Connect with us

Today News

چشم نَم سے آپ کو کہتے ہیں الوداع ۔۔۔۔۔!

Published

on


رمضان الکریم کی آمد سے ذرا پہلے ہم سب ایک ناقابل بیان روحانی کیفیت میں مبتلا اس ماہِ مقدس کا انتظار کرتے ہیں، پھر رمضان آتے ہیں، ہم بھی دیدہ و دل فرش راہ ہوتے ہیں لیکن پھر احساس ہوتا ہے کہ رب تعالی کا یہ مہینا تو واقعی مہمان تھا، آیا اور پھر کس تیزی سے گزر گیا اور پھر ہم پھر سے ایک ناقابل بیان کیفیت کا شکار ہوجاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ہم سے کچھ کھو سا گیا ہے، وہ ماہ مبین آیا، اس نے ہمیں سرشار کیا اور دبے پاؤں رخصت بھی ہوگیا، الوداع۔۔۔۔۔۔۔!

رمضان کی آخری چند گھڑیاں ہی باقی ہیں جو ہمیں اپنے محاسبے اور جائزے کے لیے ملے ہیں۔

رمضان المبارک ہمارے گناہوں کو جلا ڈالتا اور ہمیں نئے سرے سے زندگی و توانائی دینے آتا ہے، تو کیا ہم اس میں کام یاب ہوئے۔۔۔ ؟

روزے کا اجر صرف رب تعالی کو معلوم ہے اور یہ بھی کہ ہمارے روزے قبول ہوئے کہ خدا نہ خواستہ ہم صرف بھوکے پیاسے رہ کر محروم ہوجانے والوں میں تو نہیں۔

آئیے! اس امید کے ساتھ کہ اﷲ تعالی توبہ کرنے والوں سے خوش ہوتا اور ان سے درگزر کرتا ہے، اپنا احتساب و جائزہ لیں لیکن کیا جائزہ لیا جائے۔۔۔۔ ؟

اگر چند جملوں میں روزے کا مقصد سمیٹا جائے تو وہ یہ ہے کہ روزہ قُرب الہی کا ذریعہ ہے تو کیا ہم اﷲ کے قریب ہونے میں کام یاب ہوئے۔۔۔؟ اﷲ کے قُریب ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بس تسبیح کے دانے گرتے رہیں، تلاوت جاری رہے، سجدوں سے پیشانی سیاہ ہوجائے، یہ سب تو قرب الہی کے ذرائع ہیں اور ان اعمال کا بجا لانا ازحد ضروری ہے، قُرب کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اﷲ کی محبّت میں اپنے نفس کی خواہشات کو مار ڈالا ہے۔۔ ؟ اگر ہماری خواہشات اﷲ کے حکم سے ٹکراتی ہیں تو ہم نے رب کی محبت میں اسے قربان کرنا سیکھا یا نہیں ؟ اور سب سے اہم یہ کہ یہ محبت چند روزہ ہے یا دائمی ؟ رمضان ختم ہوتے ہی کہیں ہم دوبارہ تو ان امور میں مبتلا تو نہیں ہوجائیں گے جس سے رب نے منع کیا ہے۔

رمضان میں تو اﷲ تعالی حلال کاموں پر بھی پابندی لگاتے ہیں، لوگ رک جاتے ہیں لیکن جو ممنوعات ہیں ان میں پورا سال مبتلا رہتے ہیں اور احساس بھی نہیں ہوتا کہ شریعت میں تو یہ ویسے ہی منع ہیں۔ تو اپنا جائزہ لیں کہ ہم خود کو روک پائے ہیں کہ نہیں؟ روزہ محنت کی عادت ڈالتا ہے تو کیا ہم نے آرام طلبی کو اپنی زندگی سے نکالا ؟ ہم نے محنت و مشقت کرنا سیکھا ؟ روزہ ہم دردی ایثار پیدا کرتا ہے تو اپنا جائزہ لیں کہ ہمارے اندر یہ صفات پیدا ہوئیں؟ روزہ برائیوں سے روکتا ہے تو کیا ہم رک گئے، آنکھ کان زبان کے گناہ سے خود کو بچا پا رہے ہیں ؟ اگر ہم ایسا کرنے میں کام یاب ہوئے تو ہمارے لیے مقام شکر ہے کہ اﷲ نے ہمیں توفیق دی اور شُکر کے نوافل و سجدے ادا کریں کہ شُکر اجر کو بڑھاتا ہے اور اگر ان مقاصد کے حصول میں کمی رہی، سستی و کاہلی دکھائی ہے جو کام اﷲ کو ناپسند ہیں وہ نہیں چھوڑے ہیں تو اب بھی وقت ہے یہ چند گھڑیاں بھی سچے دل سے مانگنے والوں کے لیے نعمت عظمی ہیں، سچے دل سے توبہ کی جائے اﷲ کی مدد و مغفرت طلب کی جائے، رحم مانگا جائے کہ ہمارا عمل تو نہیں اس قابل آپ دینے و عطا کرنے والے ہیں ہمیں خوش نصیبوں میں شامل فرما لیجیے۔

