Connect with us

Today News

اسرائیل کی غزہ پر بمباری سے 4 فلسطینی شہید

Published

on



غزہ کے شمالی علاقے اور نصیرت کیمپ میں اسرائیلی بمباری سے 4 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی وزارت صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ اسرائیل نے وسطی غزہ میں نصیرت کمیپ کے مرکز پر پولیس گاڑی پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں 3 افراد شہید ہوگئے اور چند گھنٹے بعد شمالی غزہ میں ایک اور فضائی کارروائی کی گئی جہاں مزید شہادتیں ہوئی۔

وزارت صحت اور پولیس ذرائع نے بتایا کہ نصیرت کیمپ میں شہید ہونے والے افراد پولیس فورس کے اہلکار تھے اور اس حملے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اتوار کی صبح ایک اور کارروائی میں شہید ہونے والے فلسطینی کی شناخت الفتح کے رہنما کے طور پر ہوئی اور شمالی غزہ کے قریبی علاقے شیخ رادوان میں کی گئی کارروائی میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملے کے بعد غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں میں کسی حد تک کمی رپورٹ کی گئی ہے لیکن فلسطینیوں کے مطابق ایران جنگ کے باوجود غزہ میں اسرائیلی کی کارروائیاں جاری ہیں اور اس دوران درجنوں فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے بعد اسرائیل کی کارروائیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں اور اکتوبر سے اب تک 680 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں جبکہ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے غزہ میں ان کے 4 فوجی اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی، بلال کالونی میں گھر سے میاں بیوی کی دو تین روز پرانی لاشیں برآمد

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں ڈسٹرکٹ سینٹرل کے علاقے بلال کالونی میں ایک گھر سے میاں بیوی کی لاشیں برآمد ہوئی ۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق دونوں لاشوں کو بلال کالونی تھانے منتقل کردیا گیا ہے۔  

ایس ایچ او تھانہ بلال کالونی انور شیخ  کا کہنا ہے کہ لاشیں دو سے تین روز پرانی معلوم ہوتی ہیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت ہما اور انور کے نام سے کی گئی ہے، جو میاں بیوی تھے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ خاتون ہما نور کی دوسری بیوی ہے۔۔پہلی بیوی کی بیٹی والد سے عید ملنے کے  سے فون کیا تھا ۔

متوفی کی بیٹی نے اپنے والد کو متعدد بار فون کیا مگر کسی نے کال ریسیو نہیں کی، جس پر اس نے پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع ملنے پر پولیس اور اہلخانہ موقع پر پہنچ گئے، جہاں پولیس کی موجودگی میں دروازہ توڑ کر گھر میں داخلہ لیا گیا۔

تلاشی کے دوران ایک کمرے سے خاتون کی دو روز پرانی لاش برآمد ہوئی، جبکہ گھر کی چھت سے مرد کی لاش ملی۔ پولیس کے مطابق واقعہ بظاہر پراسرار ہے تاہم پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ سامنے آسکے گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا بیگم نصرت بھٹو کی 97 ویں سالگرہ پر پیغام

Published

on



کراچی:

صدر مملکت آصف علی زرداری نے بیگم نصرت بھٹو کی 97 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں “مادرِ جمہوریت” کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ ان کی زندگی وقار، ثابت قدمی اور جمہوری اقدار سے مضبوط وابستگی کی علامت تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک کٹھن دور میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کھڑے ہو کر جرات اور وقار کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ذاتی طور پر بڑے صدمات برداشت کیے، مگر جمہوریت کے فروغ کے لیے اپنے عزم پر قائم رہیں۔

1977 کے بعد، انہوں نے جمہوری تحریک کی قیادت بھرپور انداز میں کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن کی حیثیت سے انہوں نے مشکل ترین وقت میں پارٹی کو متحد رکھا۔

صدر مملکت نے کہا کہ انہوں نے جمہوری قیادت کی اگلی نسل کی رہنمائی کی اور ایک اہم مرحلے پہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہیں۔

ان کی مثال آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی اور جمہوری نظام کے لیے کام کرنے والوں کو متاثر کرتی ہے۔ مشکل حالات میں ان کی قیادت نے بہت سے لوگوں کو رہنمائی دی اور یہ ہماری سیاسی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمزور طبقات، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے ان کی خدمات ان کے ورثے کا اہم حصہ ہیں۔

پاکستان بھر کے بہت سے خاندانوں کے لیے، نمائندہ سیاست کے لیے جو جگہ قائم رکھنے میں  انہوں نے کردار ادا کیا، اس کے عملی اثرات سامنے آئے۔ اس کا مطلب منتخب بلدیاتی ادارے، جوابدہ نظام کے ذریعے عوامی خدمات تک رسائی، اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے والے فیصلوں میں ایک محدود مگر حقیقی آواز ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ قوم بیگم نصرت بھٹو کی قربانیوں اور بصیرت کی احسان مند  رہے گی۔ الّلہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔





