Today News
اسپیس ٹیکنالوجی کے ذریعے موسمیاتی اقدامات کا آغاز
پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور ماحولیاتی استحکام کو فروغ دینے کے لیے ‘اسپیس فار کلائمیٹ’ انیشی ایٹو کا آغاز کر دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری اعلامیے کے مطابق اسپیس فار کلائیمٹ منصوبے کا مرکزی حصہ جیو اے آئی سے لیس کلائمیٹ آبزرویٹری ہے، جو ایک جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر مشتمل ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ پلیٹ فارم سیٹلائٹ ڈیٹا، جغرافیائی تجزیات اور ماڈلنگ کو یکجا کر کے پالیسی سازوں، محققین اور متعلقہ اداروں کو قابل عمل معلومات فراہم کرے گا، یہ نظام فضائی آلودگی گرین ہاؤس گیسز جنگلات، گلیشیئرز، ساحلی علاقوں، دریاؤں اور زمین کے استعمال کی مسلسل نگرانی کرے گا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ یہ پلیٹ فارم موسمیاتی خطرات جیسے سیلاب، خشک سالی، ہیٹ ویوز، سمندری سطح میں اضافہ اور گلیشیئر جھیل کے اچانک پھٹنے جیسے واقعات کی پیشی نشان دہی اور مانیٹرنگ میں بھی معاون ہوگا۔
مزید بتایا گیا کہ اسپیس بیسڈ اور زمینی ڈیٹا کے امتزاج سے یہ اقدام شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور پائیدار ترقی کو فروغ دے گا، جس سے پاکستان کے موسمیاتی ایجنڈے کو عالمی کوششوں کے مطابق آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
Source link
Today News
فرزند سرگودھا – ایکسپریس اردو
یہ تذکرہ اس شخص کا ہے جسے میں نے مدتوں دور سے دیکھا۔ پھر اتفاق ایسا ہوا کہ ملاقات ہوئی اور وہی آخری ثابت ہوئی۔ یہ تذکرہ اقبال کی برکت تھی کہ قریب و دور سے بہت سے لوگ کوئٹہ میں اکٹھے ہوئے۔ ان میں ایک ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم بھی تھے۔ انھوں نے مجھے دیکھا تو محبت سے ملے اور کہا ؎
آیا ہے آسماں سے اڑ کر کوئی ستارہ
یا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرن میں
یا شب کی سلطنت میں دن کا سفیر آیا
غربت میں آ کے چمکا، گمنام تھا وطن میں
یہ ان کی محبت کا انداز تھا۔ میں نے ان کے گھٹنے چھوئے اور عرض کی کہ ایسا نہ کریں ڈاکٹر صاحب!یہ ستارہ تو غربت میں آپ کی عظمت کا اسیر ہوا ہے۔
خیر، یہ ہماری پہلی تفصیلی ملاقات تھی جس نے ہمیں یوں ملا دیا جیسے بچھڑے ہوئے ملتے ہیں اور اس خوف سے کہ کہیں پھر بچھڑ نہ جائیں، ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں چھوڑتے۔
ہارون الرشید تبسم کیا تھے اور کیا نہیں تھے؟ اس سوال پر بات ہو سکتی ہے لیکن بہتر ہے کہ اصل بات کی جائے۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر خود اعتمادی اور مستقل مزاجی کو مجسم دیکھنے کی آرزو ہے تو انھیں دیکھا جائے۔
ہارون الرشید تبسم کی رحلت پر کسی نے لکھا کہ ان کے بغیر سرگودھا سونا دکھائی دیتا ہے۔ ایسی بات بڑے لوگوں اور دولت مندوں کے لیے کہنے کی روایت ہے۔ کیا ہارون بہت دولت مند تھے؟