رمضان المبارک برکتیں لایا تھا تو جائزہ لیجیے اپنا کہ ہم نے ایسا کیا کچھ کِیا ہے جو بارگاہ الہی میں قبول ہو ؟ کہیں ہماری عبادت جھوٹ، دھوکا دہی، بددیانتی، دکھاوے و نمود و نمائش سے آلودہ تو نہیں ہیں ؟ اگر ایسا نہیں ہ ہے تو اترائیے بھی نہیں کہ یہ بھی بس توفیق الہی کے بنا ناممکن تھا، بس شکر کیجیے اور شُکر بھی خوف کے ساتھ کہ کہیں نیّت میں کوئی کھوٹ تو نہ تھی کہ رب کو ریا کاری و خودنمائی قبول نہیں۔ اب کمر کس لیجیے، جسمانی و مالی کسی عبادت سے نہ رکیے، ہاتھ تنگ کیجیے نہ دل کہ رب کو یہی مقصود ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

آسمان دن کو نیلا اور رات کو ڈارک کیوں نظر آتا ہے

Published

on


آسمان کا نیلا نظر آنا در اصل روشنی کے بکھراؤ Scatteringکا نتیجہ ہے۔اس مظہر کو سائنسی طور پرRayleigh scatteringکہتے ہیں۔ اس مظہر کو یہ سائنسی نام اس وجہ سے دیا گیا ہے کیونکہ اس کی وضاحت برطانوی سائنس دانRayleighنے 19ویں صدی میں کی تھی۔اس عمل کو سمجھنے کے لیے سورج کی روشنی کو سمجھنا ہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ زمین کے ماحول کی جانکاری بھی بہت اہم ہے۔

سورج کی روشنی بظاہر سفید دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت میں یہ مختلف رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے۔آسمان پرجب کبھی قوسِ قزح نمودار ہو تو بکھرے یہ رنگ دیکھے جا سکتے ہیں ۔اسی طرح کسی کھڑکی یا سوراخ سے اندر آنے والی سورج کی روشنی کے راستے میں پرزم Prismرکھ دیا جائے تب بھی قوسِ قزح والی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ان رنگوں میں سرخ، نارنجی، پیلا، سبز،نیلا اور بنفشی شامل ہیں۔ یہ تمام رنگ مل کر سفید روشنی بناتے ہیں۔اگر آپ ان رنگوں کے پینٹ کو خوب ملائیں تب بھی سفید پینٹ بن جائے گا۔ان رنگوں میں سے ہر رنگ کی موجی لمبائیWavelengthمختلف ہوتی ہے۔سرخ رنگ کی ویو لنتھ سب سے زیادہ،جب کہ نیلے اور بنفشی رنگ کی ویو لنتھ کم ہوتی ہے۔

زمین کے گرد گیسوں کا ایک غلاف موجود ہے جسےEarth Atmosphereکہا جاتا ہے۔ اس میں بنیادی طور پر نائٹروجن،آکسیجن،گرد و غبار اور پانی کے بخارات وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ جب سورج کی روشنی اس ماحول،اس زمینی ماحول میں داخل ہوتی ہے تو یہ ان گیسوں اور ذراتDust particlesسے ٹکرا جاتی ہے۔

