Connect with us

Today News

نیتن یاہو منظرعام پر آگئے؛ براہ راست پریس کانفرنس میں بڑا اعتراف کرلیا

Published

on


اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے لائیو پریس کانفرنس میں ایران کے ساتھ جنگ میں اہداف، مقاصد اور حکمت عملی پر کھل کر گفتگو کی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں زندہ ہوں۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بقول اسرائیل اور امریکا مل کر پورے مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کا تحفظ کر رہے ہیں۔

نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ 20 دن کی لڑائی کے بعد ہم جیت رہے ہیں اور ایران کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ 

انھوں نے دعویٰ کیا کہ تہران کی فوجی صلاحیت، خاص طور پر اس کے ایٹمی اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ایران کے میزائل اور ڈرون ہتھیاروں کے ذخائر کو بڑی حد تک تباہ کیا جا رہا ہے اور انھیں مکمل طور پر ختم کرکے دم لیا جائے۔

اس کے بعد انھوں نے اعلان کیا کہ اس جنگ میں ایران اب یورینیم افزودگی اور بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت سے محروم ہوچکا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کے اندر ممکنہ عوامی ردعمل کے بارے میں کہا کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ آیا ایرانی عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے یا نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران میں حکومت یا کسی بھی تبدیلی کے لیے صرف فضائی کارروائیاں کافی نہیں ہوتیں بلکہ زمینی سطح پر بھی اقدامات درکار ہوتے ہیں۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ زمینی کارروائی کے کئی امکانات موجود ہیں لیکن اس حوالے سے وہ تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے۔

ان کے اس بیان کو ماہرین خطے میں ممکنہ طور پر کسی بڑی حکمت عملی یا آئندہ اقدامات کا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

مہنگائی گزیدہ پاکستانیوںاور جنگ زدہ ایرانیوں کی عید!

Published

on


رمضان کا مبارک و مسعود مہینہ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے ۔خوش بخت ہیں وہ لوگ جنھوں نے اِس ماہِ مبارک کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کی مقدور بھر کوششیں کیں۔ کسی کو نہیں معلوم کہ اگلے رمضان شریف کی برکات کون سمیٹ سکے گا اور کون اِن کے فیوض سے مستفیض ہو سکے گا۔ عید مگر آ رہی ہے۔ شائد آج بروز جمعہ عیدالفطر ہو ہی جائے ۔ یہ’’ شائد‘‘ کا بھی عجب معاملہ ہے۔پکی بات نہیں ہے کہ آج 20مارچ 2026کو عید ہو گی یا نہیں ۔ ہر سال عید الفطر کی آمد آمد پر ایسا ہی ’’شائد‘‘ والا معاملہ درپیش ہو جاتا ہے ۔

شائد اِسی لیے 16مارچ کو اسلام آباد کے ایک شہری ( عبداللہ شفیق)نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک انوکھی درخواست دائر کی ۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ’’ روئتِ ہلال کمیٹی کو عید الفطر کا چاند نظر آنے پر جَلد اعلان کرنے کا حکم صادر فرمایا جائے کہ عید کے اعلان میں تاخیر کے باعث لوگ تراویح بھی پڑھ لیتے ہیں ۔ رات تاخیر سے چاند کا اعلان ہونے کے باعث بازاروں میں اچانک رَش بھی بڑھ جاتا ہے اور انتظامیہ کے لیے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بھی پیدا ہو جاتی ہے۔‘‘

دیکھا جائے تو عدالتِ عالیہ کے رُو برو یہ درخواست اتنی بے جا بھی نہیں ہے ۔ مگر کیا کِیا جائے کہ ہماری عید جناب چاند صاحب کے طلوع ہونے سے مشروط ہے ۔ مگر یہ عید بھی کیا عید ہے ؟ بے لگام اور بے انتہا مہنگائی نے اگر اکثریتی پاکستانیوں کی کمر توڑ رکھی ہے تو ایرانیوں اور اہلِ غزہ کو جنگ نے پریشان حال اور در بدر کر رکھا ہے ۔ امریکی و اسرائیلی طاغوت نے مل کر ایران اور غزہ پر جنگوں کے مہیب اور مہلک سائے مسلّط کر رکھے ہیں ۔ غزہ کی راکھ اور کھنڈرات پر مظلوم و برباد شدہ فلسطینی عید منائیں بھی تو کیسے ؟ یہی حال ایرانی بھائیوں کا ہے ۔

