Today News
سرخ لکیر – ایکسپریس اردو
پاکستان اور افغانستان اپنی طویل تہذیبی روایات کی تاریخ رکھتے ہیں۔ پشتون قوم دونوں ممالک کی سرحد کے آر پار برسوں سے آباد ہے۔ ان کی ثقافت، لباس، موسیقی اور جرگہ جیسی روایات بھی یکساں ہیں۔ ایک طویل مشترک تاریخ اور مشترکہ مفادات رکھنے کے باوجود بدقسمتی سے یہ دونوں ممالک گزشتہ تین چار دہائیوں سے نہ صرف یہ کہ حقیقی دوستانہ اور برادرانہ مراسم کے پرخلوص جذبے سے عاری ہوتے جا رہے ہیں بلکہ کبھی کبھی تو پاک افغان تعلقات کشیدگی و دشمنی کی انتہا کو چھونے لگتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف افغانستان کی دشمنی اور مخالفت کا آغاز پہلی مرتبہ اقوام متحدہ میں 30 ستمبر 1947 کے اجلاس میں کیا گیا جب افغان مندوب حسین عزیز نے پاکستان کی اقوام متحدہ میں رکنیت کے حوالے سے واحد مخالف ووٹ ڈالا۔ جولائی 1949 میں افغان پارلیمنٹ نے یہ اعلان کر دیا کہ ’’وہ کسی فرضی لائن کو خواہ وہ ڈیورنڈ لائن یا کوئی اور تسلیم نہیں کرتے۔‘‘ اس پروپیگنڈے کو افغان میڈیا نے خوب اچھالا اور قبائلیوں کو پختونستان کے نام پر انقلاب برپا کرنے پر خوب اکسایا۔ 17 جولائی 1977 کو جب سردار داؤد نے افغانستان کی عنان حکومت سنبھالی تو اپنی پہلی ہی تقریر میں پاکستان کے ساتھ اختلافات کو موضوع بنایا ساتھ ہی پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھی مداخلت شروع کر دی۔ اس نے صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے قبائلیوں کو پاکستان کے خلاف بغاوت پر اکسانا شروع کر دیا۔ جب اسے کامیابی نہ ملی تو اس نے دیگر مسلمان ملکوں کے سربراہوں کو خطوط لکھے کہ وہ پاکستان کے معاملات میں مداخلت کریں۔
افغانستان کی حکومتوں کے مسلسل معاندانہ رویے سے پاکستان میں اس تصور اور سوچ کو تقویت ملی کہ افغانستان کی تواتر کے ساتھ پاکستان کی مخالفت درحقیقت بھارت کی اس دشمنی پر مبنی ہے جس کے تحت وہ (بھارت) کشمیر اور شمالی علاقہ جات حاصل کر کے افغانستان کے ساتھ سرحدوں کا الحاق چاہتا ہے جیساکہ آین اسٹیفن نے نشان دہی کی ہے کہ اگر قیام پاکستان کے وقت ہی بھارت اپنی اسکیموں کے نتیجے میں کشمیر اور شمالی علاقہ جات پر اور افغانستان پختون علاقوں پر قابض ہونے میں کامیاب ہو جاتا تو پاکستان کو وجود میں آتے ہی ختم کر دیا جاتا کیوں کہ افغانستان اور بھارت اسے دونوں طرف سے چمٹے کی طرح پکڑ کر ختم کر دیتے۔ آپ غور کیجیے کہ پاکستان کے ساتھ افغانستان کی دشمنی کی بنیاد شمالی علاقوں پر قبضے کی خواہش نظر آتی ہے۔افغانستان کے بغض و عناد کے باوجود پاکستان برادر اسلامی ملک ہونے کے ناتے تعلقات کو نبھانے کے لیے کوشاں رہا۔ دسمبر 1979 میں افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد لاکھوں کی تعداد میں افغان باشندے ہجرت کرکے پاکستان میں پناہ لینے داخل ہوئے تو انھیں اسلامی روایات کے مطابق مہمان بنایا گیا۔ آج بھی لاکھوں افغان مہاجرین وطن عزیز میں موجود ہیں۔ افغان مہاجرین کی آمد سے ملک میں ہتھیاروں سے مسلح رہنے کا کلچر بھی در آیا اور آہستہ آہستہ کلاشنکوف کلچر پورے ملک میں پھیلنے لگا جس نے بدامنی کو جنم دیا۔
