Connect with us

Today News

آسمان دن کو نیلا اور رات کو ڈارک کیوں نظر آتا ہے

Published

on


آسمان کا نیلا نظر آنا در اصل روشنی کے بکھراؤ Scatteringکا نتیجہ ہے۔اس مظہر کو سائنسی طور پرRayleigh scatteringکہتے ہیں۔ اس مظہر کو یہ سائنسی نام اس وجہ سے دیا گیا ہے کیونکہ اس کی وضاحت برطانوی سائنس دانRayleighنے 19ویں صدی میں کی تھی۔اس عمل کو سمجھنے کے لیے سورج کی روشنی کو سمجھنا ہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ زمین کے ماحول کی جانکاری بھی بہت اہم ہے۔

سورج کی روشنی بظاہر سفید دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت میں یہ مختلف رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے۔آسمان پرجب کبھی قوسِ قزح نمودار ہو تو بکھرے یہ رنگ دیکھے جا سکتے ہیں ۔اسی طرح کسی کھڑکی یا سوراخ سے اندر آنے والی سورج کی روشنی کے راستے میں پرزم Prismرکھ دیا جائے تب بھی قوسِ قزح والی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ان رنگوں میں سرخ، نارنجی، پیلا، سبز،نیلا اور بنفشی شامل ہیں۔ یہ تمام رنگ مل کر سفید روشنی بناتے ہیں۔اگر آپ ان رنگوں کے پینٹ کو خوب ملائیں تب بھی سفید پینٹ بن جائے گا۔ان رنگوں میں سے ہر رنگ کی موجی لمبائیWavelengthمختلف ہوتی ہے۔سرخ رنگ کی ویو لنتھ سب سے زیادہ،جب کہ نیلے اور بنفشی رنگ کی ویو لنتھ کم ہوتی ہے۔

زمین کے گرد گیسوں کا ایک غلاف موجود ہے جسےEarth Atmosphereکہا جاتا ہے۔ اس میں بنیادی طور پر نائٹروجن،آکسیجن،گرد و غبار اور پانی کے بخارات وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ جب سورج کی روشنی اس ماحول،اس زمینی ماحول میں داخل ہوتی ہے تو یہ ان گیسوں اور ذراتDust particlesسے ٹکرا جاتی ہے۔

جب سورج کی روشنی فضا کے مالیکیولز سے ٹکراتی ہے تو مختلف رنگ مختلف مقدار میں بکھرتے ہیں۔  Rayleigh scatteringکے اصول کے مطابق کم موجی لمبائیWavelength والی روشنی زیادہ بکھرتی ہے جب کہ زیادہ موجی لمبائی والی روشنی نسبتاً کم بکھرتی ہے۔چونکہ نیلے اور بنفشی رنگ کی موجی لمبائی wavelengthکم ہوتی ہے اس لیے یہ رنگ خاص کر نیلا رنگ بہت زیادہ بکھرتا ہے۔اب سوال یہ تھا کہ

آسمان نیلا کیوں دکھائی دیتا ہے۔اگرچہ بنفشی رنگ کی موجی لمبائی سب سے کم ہے اور وہ سب سے زیادہ بکھرتا ہے لیکن آسمان بنفشی نہیں بلکہ نیلا نظر آتا ہے کیونکہ انسانی آنکھ نیلے رنگ کے لیے زیادہ حساس ہے۔بنفشی رنگ کا ایک بڑا حصہ زمین کے ماحول میں جذب ہو جاتا ہے۔سورج کی روشنی میں نیلے رنگ کی مقدار نسبتاً زیادہ محسوس ہوتی ہے،اس لیے ہر سمت نیلی روشنی دکھائی دیتی ہے اور اسی لیے آسمان دن کے وقت نیلا نظر آتا ہے۔

ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت آسمان سرخی مائل کیوں ہوتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہصبح اور شام کے وقت سورج افق کے قریب ہوتا ہے۔اس وقت سورج کی روشنی کو زمین کے ماحول میں زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ اس دوران نیلی اور بنفشی روشنی زیادہ بکھر کرراستے سے ہٹ جاتی ہے۔سرخ اور نارنجی روشنی باقی رہ جاتی ہے۔ اس وجہ سے سورج کے طلوع اور غروب کے وقت آسمان سرخی مائل دکھائی دیتا ہے۔اگر زمین کا ماحول یعنی Earth Atmosphereنہ ہو تو آسمان نیلا نظر نہیں آئے گا بلکہ بالکل سیاہ دکھائی دے گا جیسا کہ خلا میں نظر آتا ہے۔خلا میں موجود خلا بازوں کو دن کے وقت بھی آسمان سیاہ دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہاں روشنی کو بکھرنے کے لیے فضا موجود نہیں۔جس ستارے یا سیارے کے گرد Atmosphereنہیں ہوگی وہاں آسمان سیاہ ہو گا۔ابھی تک سائنسی معلومات کے مطابق یہ صرف ہماری زمین ہے جس کے گرد ایٹماس فیئر ہے۔یوں آسمان کا نیلا نظر آنا دراصل سورج کی روشنی کے زمین کے ماحول میں بکھرنے کا نتیجہ ہے نیلا رنگ کم موجی لمبائی رکھتا اور زیادہ بکھرتا ہے۔اس کے ساتھ انسانی آنکھ نیلے رنگ کے لیے زیادہ حساس ہے اس لیے گگن نیلا نظر آتا ہے۔

رات کے وقت آسمان ڈارک یعنی سیاہ کیوں دکھائی دیتا ہے۔اب آتے ہیں اس طرف کہ جو آسمان دن کے وقت سورج کی روشنی بکھرنے سے نیلگوں دکھائی پڑتا ہے وہ اندھیرا ہوتے ہی ڈارک یعنی سیاہ کیوں دکھائی دیتا ہے۔اس پر عمومی طور پر تو یہ کہا جائے گا کہ جب سورج غروب ہو جاتا ہے اور روشنی چلی جاتی ہے تو آسمان ڈارک ہو جاتا ہے۔بظاہر یہ بات ٹھیک لگے گی لیکن دراصل ایسا نہیں ہے۔سولھویں صدی عیسوی میں ایک برطانوی ماہرِ فلکیات ڈِگزDiggs نے اس پر بات کرنی شروع کی۔اس کے ساتھ کئی اور سائنس دانوں کے ذہن میں بھی یہ سوال ابھرا۔ 18ویں صدی عیسوی کے شروع میںایک جرمن ماہرِ فلکیات ہنرچ ولہم اولبرز نے باقاعدہ اس سوال کی تشکیل کی کہ آخر آسمان رات کو ڈارک کیوں نظر آتا ہے۔اس نے کہا کہ اگر کائنات لا محدود ہے اور آسمان ستاروں سے پٹا پڑا ہے تو پھر ہم جس طرف بھی نگاہ اٹھائیں گے ہماری نظر کسی نہ کسی ستارے پر جا رکنی چاہیے۔ستارے چونکہ جلتے ہوئے روشنی پیدا کر رہے ہوتے ہیں اس لیے اتنے بے شمار ستاروں سے مزین آسمان روشنی سے جگمگانہ چاہیے لیکن چونکہ ایسا نہیں ہے اس لیے لا محالہ ماننا پڑے گا کہ کائنات لا محدود نہیں ہے اور ستاروں کا پھیلاؤ ہر جگہ ایک جیسا نہیں۔آسمان کیوں ڈارک نظر آتا ہے اس مسئلے کو اولبرز کے حوالے سے اولبرز پیرا ڈاکسOlbers Paradoxکہتے ہیں۔