اِس وقت عالمِ اسلام کی جو مجموعی صورتحال ہے ، اِس پر کچھ عرصہ قبل ممتاز عالمِ دین و مفکر و مصنف علامہ یوسف القرضاوی( جو تھے تو مصری، مگر اُنھوں نے زندگی کا زیادہ حصہ قطر میں گزارا اور وفات کے بعد بھی قطر ہی میں دفن ہُوئے )نے عید کی آمد پر کہا تھا:’’ہم عید کا انتظار کرتے ہیں ۔ ہم عید پر خوش ہونا چاہتے ہیں ۔لیکن ہم عید کیسے منائیں؟ جب کہ ہماری اُمت اِس حال میں ہے کہ ہمارے مسلمان بھائیوں کو قتل اور ذبح کیا جارہا ہے ، اور ان پر یہ ہلاکتیں گزررہی ہیں ، اور ہم یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ہم اِن مصیبت زدگان کے ساتھ مصیبتیں جھیل رہے ہیں ۔ ایسے میں ہم زندگی اور عیدین سے کیسے لطف اندوز ہو سکتے ہیں؟ہم کیسے ہنس اور قہقہے لگاسکتے ہیں؟ ہم کیسے پیٹ بھر کر کھانا کھا سکتے ہیں؟۔‘‘

علامہ یوسف القرضاوی مرحوم نے ٹھیک اور درست ہی تو لکھا اور کہا تھا۔ہم اِس عید کے موقع پر بھی سرکش و غاصب صہیونی اسرائیل اور منہ زور و انتہائی طاقتور امریکا کی جانب دزدیدہ و خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ عید ایسے حال میں آئی ہے جب اسرائیل و امریکا متحد و متفق ہو کر ایران کے سب سے بڑے اور بزرگ ترین روحانی رہنما، 86سالہ جناب آئیت اللہ علی خامنہ ای کو (اُن کے کئی فیملی ممبرز سمیت) شہید کر چکے ہیں ۔17مارچ 2026کو صہیونی اسرائیل نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ، علی لاریجانی ، اور اُن کے صاحبزادے ( مرتضیٰ لاریجانی) کو بھی شہید کر ڈالا۔  اِس عید پر ہم سب اِنہیں شدت سے یاد کر رہے ہیں ۔

تہران و اصفہان ایسے مرکزی ایرانی شہر صہیونی اسرائیلی و مسیحی امریکی بموں اور میزائلوں کے دھماکوں سے تقریباً کھنڈر بن رہے ہیں ۔ ایران پر امریکی و اسرائیلی ناجائز جنگ کو مسلّط ہُوئے آج تیسرا ہفتہ ہو چکا ہے ۔ تقریباً دو ہزار ایرانی شہید کیے جا چکے ہیں ۔ 36لاکھ ایرانی گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ مگر شاباش دینی چاہیے دلیر ایرانی حکام اور ایرانی عوام کو کہ پوری ہمت کے ساتھ جارح و قاہر قوتوں کے خلاف ڈٹے ہُوئے ہیں۔ ایرانی افواج و اسٹیبلشمنٹ نے آبنائے ہرمز کی شہ رَگ پکڑ کر پاکستان سمیت امریکا و یورپ اور عالمِ عرب کا ناطقہ بند کر رکھا ہے ۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے (سابق) سربراہ ، علی لاریجانی شہید، نے کہا تھا : ’’آبنائے ہرمز ایران کے دشمنوں پر بند رہے گی ۔‘‘

پاکستان تو ایران کے دشمنوں میں سے نہیں ہے ۔ الحمد للہ۔ ایران کے وزیر خارجہ ( جناب عباس عراقچی) نے تو 16مارچ کو اپنے’’ ایکس‘‘ اکاؤنٹ پر حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی محبتوں اور تعاون کی تعریف بھی کی ہے اور شکریہ بھی ادا کیا ہے ۔ اِس سے قبل پچھلے سال ( جب جون میں صہیونی اسرائیل نے ایران پربے جا حملہ کیا تھا) بھی ایرانی پارلیمنٹ نے پاکستان کا تشکر کیا تھا کہ پاکستان نے کسی بھی خطرے اور کسی کی بھی ناراضی کی پروا نہ کرتے ہُوئے ایران کی زبردست حمائت کی تھی۔