اس سوال کے جواب میں یہ کہنا شاید مناسب نہ ہو کہ وہ دل کے غنی تھے۔ وہ یقیناً دل کے غنی تھے۔ دل کے غنی تو بہت ہوتے ہیں لیکن انھیں کوئی گھاس نہیں ڈالتا۔
یہ دنیا مادی وسائل اور دھن دولت کو دیکھتی ہے۔ یہ چیز تو ان کے پاس نہیں تھی۔ وہ ایک ایسے خاندان کے چشم و چراغ تھے جیسے ہم آپ سب ہوتے ہیں یعنی معمولی اور گم نام سا خاندان اور ویسے ہی محنت کش اور اپنے کام سے کام رکھنے والے مٹے ہوئے لوگ۔ ہارون الرشید بھی مٹے ہوئے اور گم نام لوگوں کے گھر میں پیدا ہوئے۔
اس بچے کی پیشانی کی کشادگی اور آنکھوں کی چمک دیکھنے والوں کو چندھیا دینے والی تھی۔ یہ دیکھ کر دائی نے پرجوش ہو کر زچہ کا ماتھا چوما اور کہا:
‘ نی مغل زادیے، تیرا بچہ قسمت آلا ہوئے گا’
بچے کی پیدائش پر لوگ باگ شگون سے کام لیتے ہیں اور اچھے بول زبان سے نکالتے ہیں۔ اس مغل زادی نے بھی دائی کی بات سن کر کچھ ایسا ہی سوچا ہو گا لیکن وہ جو کہا جاتا ہے کہ پوت کے پاؤں پالنے میں۔
یہ بچہ بھی جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا، لوگ یقین کرتے گئے کہ یہ بڑا ہو کر ضرور نام پیدا کرے گا پھر ایسا ہی ہوا۔
ہارون الرشید تبسم نے نام ضرور پیدا کیا لیکن یہ سفر مختصر تھا اور نہ آسان۔ ان کی اور میری عمر میں کافی فرق تھا۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جب یہ نوجوان شہرت کی بلندیوں پر پاؤں دھرنے ہی والا تھا، ان سطور کا لکھنے والا لڑکپن کی دہلیز پر ابھی پہنچا ہی ہو گا۔
ان دنوں ہارون کے مشغلے دل چسپ تھے۔ ان کی سرگرمیاں کیا ہوتی تھیں، اتنا زمانہ گزر جانے کے بعد بہت کچھ بھول جاتا ہے لیکن مجھے آج بھی یاد ہے کہ ان دنوں وہ شہری دفاع کی کالی قمیص اور خاکی پینٹ پہنتے سڑکوں پر گھوما کرتے۔
شہری دفاع کے محکمے کا وجود خبر نہیں آج ہے یا نہیں لیکن اس زمانے میں بہت سے لوگ اس سے وابستہ ہوتے اور مبلغ 25 روپے وظیفہ پایا کرتے تھے۔ محکمے کی وردی یہ لوگ بھی زیب تن کیا کرتے ہیں لیکن ہارون کی بات اور تھی۔
وردی تو سب لوگوں کو ایک جگہ سے ایک ہی جیسی ملتی یعنی ڈھیلی ڈھالی اور بے ڈھنگی لیکن یہی بے ڈھنگا لباس جب ہارون پہنتے تو صورت بدل جاتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں لباس پہننے کا سلیقہ تھا۔
وہ اپنے ہم عصروں کی طرح جیسے کپڑے ملتے، ویسے ہی نہیں پہن لیتے تھے بلکہ تھوڑی سی محنت کر کے وہ انھیں درست کرا کے پہنتے۔ سلیقے اور لباس کی پھبن سے ان کا زندگی بھر کا ساتھ رہا۔ تیاری کے بغیر گھر سے باہر قدم رکھتے ہوئے خال ہی کسی نے انھیں دیکھا ہو گا۔ ایسا اہتمام کرنے والے دنیا میں کم لوگ ہوتے ہیں۔
مجھے یہ تو معلوم نہیں ہے کہ سرگودھا کا وہ کون خوش قسمت ڈپٹی کمشنر ہوگا، ہارون جس کی نگاہ میں آئے اور اس نے ان سے کام لینے کا سوچا لیکن اتنا میں جانتا ہوں کہ وہ اچھا زمانہ تھا، حکومت کو گھر میں قید بہو بیٹیوں کی دل چسپی کی فکر ہوا کرتی تھی جس کا سب بڑا مظہر مینا بازار تھا۔
