Today News
تیل کی ہتھکڑیاں توڑو۔۔۔۔ سورج سے ناتا جوڑو
تاریخ کا پہیہ جب بھی مشرق وسطیٰ کی ریت پرگھومتا ہے، اس کے نشانات پاکستان کے غریب گھرانوں کے باورچی خانوں تک گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ آج آبنائے ہرمزکے سمندر سے اٹھنے والا دھواں ایک عالمی معاشی زلزلے کا نقطہ آغاز معلوم دے رہا ہے اور ہمیں یہ باورکرایا جا رہا ہے کہ ہماری معیشت کی نبضیں ان پائپ لائنوں سے جڑی ہیں اور اب یہ موقع آ گیا ہے کہ ہماری معیشت اعداد و شمار کے گورکھ دھندوں سے باہر آ کر پاکستان کی عوام کی اکثریت کے کرب کے ساتھ جڑ گئی ہے کیونکہ میرے نزدیک معاشیات صرف اعداد و شمار، معاشی اصولوں اور بہت سے معاشی بحث ومباحثے کا نام نہیں، یہ تو انسانی زندگی کے اس کرب کا نام ہے جو ایک باپ کی پیشانی پر اس وقت ابھرتا ہے جب پٹرول کی قیمت اس کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہے اور ایک ماں کے حساب کتاب سے ظاہر ہو جاتا ہے جب وہ ایک روٹی اپنے چار بچوں میں برابر تقسیم کر دیتی ہے اور خود پانی کا ایک گلاس پی کر مطمئن ہو جاتی ہے کہ آج میرے بچوں کا پیٹ بھرگیا ہے۔
پاکستان کی معیشت اسی درد و کرب سے دوچار ہو کر حیران و پریشان کھڑی ہے کہ بظاہر 2 یا 3 ہفتوں کا پٹرول کا ذخیرہ اور جنگ کے آغاز کا تو سب کو پتا ہے انجام کی خبر نہیں ہے، کیونکہ امریکا، ایران جنگ میں پاکستانی معیشت ’’تیل زدہ جال‘‘ میں پھنسی ہوئی ہے،کیونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا 80 فی صد سے زائد حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے۔ ان دنوں تیل کی قیمت میں جس طرح سے اضافہ ہوئے چلا جا رہا ہے اس سے پاکستان کا ماہانہ توانائی کا درآمدی بوجھ دو ارب ڈالر سے بھی زائد پہنچ چکا ہے اور اس میں مزید اضافہ ہونے والا ہے۔ اس میں سب سے اہم کردار آبنائے ہرمز کا ہے، کیونکہ پاکستان اپنے درآمدی تیل کا 90 فی صد حصہ اسی آبنائے ہرمز کے تنگ راستے سے لے کر آتا ہے۔
پاکستان کے لیے تیل صرف ایندھن نہیں بلکہ یہ معیشت کا خون ہے جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو جیساکہ گزشتہ دنوں پٹرول کی قیمت اور ڈیزل کی قیمت میں اچانک راتوں رات ہی 55 روپے کا اضافہ کر دیا گیا جس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات، اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔ ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ بھی سر پر منڈلا رہا ہے، کیونکہ صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ہی ترسیلات زر کا 80 فی صد سے زائد حصہ آتا ہے، جنگ کے باعث ان ملکوں کی معیشت خطرات سے دوچار ہو چکی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ ان کے کھاتے میں ڈال رکھا ہے تو دیگر ملکوں کی طرف پہلے دھیان کیوں نہیں گیا؟ ہر حکومت کو اپنے اپنے وقت پر یہ احساس کرنا چاہیے تھا کہ اپنے زیادہ سے زیادہ افرادی قوت کے لیے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ دیگر ملکوں کو بھی اولیت دی جانی چاہیے تھی، لیکن اب اس جانب توجہ دینی ہوگی۔