پاکستان جاری پُر خطر حالات میں شاندار سفارتکاری کرتے ہُوئے مستحسن کوششوں میں ہے کہ کسی طرح امریکا اور ایران میں سفارتی اور مکالماتی تعلقات بحال ہو جائیں اور دُنیا جاری بڑے جنگی عذابوں اور مالی بحرانوں سے نجات پا جائے ؛ چنانچہ اِس پس منظر میں پاکستان اور پاکستانی عوام بجا طور پر توقعات رکھتے ہیں کہ بہادر اور غیور اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز میں اُن پاکستانی ٹینکروں کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا جو پاکستان کے لیے تیل اور گیس لا رہے ہیں ۔

ہم یہ عید کیسے منائیں جب حملہ آور صہیونی اسرائیل و امریکا کے ہاتھوں ہمارے ایرانی اسلامی بھائیوں کا دن رات خون بہایا جا رہا ہو ۔ جب ایران کے چپے چپے پر آتش و آہن کی بارش ہو رہی ہو ۔ہم یہ عید خوشی ، مسرت اورامن کے ساتھ کیسے منا سکتے ہیں جب خلیجی ریاستیں جنگ کے مہیب سایوں میں اپنا امن و چَین کھو چکی ہیں ۔ لیکن ہمیں دینی فریضہ سمجھ کر عید الفطر تو بہرحال منانی ہی ہے۔یہ عید ایسے حالات میں پاکستانیوں پر طلوع ہُوئی ہے جب نئی مہنگائی کے شکنجے نے سارے پاکستانیوں کو بے بسی اور بے کسی کے آہنی چنگل میں جکڑ رکھا ہے ۔

جب پٹرول ، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں رُوح فرسا اور کمر شکن اضافہ ہو چکا ہے ۔ جب خورو نوش اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کا گراف بے تحاشہ بلند ہو چکا ہے اور اِس گراف کے نیچے آنے کی کوئی صورت و شکل سامنے نہیں آ رہی ۔ بلکہ یہ ہوشربا خبریں گردش میں ہیں کہ ابھی پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا ۔ مطلب غریب اور چند نوالوں کے محتاج عوام کی محتاجیاں اور عسرتیں مزید قیامت خیز ہونے والی ہیں ۔ ایسے مایوس کن حالات میں پاکستانی عید منائیں بھی تو بھلا کیسے ؟

 عید تو خوشیوں اور مسرتوں کا نام ہے ،مگر جب جیب مطلوبہ روپوں سے خالی ہو ، جب ہاتھ تہی ہو گئے ہوں تو کیسی عید ؟محدود سی تنخواہ اور مزدوری پانے والے بھی عید پر اپنے بچوں کو نئے کپڑے اور جوتے خرید کر دینا چاہتے ہیں ۔ مگر بازار میں آسمان سے لگی قیمتیں دیکھ کر دل تھام کر اور نظریں جھکا کر رہ جاتے ہیں۔ مایوسیوں اور دل گرفتگی کی کوئی حد نہیں ہے۔دوسری طرف وطنِ عزیز کے اعلیٰ سرکاری مراعات یافتہ طبقات ، اعلیٰ ترین جملہ سرکاری افسران و بیوروکریسی ، خود ساختہ اشرافیہ اور بے مہار کاروباری طبقات کو دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ اکثریتی عوام کے دلوں اور دماغوں پر مہنگائی اور گرانی کی جو بجلیاں گررہی ہیں۔

 اِن سے اِن طبقات کا کوئی تعلق ہے نہ کوئی واسطہ اورنہ ہی کوئی سروکار۔ہر محلے، ہر گلی ،ہر شہر میں کئی سماجی خلیجیں جنم لے چکی ہیں ۔ محروم و محتاج تر ہوتے طبقات میں غصہ بڑھ رہا ہے ۔ سماجی پریشر کُکرمیں بھاپ روز افزوں ہے ۔ مراعات یافتہ سرکاری طبقات اور سرکاری اشرافیہ کے اللے تللے دیکھ کر عوام کئی سوال پوچھنا چاہتے ہیں ۔ مگر حکمران قوانین کا سہارا لے کر عوام کو ڈرا رہے ہیں : خبردار ، کوئی سوال مت پوچھنا ، وگرنہ دَھر لیے جاؤ گے !وفاقی وزیر قانون اور پنجاب کی ایک سینئر وزیر نے ابھی اگلے روز ہی ہم سب کو متنبہ کیا ہے ۔ شاد لکھنوی نے کہا تھا:نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے /گھٹ کے مر جاؤں یہ مرضی مرے صیاد کی ہے !!





