Connect with us

Today News

پاکستان ایک عظیم ملک ہے جس سے آیت اللہ خامنہ ای کو خاص لگاؤ تھا؛ ایرانی سپریم لیڈر

Published

on


نو روز کے موقع پر ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا 9 صفحات پر مشتمل ایک تحریری پیغام سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنایا گیا جس میں انھوں نے کہا کہ ہم نے روزے اور جہاد کو ایک ساتھ جاری رکھا، اللہ کا شکر ہے دشمن ٹوٹ چکا ہے۔

بی بی سی کے مطابق ایران کے تیسرے رہبر اعلی مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا کہ اسرائیل نے ایران اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی چال چلی ہے۔

خامنہ ای نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی طرف سے ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کا مقصد مسلمانوں کے درمیان تقسیم کو ختم کرنا ہے۔

جنگ کے دوران پڑوسی ممالک پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے وضاحت دی کہ ایرانی مسلح افواج نے ہمسائیہ ممالک ترکیہ اور عمان پر حملے نہیں کیے، یہ اسرائیل کی سازش ہے۔

انھوں نے پاکستانیوں کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے مشرقی پڑوسیوں کو بہت قریب سے سمجھتا ہے۔ خاص طور پر پاکستان سے ان کے والد شہید آیت اللہ خامنہ ای کو خاص لگاؤ تھا۔

مجتبیٰ خامنہ ای کا مزید کہنا تھا کہ ایران نے ایک سال میں تین جنگوں سے گزر چکا ہے۔ گزشتہ برس جون میں حملے، دسمبر میں بیرون ملک کی ایما پر ملک گیر مظاہرے اور تیسری موجودہ جنگ ہے۔

ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبی خامنہ ای نے اپنے والد کے اسرائیلی حملے میں ہلاکت کو ’ عظیم شہادت‘ قرار دیتے ہوئے اس سال کے کے لیے ’قومی یکجہتی اور قومی سلامتی کے سائے میں مزاحمتی معیشت‘ کا نعرہ بھی دیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ جنگ میں قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمارا اتحاد دشمن کو جھکنے پر مجبور کردے گا۔

یاد رہے کہ یہ انداز ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کے روایتی نوروز پیغامات سے واضح طور پر مختلف ہے جو ہمیشہ کیمرے کے سامنے پیغام دیا کرتے تھے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کو اس ماہ کے آغاز میں اپنے والد کا جانشین منتخب کیا گیا تھا۔ وہ اب تک نہ تو عوام کے سامنے آئے ہیں اور نہ ہی انھیں فلمایا یا فوٹوگراف کیا گیا ہے۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگی؛ ٹرمپ بھی جھنجھلاہٹ کا شکار

Published

on


مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی سپلائی میں نمایاں کمی کے باعث خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا اس وقت تاریخ کے سب سے بڑے عالمی توانائی تحفظ کے چیلنج کا سامنا کر رہی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال نہ صرف توانائی کی فراہمی بلکہ عالمی اقتصادی استحکام کے لیے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

ان کے بقول خام تیل کی قیمت فی بیرل قیمت اب بھی 109 ڈالر کے آس پاس منڈلا رہی ہے جس سے عالمی معیشت پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز میں ایرانی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے نیٹو اتحادی ممالک کے عدم تعاون پر صدر ٹرمپ برہم نظر آئے۔

انھوں نے اپنے بیان میں نیٹو اتحادی ممالک کو بزدل اور کاغذی شیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کے لیے آبنائے ہرمز سے ایرانی فورسز کو ہٹانا آسان کام ہے لیکن وہ گریز کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ہے خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش نے صورتحال کو مزیدہ پیچیدہ کردیا ہے۔

یہ وہ آبی گذر گاہ ہے جہاں سے دنیا بھر میں تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس اہم گزرگاہ میں کسی بھی رکاوٹ یا خطرے سے فوری طور پر عالمی منڈی متاثر ہوتی ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر تیل کی قیمتیں اسی سطح پر برقرار رہیں یا مزید بڑھیں تو اس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت بڑھے گی اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Today News

وزیراعظم اور ازبکستان کے صدر کا ٹیلی فونک رابطہ، عید کی مبارک باد اور خطے کی صورتحال پر گفتگو

Published

on



وزیراعظم شہباز شریف نے ازبکستان کے صدر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو عید الفطر کی مبارک باد پیش کی ہے۔

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور عیدالفطر کے مبارک موقع پر تہنیتی پیغامات کا تبادلہ کیا۔

باہمی گرمجوش گفتگو کے دوران وزیراعظم نے صدر ازبکستان اور برادر عوام کے لیے دلی نیک تمناؤں کا اظہار کیا، جسے ازبک صدر نے نہایت خلوص کے ساتھ قبول کیا اور وزیر اعظم کے لئے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا.

دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ماہ صدر ازبکستان کے دورۂ پاکستان کے انتہائی کامیاب نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اہم فیصلوں پر باقاعدہ پیش رفت سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

دونوں رہنماؤں نے ایران اور خلیجی خطے میں جاری کشیدگی پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ فوری طور پر کشیدگی میں کمی لائی جائے اور تمام تنازعات کے حل کے لیے مکالمے اور سفارتکاری کو فروغ دیا جائے۔



Source link

Continue Reading

Today News

برطانیہ نے ایران پر حملوں کیلیے امریکا کو اپنے فوجی اڈّے دینے کی منظوری دیدی

Published

on


برطانیہ نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے تاکہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں میں مدد دی جا سکے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی امریکی افواج کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فوجی اڈوں کا استمعال خاص طور پر ایسے اقدامات کے لیے جن کا مقصد ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل حملوں کو روکنا اور برطانوی مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔

تاہم اب آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے بھی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قلت پر قابو پایا جا سکے۔

خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر نے نیٹو اتحادیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں ڈرپوک اور کاغذی شیر قرار دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے نیٹو اتحادی ممالک کے لیے فوجی کارروائی کرنا بہت آسان ہے مگر وہ اس سے گریز کر رہے ہیں۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ نے برطانیہ کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر اس نے امریکی حملوں کے لیے اپنے فوجی اڈے فراہم کیے تو اس عمل کو جارحیت میں براہ راست شمولیت تصور کیا جائے گا۔

دوسری جانب برطانوی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کے ردعمل میں امریکا کو اپنے دفاعی آپریشنز کے لیے برطانوی فوجی اڈے دینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Trending