جب سورج کی روشنی فضا کے مالیکیولز سے ٹکراتی ہے تو مختلف رنگ مختلف مقدار میں بکھرتے ہیں۔  Rayleigh scatteringکے اصول کے مطابق کم موجی لمبائیWavelength والی روشنی زیادہ بکھرتی ہے جب کہ زیادہ موجی لمبائی والی روشنی نسبتاً کم بکھرتی ہے۔چونکہ نیلے اور بنفشی رنگ کی موجی لمبائی wavelengthکم ہوتی ہے اس لیے یہ رنگ خاص کر نیلا رنگ بہت زیادہ بکھرتا ہے۔اب سوال یہ تھا کہ

آسمان نیلا کیوں دکھائی دیتا ہے۔اگرچہ بنفشی رنگ کی موجی لمبائی سب سے کم ہے اور وہ سب سے زیادہ بکھرتا ہے لیکن آسمان بنفشی نہیں بلکہ نیلا نظر آتا ہے کیونکہ انسانی آنکھ نیلے رنگ کے لیے زیادہ حساس ہے۔بنفشی رنگ کا ایک بڑا حصہ زمین کے ماحول میں جذب ہو جاتا ہے۔سورج کی روشنی میں نیلے رنگ کی مقدار نسبتاً زیادہ محسوس ہوتی ہے،اس لیے ہر سمت نیلی روشنی دکھائی دیتی ہے اور اسی لیے آسمان دن کے وقت نیلا نظر آتا ہے۔

ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت آسمان سرخی مائل کیوں ہوتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہصبح اور شام کے وقت سورج افق کے قریب ہوتا ہے۔اس وقت سورج کی روشنی کو زمین کے ماحول میں زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ اس دوران نیلی اور بنفشی روشنی زیادہ بکھر کرراستے سے ہٹ جاتی ہے۔سرخ اور نارنجی روشنی باقی رہ جاتی ہے۔ اس وجہ سے سورج کے طلوع اور غروب کے وقت آسمان سرخی مائل دکھائی دیتا ہے۔اگر زمین کا ماحول یعنی Earth Atmosphereنہ ہو تو آسمان نیلا نظر نہیں آئے گا بلکہ بالکل سیاہ دکھائی دے گا جیسا کہ خلا میں نظر آتا ہے۔خلا میں موجود خلا بازوں کو دن کے وقت بھی آسمان سیاہ دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہاں روشنی کو بکھرنے کے لیے فضا موجود نہیں۔جس ستارے یا سیارے کے گرد Atmosphereنہیں ہوگی وہاں آسمان سیاہ ہو گا۔ابھی تک سائنسی معلومات کے مطابق یہ صرف ہماری زمین ہے جس کے گرد ایٹماس فیئر ہے۔یوں آسمان کا نیلا نظر آنا دراصل سورج کی روشنی کے زمین کے ماحول میں بکھرنے کا نتیجہ ہے نیلا رنگ کم موجی لمبائی رکھتا اور زیادہ بکھرتا ہے۔اس کے ساتھ انسانی آنکھ نیلے رنگ کے لیے زیادہ حساس ہے اس لیے گگن نیلا نظر آتا ہے۔