یوں شہر کی ساری رونق کمپنی باغ میں سمٹ جاتی۔ رونق میلے یوں ہی نہیں ہو جاتے، ان کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔ اس مقصد کے لیے بہت سے لوگ خون پسینہ ایک کیا کرتے ہوں گے، میں انھیں تو نہیں جانتا لیکن ایک دل چسپ مضمون کا پوسٹر مجھے آج بھی یاد ہے۔ پوسٹر کا عنوان ہوا کرتا تھا:
اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک
شعلہ سا لپک جائے ہے، آواز تو دیکھو
یہ پوسٹر ہارون الرشید تبسم شائع کیا کرتے تھے جس میں بعضے پر ان کی تصویر بھی ہوتی۔ پوسٹر پر وہ نک سک سے درست شہری دفاع کے یونیفارم میں سیلیوٹ کرتے ہوئے دکھائی دیتے۔
شہری دفاع، اس کا یونیفارم اور ہارون الرشید میرے لیے لازم و ملزوم ہیں تو اس کا سبب یہی پوسٹر ہے جسے میں نے اپنے لڑکپن میں سال ہا سال سرگودھا کے در و دیوار پر دیکھا۔ مینا بازار اور اس کی دل چسپ سرگرمیوں کے انتظام میں انھوں نے اتنی جان ماری اور اس خلوص سے کام کیا کہ رفتہ رفتہ وہ شہر کی دوسری سرگرمیوں کا بھی حصہ بنتے چلے گئے۔
14 اگست کو پرچم کشائی ہو، 23 مارچ کو پولیس اور شہری دفاع کی پریڈ ہو یا چھ ستمبر کو یوم دفاع کی سرگرمیاں، ان سب کی کام یابی سرکار ہی نہیں عوام کے ذہن میں بھی ہمارے جانے پہچانے ہارون الرشید تبسم ہی کا نام آتا۔
سماجی زندگی میں جس طرح انھوں نے مستقل مزاجی سے کام لیا، تحریر و تصنیف کے شعبے میں بھی انھوں نے خود کو ہمیشہ مصروف رکھا۔
ان کے علمی کام پر آرا مختلف ہو سکتی ہیں لیکن اپنے علمی سفر میں انھوں نے جتنا علمی سرمایہ کتابی شکل میں ایک جگہ اکٹھا کر دیا، وہ بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ اللہ ان کی قبر کو نور سے بھر دے، سرگودھا انھیں کبھی بھول نہ پائے گا۔
کسی گم نام محنت کش گھرانے کے چشم و چراغ نے جس طرح نام پیدا کیا، ہارون الرشید تبسم اس کی منفرد مثال ہیں۔
Today News
آپریشن غضب للحق میں وقفہ اور ناقابلِ اعتبارطالبان
عید الفطر تو امن سے گزر گئی ۔ الحمد للہ۔ آج عید کا تیسرا روز ہے ۔ اِسے بھی بعض مقامی بول چال میں ’’ٹرو مرو‘‘ کے نام سے عید الفطر ہی کا ’’ایکسٹینشن‘‘ کہا جاتا ہے ۔
آج 23مارچ 2026 بھی توہے ۔ یومِ پاکستان ! دیکھا جائے تو ’’ یومِ پاکستان ‘‘بھی عید ہی ہے کہ آج سے 86برس قبل اِسی تاریخ کو اسلامیانِ ہند نے لاہور کے ایک میدان میں ایک علیحدہ مملکت کا خواب دیکھا تھا۔
اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے، صرف سات برس کے اندر اندر، حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی بے مثل اور اولوالعزم قیادت میں مسلمانانِ برصغیر نے ’’ پاکستان‘‘ کے دلنواز نام سے ایک علیحدہ، آزاد وطن بھی حاصل کر لیا ۔
غلامی کی طویل سیاہ رات کے بعد آزادی کا سویرا حاصل کرنا ہی حقیقی عید کہلا سکتا ہے : ایک مستقل عید!! آج بوجوہ ’’یومِ پاکستان‘‘ قدرے سادگی کے ساتھ منایا جا رہا ہے ۔
ایران پر مسلّط کی گئی ہلاکت خیز صہیونی و مسیحی امریکی جنگ نے ہم سب کو (بظاہر) سادگی اور کفائت شعاری اپنانے پر مجبور کر دیا ہے ۔