Source link

Continue Reading

Today News

فرزند سرگودھا – ایکسپریس اردو

Published

on


یہ تذکرہ اس شخص کا ہے جسے میں نے مدتوں دور سے دیکھا۔ پھر اتفاق ایسا ہوا کہ ملاقات ہوئی اور وہی آخری ثابت ہوئی۔ یہ تذکرہ اقبال کی برکت تھی کہ قریب و دور سے بہت سے لوگ کوئٹہ میں اکٹھے ہوئے۔ ان میں ایک ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم بھی تھے۔ انھوں نے مجھے دیکھا تو محبت سے ملے اور کہا ؎

آیا ہے آسماں سے اڑ کر کوئی ستارہ
یا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرن میں
یا شب کی سلطنت میں دن کا سفیر آیا
غربت میں آ کے چمکا، گمنام تھا وطن میں

یہ ان کی محبت کا انداز تھا۔ میں نے ان کے گھٹنے چھوئے اور عرض کی کہ ایسا نہ کریں ڈاکٹر صاحب!یہ ستارہ تو غربت میں آپ کی عظمت کا اسیر ہوا ہے۔

خیر، یہ ہماری پہلی تفصیلی ملاقات تھی جس نے ہمیں یوں ملا دیا جیسے بچھڑے ہوئے ملتے ہیں اور اس خوف سے کہ کہیں پھر بچھڑ نہ جائیں، ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں چھوڑتے۔

ہارون الرشید تبسم کیا تھے اور کیا نہیں تھے؟ اس سوال پر بات ہو سکتی ہے لیکن بہتر ہے کہ اصل بات کی جائے۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر خود اعتمادی اور مستقل مزاجی کو مجسم دیکھنے کی آرزو ہے تو انھیں دیکھا جائے۔

ہارون الرشید تبسم کی رحلت پر کسی نے لکھا کہ ان کے بغیر سرگودھا سونا دکھائی دیتا ہے۔ ایسی بات بڑے لوگوں اور دولت مندوں کے لیے کہنے کی روایت ہے۔ کیا ہارون بہت دولت مند تھے؟

اس سوال کے جواب میں یہ کہنا شاید مناسب نہ ہو کہ وہ دل کے غنی تھے۔ وہ یقیناً دل کے غنی تھے۔ دل کے غنی تو بہت ہوتے ہیں لیکن انھیں کوئی گھاس نہیں ڈالتا۔

یہ دنیا مادی وسائل اور دھن دولت کو دیکھتی ہے۔ یہ چیز تو ان کے پاس نہیں تھی۔ وہ ایک ایسے خاندان کے چشم و چراغ تھے جیسے ہم آپ سب ہوتے ہیں یعنی معمولی اور گم نام سا خاندان اور ویسے ہی محنت کش اور اپنے کام سے کام رکھنے والے مٹے ہوئے لوگ۔ ہارون الرشید بھی مٹے ہوئے اور گم نام لوگوں کے گھر میں پیدا ہوئے۔

اس بچے کی پیشانی کی کشادگی اور آنکھوں کی چمک دیکھنے والوں کو چندھیا دینے والی تھی۔ یہ دیکھ کر دائی نے پرجوش ہو کر زچہ کا ماتھا چوما اور کہا:

‘ نی مغل زادیے، تیرا بچہ قسمت آلا ہوئے گا’

بچے کی پیدائش پر لوگ باگ شگون سے کام لیتے ہیں اور اچھے بول زبان سے نکالتے ہیں۔ اس مغل زادی نے بھی دائی کی بات سن کر کچھ ایسا ہی سوچا ہو گا لیکن وہ جو کہا جاتا ہے کہ پوت کے پاؤں پالنے میں۔

یہ بچہ بھی جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا، لوگ یقین کرتے گئے کہ یہ بڑا ہو کر ضرور نام پیدا کرے گا پھر ایسا ہی ہوا۔

ہارون الرشید تبسم نے نام ضرور پیدا کیا لیکن یہ سفر مختصر تھا اور نہ آسان۔ ان کی اور میری عمر میں کافی فرق تھا۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جب یہ نوجوان شہرت کی بلندیوں پر پاؤں دھرنے ہی والا تھا، ان سطور کا لکھنے والا لڑکپن کی دہلیز پر ابھی پہنچا ہی ہو گا۔