رات کے وقت آسمان ڈارک یعنی سیاہ کیوں دکھائی دیتا ہے۔اب آتے ہیں اس طرف کہ جو آسمان دن کے وقت سورج کی روشنی بکھرنے سے نیلگوں دکھائی پڑتا ہے وہ اندھیرا ہوتے ہی ڈارک یعنی سیاہ کیوں دکھائی دیتا ہے۔اس پر عمومی طور پر تو یہ کہا جائے گا کہ جب سورج غروب ہو جاتا ہے اور روشنی چلی جاتی ہے تو آسمان ڈارک ہو جاتا ہے۔بظاہر یہ بات ٹھیک لگے گی لیکن دراصل ایسا نہیں ہے۔سولھویں صدی عیسوی میں ایک برطانوی ماہرِ فلکیات ڈِگزDiggs نے اس پر بات کرنی شروع کی۔اس کے ساتھ کئی اور سائنس دانوں کے ذہن میں بھی یہ سوال ابھرا۔ 18ویں صدی عیسوی کے شروع میںایک جرمن ماہرِ فلکیات ہنرچ ولہم اولبرز نے باقاعدہ اس سوال کی تشکیل کی کہ آخر آسمان رات کو ڈارک کیوں نظر آتا ہے۔اس نے کہا کہ اگر کائنات لا محدود ہے اور آسمان ستاروں سے پٹا پڑا ہے تو پھر ہم جس طرف بھی نگاہ اٹھائیں گے ہماری نظر کسی نہ کسی ستارے پر جا رکنی چاہیے۔ستارے چونکہ جلتے ہوئے روشنی پیدا کر رہے ہوتے ہیں اس لیے اتنے بے شمار ستاروں سے مزین آسمان روشنی سے جگمگانہ چاہیے لیکن چونکہ ایسا نہیں ہے اس لیے لا محالہ ماننا پڑے گا کہ کائنات لا محدود نہیں ہے اور ستاروں کا پھیلاؤ ہر جگہ ایک جیسا نہیں۔آسمان کیوں ڈارک نظر آتا ہے اس مسئلے کو اولبرز کے حوالے سے اولبرز پیرا ڈاکسOlbers Paradoxکہتے ہیں۔

اس مسئلے پر مختلف سائنس دانوں نے غور کیا۔ان میں کیپلر اور اینڈمنڈ ہیلی شامل ہیں۔آخرکار اس کے حل کے سلسلے میں دو ٹھوس رائے سامنے آئیں۔ سب سے پہلے تو کائنات کی محدود عمر سامنے آتی ہے۔سب جانتے ہیں کہ آسٹرو فزکس کے ماہرین کے اندازے کے مطابق کائنات ہمیشہ سے نہیں تھی۔یہ 13.8ارب سال پہلے وجود میں آئی۔اس کا مطلب ہے کہ دور دراز ستاروںکی روشنی ابھی تک ہماری زمین تک نہیں پہنچی۔کائنات محدود ہے یا لا محدود لیکن روشنی کی رفتار ضرور محدود ہے۔روشنی کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے لیکن اس کو وسیع وعریض کائنات میں سفر کرتے ہوئے بہت وقت لگتا ہے ۔چونکہ بے شمار ستاروں کی روشنی ابھی تک ہم تک نہیں پہنچی اس لیے آسمان مکمل روشن نہیں۔دوسری وجہ کائنات کا مسلسل پھیلاؤ ہے۔مشہور فلکیاتی دور بین ہبل ٹیلی اسکوپ کے موجد Edwin Hubble نے 1929میں دریافت کیا کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔اگر قرآن کی آیات پر غور و فکر کیا جاتا تو ہبل کے بجائے دنیا کو یہ بات مسلمان بتاتے کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے یہی کچھ قرآن میں لکھا ملتا ہے۔کائنات کے پھیلاؤ کی وجہ سے کہکشائیں اور ستارے دور ہی دور ہو رہے ہیں۔ایک خاص دوری پر پہنچ کر ان سے پھوٹنے والی روشنی سرخ ہو جاتی ہے۔اس Redshiftکو عام آنکھ نہیں دیکھ سکتی بلکہ اسے دیکھنے کے لیے انفرا ریڈ دوربین کی ضرورت ہوتی ہے۔مسلسل پھیلتی کائنات میں ستاروں کی بے انتہا دوری اور عام آنکھ سے دکھائی نہ دینے کی وجہ سے بھی آسمان ڈارک دکھائی دیتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران کا امریکا کے جنگی طیارے ایف 35 کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، حملے کی ویڈیو بھی وائرل

Published

on


پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایک کارروائی کے نتیجے میں امریکی جدید جنگی طیارہ ایف 35 متاثر ہوا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ایک ایف 35 اسٹیلتھ طیارے کو مبینہ طور پر فائرنگ کا سامنا کرنے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی فضائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ طیارہ ایک جنگی مشن پر تھا جب اسے اچانک تکنیکی یا حملے سے متعلق صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

سینٹ کام کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے تصدیق کی کہ ففتھ جنریشن کا یہ طیارہ محفوظ طریقے سے لینڈ کر گیا ہے جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاہم انہوں نے کسی بڑے نقصان کی تصدیق نہیں کی۔