امریکا میں ہونے والے 9/11 کے سانحے کے بعد دہشت گردی کے خلاف امریکا کی سربراہی میں ایک نئی جنگ کا آغاز ہوا تو دھونس و دھمکیوں کے ساتھ پاکستان کو اس عالمی جنگ کا فرنٹ لائن اتحادی بننا پڑا۔ امریکا تقریباً 20 سال افغانستان میں جنگ لڑنے کے بعد اپنے دامن میں ناکامیاں سمیٹے افغانستان کی سرزمین سے رخصت ہوا۔ 29 فروری 2020 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان جو امن معاہدہ ہوا تھا، اس میں یہ طے پایا تھا کہ طالبان حکومت اس بات کی سختی سے پابند رہے گی کہ وہ افغان سرزمین القاعدہ یا کسی بھی دوسری شدت پسند تنظیم کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ طالبان حکومت دوحہ امن معاہدے کے تحت اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کا گڑھ بننے سے روکنے میں ناکام رہے بلکہ ایک خاص مفہوم میں دیکھا جائے تو بھارت کی مودی سرکار کی پاکستان دشمن پالیسی کی سہولت کاری کرتے ہوئے افغان سرزمین کو دہشت گرد عناصر کی آماج گاہ بنا دیا۔ پاکستان نے اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر بار بار طالبان قیادت کو باور کرایا کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد عناصر سرحد پار کرکے پاکستان دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں، لہٰذا طالبان قیادت اس فتنہ الخوارج کو روکے، ساتھ ہی ہندوستان کی پراکسی فتنہ الہندوستان کی بیخ کنی کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرے۔ اعلیٰ ترین سطح پر تمام تر سفارتی کوششوں میں ناکامی کے بعد پاکستان نے چار و ناچار افغانستان کے خلاف آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا جو تاحال جاری ہے۔ پاکستان کی بہادر مسلح افواج افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں، ٹریننگ کیمپوں اور ان کے بارود کے ذخائر کو نشانہ بنارہی ہے۔ سیکڑوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ صدر زرداری نے درست کہا کہ طالبان نے ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستان کی شہری آبادی کو نشانہ بنا کر ’’سرخ لکیر‘‘ عبور کر لی ہے، نتائج بھگتنا ہوں گے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی دو ٹوک لفظوں میں کہہ چکے ہیں کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے تک آپریشن غضب للحق جاری رہے گا۔ دوسری جانب چین نے دونوں ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم کریں۔ خطے میں امن کے لیے چین اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ چینی قیادت کو طالبان پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ دوحہ امن معاہدے کی پاسداری کرے کہیں ایسا نہ ہو کہ ’’سرخ لکیر‘‘ مزید گہری ہو جائے۔
Today News
پاکستان میں دہشت گردی کے لیے ٹھکانے فراہم کرنے پر افغان طالبان کیخلاف عوام کا شدید ردعمل
پاکستان کے غیور عوام نے پاک فوج کیخلاف افغان طالبان رجیم کے گمراہ کن پروپیگنڈا کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
پاکستان کے شہریوں کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خاتمے یا حوالگی کے حوالے سے پاکستان کی ڈیمانڈ بالکل جائز ہے۔ افغان طالبان کی سرپرستی میں فتنہ الخوارج پاکستان میں معصوم شہریوں کو مساجد میں شہید کرتے ہیں۔
شہری کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کابل میں اسلحہ کے ڈیپو کو تباہ کیا یہی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال ہوتا تھا، پاک فوج کا حق ہے کہ پاکستان کیخلاف دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال ہونے والے بارودی ڈیپو کو تباہ کرے۔
پاکستانی عوام نے کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ نہ دیں یا ہمارے حوالے کریں، افغان طالبان یہ نہیں کریں گے تو پاک فوج بھرپور کارروائی کرے گی۔ دہشت گردی کا فروغ کسی ملک کے مفاد میں نہیں ہے افغان طالبان کو چاہیے کہ امن کیلئے پاکستان کی شرائط پر عمل کرے۔
شہری نے کہا کہ افغان طالبان کو پتہ ہونا چاہیے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور ہم ہرگز کمزور ملک نہیں ہیں۔
Today News
کاسا۔1000منصوبے میں پاکستان کی اہم اقتصادی کامیابی، 27 ملین ڈالر کی نمایاں بچت