یومِ پاکستان سے پانچ دن اور عید الفطر سے 4 روز قبل پاکستان نے افغان شہریوں ،افغانستان اور جنوبی ایشیا کے مجموعی اور وسیع تر امن کی خاطر پانچ دنوںکے لیے ’’آپریشن غضب للحق‘‘ میں عارضی وقفے کا اعلان کیا تھا ۔
18اور19مارچ کی درمیانی شب سے لے کر 23اور24مارچ کی درمیانی شب تک مبینہ عارضی وقفہ جاری رہے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات ( عطاء اللہ تارڑ) نے ساتھ ہی سب کو بتا دیا تھا کہ ’’اگر افغانستان کی جانب سے (مذکورہ ایام کے دوران) پاکستان پر حملہ ہُوا تو آپریشب غضب للحق بحال ہو کر پوری قوت سے پھر بروئے کار آ جائے گا۔‘‘
متشدد طالبان کے افغانستان کے خلاف شروع کیے جانے والے آپریشن غضب للحق نے حقیقی معنوں میں دہشت گرد افغان طالبان کی پاکستان مخالف خونی وارداتوں کو نَتھ ڈال دی ہے۔
دہشت گرد افغان طالبان نے پاکستان کی نرمی اور بھائی چارے بارے غلط اندازے لگا لیے تھے۔ مگر صبر کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔
پاکستان نے تنگ آکر آپریشن غضب للحق جاری کیا تو افغان طالبان قیادت کی چیخیں آسمان تک بلند ہو گئیں ۔
اب پاکستان نے از راہِ مسلم اخوت اس لیے دہشت گرد افغان طالبان کے خلاف(عید کے ایام میں) مذکورہ آپریشن میں عارضی وقفہ کیا ہے کہ مبینہ طور پر تین اہم اسلامی ممالک نے پاکستان کو ( بمشکل) اِس پر راضی کیا ہے ۔
طالبان نے بھی خدا کا شکر ادا کیا ہوگا کہ پاکستان نے آپریشن غضب للحق میں وقفہ کیا ہے ۔
لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ افغان طالبان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہے۔ اور یہ حرکات مذکورہ آپریشن کا وقفہ توڑنے کا باعث بن سکتی ہیں ۔
مثال کے طور پر دو روز قبل افغان طالبان کی وزارتِ دفاع کے ایک نام نہاد ترجمان (عنائت اللہ خوارزمی) نے جھوٹ بول کر پاکستان پر بے بنیاد تہمت عائد کر دی کہ ’’پاکستان نے( آپریشن میں) وقفے بارے جو وعدہ کیا تھا، اُسے توڑ ڈالا ہے ۔‘‘
خوارزمی ’’صاحب‘‘ نے پاکستان پر یہ الزام تو لگا دیا مگر اِس کا ثبوت کوئی نہیں دیا ، بالکل اُسی طرح جس طرح جھوٹے افغان طالبان نے اگلے روز پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ ’’پاکستان نے کابل کے ایک اسپتال پر بمباری کرکے 400’’مریض‘‘ مار ڈالے ہیں۔‘‘
ہمارے وزیر اطلاعات نے اِس منافقانہ اور کاذبانہ الزام کے مقابل جو تردیدی بیان جاری کیا ہے، وہ عنائت اللہ خوارزمی کو جھوٹا ثابت کر دیتا ہے ۔
حیرت کی بات ہے کہ افغان طالبان کے ’’سپریم لیڈر‘‘ملّا ہبت اللہ نے عید کے موقع پر جو خطبہ ’’ارشاد‘‘ فرمایا ہے ، اِس میں بھی پاکستان کا نام لیے بغیر پاکستان پر اشارتاً طنز کیے گئے ہیں ۔
مُلّا ہبت اللہ کے الفاظ غیر مناسب ہیں اور دونوں ممالک میں امن سازی کی رُوح کے بالکل منافی بھی ۔ موصوف کو اِن الفاظ سے اعراض کرنا چاہیے تھا ۔ ہمیں مگر زیادہ افسوس اور رنج دہشت گرد افغان طالبان کے ترجمان (عنائت اللہ خوارزمی) کے بیان سے ہُوا ہے ۔