دوسری جانب ایرانی موقف اس سے کہیں زیادہ جارحانہ ہے۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے رات تقریباً 2 بج کر 50 منٹ پر طیارے کو نشانہ بنایا اور امکان ظاہر کیا کہ طیارہ شدید نقصان کا شکار ہوا۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی ان کے ایئر ڈیفنس سسٹم کی بہتر صلاحیتوں کا ثبوت ہے، اور وہ اس سے قبل بھی متعدد ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔

ایرانی میڈیا پر جاری ویڈیوز میں ایئر ڈیفنس یونٹس کو ایک طیارے کو نشانہ بناتے دکھایا گیا ہے تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔

واضح رہے کہ امریکی فضائی بیڑے میں شامل ایف 35 اسٹیلتھ طیارہ ففتھ جنریشن کا جدید ترین جہاز ہے جس کی مالیت 100 ملین ڈالر سے زائد ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

مہنگائی گزیدہ پاکستانیوںاور جنگ زدہ ایرانیوں کی عید!

Published

on


رمضان کا مبارک و مسعود مہینہ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے ۔خوش بخت ہیں وہ لوگ جنھوں نے اِس ماہِ مبارک کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کی مقدور بھر کوششیں کیں۔ کسی کو نہیں معلوم کہ اگلے رمضان شریف کی برکات کون سمیٹ سکے گا اور کون اِن کے فیوض سے مستفیض ہو سکے گا۔ عید مگر آ رہی ہے۔ شائد آج بروز جمعہ عیدالفطر ہو ہی جائے ۔ یہ’’ شائد‘‘ کا بھی عجب معاملہ ہے۔پکی بات نہیں ہے کہ آج 20مارچ 2026کو عید ہو گی یا نہیں ۔ ہر سال عید الفطر کی آمد آمد پر ایسا ہی ’’شائد‘‘ والا معاملہ درپیش ہو جاتا ہے ۔

شائد اِسی لیے 16مارچ کو اسلام آباد کے ایک شہری ( عبداللہ شفیق)نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک انوکھی درخواست دائر کی ۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ’’ روئتِ ہلال کمیٹی کو عید الفطر کا چاند نظر آنے پر جَلد اعلان کرنے کا حکم صادر فرمایا جائے کہ عید کے اعلان میں تاخیر کے باعث لوگ تراویح بھی پڑھ لیتے ہیں ۔ رات تاخیر سے چاند کا اعلان ہونے کے باعث بازاروں میں اچانک رَش بھی بڑھ جاتا ہے اور انتظامیہ کے لیے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بھی پیدا ہو جاتی ہے۔‘‘

دیکھا جائے تو عدالتِ عالیہ کے رُو برو یہ درخواست اتنی بے جا بھی نہیں ہے ۔ مگر کیا کِیا جائے کہ ہماری عید جناب چاند صاحب کے طلوع ہونے سے مشروط ہے ۔ مگر یہ عید بھی کیا عید ہے ؟ بے لگام اور بے انتہا مہنگائی نے اگر اکثریتی پاکستانیوں کی کمر توڑ رکھی ہے تو ایرانیوں اور اہلِ غزہ کو جنگ نے پریشان حال اور در بدر کر رکھا ہے ۔ امریکی و اسرائیلی طاغوت نے مل کر ایران اور غزہ پر جنگوں کے مہیب اور مہلک سائے مسلّط کر رکھے ہیں ۔ غزہ کی راکھ اور کھنڈرات پر مظلوم و برباد شدہ فلسطینی عید منائیں بھی تو کیسے ؟ یہی حال ایرانی بھائیوں کا ہے ۔

