Today News
پاک افغان تعلقات اور چین کا کردار
پچھلے کچھ برسوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا ماحول ہے ۔اس ماحول نے اب ایک باقاعدہ کھلی جنگ کی صورتحال اختیار کرلی ہے۔دو طرفہ بات چیت کے جتنے بھی امکانات تھے یا جو بھی بڑی بڑی سیاسی بیٹھکیں سجائی گئیں کہ دو طرفہ مکالمہ کی بنیاد پر مسائل کا حل نکل سکے وہ بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکا ۔
اس وقت جنگ کا ماحول ہے ۔ یہ ماحول پورے خطے کی سیاست کے لیے بھی مستقبل میں اچھے امکانات پیدا نہیں کررہا جو خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے ۔قطر، دوحہ اور سعودی عرب نے جو کوششیں کیں وہ بھی فوری طور پر کوئی بڑا مثبت نتیجہ نہیں دے سکیں اور اس کی بنیادی وجہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کے تحفظات پر کسی بھی طرز کی تحریری ضمانت نہ دینے کا فیصلہ تھا جو ڈیڈ لاک کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
اب پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری میں ایک بڑے موثر کردار ادا کرنے کے لیے فرنٹ فٹ پر ہم چین کے کردار کو دیکھ رہے ہیں ۔یہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمہ میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے ۔ موجودہ حالات میں یہ بات سمجھ آرہی تھی کہ امریکا اور چین کی ثالثی کے بغیر پاکستان افغانستان تعلقات میں فوری طور پر بہتری کے امکانات پیدا نہیں ہوسکیں گے۔ آج کی دنیا میں طاقت اور سفارت کاری یا بڑی معیشت کی حکمرانی ہے ۔اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ چین اپنی سیاسی اور معاشی سطح پر موجود طاقت کی بنیاد پر ایک فعالیت پر مبنی کردار ادا کرسکتا ہے ۔
حالیہ کچھ عرصہ میں ہم نے اس کردار کی کچھ اہم جھلکیاں بھی دیکھی ہیں۔ ایک طرف چین کی معاشی طاقت تو دوسری طرف دونوں ممالک کے ساتھ اس کے گہرے تعلقات اور علاقائی استحکام کے لیے اپنی اپنی سطح پر اسٹرٹیجک ضرورت بھی ہے۔چین کی قیادت اس وقت شٹل ڈپلومیسی اور یا پس پردہ ڈپلومیسی کی بنیاد پر دونوںممالک کے درمیان بہتر تعلقات چاہتی ہے اور اسی تعلقات کی بہتری میں چین کے اپنے معاشی مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان چین کے خصوصی نمائندے اس وقت دونوں ممالک کی قیادت سے رابطوں میں ہیں اور جو کچھ بات چیت ہو رہی ہے اس میں چین کا کردار ہی شامل ہے۔
چین سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو جہاں چین کے معاشی مفاد کو فائدہ ہوگا وہیں یہ دونوں سطح کے ممالک کو سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹوسے پاکستان کی سیکیورٹی ، افغانستان کو سرمایہ کاری اور معدنیات کی ترقی میں فائدہ پہنچ سکتا ہے جو دونوں ممالک کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔کیونکہ اگر دونوں ممالک بہتر تعلقات کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو اس خطہ میں چین کی سرمایہ کاری بڑھے گی اور اس کا فائدہ دونوں ممالک کو معاشی ترقی کی صورت میں ہوگا۔یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ اگر چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتر ہیں تو خود افغان حکومت بھی چین کے ساتھ نہ صرف بہتر تعلقات رکھے ہوئے ہے بلکہ افغان حکومت معاشی ترقی کے عمل میں چین پر بڑا انحصار کر رہی ہے۔
اس لیے چین اس پوزیشن میں نظر آتا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیا ن تعلقات کی خرابی کو کم کرنے میں بہت کچھ کرسکتا ہے۔اسی طرح یہ جو افغان حکومت کا جھکاؤ بھارت کی جانب بڑھ رہا ہے اور جس کی بنیاد پاکستان دشمنی ہے اس کو بھی کم کرنے میں چین کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ وہ افغانستان کو یہ باور کروا سکتا ہے کہ اس کے بھارت سے تعلقات کی بنیاد پاکستان دشمنی کی بنیاد پر نہیں ہونے چاہیے اور جو پاکستان کے تحفظات ہیں اسے ہر صورت افغان حکومت کو بات چیت کی مدد سے دور کرنا چاہیے۔
چین نے زور دیا ہے کہ موجودہ حالات میں جہاں دونوں ممالک میں سخت کشیدگی ہے تو پہلے مرحلے میں دونوں ممالک ایسے عملی اقدامات اٹھائیں جو ماحول کو ابتدائی طور پر سازگار بنانے میں مدد کرسکیں ۔کیونکہ سخت کشیدگی ، الزامات یا جنگ کے ماحول میں بات چیت کے امکانات کافی حد تک کم ہوجاتے ہیں ۔چین کی ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ بہت زیادہ کسی ایک طرف جھکاؤ رکھ کر آگے بڑھنے کا حامی نہیں بلکہ اس کی پالیسی کو توازن کی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے اور ان میں معیشت کو اہم حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
اسی طرح چین یہ بھی سمجھتا ہے کہ اس خطہ میں اس کی معاشی ترقی کا ایک بڑا انحصار علاقائی بہتر تعلقات اور بالخصوص بہتر سیکیورٹی کے مسائل کی بنیاد سے جڑے ہوئے ہیں۔چین جتنی بھی علاقائی سطح پر دہشت گرد تنظیمیں ہیں چاہے وہ کسی بھی ملک میں بیٹھ کر کام کررہی ہیں ان کو اپنا مشترکہ دشمن سمجھتا ہے۔اسی طرح پاکستان بھی داعش سمیت ٹی ٹی پی کو اس خطہ کی سیاست میں دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے ۔اصولی طور پر تو اس خطہ میں دہشت گردی کے خاتمے میں تمام ممالک کی سطح پر ایک مشترکہ حکمت عملی ،میکنزم اور فریم ورک کی ضرورت ہے اور اس اہم کام میں چین بڑا کردار ادا کرسکتا ہے اور اس کے اس کردار سے انکار کرنا کسی بھی ملک کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔
یہ جو پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغانستان ہمیں ٹی ٹی پی کی جانب سے ان کی سرزمین دہشت گردی میںاستعمال نہ کرنے کی تحریری ضمانت دے اس میں بھی چین یہ کردار ادا کرسکتا ہے۔اگر افغانستان براہ راست پاکستان کو یہ ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں تو وہ یہ ضمانت چین کو بھی دے سکتا ہے جو پاکستان کے لیے قابل قبول ہوسکتی ہے۔اسی طرح سے افغانستان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اگر اسے عالمی سطح پر اپنے کردار کو بڑھانا ہے یا اپنی قبولیت کو ممکن بنانا ہے تو یہ پاکستان کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں اور پاکستان چاہے گا کہ افغانستان اس عمل میں ان کے دشمن ٹی ٹی پی کو ختم کرے اور ان کو ختم کیا جائے ۔چین کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ اسے اس عمل میں بھارت، ایران اور سعودی عرب کی حمایت بھی درکار ہے اور چین کبھی یکطرفہ پالیسی کی بنیاد پر کسی کی حمایت اور مخالفت میں سامنے نہیں آئے گا۔
Today News
ایران کے سب سے بڑے گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ
اسرائیل کے ایران کے سب سے بڑے گیس فیلڈ پر حملے کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں زبردست ہلچل مچ گئی قیمتیں اچانک 5 فیصد سے زائد بڑھ گئیں اور دنیا بھر میں توانائی بحران کا خدشہ شدت اختیار کر گیا۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھ کر 108.66 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 98.65 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔
ماہرین کے مطابق یہ اضافہ اس خدشے کے باعث ہوا کہ خطے میں جنگ طویل ہو سکتی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملہ دنیا کے سب سے بڑے گیس فیلڈ ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر کیا گیا جو ایران کے صوبہ بوشہر کے ساحل کے قریب واقع ہے۔
اس حملے نے نہ صرف ایران بلکہ عالمی گیس سپلائی کو بھی شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
حملے کے فوری بعد اسلامی انقلابی گارڈ کور نے دھمکی دی کہ وہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی آئل و گیس تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے جس سے پورے خطے میں خوف کی فضا قائم ہو گئی۔
اسی دوران قطر کے راس لفان گیس فیسلٹی میں ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے بعد آگ لگنے کی اطلاع ملی جسے بعد میں حکام نے قابو میں آنے کی تصدیق کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور اس کے بعد ایران کی جوابی کارروائیوں نے مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے جبکہ کئی مقامات پر پیداوار بھی روک دی گئی ہے۔
Today News
