Connect with us

Today News

صدقۂ فطر کی فضیلت – ایکسپریس اردو

Published

on


صدقۂ فطر ادا کرنے سے جہاں ایک شرعی حکم کو پورا کرنے کا ثواب ملتا ہے وہاں اس کے کئی اور فائدے بھی ہیں، جیسے صدقۂ فطر روزوں کو پاک صاف کرنے کا ذریعہ ہے۔

روزے کی حالت میں جو فضول یا بیہودہ باتیں زبان سے نکلتی ہیں اس فطرانے کی ادائی سے روزے ان چیزوں سے پاک ہوکر اﷲ تعالی کی بارگاہ میں ایسے مقبول ہوجاتے ہیں کہ ان کی قبولیت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ اسی طرح صدقۂ فطر سے عید کے دن ناداروں اور مسکینوں کی خوراک و پوشاک کا انتظام ہوجاتا ہے اور عید کی خوشیوں میں ان کو بھی شامل کر لیا جاتا ہے۔ اس کی ادائی سے اﷲ تعالیٰ مال اور رزق میں برکت اور کام یابی عطا فرماتے ہیں۔ اس لیے بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ اگر مسئلہ کی رُو سے کسی پر صدقۂ فطر واجب نہ بھی ہو تو اسے بھی صدقۂ فطر کے ٖفضائل اور فوائد کو سامنے رکھ کر ادا کرلینا چاہیے۔

صدقہ فطر کس پر واجب ہے اور کن افراد کی طرف سے واجب ہے۔۔۔ ؟

ہر وہ مسلمان جس کی ملکیت میں پانچ چیزوں (سونا، چاندی، نقد رقم، مال تجارت اور ضرورت سے زاید تمام اشیاء) میں سے کوئی ایک یا ان پانچوں کا مجموعہ ساڑھے باون تولا چاندی کی قیمت کے بہ قدر ہو جائے، خواہ اس نصاب پر پورا سال گزرا ہو یا نہ گزرا ہو، تو اس پر اپنی طرف سے اور زیر کفالت نابالغ بچوں کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے اور ایسے شخص کے لیے جو اس مذکورہ نصاب کا مالک ہو زکوٰۃ، صدقۂ فطر اور صدقات واجبہ لینا جائز نہیں۔

٭ اگر باپ نہ ہو یا تنگ دست ہو تو دادا باپ کے قائم مقام ہوگا یعنی اس پر واجب ہوگا کہ اپنے نابالغ پوتے اور پوتیوں کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرے، اگر نابالغ پوتے اور پوتیاں مال دار نہ ہوں اور اگر وہ مال دار ہوں تو ان کے مال سے ادا کرے گا۔

٭ مرد کے ذمے نابالغ اولاد کے علاوہ کسی اور رشتے دار مثلا بیوی، بالغ اولاد، بہن، بھائی غرض کسی بھی دوسرے رشتے دار کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب نہیں اگرچہ یہ اس کے زیر کفالت ہوں مثلا چھوٹے بھائی، بہن وغیرہ، البتہ بالغ اولاد اور بیوی کا فطرانہ ان سے اجازت لیے بغیر ادا کر دیا تو ادا ہو جائے گا بہ شرطے کہ بالغ اولاد اس کے عیال میں ہو۔

٭ اگر عورت خود صاحب نصاب ہو (جو کہ عموماً زیورات وغیرہ کی وجہ سے ہوتی ہے چاہے زیورات استعمال میں ہوں یا نہ ہوں) تو صدقۂ فطر کی ادائی کی خود ذمے دار ہے شوہر کے ذمے لازم نہیں، تاہم اگر شوہر بیوی کی طرف سے ادا کرے تو صدقۂ فطر ادا ہو جائے گا اور اگر عورت نصاب کی مالک نہیں تو اس پر صدقۂ فطر واجب نہیں۔

٭ اگر کوئی مقروض ہو تو ان پانچوں قسم کے مال کی قیمت لگائے پھر اس میں سے قرض کی رقم نکال کر دیکھے اگر بقیہ رقم مذکورہ نصاب کے برابر ہے تو صدقۂ فطر واجب ہوگا ورنہ واجب نہیں اور جو قرض دوسروں پر ہو اور اس کے ملنے کی امید ہو اسے بھی نقد رقم میں شمار کیا جائے گا۔

٭ جن لوگوں نے سفر یا بیماری کی وجہ سے یا ویسے ہی غفلت کی وجہ سے روزے نہیں رکھے، صدقۂ فطر ان پر بھی واجب ہے اگر وہ صاحب نصاب ہیں۔

٭ جو بچہ عید کی رات صبح صادق سے پہلے پیدا ہوا اس کا صدقۂ فطر لازم ہے اور جو عید کی رات صبح صادق سے پہلے مرگیا تو اس کا صدقۂ فطر لازم نہیں۔