اِس وقت عالمِ اسلام کی جو مجموعی صورتحال ہے ، اِس پر کچھ عرصہ قبل ممتاز عالمِ دین و مفکر و مصنف علامہ یوسف القرضاوی( جو تھے تو مصری، مگر اُنھوں نے زندگی کا زیادہ حصہ قطر میں گزارا اور وفات کے بعد بھی قطر ہی میں دفن ہُوئے )نے عید کی آمد پر کہا تھا:’’ہم عید کا انتظار کرتے ہیں ۔ ہم عید پر خوش ہونا چاہتے ہیں ۔لیکن ہم عید کیسے منائیں؟ جب کہ ہماری اُمت اِس حال میں ہے کہ ہمارے مسلمان بھائیوں کو قتل اور ذبح کیا جارہا ہے ، اور ان پر یہ ہلاکتیں گزررہی ہیں ، اور ہم یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ہم اِن مصیبت زدگان کے ساتھ مصیبتیں جھیل رہے ہیں ۔ ایسے میں ہم زندگی اور عیدین سے کیسے لطف اندوز ہو سکتے ہیں؟ہم کیسے ہنس اور قہقہے لگاسکتے ہیں؟ ہم کیسے پیٹ بھر کر کھانا کھا سکتے ہیں؟۔‘‘

علامہ یوسف القرضاوی مرحوم نے ٹھیک اور درست ہی تو لکھا اور کہا تھا۔ہم اِس عید کے موقع پر بھی سرکش و غاصب صہیونی اسرائیل اور منہ زور و انتہائی طاقتور امریکا کی جانب دزدیدہ و خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ عید ایسے حال میں آئی ہے جب اسرائیل و امریکا متحد و متفق ہو کر ایران کے سب سے بڑے اور بزرگ ترین روحانی رہنما، 86سالہ جناب آئیت اللہ علی خامنہ ای کو (اُن کے کئی فیملی ممبرز سمیت) شہید کر چکے ہیں ۔17مارچ 2026کو صہیونی اسرائیل نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ، علی لاریجانی ، اور اُن کے صاحبزادے ( مرتضیٰ لاریجانی) کو بھی شہید کر ڈالا۔  اِس عید پر ہم سب اِنہیں شدت سے یاد کر رہے ہیں ۔

تہران و اصفہان ایسے مرکزی ایرانی شہر صہیونی اسرائیلی و مسیحی امریکی بموں اور میزائلوں کے دھماکوں سے تقریباً کھنڈر بن رہے ہیں ۔ ایران پر امریکی و اسرائیلی ناجائز جنگ کو مسلّط ہُوئے آج تیسرا ہفتہ ہو چکا ہے ۔ تقریباً دو ہزار ایرانی شہید کیے جا چکے ہیں ۔ 36لاکھ ایرانی گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ مگر شاباش دینی چاہیے دلیر ایرانی حکام اور ایرانی عوام کو کہ پوری ہمت کے ساتھ جارح و قاہر قوتوں کے خلاف ڈٹے ہُوئے ہیں۔ ایرانی افواج و اسٹیبلشمنٹ نے آبنائے ہرمز کی شہ رَگ پکڑ کر پاکستان سمیت امریکا و یورپ اور عالمِ عرب کا ناطقہ بند کر رکھا ہے ۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے (سابق) سربراہ ، علی لاریجانی شہید، نے کہا تھا : ’’آبنائے ہرمز ایران کے دشمنوں پر بند رہے گی ۔‘‘

پاکستان تو ایران کے دشمنوں میں سے نہیں ہے ۔ الحمد للہ۔ ایران کے وزیر خارجہ ( جناب عباس عراقچی) نے تو 16مارچ کو اپنے’’ ایکس‘‘ اکاؤنٹ پر حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی محبتوں اور تعاون کی تعریف بھی کی ہے اور شکریہ بھی ادا کیا ہے ۔ اِس سے قبل پچھلے سال ( جب جون میں صہیونی اسرائیل نے ایران پربے جا حملہ کیا تھا) بھی ایرانی پارلیمنٹ نے پاکستان کا تشکر کیا تھا کہ پاکستان نے کسی بھی خطرے اور کسی کی بھی ناراضی کی پروا نہ کرتے ہُوئے ایران کی زبردست حمائت کی تھی۔

پاکستان جاری پُر خطر حالات میں شاندار سفارتکاری کرتے ہُوئے مستحسن کوششوں میں ہے کہ کسی طرح امریکا اور ایران میں سفارتی اور مکالماتی تعلقات بحال ہو جائیں اور دُنیا جاری بڑے جنگی عذابوں اور مالی بحرانوں سے نجات پا جائے ؛ چنانچہ اِس پس منظر میں پاکستان اور پاکستانی عوام بجا طور پر توقعات رکھتے ہیں کہ بہادر اور غیور اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز میں اُن پاکستانی ٹینکروں کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا جو پاکستان کے لیے تیل اور گیس لا رہے ہیں ۔