وقت آگیا ہے کہ پاکستان توانائی کی خود مختاری کے حصول کے لیے فوری قدم اٹھائے، شمسی انقلاب لانے کی ضرورت ہے۔ سولر پینلز کے کاروبار کو ہر طرح کی سہولیات مراعات دی جائیں تاکہ غریب کی چھت پر بھی سولر پینلز کی بہار اتر سکے، کیونکہ شمسی توانائی قدرت کی طرف سے پاکستان کے لیے ایک قیمتی لیکن مفت تحفہ ہے۔ پاکستان کے منصوبہ سازوں کو اس بات کو مدنظر رکھنا ہوگا کہ بھارت ’’جموں‘‘ میں نئے پن بجلی منصوبوں کی تیاری کر رہا ہے ایسے منصوبے بنا رہا ہے جس سے پاکستان کی طرف پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کیا جا سکے۔ پہلے ہی وہ کئی بڑے ڈیمز بنا چکا ہے اور ہم 1974 میں تربیلا ڈیم کے بعد کوئی قابل ذکر بڑا ڈیم نہیں بنا سکے۔ لہٰذا اب شمسی توانائی کے اس عظیم خزانے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ جہاں جہاں پانی کی ضرورت پڑے تو ٹیوب ویلوں کو سولر پینلز کا سہارا دیا جاسکے اور ایسا کرنا زرعی خودکفالت کے لیے ضروری ہے۔
مشرق وسطیٰ کے افق پر اٹھتا ہوا دھواں ہمیں ایک آخری مہلت دے رہا ہے کہ ہم ایک ایسی دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں اب خاموشی اور تاخیر کی گنجائش نہیں ہے۔ وہ کسان جو ہزاروں سال سے بادلوں کی طرف دیکھتا تھا اب اسے اپنی بنجر امیدوں کو سیراب کرنے کے لیے تیل کے ٹینکروں کے بجائے آسمان سے برستی ہوئی کرنوں کی ضرورت ہے۔ زرعی خود کفالت اب محض ایک خواب نہیں بلکہ ہماری بقا کا واحد راستہ بن چکی ہے، جب تک ہم اپنے کھیتوں کو شمسی حصار میں نہیں لائیں گے، اس وقت تک دوسروں کے ہی محتاج رہیں گے، لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے رزق کو سورج کی سنہری کرنوں سے محفوظ سنہری دور کے ساتھ جڑ جائیں کیونکہ جو قوم سورج سے ناتا جوڑ لیتی ہے اسے کوئی بحران اندھیروں میں نہیں دھکیل سکتا۔حکومت کو چاہیے کہ سولر پینلز سے وابستہ تاجروں کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کرے۔ ان کی راہ میں حائل سرخ فیتہ شاہی اور غیر ضروری نامناسب ٹیکسز دراصل سورج کی روشنی پر ٹیکس لگانے کے مترادف ہے۔ سولر پینلز کے تاجروں کو اہمیت دینا محض ایک توانائی پالیسی نہیں بلکہ سستی توانائی کی طرف ہجرت کا پہلا قدم ہوگا۔
Today News
صدقۂ فطر کی فضیلت – ایکسپریس اردو
صدقۂ فطر ادا کرنے سے جہاں ایک شرعی حکم کو پورا کرنے کا ثواب ملتا ہے وہاں اس کے کئی اور فائدے بھی ہیں، جیسے صدقۂ فطر روزوں کو پاک صاف کرنے کا ذریعہ ہے۔
روزے کی حالت میں جو فضول یا بیہودہ باتیں زبان سے نکلتی ہیں اس فطرانے کی ادائی سے روزے ان چیزوں سے پاک ہوکر اﷲ تعالی کی بارگاہ میں ایسے مقبول ہوجاتے ہیں کہ ان کی قبولیت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ اسی طرح صدقۂ فطر سے عید کے دن ناداروں اور مسکینوں کی خوراک و پوشاک کا انتظام ہوجاتا ہے اور عید کی خوشیوں میں ان کو بھی شامل کر لیا جاتا ہے۔ اس کی ادائی سے اﷲ تعالیٰ مال اور رزق میں برکت اور کام یابی عطا فرماتے ہیں۔ اس لیے بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ اگر مسئلہ کی رُو سے کسی پر صدقۂ فطر واجب نہ بھی ہو تو اسے بھی صدقۂ فطر کے ٖفضائل اور فوائد کو سامنے رکھ کر ادا کرلینا چاہیے۔
صدقہ فطر کس پر واجب ہے اور کن افراد کی طرف سے واجب ہے۔۔۔ ؟