٭ ماں کے ذمے بچوں کا صدقۂ فطر لازم نہیں، خواہ ماں مال دار ہی کیوں نہ ہو۔

٭ صدقۂ فطر کے واجب ہونے کا وقت اگرچہ عید کے دن کا صبح صادق ہے لیکن اگر کوئی اس سے پہلے رمضان میں پیشگی دیدے تب بھی ادا ہو جاتا ہے۔ اگر کسی نے نہ رمضان میں ادا کیا اور نہ عید کے دن تو بعد میں بھی اد ا کرنا ذمے میں واجب رہے گا معاف نہیں ہوگا خواہ کتنا ہی زمانہ گزر جائے، عمر بھر یہ واجب اس کے ذمہ میں رہے گا اور عید کے دن سے تاخیر کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔ تاخیر ہونے پر استغفار کرنا چاہیے۔

صدقہ فطر کن چیزوں سے ادا ہوگا اور ان کی واجب مقدار:

احادیث میں صدقۂ فطر وزن کے اعتبار سے چار اقسام کی چیزوں سے ادا کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ ایک کشمش سے، دوسرے چھوارے سے، تیسرے جو سے اور چوتھے گندم سے۔ ان میں سے کسی بھی ایک چیز کو بعینہ یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت کو ادا کرنا درست ہے۔ گندم میں صدقہ فطر کی مقدار پونے دو کلو گندم (احتیاطاً دو کلو گندم) یا اس کی قیمت ہے اور جو، کشمش اور کھجور کے ان تینوں کے اعتبار سے ساڑھے تین کلو یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت۔ مذکورہ چار اشیاء میں سے جس چیز کے ساتھ کوئی صدقۂ فطر اد اکرنا چاہتا ہے اور وہ چیز اعلی اور ادنی ہونے کے لحاظ سے مختلف مالیت کی ہے تو بہتر یہ ہے کہ اعلی یا درمیانے درجے کی چیز یا اس کی قیمت کے اعتبار سے صدقۂ فطر ادا کرے لیکن اگر ادنی قسم کی قیمت کے اعتبار سے ادا کیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ (فتاوٰ ی محمودیہ)

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صدقۂ فطر صرف گندم کے ساتھ خاص ہے۔ باقی تین چیزوں کا علم بھی نہیں ہوتا حالاں کہ جن لوگوں کو اﷲ تعالٰی نے وسعت اور توفیق دی ہے ان کو چاہیے کہ وہ ان چار چیزوں میں سے جو چیز مالیت کے اعتبار سے سب سے اعلی ہو اس کے ساتھ صدقہ فطر ادا کریں تاکہ غریب کی حاجت بھی پوری ہو اور اس کو خوب ثواب حاصل بھی ہو۔

٭ اگر کوئی شخص قیمت سے صدقۂ فطر ادا کرنا چاہتا ہے تو جہاں وہ شخص رہتا ہے وہیں کے اعتبار سے قیمت کا لحاظ ہوگا اور اگر وہ خود کسی اور جگہ رہتا ہے اور وہ کسی دوسری جگہ اس رقم کو بھیجنا چاہتا ہے اور دونوں جگہوں کی قیمت میں فرق ہے تو افضل یہ ہے کہ جس جگہ کی قیمت کا معیار زیادہ ہو اس لحاظ سے ادا کیا جائے اگرچہ اس بات کی بھی گنجائش ہے کہ وہ کسی بھی مقام کے اعتبار سے ادائی کر دے۔ (کمافی امداد الاحکام، فتاوٰی محمودیہ)

 صدقۂ فطر کن لوگوں کو دیا جائے؟

صدقۂ فطر کو اس کے صحیح شرعی مصرف میں لگانا صدقۂ فطر ادا کرنے والے کی شرعی ذمے داری ہے۔ صدقۂ فطر صرف ان غریبوں کو دیا جاسکتا ہے جنہیں زکوٰۃ دینا درست ہو یعنی جس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے برابر سونا، چاندی، نقدی رقم، مال تجارت، اور ضرورت سے زیادہ سامان نہ ہو تو اسے صدقۂ فطر دیا جاسکتا ہے۔

٭ جن لوگوں سے یہ پیدا ہوا جیسے ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی اور اسی طرح جو اس کی اولاد ہیں جیسے بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی وغیرہ ان کو صدقہ فطر دینا جائز نہیں، اسی طرح بیوی شوہر کو اور شوہر بیوی کو نہیں دے سکتا۔ ان کے علاوہ باقی سب رشتہ داروں کو دیا جاسکتا ہے جب کہ وہ مستحق ہوں۔