ہم یہ عید کیسے منائیں جب حملہ آور صہیونی اسرائیل و امریکا کے ہاتھوں ہمارے ایرانی اسلامی بھائیوں کا دن رات خون بہایا جا رہا ہو ۔ جب ایران کے چپے چپے پر آتش و آہن کی بارش ہو رہی ہو ۔ہم یہ عید خوشی ، مسرت اورامن کے ساتھ کیسے منا سکتے ہیں جب خلیجی ریاستیں جنگ کے مہیب سایوں میں اپنا امن و چَین کھو چکی ہیں ۔ لیکن ہمیں دینی فریضہ سمجھ کر عید الفطر تو بہرحال منانی ہی ہے۔یہ عید ایسے حالات میں پاکستانیوں پر طلوع ہُوئی ہے جب نئی مہنگائی کے شکنجے نے سارے پاکستانیوں کو بے بسی اور بے کسی کے آہنی چنگل میں جکڑ رکھا ہے ۔

جب پٹرول ، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں رُوح فرسا اور کمر شکن اضافہ ہو چکا ہے ۔ جب خورو نوش اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کا گراف بے تحاشہ بلند ہو چکا ہے اور اِس گراف کے نیچے آنے کی کوئی صورت و شکل سامنے نہیں آ رہی ۔ بلکہ یہ ہوشربا خبریں گردش میں ہیں کہ ابھی پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا ۔ مطلب غریب اور چند نوالوں کے محتاج عوام کی محتاجیاں اور عسرتیں مزید قیامت خیز ہونے والی ہیں ۔ ایسے مایوس کن حالات میں پاکستانی عید منائیں بھی تو بھلا کیسے ؟

 عید تو خوشیوں اور مسرتوں کا نام ہے ،مگر جب جیب مطلوبہ روپوں سے خالی ہو ، جب ہاتھ تہی ہو گئے ہوں تو کیسی عید ؟محدود سی تنخواہ اور مزدوری پانے والے بھی عید پر اپنے بچوں کو نئے کپڑے اور جوتے خرید کر دینا چاہتے ہیں ۔ مگر بازار میں آسمان سے لگی قیمتیں دیکھ کر دل تھام کر اور نظریں جھکا کر رہ جاتے ہیں۔ مایوسیوں اور دل گرفتگی کی کوئی حد نہیں ہے۔دوسری طرف وطنِ عزیز کے اعلیٰ سرکاری مراعات یافتہ طبقات ، اعلیٰ ترین جملہ سرکاری افسران و بیوروکریسی ، خود ساختہ اشرافیہ اور بے مہار کاروباری طبقات کو دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ اکثریتی عوام کے دلوں اور دماغوں پر مہنگائی اور گرانی کی جو بجلیاں گررہی ہیں۔

 اِن سے اِن طبقات کا کوئی تعلق ہے نہ کوئی واسطہ اورنہ ہی کوئی سروکار۔ہر محلے، ہر گلی ،ہر شہر میں کئی سماجی خلیجیں جنم لے چکی ہیں ۔ محروم و محتاج تر ہوتے طبقات میں غصہ بڑھ رہا ہے ۔ سماجی پریشر کُکرمیں بھاپ روز افزوں ہے ۔ مراعات یافتہ سرکاری طبقات اور سرکاری اشرافیہ کے اللے تللے دیکھ کر عوام کئی سوال پوچھنا چاہتے ہیں ۔ مگر حکمران قوانین کا سہارا لے کر عوام کو ڈرا رہے ہیں : خبردار ، کوئی سوال مت پوچھنا ، وگرنہ دَھر لیے جاؤ گے !وفاقی وزیر قانون اور پنجاب کی ایک سینئر وزیر نے ابھی اگلے روز ہی ہم سب کو متنبہ کیا ہے ۔ شاد لکھنوی نے کہا تھا:نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے /گھٹ کے مر جاؤں یہ مرضی مرے صیاد کی ہے !!





Source link

Continue Reading

Trending