ہر وہ مسلمان جس کی ملکیت میں پانچ چیزوں (سونا، چاندی، نقد رقم، مال تجارت اور ضرورت سے زاید تمام اشیاء) میں سے کوئی ایک یا ان پانچوں کا مجموعہ ساڑھے باون تولا چاندی کی قیمت کے بہ قدر ہو جائے، خواہ اس نصاب پر پورا سال گزرا ہو یا نہ گزرا ہو، تو اس پر اپنی طرف سے اور زیر کفالت نابالغ بچوں کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے اور ایسے شخص کے لیے جو اس مذکورہ نصاب کا مالک ہو زکوٰۃ، صدقۂ فطر اور صدقات واجبہ لینا جائز نہیں۔
٭ اگر باپ نہ ہو یا تنگ دست ہو تو دادا باپ کے قائم مقام ہوگا یعنی اس پر واجب ہوگا کہ اپنے نابالغ پوتے اور پوتیوں کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرے، اگر نابالغ پوتے اور پوتیاں مال دار نہ ہوں اور اگر وہ مال دار ہوں تو ان کے مال سے ادا کرے گا۔
٭ مرد کے ذمے نابالغ اولاد کے علاوہ کسی اور رشتے دار مثلا بیوی، بالغ اولاد، بہن، بھائی غرض کسی بھی دوسرے رشتے دار کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب نہیں اگرچہ یہ اس کے زیر کفالت ہوں مثلا چھوٹے بھائی، بہن وغیرہ، البتہ بالغ اولاد اور بیوی کا فطرانہ ان سے اجازت لیے بغیر ادا کر دیا تو ادا ہو جائے گا بہ شرطے کہ بالغ اولاد اس کے عیال میں ہو۔
٭ اگر عورت خود صاحب نصاب ہو (جو کہ عموماً زیورات وغیرہ کی وجہ سے ہوتی ہے چاہے زیورات استعمال میں ہوں یا نہ ہوں) تو صدقۂ فطر کی ادائی کی خود ذمے دار ہے شوہر کے ذمے لازم نہیں، تاہم اگر شوہر بیوی کی طرف سے ادا کرے تو صدقۂ فطر ادا ہو جائے گا اور اگر عورت نصاب کی مالک نہیں تو اس پر صدقۂ فطر واجب نہیں۔
٭ اگر کوئی مقروض ہو تو ان پانچوں قسم کے مال کی قیمت لگائے پھر اس میں سے قرض کی رقم نکال کر دیکھے اگر بقیہ رقم مذکورہ نصاب کے برابر ہے تو صدقۂ فطر واجب ہوگا ورنہ واجب نہیں اور جو قرض دوسروں پر ہو اور اس کے ملنے کی امید ہو اسے بھی نقد رقم میں شمار کیا جائے گا۔
٭ جن لوگوں نے سفر یا بیماری کی وجہ سے یا ویسے ہی غفلت کی وجہ سے روزے نہیں رکھے، صدقۂ فطر ان پر بھی واجب ہے اگر وہ صاحب نصاب ہیں۔
٭ جو بچہ عید کی رات صبح صادق سے پہلے پیدا ہوا اس کا صدقۂ فطر لازم ہے اور جو عید کی رات صبح صادق سے پہلے مرگیا تو اس کا صدقۂ فطر لازم نہیں۔
٭ ماں کے ذمے بچوں کا صدقۂ فطر لازم نہیں، خواہ ماں مال دار ہی کیوں نہ ہو۔
٭ صدقۂ فطر کے واجب ہونے کا وقت اگرچہ عید کے دن کا صبح صادق ہے لیکن اگر کوئی اس سے پہلے رمضان میں پیشگی دیدے تب بھی ادا ہو جاتا ہے۔ اگر کسی نے نہ رمضان میں ادا کیا اور نہ عید کے دن تو بعد میں بھی اد ا کرنا ذمے میں واجب رہے گا معاف نہیں ہوگا خواہ کتنا ہی زمانہ گزر جائے، عمر بھر یہ واجب اس کے ذمہ میں رہے گا اور عید کے دن سے تاخیر کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔ تاخیر ہونے پر استغفار کرنا چاہیے۔
صدقہ فطر کن چیزوں سے ادا ہوگا اور ان کی واجب مقدار:
احادیث میں صدقۂ فطر وزن کے اعتبار سے چار اقسام کی چیزوں سے ادا کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ ایک کشمش سے، دوسرے چھوارے سے، تیسرے جو سے اور چوتھے گندم سے۔ ان میں سے کسی بھی ایک چیز کو بعینہ یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت کو ادا کرنا درست ہے۔ گندم میں صدقہ فطر کی مقدار پونے دو کلو گندم (احتیاطاً دو کلو گندم) یا اس کی قیمت ہے اور جو، کشمش اور کھجور کے ان تینوں کے اعتبار سے ساڑھے تین کلو یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت۔ مذکورہ چار اشیاء میں سے جس چیز کے ساتھ کوئی صدقۂ فطر اد اکرنا چاہتا ہے اور وہ چیز اعلی اور ادنی ہونے کے لحاظ سے مختلف مالیت کی ہے تو بہتر یہ ہے کہ اعلی یا درمیانے درجے کی چیز یا اس کی قیمت کے اعتبار سے صدقۂ فطر ادا کرے لیکن اگر ادنی قسم کی قیمت کے اعتبار سے ادا کیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ (فتاوٰ ی محمودیہ)
