورٹ ملی۔

ان کا کہنا ہے کہ اسے آسمان کی بلندیوں پراڑنے والے پرندوں سے خصوصی شغف رہا۔ ماہرین ہوابازی کے مطابق پاکستان میں عموماہوابازی کے شعبے میں خواتین کارحجان بہت زیادہ نہیں ،تاہم نسیمہ یاان جیسی دیگرخواتین کاشعبے کوچنناخوش آئندہے۔





Source link

Continue Reading

Trending