منافق کی جو نشانیاں بیان کی گئی ہیں ، اُن میں سے دو بڑی یہ ہیں:(۱) جب بھی بات کرے، جھوٹ بولے(۲) جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے ۔ یہ نہائت شاندار، تاریخی اور بے مثال کسوٹی ہے ۔
جب ہم اِس کسوٹی پر مُلّا و مقتدر افغان طالبان کو پرکھتے ہیں تو حیران کن طور پر یہ دہشت پسند جتھے اِن پر پورے اُترتے ہیں۔ کذب گوئی میں چھوٹی بڑی افغان طالبان قیادت یکساں ہو چکی ہے اور یوں پاکستان سمیت دُنیا بھر کے لیے ناقابلِ اعتبار بھی۔
پچھلے ہی ہفتے افغان طالبان نے دعویٰ کیا اور ریاستی سطح پر کئی ٹویٹس بھی کیے کہ ’’ پاکستان نے کابل پر حملہ کرکے ایک اسپتال میں زیر علاج 400لوگوں کو مار ڈالا ہے ۔‘‘ بھارتی میڈیا نے افغان طالبان کے اِس جھوٹ کو بانس پر چڑھانے کی ناکام کوشش کی۔
مگر بعد ازاں افغان طالبان نے اپنی ہی کی گئی جملہ ٹویٹس حذف (Delete) کردیں ۔ اور جب عالمی میڈیا نے افغان طالبان سے مبینہ400 ’’مریضوں‘‘ کے مبینہ قتل کے ثبوت مانگے تو اِس کا جواب بھی اِن کذابوں کے پاس نہیں تھا۔
افغان طالبان نے یہ جھوٹ بول کر دُنیا کی ہمدردیاں بھی سمیٹنا چاہی تھیں اور یہ بھی تمنا کی تھی کہ پاکستان نے خونخوار دہشت گردوں کے خلاف جو گرم تعاقب جاری رکھا ہُوا ہے، اِس میں بھی کمی آ جائے گی ۔
پاکستان نے آپریشن غضب للحق میں عارضی وقفہ کرکے خوفزدہ افغان طالبان کی ایک تمنا تو قدرے پوری کر دی ہے ۔
وعدہ شکنی میں تو افغان طالبان نے دوامی ، عالمی اور بے نظیر شہرت حاصل کر رکھی ہے ۔ چار سال قبل دوحہ ( قطر) میں اِس جتھے نے دُنیا کے سامنے عہد کیا تھا کہ ’’افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہو گی نہ افغانستان کو کسی بھی دہشت گرد گروہ کو استعمال کرنے دیا جائے گا۔‘‘
وقت نے ثابت کیا کہ اِس عہد کی ابھی سیاہی بھی خشک نہیں ہُوئی تھی کہ افغانستان پر مسلّط طالبان جتھے نے عہد شکنی شروع کر دی ۔
اور اُسی پاکستان کو انھوں نے ہدف بنایا جس نے انھیں اور ان کی آل اولادوں کو برسہا تک پناہ دیے رکھی اور انھیں پالا پوسا تھا۔ اِس جتھے نے ثابت کیا کہ اِن کی گھٹی ہی میں احسان فراموشی ہے ۔ حیرانی کی بات ہے کہ پاکستان نے بھی اِن پر اعتبار کر لیا ۔
حالانکہ یہ وہی جتھے تھے جن کے بڑوں نے 1993 میں( خانہ کعبہ میں بیٹھ کر) افغانستان میں قیامِ امن بارے وعدے کیے اور قرآن پاک پر حلف دیے تھے، مگر پھر اِن سب نے اپنی جبلّت کے تحت سب قسمیں توڑ ڈالیں۔
حیرت انگیز بات ہے کہ اِن وعدہ شکنوں پر پاکستان نے بحیثیتِ ریاست اور پاکستانی عوام نے بطورِ قوم اعتبار کیا ۔ شائد اِسی لیے ہمارے وزیر دفاع ، خواجہ محمد آصف، کو 17مارچ2026 کو ، بالآخر،اپنی ایک ٹویٹ میں یوں کہنا پڑا:’’ ہم نے اپنی78سالہ تاریخ میں بہت غلطیاں کیں ، لیکن افغانوں کی مہمان نوازی سب سے بڑی غلطی تھی۔
محسن کش افغان طالبان اُس ریاست پر حملہ آور ہیں جس نے 50سال اِنہیں پناہ دی ‘‘ ۔ خواجہ صاحب نے مذکورہ پیغام لکھ کر دراصل اِس راکشش و عفریت بارے تاریخی حقائق کو واشگاف کیا ہے ۔