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صدقۂ فطر صرف گندم کے ساتھ خاص ہے۔ باقی تین چیزوں کا علم بھی نہیں ہوتا حالاں کہ جن لوگوں کو اﷲ تعالٰی نے وسعت اور توفیق دی ہے ان کو چاہیے کہ وہ ان چار چیزوں میں سے جو چیز مالیت کے اعتبار سے سب سے اعلی ہو اس کے ساتھ صدقہ فطر ادا کریں تاکہ غریب کی حاجت بھی پوری ہو اور اس کو خوب ثواب حاصل بھی ہو۔
٭ اگر کوئی شخص قیمت سے صدقۂ فطر ادا کرنا چاہتا ہے تو جہاں وہ شخص رہتا ہے وہیں کے اعتبار سے قیمت کا لحاظ ہوگا اور اگر وہ خود کسی اور جگہ رہتا ہے اور وہ کسی دوسری جگہ اس رقم کو بھیجنا چاہتا ہے اور دونوں جگہوں کی قیمت میں فرق ہے تو افضل یہ ہے کہ جس جگہ کی قیمت کا معیار زیادہ ہو اس لحاظ سے ادا کیا جائے اگرچہ اس بات کی بھی گنجائش ہے کہ وہ کسی بھی مقام کے اعتبار سے ادائی کر دے۔ (کمافی امداد الاحکام، فتاوٰی محمودیہ)
صدقۂ فطر کن لوگوں کو دیا جائے؟
صدقۂ فطر کو اس کے صحیح شرعی مصرف میں لگانا صدقۂ فطر ادا کرنے والے کی شرعی ذمے داری ہے۔ صدقۂ فطر صرف ان غریبوں کو دیا جاسکتا ہے جنہیں زکوٰۃ دینا درست ہو یعنی جس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے برابر سونا، چاندی، نقدی رقم، مال تجارت، اور ضرورت سے زیادہ سامان نہ ہو تو اسے صدقۂ فطر دیا جاسکتا ہے۔
٭ جن لوگوں سے یہ پیدا ہوا جیسے ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی اور اسی طرح جو اس کی اولاد ہیں جیسے بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی وغیرہ ان کو صدقہ فطر دینا جائز نہیں، اسی طرح بیوی شوہر کو اور شوہر بیوی کو نہیں دے سکتا۔ ان کے علاوہ باقی سب رشتہ داروں کو دیا جاسکتا ہے جب کہ وہ مستحق ہوں۔
٭ ایک آدمی کا صدقۂ فطر کئی غریبوں کو اور کئی آدمیوں کا فطرانہ ایک غریب کو دینا جائز ہے۔
٭ مستحق غریب رشتے دار کو دینے کا دہرا ثواب ملتا ہے ایک صلۂ رحمی کا اور دوسرا ادائی کا۔
٭ زکوٰۃ اور دوسرے واجبات کی طرح اس صدقے کے ادا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کسی غریب کو مالکانہ طور پر دیا جائے۔
Today News
پانی کو ہتھیار بنانا انسانیت کے خلاف ہے، پاکستان کا عالمی فورم پر دو ٹوک مؤقف
اسلام آباد:
پاکستان نے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے اسے تہذیب، معاش اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دے دیا
پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہماری تہذیب، معاش اور ہمارے معاشی مستقبل پر حملہ ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، حکومتِ پاکستان نے یہ خیالات عالمی یومِ آب کی مناسبت سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی تقریب میں اپنے ویڈیو پیغام کے ذریعے ظاہر کیے۔