Source link

Continue Reading

Today News

ایران کا اسرائیل کی آئل ریفائنری پر بڑا میزائل حملہ، حیفہ کو بجلی کی فراہمی معطل

Published

on


ایران کی سب سے بڑی توانائی تنصیبات پارس گیس فیلڈ پر صیہونی حملے کے بعد جوابی کارروائی میں اسرائیل کی حیفہ آئل ریفائنری پر میزائلوں سے حملہ کیا گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ شمالی شہر حیفا میں واقع آئل ریفائنری کو ایرانی میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔

اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن کے مطابق حملے کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی عارضی طور پر متاثر ہوئی، تاہم زیادہ تر علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ نقصان معمولی نوعیت کا ہے اور کسی بڑے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان نہیں پہنچا۔

دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے توانائی کے منصوبوں پر حملوں کا بھرپور جواب دے رہا ہے اور تہران کی جانب سے خطے بھر میں میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے انفراسٹرکچر پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو “زیرو ریسٹرینٹ” کے تحت بھرپور جواب دیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

سرخ لکیر – ایکسپریس اردو

Published

on


پاکستان اور افغانستان اپنی طویل تہذیبی روایات کی تاریخ رکھتے ہیں۔ پشتون قوم دونوں ممالک کی سرحد کے آر پار برسوں سے آباد ہے۔ ان کی ثقافت، لباس، موسیقی اور جرگہ جیسی روایات بھی یکساں ہیں۔ ایک طویل مشترک تاریخ اور مشترکہ مفادات رکھنے کے باوجود بدقسمتی سے یہ دونوں ممالک گزشتہ تین چار دہائیوں سے نہ صرف یہ کہ حقیقی دوستانہ اور برادرانہ مراسم کے پرخلوص جذبے سے عاری ہوتے جا رہے ہیں بلکہ کبھی کبھی تو پاک افغان تعلقات کشیدگی و دشمنی کی انتہا کو چھونے لگتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف افغانستان کی دشمنی اور مخالفت کا آغاز پہلی مرتبہ اقوام متحدہ میں 30 ستمبر 1947 کے اجلاس میں کیا گیا جب افغان مندوب حسین عزیز نے پاکستان کی اقوام متحدہ میں رکنیت کے حوالے سے واحد مخالف ووٹ ڈالا۔ جولائی 1949 میں افغان پارلیمنٹ نے یہ اعلان کر دیا کہ ’’وہ کسی فرضی لائن کو خواہ وہ ڈیورنڈ لائن یا کوئی اور تسلیم نہیں کرتے۔‘‘ اس پروپیگنڈے کو افغان میڈیا نے خوب اچھالا اور قبائلیوں کو پختونستان کے نام پر انقلاب برپا کرنے پر خوب اکسایا۔ 17 جولائی 1977 کو جب سردار داؤد نے افغانستان کی عنان حکومت سنبھالی تو اپنی پہلی ہی تقریر میں پاکستان کے ساتھ اختلافات کو موضوع بنایا ساتھ ہی پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھی مداخلت شروع کر دی۔ اس نے صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے قبائلیوں کو پاکستان کے خلاف بغاوت پر اکسانا شروع کر دیا۔ جب اسے کامیابی نہ ملی تو اس نے دیگر مسلمان ملکوں کے سربراہوں کو خطوط لکھے کہ وہ پاکستان کے معاملات میں مداخلت کریں۔

افغانستان کی حکومتوں کے مسلسل معاندانہ رویے سے پاکستان میں اس تصور اور سوچ کو تقویت ملی کہ افغانستان کی تواتر کے ساتھ پاکستان کی مخالفت درحقیقت بھارت کی اس دشمنی پر مبنی ہے جس کے تحت وہ (بھارت) کشمیر اور شمالی علاقہ جات حاصل کر کے افغانستان کے ساتھ سرحدوں کا الحاق چاہتا ہے جیساکہ آین اسٹیفن نے نشان دہی کی ہے کہ اگر قیام پاکستان کے وقت ہی بھارت اپنی اسکیموں کے نتیجے میں کشمیر اور شمالی علاقہ جات پر اور افغانستان پختون علاقوں پر قابض ہونے میں کامیاب ہو جاتا تو پاکستان کو وجود میں آتے ہی ختم کر دیا جاتا کیوں کہ افغانستان اور بھارت اسے دونوں طرف سے چمٹے کی طرح پکڑ کر ختم کر دیتے۔ آپ غور کیجیے کہ پاکستان کے ساتھ افغانستان کی دشمنی کی بنیاد شمالی علاقوں پر قبضے کی خواہش نظر آتی ہے۔افغانستان کے بغض و عناد کے باوجود پاکستان برادر اسلامی ملک ہونے کے ناتے تعلقات کو نبھانے کے لیے کوشاں رہا۔ دسمبر 1979 میں افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد لاکھوں کی تعداد میں افغان باشندے ہجرت کرکے پاکستان میں پناہ لینے داخل ہوئے تو انھیں اسلامی روایات کے مطابق مہمان بنایا گیا۔ آج بھی لاکھوں افغان مہاجرین وطن عزیز میں موجود ہیں۔ افغان مہاجرین کی آمد سے ملک میں ہتھیاروں سے مسلح رہنے کا کلچر بھی در آیا اور آہستہ آہستہ کلاشنکوف کلچر پورے ملک میں پھیلنے لگا جس نے بدامنی کو جنم دیا۔

امریکا میں ہونے والے 9/11 کے سانحے کے بعد دہشت گردی کے خلاف امریکا کی سربراہی میں ایک نئی جنگ کا آغاز ہوا تو دھونس و دھمکیوں کے ساتھ پاکستان کو اس عالمی جنگ کا فرنٹ لائن اتحادی بننا پڑا۔ امریکا تقریباً 20 سال افغانستان میں جنگ لڑنے کے بعد اپنے دامن میں ناکامیاں سمیٹے افغانستان کی سرزمین سے رخصت ہوا۔ 29 فروری 2020 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان جو امن معاہدہ ہوا تھا، اس میں یہ طے پایا تھا کہ طالبان حکومت اس بات کی سختی سے پابند رہے گی کہ وہ افغان سرزمین القاعدہ یا کسی بھی دوسری شدت پسند تنظیم کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ طالبان حکومت دوحہ امن معاہدے کے تحت اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کا گڑھ بننے سے روکنے میں ناکام رہے بلکہ ایک خاص مفہوم میں دیکھا جائے تو بھارت کی مودی سرکار کی پاکستان دشمن پالیسی کی سہولت کاری کرتے ہوئے افغان سرزمین کو دہشت گرد عناصر کی آماج گاہ بنا دیا۔ پاکستان نے اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر بار بار طالبان قیادت کو باور کرایا کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد عناصر سرحد پار کرکے پاکستان دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں، لہٰذا طالبان قیادت اس فتنہ الخوارج کو روکے، ساتھ ہی ہندوستان کی پراکسی فتنہ الہندوستان کی بیخ کنی کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرے۔ اعلیٰ ترین سطح پر تمام تر سفارتی کوششوں میں ناکامی کے بعد پاکستان نے چار و ناچار افغانستان کے خلاف آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا جو تاحال جاری ہے۔ پاکستان کی بہادر مسلح افواج افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں، ٹریننگ کیمپوں اور ان کے بارود کے ذخائر کو نشانہ بنارہی ہے۔ سیکڑوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ صدر زرداری نے درست کہا کہ طالبان نے ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستان کی شہری آبادی کو نشانہ بنا کر ’’سرخ لکیر‘‘ عبور کر لی ہے، نتائج بھگتنا ہوں گے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی دو ٹوک لفظوں میں کہہ چکے ہیں کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے تک آپریشن غضب للحق جاری رہے گا۔ دوسری جانب چین نے دونوں ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم کریں۔ خطے میں امن کے لیے چین اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ چینی قیادت کو طالبان پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ دوحہ امن معاہدے کی پاسداری کرے کہیں ایسا نہ ہو کہ ’’سرخ لکیر‘‘ مزید گہری ہو جائے۔





Source link

Continue Reading

Trending