ہم سب نے افغان طالبان پر اعتماد اور احسانات کرکے جو فاش غلطیاں کیں ، شائد خواجہ صاحب کا اعتراف و اقرار ہماری غلطیوں کا کچھ کفارہ ہو سکے ۔
خواجہ صاحب کا مذکورہ اعتراف و اقرار اِس امر کو بھی سب پر عیاں کرتا ہے کہ افغانستان بطورِ سر زمین اور افغان بطورِ قوم کبھی بھی ہمارے ’’برادر‘‘ نہیں تھے ۔ناقابلِ اعتبار و برادر کش افغان طالبان قیادت کے کذب وریا کو ہمارے ہاںاعلیٰ سطح پر بھی بے نقاب کیا گیا ہے ۔
یہ تازہ ’’نقاب کشائی‘‘ ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کی ہے ۔ جنرل احمد شریف چوہدری صاحب نے چند روز قبل دلائل کے ساتھ افغان طالبان کے سبھی جھوٹوں کا پردہ فاش کر دیا ہے ۔
اُن کے یہ الفاظ شائد افغان طالبان قیادت نے بطورِ وارننگ بھی سُنے ہوں گے:’’طالبان فیصلہ کرلیں کہ اُنھوں نے دہشتگردوں کو بچانا ہے یا افغانستان کو ۔‘‘ اور یہ الفاظ شائد وہ تین اسلامی ممالک بھی ( زیادہ آسان الفاظ کے ساتھ) افغان طالبان قیادت تک پہنچا دیں جن کی درخواست پر پُرعزم پاکستان نے ’’آپریشن غضب للحق‘‘ میں چند دنوں کے لیے عارضی وقفہ کررکھا ہے ۔
Today News
ایف آئی اے کی کراچی میں کارروائی، حوالہ ہنڈی کی کروڑوں مالیت کی کرنسی تحویل میں لے لی
ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل کراچی نے حوالہ ہنڈی سے متعلق کارروائی کے دوران 289 کروڑروپے مالیت کی کرنسی تحویل میں لے لی۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ایف آئی اے ٹیم نےغیر قانونی فارن کرنسی اورحوالہ ہنڈی کے خلاف آپریشن کیا۔
کارروائی ڈائریکٹر کراچی زون کی ہدایات اورڈپٹی ڈائریکٹرکی نگرانی میں کی گئی، غیر قانونی فارن کرنسی اورحوالہ ہنڈی کےخلاف کریک ڈاؤن کے دوران ملزم عبدالرحمان ولد سلطان محمد کو موچکو پولیس اسٹیشن کراچی سےتحویل میں لیا گیا۔
ملزم کے قبضے سے ایرانی کرنسی میں تقریباً 289 کروڑ مالیت کی رقم برآمد ہوئی۔ ایک موبائل فون بھی برآمد ہوا جس میں غیر قانونی لین دین کا ریکارڈ موجود ہے۔
موبائل فون میں فارن کرنسی کی خرید و فروخت اورحوالہ ہنڈی سے متعلق شواہد پائے گئے۔ ملزم کو برآمد شدہ کرنسی اورشواہد سمیت ایف آئی اے سی بی سی کراچی منتقل کر دیا گیا، مذکورہ معاملے پرمذید تفتیش جاری ہے۔
-
Magazines1 week ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story time: The price of a typo
-
Sports2 weeks ago
Samson rises from year of struggle to become India’s World Cup hero – Sport
-
Magazines2 weeks ago
REGION: DEATH OF THE ‘RULES-BASED ORDER’ – Newspaper
-
Magazines1 week ago
STORY TIME: CLEARER THAN BEFORE – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Trio set for debuts as Pakistan commence 2027 preparations with Bangladesh ODIs – Sport
-
Magazines2 weeks ago
NON-FICTION: THE LEGACY OF PAKISTAN CRICKET – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Amber Khan & Nadia Khan On Anchors Exploiting Broken Marriages