ان دنوں ہارون کے مشغلے دل چسپ تھے۔ ان کی سرگرمیاں کیا ہوتی تھیں، اتنا زمانہ گزر جانے کے بعد بہت کچھ بھول جاتا ہے لیکن مجھے آج بھی یاد ہے کہ ان دنوں وہ شہری دفاع کی کالی قمیص اور خاکی پینٹ پہنتے سڑکوں پر گھوما کرتے۔

شہری دفاع کے محکمے کا وجود خبر نہیں آج ہے یا نہیں لیکن اس زمانے میں بہت سے لوگ اس سے وابستہ ہوتے اور مبلغ 25 روپے وظیفہ پایا کرتے تھے۔ محکمے کی وردی یہ لوگ بھی زیب تن کیا کرتے ہیں لیکن ہارون کی بات اور تھی۔

وردی تو سب لوگوں کو ایک جگہ سے ایک ہی جیسی ملتی یعنی ڈھیلی ڈھالی اور بے ڈھنگی لیکن یہی بے ڈھنگا لباس جب ہارون پہنتے تو صورت بدل جاتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں لباس پہننے کا سلیقہ تھا۔

وہ اپنے ہم عصروں کی طرح جیسے کپڑے ملتے، ویسے ہی نہیں پہن لیتے تھے بلکہ تھوڑی سی محنت کر کے وہ انھیں درست کرا کے پہنتے۔ سلیقے اور لباس کی پھبن سے ان کا زندگی بھر کا ساتھ رہا۔ تیاری کے بغیر گھر سے باہر قدم رکھتے ہوئے خال ہی کسی نے انھیں دیکھا ہو گا۔ ایسا اہتمام کرنے والے دنیا میں کم لوگ ہوتے ہیں۔

مجھے یہ تو معلوم نہیں ہے کہ سرگودھا کا وہ کون خوش قسمت ڈپٹی کمشنر ہوگا، ہارون جس کی نگاہ میں آئے اور اس نے ان سے کام لینے کا سوچا لیکن اتنا میں جانتا ہوں کہ وہ اچھا زمانہ تھا، حکومت کو گھر میں قید بہو بیٹیوں کی دل چسپی کی فکر ہوا کرتی تھی جس کا سب بڑا مظہر مینا بازار تھا۔

یوں شہر کی ساری رونق کمپنی باغ میں سمٹ جاتی۔ رونق میلے یوں ہی نہیں ہو جاتے، ان کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔ اس مقصد کے لیے بہت سے لوگ خون پسینہ ایک کیا کرتے ہوں گے، میں انھیں تو نہیں جانتا لیکن ایک دل چسپ مضمون کا پوسٹر مجھے آج بھی یاد ہے۔ پوسٹر کا عنوان ہوا کرتا تھا:
اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک
شعلہ سا لپک جائے ہے، آواز تو دیکھو

یہ پوسٹر ہارون الرشید تبسم شائع کیا کرتے تھے جس میں بعضے پر ان کی تصویر بھی ہوتی۔ پوسٹر پر وہ نک سک سے درست شہری دفاع کے یونیفارم میں سیلیوٹ کرتے ہوئے دکھائی دیتے۔

شہری دفاع، اس کا یونیفارم اور ہارون الرشید میرے لیے لازم و ملزوم ہیں تو اس کا سبب یہی پوسٹر ہے جسے میں نے اپنے لڑکپن میں سال ہا سال سرگودھا کے در و دیوار پر دیکھا۔ مینا بازار اور اس کی دل چسپ سرگرمیوں کے انتظام میں انھوں نے اتنی جان ماری اور اس خلوص سے کام کیا کہ رفتہ رفتہ وہ شہر کی دوسری سرگرمیوں کا بھی حصہ بنتے چلے گئے۔

14 اگست کو پرچم کشائی ہو، 23 مارچ کو پولیس اور شہری دفاع کی پریڈ ہو یا چھ ستمبر کو یوم دفاع کی سرگرمیاں، ان سب کی کام یابی سرکار ہی نہیں عوام کے ذہن میں بھی ہمارے جانے پہچانے ہارون الرشید تبسم ہی کا نام آتا۔

سماجی زندگی میں جس طرح انھوں نے مستقل مزاجی سے کام لیا، تحریر و تصنیف کے شعبے میں بھی انھوں نے خود کو ہمیشہ مصروف رکھا۔

ان کے علمی کام پر آرا مختلف ہو سکتی ہیں لیکن اپنے علمی سفر میں انھوں نے جتنا علمی سرمایہ کتابی شکل میں ایک جگہ اکٹھا کر دیا، وہ بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ اللہ ان کی قبر کو نور سے بھر دے، سرگودھا انھیں کبھی بھول نہ پائے گا۔

کسی گم نام محنت کش گھرانے کے چشم و چراغ نے جس طرح نام پیدا کیا، ہارون الرشید تبسم اس کی منفرد مثال ہیں۔ 
 





Source link

Continue Reading

Trending