یہ تقریب، جس کا موضوع “پانی اور صنفی مساوات” تھا، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوئی اور اس کا اہتمام اقوامِ متحدہ میں تاجکستان کے مستقل مشن نے کیا، جبکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک نے اس کی مشترکہ میزبانی کی۔
وفاقی وزیر نے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج جب ہم اپنے خطے پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں تنازعات کے گہرے بادل منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی تناظر میں ہمارے ہمسایہ ملک کا یکطرفہ طور پر پانی کو سیاسی ہتھیار بنانے اور سندھ طاس معاہدے جو تقریباً چھ دہائیوں سے قائم ہے کو معطل کرنا نہایت تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں اس نوعیت کا اچانک اور یکطرفہ اقدام نہ صرف غیر منصفانہ اور غیر قانونی ہے بلکہ یہ ایک دیرینہ تعاون کے فریم ورک کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہمارے لیے پانی فطرت ہے، پانی انسانیت ہے، پانی ہماری تہذیب ہے۔ ہمارے لیے پانی زراعت ہے۔ ہم ایک زرعی معاشرہ ہیں جو عملی طور پر پانی اور زراعت کے سنگم پر قائم ہے۔
انہوں نے پاکستان کی معیشت اور معاشرے میں زراعت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 25 سے 30 فیصد حصہ زراعت سے وابستہ ہے، جبکہ قریباً نصف افرادی قوت اسی شعبے سے روزگار حاصل کرتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی غذائی سلامتی مکمل طور پر زرعی پیداوار سے جڑی ہوئی ہے، جس کے باعث پانی کا مؤثر انتظام قومی بقا اور خوشحالی کا بنیادی تقاضا ہے۔
وزیر نے مزید کہا کہ خواتین کی مجموعی ملازمت کا 61 فیصد سے زائد حصہ زراعت سے منسلک ہے، جو پانی تک رسائی، خواتین کے بااختیار ہونے اور معاشی بہتری کے درمیان براہِ راست تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان میں موسمیاتی آفات کے انسانی اور سماجی اثرات کی جانب بھی توجہ دلائی۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چار بڑے سیلابوں کے دوران تقریباً 6 ہزار افراد جاں بحق، 20 ہزار زخمی یا معذور ہوئے جبکہ تقریباً 4 کروڑ افراد بے گھر ہوئے۔
ان میں تقریباً 2 کروڑ اسکول جانے والے بچے شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بچے کم از کم تین ماہ تک بے گھر رہیں تو اس کا مطلب تقریباً 1.8 ارب تعلیمی دنوں کا ضیاع ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کے دیگر حصوں کی طرح پاکستان میں بھی خواتین ایسے حالات میں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ جب ہم پانی کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت ہم خواتین کے حقوق کی بھی بات کر رہے ہوتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے پاکستان کی پالیسی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کی موسمیاتی حکمت عملیوں میں صنفی شمولیت اور مقامی سطح پر شرکت کو شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی تازہ ترین قومی سطح پر متعین کردہ شراکتیں (NDC III) موسمیاتی اقدامات اور پائیدار ترقی میں خواتین کے کردار کو واضح طور پر بیان کرتی ہیں۔
نوجوانوں کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت “گرین ریولوشن” کے تحت متعدد اقدامات کر رہی ہے، جن میں پانی کا مؤثر انتظام ایک کلیدی جزو ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان نوجوانوں کے لیے جدید خیالات اور کاروباری مواقع کو فروغ دے رہا ہے، خصوصاً زراعت، موسمیاتی مزاحمت اور ماحولیاتی پائیداری سے متعلق شعبوں میں۔
انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی پر بھی کام جاری ہے، اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ان اقدامات میں کم از کم 50 فیصد شرکت خواتین کی ہو۔
مزید برآں انہوں نے زراعت، پانی اور موسمیاتی امور پر مشترکہ تحقیقی فریم ورک کے قیام کا اعلان کیا، جسے گرین ورچوئل یونیورسٹی کے پلیٹ فارم کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا۔
اپنے پیغام کے اختتام پر ڈاکٹر مصدق ملک نے اقوامِ متحدہ کی عالمی آبی ترقیاتی رپورٹ کے اجرا کا خیرمقدم کیا اور عالمی یومِ آب کی وسیع تر اہمیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ دن محض پانی کا جشن نہیں بلکہ حقوق کی تجدید کا دن ہے—پانی کے حقوق، خواتین کے حقوق اور کمزور طبقات کے حقوق کا دن۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے مزید کہا کہ آج ہم اپنی انسانیت، اپنی تہذیب اور سب سے بڑھ کر امن کی مشترکہ امید کا جشن منا رہے ہیں۔
Today News
جمعتہ الوداع، سندھ بھر میں ہائی الرٹ، سیکیورٹی فول پروف بنانے کی ہدایت
کراچی:
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے جمعتہ الوداع کے موقع پر صوبے بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مساجد، امام بارگاہوں اور بڑے اجتماعات کی سیکیورٹی کو ہر صورت فول پروف بنایا جائے۔
انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی کہ نمازِ جمعہ کے اجتماعات کے دوران سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھی جائے اور اضافی نفری کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
وزیر داخلہ نے خاص طور پر حساس اضلاع میں خصوصی سیکیورٹی پلان نافذ کرنے، داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کرنے اور مشتبہ سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
انہوں نے ٹریفک پولیس کو ہدایت دی کہ شہریوں کی سہولت کے لیے جامع ٹریفک پلان ترتیب دیا جائے تاکہ آمد و رفت میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو اور ٹریفک کی روانی برقرار رہے۔
ضیاء الحسن لنجار نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مشکوک افراد یا اشیاء کی فوری اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن یا ہیلپ لائن پر دیں، کیونکہ شہریوں کا تعاون سیکیورٹی کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے جمعتہ الوداع کے تقدس کے پیش نظر علماء کرام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے خطبات میں رواداری، امن اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
‘There will be nerves’: India face New Zealand for T20 World Cup glory – Sport
-
Magazines5 days ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Magazines6 days ago
Story time: The price of a typo
-
Entertainment2 weeks ago
Troubling News About Rahat Fateh Ali Khan & His Family
-
Sports1 week ago
Samson rises from year of struggle to become India’s World Cup hero – Sport