اس مسئلے پر مختلف سائنس دانوں نے غور کیا۔ان میں کیپلر اور اینڈمنڈ ہیلی شامل ہیں۔آخرکار اس کے حل کے سلسلے میں دو ٹھوس رائے سامنے آئیں۔ سب سے پہلے تو کائنات کی محدود عمر سامنے آتی ہے۔سب جانتے ہیں کہ آسٹرو فزکس کے ماہرین کے اندازے کے مطابق کائنات ہمیشہ سے نہیں تھی۔یہ 13.8ارب سال پہلے وجود میں آئی۔اس کا مطلب ہے کہ دور دراز ستاروںکی روشنی ابھی تک ہماری زمین تک نہیں پہنچی۔کائنات محدود ہے یا لا محدود لیکن روشنی کی رفتار ضرور محدود ہے۔روشنی کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے لیکن اس کو وسیع وعریض کائنات میں سفر کرتے ہوئے بہت وقت لگتا ہے ۔چونکہ بے شمار ستاروں کی روشنی ابھی تک ہم تک نہیں پہنچی اس لیے آسمان مکمل روشن نہیں۔دوسری وجہ کائنات کا مسلسل پھیلاؤ ہے۔مشہور فلکیاتی دور بین ہبل ٹیلی اسکوپ کے موجد Edwin Hubble نے 1929میں دریافت کیا کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔اگر قرآن کی آیات پر غور و فکر کیا جاتا تو ہبل کے بجائے دنیا کو یہ بات مسلمان بتاتے کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے یہی کچھ قرآن میں لکھا ملتا ہے۔کائنات کے پھیلاؤ کی وجہ سے کہکشائیں اور ستارے دور ہی دور ہو رہے ہیں۔ایک خاص دوری پر پہنچ کر ان سے پھوٹنے والی روشنی سرخ ہو جاتی ہے۔اس Redshiftکو عام آنکھ نہیں دیکھ سکتی بلکہ اسے دیکھنے کے لیے انفرا ریڈ دوربین کی ضرورت ہوتی ہے۔مسلسل پھیلتی کائنات میں ستاروں کی بے انتہا دوری اور عام آنکھ سے دکھائی نہ دینے کی وجہ سے بھی آسمان ڈارک دکھائی دیتا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

یوم پاکستان کی مناسبت سے پاکستانی خواتین و نوجوانوں کا قوم کے نام خصوصی پیغام 

Published

on


یوم پاکستان کے موقع پر ملک بھر کی خواتین اور نوجوانوں نے قوم کے نام عزم و ہمت سے بھرپور پیغام دیا ہے۔

اس موقع پر پاکستانی خواتین کا کہنا تھا کہ پاکستانی مائیں، بہنیں، بیٹیاں ہر میدان میں خواب دیکھنے اور انہیں پورا کرنے کا جذبہ رکھتی ہیں، پاکستان کی باہمت خواتین  نے اہم ترین کردار سے ملک کی ترقی میں اپنی اہمیت کو واضح کیا۔

خواتین کے مطابق 23 مارچ یاد دلاتا ہے کہ ملک کے قیام میں قوم کا عزم، ہمت اور قربانیاں شامل ہیں، پاکستان کی خواتین  نے ملکی ترقی کو عزم و محنت کا پیش خیمہ قرار دیا۔ خواتین نے یوم پاکستان کی مناسبت سے محنت اور حوصلے سے ملک کا مستقبل مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دوسری جانب 23 مارچ کی مناسبت سے پاکستان کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے بھی وطن سے محبت کا بھرپور اظہار کیا۔

اس موقع پر نوجوانوں نے اپنے  خصوصی پیغامات میں کہا کہ ہم اس دھرتی سے ہیں جہاں کھیت سنہری ہوتے ہیں اور وطن سے محبت خوشبو بن کر  فصلوں میں مہکتی ہے۔ ہم اس سرزمین سے ہیں جہاں دریا تاریخ سناتے ہیں اور ثقافت وقت کے ساتھ بہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس وسعت سے ہیں جہاں ہمارے حوصلے،  ارادے اور  وعدے چٹان کی طرح مضبوط ہوتے ہیں۔ ہم ان پہاڑوں سے ہیں جہاں غیرت، مہمان نوازی اور عزم ایک ساتھ ہماری روایت بن کر کھڑے ہیں۔

ایک نوجوان نے کہا کہ ہم ان بلندیوں سے ہیں جہاں برف پر بھی امید اگتی ہے اور راستے ہمت بن جاتے ہیں۔ 23 مارچ ہمیں یاد دلاتا ہے  کہ ہماری بولیاں مختلف ہیں مگر پیغام ایک ہے۔ ہماری ثقافت جدا صحیح  لیکن ہماری پہچان ،  ہمارا یقین ،ہمارا پاکستان ایک ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