سوشل میڈیا کا دور، عید کارڈز کا برسوں پرانا رواج ختم
لاہور:
جدید ٹیکنالوجی اورسوشل میڈیا کی گہماگہمی سے دلکش اور دل کوچھو جانے والی شاعری سے مزین عید کارڈز کا برسوں پرانا رواج دم توڑ گیا۔
کچھ عرصہ قبل جب سوشل میڈیا کا دور نہیں تھا تو رمضان المبارک شروع ہوتے ہی دکانوں، بازاروں اور جگہ، جگہ عیدکارڈزکے اسٹالز سج جاتے تھے۔
لوگ عید کارڈز خرید کر ان پر محبت بھرے پیغامات اور شاعری تحریرکرتے اور انہیں ڈاک، خود یاکسی کے ذریعے اپنے دوستوں،عزیز و اقارب کو بھیجتے تھے۔
ڈاک خانوں پر عید کارڈزکی بکنگ عید سے تقریباً ایک ہفتہ قبل بند کردی جاتی تھی، تاکہ کارڈز بروقت منزل تک پہنچ سکیں۔
عیدکارڈ موصول ہونے پر لوگوں کی خوشی دوبالاہوجاتی تھی اور وہ اسے یادگارکے طور پر سنبھال کر بھی رکھتے تھے۔
اب واٹس ایپ، ایس ایم ایس، فیس بک اوردیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے عید کی مبارکباد چند لمحوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی ہے۔
پوسٹ ماسٹر جنرل سینٹر پنجاب ضیاء اللہ کاکہناہے کہ ایک دور تھاکہ رمضان شروع ہوتے ہی پوسٹ آفس میں تھیلوں کے تھیلے صرف عید کارڈز کے ہوتے تھے۔
Today News
وائب کوڈنگ کا پھیلاؤ، آئی ٹی سیکٹر کیلیے نیا سائبر خطرہ
کراچی:
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردارکیاہے کہ ”وائب کوڈنگ “کابڑھتا رجحان آئی ٹی سیکٹرکے لیے نیاسائبرخطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔
وائب کوڈنگ“میں صارفین صرف تحریری ہدایات دے کر مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایپلی کیشنز تیارکرتے ہیں، جوپاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے آئی ٹی اور فری لانس سیکٹرکیلیے نئے خطرات پیداکررہاہے۔
سائبر سیکیورٹی ریسرچر اعتزاز محسن کے مطابق جدید”ایجنٹک “اے آئی سسٹمزنہ صرف خود کوڈ لکھ سکتے ہیں، بلکہ اسے تبدیل اور اجرابھی کرسکتے ہیں،جس سے سیکیورٹی کے روایتی خطرات مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں۔
اگر ان پلیٹ فارمز میں خامیاں موجودہوں تو وہ”زیروکلک “حملوں کاذریعہ بن سکتی ہیں،جہاں صارف کی کسی کارروائی کے بغیر ہی سسٹم ہیک ہوسکتاہے۔
پاکستان، جودنیاکی بڑی فری لانس مارکیٹس میں شامل اپ ورک اور فیوور جیسے پلیٹ فارمز پر کام کرنیوالے ڈیولپرز تیزی سے اے آئی کوڈنگ ٹولز اپنارہے ہیں۔
مالی سال 2025-26 کے پہلے نصف میں پاکستانی فری لانسرز نے 500 ملین ڈالرسے زائدزرمبادلہ کمایا،جس میں ان ٹولز نے اہم کرداراداکیا۔
ای سافٹ حب کے شریک بانی ثوبان حنیف کے مطابق وائب کوڈنگ ایک ایساطریقہ ہے،جس میں صارف عام زبان میں ہدایات دے کر اے آئی سے مکمل ایپلی کیشن تیارکرواسکتاہے، تاہم انہوں نے خبردارکیاکہ اس عمل میں ”پرومپٹ انجیکشن“ اورنقصاندہ سافٹ ویئرکے خودکار اجراجیسے خطرات بھی شامل ہیں،جس سے غیرمجازرسائی ممکن ہوسکتی ہے۔
اعتزاز محسن کاکہناتھاکہ مسئلہ صرف اے آئی ماڈلز تک محدودنہیں، بلکہ ان پلیٹ فارمزکے بنیادی ڈھانچے میں موجودکمزوریاں بھی بڑاخطرہ ہیں،اگر ایک ڈیولپرزکاسسٹم متاثر ہوجائے تووہ بیک وقت کئی بین الاقوامی کلائنٹس کے ڈیٹاکوخطرے میں ڈال سکتاہے،جو ٹیکنالوجی پہلے صرف ریاستی سطح پر استعمال ہوتی تھی،اب عام سطح پر دستیاب ہورہی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں اے آئی سے جڑے نئے خطرات کیلیے مناسب حکمت عملی موجودنہیں،پی ٹی اے کی موجودہ پالیسیوں میں بھی اے آئی ڈویلپمنٹ پلیٹ فارمزکیلیے واضح رہنمااصولوں کافقدان ہے۔
ماہرین نے حکومت اورآئی ٹی اداروں پر زوردیاہے کہ وہ جلد اے آئی سیکیورٹی سے متعلق قوانین اور حفاظتی اقدامات متعارف کروائیں، تاکہ آئی ٹی ایکسپورٹ سیکٹرکوممکنہ نقصانات سے بچایاجاسکے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Today News2 weeks ago
prime minister contact Lebanon counterpart solidarity against israeli aggression
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income
-
Magazines5 days ago
Story time: The price of a typo
-
Sports2 weeks ago
‘There will be nerves’: India face New Zealand for T20 World Cup glory – Sport