٭ ایک آدمی کا صدقۂ فطر کئی غریبوں کو اور کئی آدمیوں کا فطرانہ ایک غریب کو دینا جائز ہے۔

٭ مستحق غریب رشتے دار کو دینے کا دہرا ثواب ملتا ہے ایک صلۂ رحمی کا اور دوسرا ادائی کا۔

٭ زکوٰۃ اور دوسرے واجبات کی طرح اس صدقے کے ادا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کسی غریب کو مالکانہ طور پر دیا جائے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی میں بارش، بیشتر علاقوں میں بجلی منقطع

Published

on



شہر میں دوبارہ بارش کا سلسلہ شروع ہوا اور اس دوران بیشتر علاقوں میں بجلی بند ہوگئی اور کے-الیکٹرک کے 200 سے زائد فیڈرز بند ہوگئے ہیں۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں بادلوں کی گھن گرج دوسرے روز بھی ہوئی اور مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی۔

شہر کے علاقے اولڈ سٹی ایریا کے مختلف علاقوں میں ہلکی بارش ہوئی، ماڑی پور میں ژالہ باری، لیاری، جمشید روڈ، مارٹن کوارٹرز، کلیٹن روڈ، پی آئی بی و اطراف میں بوندا باندی گھن گرج کے ساتھ بارش ہوئی۔

اسی طرح کلفٹن اور صدر میں تیز بارش کا سلسلہ شروع ہوا جبکہ شہر میں بارش کے دوران ہواؤں کی رفتار معتدل ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا سلسلہ بدستور جاری رہنے کا امکان ہے تاہم جمعے کو بیشتروقت مطلع صاف رہنے اور دھوپ نکلنے کی توقع ہے۔

محکمہ موسمیات نے بتایا کہ عیدالفطرکے پہلے روز(21 مارچ) کوبارش کی شدت میں قدرے اضافہ ہوسکتا ہے اور اس دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 27 سے 29 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے جبکہ کم سے کم درجہ حرارت 18 سے 21 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہ سکتا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ شہر میں جنوب مغرب اور مغرب کی سمت سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے شہریوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی بند

شہر میں بارش کے دوران کے-الیکٹرک کا ڈسٹری بیوشن نظام بری طرح متاثر ہوگیا اور کے-الیکٹرک کے 200 سے زائد فیڈرز بند ہو گئےاور بیشتر علاقوں میں بجلی بند ہوگئی اور اس حوالے سے بتایا گیا کہ پی ایم ٹی اور انڈر گراونڈ کیبل میں پانی جانے سے بجلی بند ہوگئی ہے۔

کراچی کے علاقے بلدیہ میں 30 ،ڈی ایچ اے میں 10، کلفٹن میں 11، انڈسٹریل زون ون میں 16، انڈسٹریل زون ٹو میں 21، گلستان جوہر میں 36، کورنگی میں 18، اورنگی میں 12، سوسائٹی میں 17، سرجانی میں 21 اور اوتھل میں 4 فیڈرز ٹرپ کر گئے ہیں۔

اس کے علاوہ نارتھ کراچی، صدر، اولڈ سٹی ایریا، سوسائٹی، شاہ فیصل کالونی، لیاقت آباد، کاٹھور، گڈاپ، نارتھ ناظم آباد، نیو کراچیِ، شادمان ٹاؤن، کورنگی بلدیہ، ڈی ایچ اے، گلستان جوہر، سرجانی، ملیر، سعود آباد، لانڈھی، رزاق آباد، سہراب گوٹھ، سائٹ، اختر کالونی،کشمیر کالونی، پاپوش نگر، قصبہ کالونی، نصرت بھٹو کالونی، خواجہ اجمیر نگری، موسی کالونی، جیکب لائنز، شیریں جناح کالونی، پاک کالونی، گلبہار، گلشن اقبال، احسن آباد اور بنارس میں بجلی بند ہو گئی۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

شمالی کوریا؛ کم جونگ اُن کی جماعت 99.93 فیصد ووٹ لیکر ایک بار پھر کامیاب

Published

on


شمالی کوریا میں انتخابی عمل مکمل ہوگیا جس میں حکمراں جماعت نے یک طرفہ طور پر بڑی کامیابی حاصل کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کی حکومت کے سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملک کی حکمراں جماعت اور اس کے اتحادیوں نے تقریباً تمام ہی نشستیں اپنے نام کر لیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر ووٹوں کی شرح ننانوے فیصد سے بھی زائد رہی جب کہ پارلیمان کے تمام ارکان بلا مقابلہ یا محدود مقابلے کے ذریعے منتخب قرار دیے گئے۔

انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ بھی غیر معمولی حد تک زیادہ ظاہر کیا گیا، جسے سرکاری ذرائع قومی اتحاد اور عوامی حمایت کی علامت قرار دیتے ہیں۔ تاہم بین الاقوامی مبصرین اور ماہرین اس قسم کے اعداد و شمار کو روایتی جمہوری معیار سے ہٹ کر دیکھتے ہیں۔

دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ معمولی تعداد میں ووٹ مخالف امیدواروں کے خلاف ڈالے جانے کا ذکر کیا گیا جسے بعض تجزیہ کار انتخابی عمل کو بظاہر متنوع دکھانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔

نئی منتخب ہونے والی سپریم پیپلز اسمبلی کا اجلاس بائیس مارچ کو طلب کیا گیا ہے جہاں اہم آئینی اور پالیسی معاملات زیر غور آئیں گے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

آپریشن غضب للحق اور خطے کی بدلتی حقیقتیں

Published

on


حکومت نے عیدالفطر کے پیش نظر اپنے طور پر اور برادر اسلامی ممالک کی درخواست پر افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق میں 5 روز تک عارضی طور پر وقفہ کردیا ہے۔ دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ہمارا افغان شہریوں سے کوئی مسئلہ نہیں، جنگ کا خاتمہ صرف ایک ہی صورت ممکن ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی جائے۔

حکومتِ پاکستان کی جانب سے عیدالفطر کے پیش نظر افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ’’غضب للحق‘‘ میں پانچ روزہ عارضی وقفے کا اعلان ایک ایسا فیصلہ ہے جو بیک وقت کئی سطحوں پر غور و فکر کا متقاضی ہے۔ پاکستان نے اس وقفے کا اعلان نہ صرف اپنے طور پر کیا بلکہ برادر اسلامی ممالک کی درخواست کو بھی مدنظر رکھا، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان علاقائی اور اسلامی دنیا میں اپنی ذمے داریوں کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ یہ اعلان دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر ایک فعال اور پیشگی حکمت عملی اختیار کر چکا ہے۔

ماضی میں کئی بار پاکستان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، مگر اس کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ اس بار ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ بیانات اس پالیسی کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی مسئلہ نہیں، ایک اہم نکتہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ درحقیقت پاکستان کی پالیسی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ افغان عوام کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، تاہم مسئلہ ان عناصر کا ہے جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا سبب بنا ہوا ہے۔

پاکستان کی جانب سے صرف ایک مطالبہ کیا گیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ یہ مطالبہ انتہائی معقول ہے جس پر افغانستان حکومت کو توجہ دینی چاہیے۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اس حوالے سے افغان حکومت کی جانب سے خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو افغان طالبان کو اس معاملے میں واضح اور موثر اقدامات کرنے سے روکتے ہیں؟ اس کا ایک ممکنہ جواب یہ ہو سکتا ہے کہ طالبان حکومت خود اندرونی اور بیرونی پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ہے ، دوسری طرف مختلف عسکری گروہوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی ایک حقیقت ہیں۔

تاہم یہ صورتحال زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتی، کیونکہ ایک ریاست کے طور پر افغانستان کو اپنی سرزمین کے پرامن استعمال کی ذمے داری لینا ہوگی۔کابل میں عسکری اور ڈرون اسٹوریج کے اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا نیٹ ورک نہ صرف منظم ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے بھی لیس ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی پالیسی کو مزید مؤثر بنائے اور ایسے خطرات کا بروقت سدباب کرے۔ افغان طالبان کی جانب سے ان دعوؤں کی تردید اپنی جگہ، مگر پاکستان کا یہ کہنا کہ اس کے پاس ثبوت موجود ہیں، معاملے کو واضح کر دیتا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کی آماج گاہ بن چکا ہے ۔اس پورے تناظر میں بھارت کا کردار بھی زیر بحث آتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے میں بھارت کا ہاتھ ہے۔

یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک صورتحال ہے۔ بھارت کا یہ گھناؤنا کردار نیا نہیں، بلکہ ماضی میں بھی ایسے شواہد سامنے آتے رہے ہیں جو اس کے تخریبی کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس تناظر میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزامات عائد کرنا ایک واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ افغان طالبان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک مستحکم اور پرامن افغانستان ہی ان کے اپنے مفاد میں ہے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

عیدالفطر کے موقع پر جنگ بندی کا یہ فیصلہ اگرچہ وقتی ہے، مگر اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا یہ فیصلہ ایک متوازن اور سوچ سمجھ کر اٹھایا گیا قدم ہے جو نہ صرف اس کی داخلی سلامتی بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا دیگر فریقین بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ اقدام ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، بصورت دیگر یہ محض ایک عارضی وقفہ بن کر رہ جائے گا جس کے بعد پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنا پڑے گی۔





Source link

Continue Reading

Trending