اسلام آباد:
کاسا۔1000 منصوبے میں پاکستان کو اہم اقتصادی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جس میں 27 ملین ڈالر کی نمایاں بچت ہوئی ہے۔
وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سویڈن میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں پاکستان نے کاسا-1000 منصوبے کے کنٹریکٹر کے تخمینہ شدہ اخراجات میں کمی لا کر 27 ملین ڈالر سے زائد کی بچت کی ہے۔
بیان کے مطابق سویڈن میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کے مفادات کا مؤثر تحفظ کیا گیا۔ پہلے پاکستان کے لیے کیئر اینڈ کسٹڈی کی لاگت 32.9 ملین ڈالر تھی، اب یہ 9 ملین ڈالر ہو کر پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تقسیم ہوگی، جس سے پاکستان کو نمایاں مالی بچت حاصل ہوگی۔
افغانستان کی صورتحال کے باعث تاخیر کا شکار کاسا-1000 منصوبے کی نئی ٹائم لائن کے مطابق ایچ وی ڈی سی نظام کی تکمیل ستمبر 2027 تک متوقع ہے۔ حکام نے اہم تنصیبات کی عبوری حفاظت اور فعالیت برقرار رکھنے اور فروری 2028 تک توسیع پر اتفاق کیا ہے۔
Today News
خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں اور اضلاع میں جمعے کو عید منانے کا اعلان
مرکزی اور مقامی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے باوجود خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں اور اضلاع میں 20 مارچ کو عید الفطر منانے کے اعلانات کردیے گئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق مرکزی اور مقامی رویت ہلال کمیٹی کی طرف سے عید الفطر 21 مارچ کو ہو جانے کے اعلان کے باوجود خیبر پختون کے بعض علاقوں اضلاع کی مساجد میں آج عید الفطر منانے کے اعلانات ہو گئے ہیں۔
جس کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع مردان اس کے متصل علاقوں، بنوں، باجوڑ اور پشاور کے حیات آباد، سفید سنگ میں جمعے کو عید منائی جائے گی۔
مرکزی اور مقامی کمیٹی کے اعلانات کے مطابق پشاور میں آج 30 واں روزہ مکمل ہو جائے گا۔
قبل ازیں مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے رات ساڑھے 8 بجے عید 21 مارچ بروز ہفتے کا اعلان کیا جبکے مقامی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس رات ساڑھے 10 بجے تک جاری رہا۔
مقامی کمیٹی کے اجلاس میں مختلف علاقوں سے چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہوئی تھیں جس کا قائمقام چیئرمین کمیٹی مولانا خیرالبشر نے شہادتوں کا شرعی جائزہ لیا اور ان شہادتوں کو غیر شرعی قرار دیا۔
اس دوران مردان اور سے اس متصل علاقوں میں گواہوں کی روشنی میں عید الفطر کا اعلان کیا گیا۔اس کے ساتھ پشاور ہی کے بعض مضافاتی علاقوں میں بھی چاند کی رویت کا اعلان مقامی مسجد کی جانب سے کردیا گیا۔
واضح رہے کہ پشاور کے جن علاقوں میں عید اور روزہ سعودی عرب کیساتھ ہوتا ہے وہاں پر چاند کا اعلان کیا گیا ہے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Magazines5 days ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
‘There will be nerves’: India face New Zealand for T20 World Cup glory – Sport
-
Magazines6 days ago
Story time: The price of a typo
-
Sports1 week ago
Samson rises from year of struggle to become India’s World Cup hero – Sport
-
Sports2 weeks ago
Tottenham relegation fears deepen with home loss to Crystal Palace – Sport
-
Sports1 week ago
Trio set for debuts as Pakistan commence 2027 preparations with Bangladesh ODIs – Sport
-
Magazines6 days ago
STORY TIME: CLEARER THAN BEFORE – Newspaper