وزیراعلیٰ سندھ نے عید کے موقع پر قیدیوں کو 90 روز کی معافی دے دی

Published

on



وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عید الفطر کی مناسبت سے قیدیوں کی سزا میں 90 روز کی خصوصی رعایت کا اعلان کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے ہرسال کی طرح امسال بھی صوبے کی جیلوں میں قید سزا یافتہ قیدیوں کو عید کے موقع پر سزا میں 90 روز کی معافی دے دی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ دہشت گردی، جاسوسی، سب ورژن اور ریاست دشمن سرگرمیوں میں ملوث قیدیوں پر رعایت کا اطلاق نہیں ہوگا، اس کے علاوہ قتل، زیادتی اور اغوا برائے تاوان کے سنگین جرائم کے قیدی رعایت سے محروم رہیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ڈکیتی، رہزنی اور مالی غبن کے مقدمات میں سزا یافتہ قیدیوں کو بھی کوئی رعایت نہیں ملے گی جبکہ منشیات ایکٹ (نارکوٹکس) اور فارنرز ایکٹ کے تحت سزا پانے والے قیدی اس معافی کے اہل نہیں ہوں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے اور مالی بدعنوانی کے قیدیوں کے لیے بھی کوئی رعایت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمر قید کے قیدیوں کی سزا میں رعایت سے ان کی 15 سالہ کم از کم سزا کی مدت متاثر نہیں ہوگی۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سزا میں رعایت کا اطلاق ان قیدیوں پر ہوگا جو جیل قوانین (رول 789) کی شرائط پر پورا اترتے ہوں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی جیل خانہ جات کو سزا میں کمی کے احکامات پر فوری عمل درآمد اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عید کے موقع پر قیدیوں کی سزا میں 90 روز کی کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ معمولی جرائم میں ملوث قیدی جلد اپنی سزا مکمل کر کے اپنے پیاروں کے پاس واپس جائیں، سزا میں رعایت کا مقصد قیدیوں کو معاشرے کا ایک بہتر اور کارآمد شہری بننے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمر قید کے قیدیوں کے لیے عدالتی فیصلوں اور جیل مینوئل پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، اچھے اخلاق اور جیل کے اندر مثبت رویہ رکھنے والے قیدیوں کی حوصلہ افزائی ہمارا فرض ہے، ہم سندھ کی جیلوں کو محض قید خانہ نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں اصلاحی مراکز بنانا چاہتے ہیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان میں دہشت گردی کے لیے ٹھکانے فراہم کرنے پر افغان طالبان کیخلاف عوام کا شدید ردعمل

Published

on


پاکستان کے غیور عوام نے پاک فوج کیخلاف افغان طالبان رجیم کے گمراہ کن پروپیگنڈا کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان کے شہریوں کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خاتمے یا حوالگی کے حوالے سے پاکستان کی ڈیمانڈ بالکل جائز ہے۔ افغان طالبان کی سرپرستی میں فتنہ الخوارج پاکستان میں معصوم شہریوں کو مساجد میں شہید کرتے ہیں۔ 

شہری کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کابل میں اسلحہ کے ڈیپو کو تباہ کیا یہی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال ہوتا تھا، پاک فوج کا حق ہے کہ پاکستان کیخلاف دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال ہونے والے بارودی ڈیپو کو تباہ کرے۔ 

پاکستانی عوام نے کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ نہ دیں یا ہمارے حوالے کریں، افغان طالبان یہ نہیں کریں گے تو پاک فوج بھرپور کارروائی کرے گی۔ دہشت گردی کا فروغ کسی ملک کے مفاد میں نہیں ہے افغان طالبان کو چاہیے کہ امن کیلئے پاکستان کی شرائط پر عمل کرے۔

شہری نے کہا کہ افغان طالبان کو پتہ ہونا چاہیے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور ہم ہرگز کمزور ملک نہیں ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending