Today News
کراچی؛ نامعلوم ملزمان کی کتابوں کی دکان کو آگ لگا کر جلانے کی کوشش، فوٹیج بھی سامنے آگئی
ناظم آباد سرسید اردو بازار میں نامعلوم ملزمان کی جانب سے کتابوں کی دکان کو آگ لگا کر جلانے کی کوشش کی گئی جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کہ نامعلوم ملزمان نے صرف ایک مخصوص دکان کو جلانے کی کوشش کی ہے، بظاہر واقعہ ذاتی دشمنی یا لین دین کا معلوم ہوتا ہے تاہم واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق رضویہ تھانے کے علاقے ناظم آباد سرسید اردو بازار میں نامعلوم ملزمان کی جانب سے کتابوں کی دکان کو آگ لگا کر جلانے کی کوشش کی گئی ہے۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی جس کے مطابق عید کے پہلے روز رات سوا نو بجے ایک گاڑی اور موٹر سائیکل سوار 2 افراد دکان کے باہر آکر رکتے ہیں، گاڑی اور موٹر سائیکل سوار افراد آپس میں بات کرتے ہیں، اسی دوران گاڑی میں سوار افراد آگے چلے جاتے ہیں۔
موٹر سائیکل سوار افراد موٹر سائیکل گھما کر دکان کے باہر رک جاتے ہیں، موٹر سائیکل سوار ملزم ہیلمٹ پہنتا ہے اور دوسرے ملزم کے ہاتھ میں پلاسٹک کی بوتل میں پیٹرول یا کیمیکل موجود ہے۔
ہیلمٹ پہنا ملزم دوسرے ملزم سے بوتل لینے کے بعد پیٹرول یا کیمیکل دکان کے شٹر سے اندر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے، ملزم ماچس کے ذریعے آگ لگانے کے بعد ساتھی کے ہمراہ موقع سے فرار ہو جاتا ہے۔ دکان میں آگ بھڑک جاتی ہے تاہم خوش قسمتی سے آگ سے دکان کو جزوی نقصان پہنچتا ہے۔
متاثرہ دکاندار کے مطابق علاقے میں موجود افراد نے دکان کے تالے توڑ کر دکان کو مکمل جلنے سے بچایا، دکان میں لگی آگ پھیلتی تو پوری مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ متاثرہ دکاندار نے حکام سے واقعے کا نوٹس لیں اور آگ لگانے میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایس ایچ او رضویہ بشارت کا کہنا ہے کہ نامعلوم ملزمان نے صرف ایک مخصوص دکان کو جلانے کی کوشش کی ہے، بظاہر واقعہ ذاتی دشمنی یا لین دین کا معلوم ہوتا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
Source link
Today News
کراچی، بلال کالونی میں گھر سے میاں بیوی کی دو تین روز پرانی لاشیں برآمد
کراچی:
شہر قائد میں ڈسٹرکٹ سینٹرل کے علاقے بلال کالونی میں ایک گھر سے میاں بیوی کی لاشیں برآمد ہوئی ۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق دونوں لاشوں کو بلال کالونی تھانے منتقل کردیا گیا ہے۔
ایس ایچ او تھانہ بلال کالونی انور شیخ کا کہنا ہے کہ لاشیں دو سے تین روز پرانی معلوم ہوتی ہیں۔
ابتدائی معلومات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت ہما اور انور کے نام سے کی گئی ہے، جو میاں بیوی تھے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ خاتون ہما نور کی دوسری بیوی ہے۔۔پہلی بیوی کی بیٹی والد سے عید ملنے کے سے فون کیا تھا ۔
متوفی کی بیٹی نے اپنے والد کو متعدد بار فون کیا مگر کسی نے کال ریسیو نہیں کی، جس پر اس نے پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع ملنے پر پولیس اور اہلخانہ موقع پر پہنچ گئے، جہاں پولیس کی موجودگی میں دروازہ توڑ کر گھر میں داخلہ لیا گیا۔
تلاشی کے دوران ایک کمرے سے خاتون کی دو روز پرانی لاش برآمد ہوئی، جبکہ گھر کی چھت سے مرد کی لاش ملی۔ پولیس کے مطابق واقعہ بظاہر پراسرار ہے تاہم پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ سامنے آسکے گی۔
Today News
صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا بیگم نصرت بھٹو کی 97 ویں سالگرہ پر پیغام
کراچی:
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بیگم نصرت بھٹو کی 97 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں “مادرِ جمہوریت” کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ ان کی زندگی وقار، ثابت قدمی اور جمہوری اقدار سے مضبوط وابستگی کی علامت تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک کٹھن دور میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کھڑے ہو کر جرات اور وقار کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ذاتی طور پر بڑے صدمات برداشت کیے، مگر جمہوریت کے فروغ کے لیے اپنے عزم پر قائم رہیں۔
1977 کے بعد، انہوں نے جمہوری تحریک کی قیادت بھرپور انداز میں کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن کی حیثیت سے انہوں نے مشکل ترین وقت میں پارٹی کو متحد رکھا۔
صدر مملکت نے کہا کہ انہوں نے جمہوری قیادت کی اگلی نسل کی رہنمائی کی اور ایک اہم مرحلے پہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہیں۔
ان کی مثال آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی اور جمہوری نظام کے لیے کام کرنے والوں کو متاثر کرتی ہے۔ مشکل حالات میں ان کی قیادت نے بہت سے لوگوں کو رہنمائی دی اور یہ ہماری سیاسی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمزور طبقات، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے ان کی خدمات ان کے ورثے کا اہم حصہ ہیں۔
پاکستان بھر کے بہت سے خاندانوں کے لیے، نمائندہ سیاست کے لیے جو جگہ قائم رکھنے میں انہوں نے کردار ادا کیا، اس کے عملی اثرات سامنے آئے۔ اس کا مطلب منتخب بلدیاتی ادارے، جوابدہ نظام کے ذریعے عوامی خدمات تک رسائی، اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے والے فیصلوں میں ایک محدود مگر حقیقی آواز ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ قوم بیگم نصرت بھٹو کی قربانیوں اور بصیرت کی احسان مند رہے گی۔ الّلہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
Today News
فرزند سرگودھا – ایکسپریس اردو
یہ تذکرہ اس شخص کا ہے جسے میں نے مدتوں دور سے دیکھا۔ پھر اتفاق ایسا ہوا کہ ملاقات ہوئی اور وہی آخری ثابت ہوئی۔ یہ تذکرہ اقبال کی برکت تھی کہ قریب و دور سے بہت سے لوگ کوئٹہ میں اکٹھے ہوئے۔ ان میں ایک ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم بھی تھے۔ انھوں نے مجھے دیکھا تو محبت سے ملے اور کہا ؎
آیا ہے آسماں سے اڑ کر کوئی ستارہ
یا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرن میں
یا شب کی سلطنت میں دن کا سفیر آیا
غربت میں آ کے چمکا، گمنام تھا وطن میں
یہ ان کی محبت کا انداز تھا۔ میں نے ان کے گھٹنے چھوئے اور عرض کی کہ ایسا نہ کریں ڈاکٹر صاحب!یہ ستارہ تو غربت میں آپ کی عظمت کا اسیر ہوا ہے۔
خیر، یہ ہماری پہلی تفصیلی ملاقات تھی جس نے ہمیں یوں ملا دیا جیسے بچھڑے ہوئے ملتے ہیں اور اس خوف سے کہ کہیں پھر بچھڑ نہ جائیں، ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں چھوڑتے۔
ہارون الرشید تبسم کیا تھے اور کیا نہیں تھے؟ اس سوال پر بات ہو سکتی ہے لیکن بہتر ہے کہ اصل بات کی جائے۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر خود اعتمادی اور مستقل مزاجی کو مجسم دیکھنے کی آرزو ہے تو انھیں دیکھا جائے۔
ہارون الرشید تبسم کی رحلت پر کسی نے لکھا کہ ان کے بغیر سرگودھا سونا دکھائی دیتا ہے۔ ایسی بات بڑے لوگوں اور دولت مندوں کے لیے کہنے کی روایت ہے۔ کیا ہارون بہت دولت مند تھے؟
اس سوال کے جواب میں یہ کہنا شاید مناسب نہ ہو کہ وہ دل کے غنی تھے۔ وہ یقیناً دل کے غنی تھے۔ دل کے غنی تو بہت ہوتے ہیں لیکن انھیں کوئی گھاس نہیں ڈالتا۔
یہ دنیا مادی وسائل اور دھن دولت کو دیکھتی ہے۔ یہ چیز تو ان کے پاس نہیں تھی۔ وہ ایک ایسے خاندان کے چشم و چراغ تھے جیسے ہم آپ سب ہوتے ہیں یعنی معمولی اور گم نام سا خاندان اور ویسے ہی محنت کش اور اپنے کام سے کام رکھنے والے مٹے ہوئے لوگ۔ ہارون الرشید بھی مٹے ہوئے اور گم نام لوگوں کے گھر میں پیدا ہوئے۔
اس بچے کی پیشانی کی کشادگی اور آنکھوں کی چمک دیکھنے والوں کو چندھیا دینے والی تھی۔ یہ دیکھ کر دائی نے پرجوش ہو کر زچہ کا ماتھا چوما اور کہا:
‘ نی مغل زادیے، تیرا بچہ قسمت آلا ہوئے گا’
بچے کی پیدائش پر لوگ باگ شگون سے کام لیتے ہیں اور اچھے بول زبان سے نکالتے ہیں۔ اس مغل زادی نے بھی دائی کی بات سن کر کچھ ایسا ہی سوچا ہو گا لیکن وہ جو کہا جاتا ہے کہ پوت کے پاؤں پالنے میں۔
یہ بچہ بھی جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا، لوگ یقین کرتے گئے کہ یہ بڑا ہو کر ضرور نام پیدا کرے گا پھر ایسا ہی ہوا۔
ہارون الرشید تبسم نے نام ضرور پیدا کیا لیکن یہ سفر مختصر تھا اور نہ آسان۔ ان کی اور میری عمر میں کافی فرق تھا۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جب یہ نوجوان شہرت کی بلندیوں پر پاؤں دھرنے ہی والا تھا، ان سطور کا لکھنے والا لڑکپن کی دہلیز پر ابھی پہنچا ہی ہو گا۔
ان دنوں ہارون کے مشغلے دل چسپ تھے۔ ان کی سرگرمیاں کیا ہوتی تھیں، اتنا زمانہ گزر جانے کے بعد بہت کچھ بھول جاتا ہے لیکن مجھے آج بھی یاد ہے کہ ان دنوں وہ شہری دفاع کی کالی قمیص اور خاکی پینٹ پہنتے سڑکوں پر گھوما کرتے۔
شہری دفاع کے محکمے کا وجود خبر نہیں آج ہے یا نہیں لیکن اس زمانے میں بہت سے لوگ اس سے وابستہ ہوتے اور مبلغ 25 روپے وظیفہ پایا کرتے تھے۔ محکمے کی وردی یہ لوگ بھی زیب تن کیا کرتے ہیں لیکن ہارون کی بات اور تھی۔
وردی تو سب لوگوں کو ایک جگہ سے ایک ہی جیسی ملتی یعنی ڈھیلی ڈھالی اور بے ڈھنگی لیکن یہی بے ڈھنگا لباس جب ہارون پہنتے تو صورت بدل جاتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں لباس پہننے کا سلیقہ تھا۔
وہ اپنے ہم عصروں کی طرح جیسے کپڑے ملتے، ویسے ہی نہیں پہن لیتے تھے بلکہ تھوڑی سی محنت کر کے وہ انھیں درست کرا کے پہنتے۔ سلیقے اور لباس کی پھبن سے ان کا زندگی بھر کا ساتھ رہا۔ تیاری کے بغیر گھر سے باہر قدم رکھتے ہوئے خال ہی کسی نے انھیں دیکھا ہو گا۔ ایسا اہتمام کرنے والے دنیا میں کم لوگ ہوتے ہیں۔
مجھے یہ تو معلوم نہیں ہے کہ سرگودھا کا وہ کون خوش قسمت ڈپٹی کمشنر ہوگا، ہارون جس کی نگاہ میں آئے اور اس نے ان سے کام لینے کا سوچا لیکن اتنا میں جانتا ہوں کہ وہ اچھا زمانہ تھا، حکومت کو گھر میں قید بہو بیٹیوں کی دل چسپی کی فکر ہوا کرتی تھی جس کا سب بڑا مظہر مینا بازار تھا۔
یوں شہر کی ساری رونق کمپنی باغ میں سمٹ جاتی۔ رونق میلے یوں ہی نہیں ہو جاتے، ان کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔ اس مقصد کے لیے بہت سے لوگ خون پسینہ ایک کیا کرتے ہوں گے، میں انھیں تو نہیں جانتا لیکن ایک دل چسپ مضمون کا پوسٹر مجھے آج بھی یاد ہے۔ پوسٹر کا عنوان ہوا کرتا تھا:
اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک
شعلہ سا لپک جائے ہے، آواز تو دیکھو
یہ پوسٹر ہارون الرشید تبسم شائع کیا کرتے تھے جس میں بعضے پر ان کی تصویر بھی ہوتی۔ پوسٹر پر وہ نک سک سے درست شہری دفاع کے یونیفارم میں سیلیوٹ کرتے ہوئے دکھائی دیتے۔
شہری دفاع، اس کا یونیفارم اور ہارون الرشید میرے لیے لازم و ملزوم ہیں تو اس کا سبب یہی پوسٹر ہے جسے میں نے اپنے لڑکپن میں سال ہا سال سرگودھا کے در و دیوار پر دیکھا۔ مینا بازار اور اس کی دل چسپ سرگرمیوں کے انتظام میں انھوں نے اتنی جان ماری اور اس خلوص سے کام کیا کہ رفتہ رفتہ وہ شہر کی دوسری سرگرمیوں کا بھی حصہ بنتے چلے گئے۔
14 اگست کو پرچم کشائی ہو، 23 مارچ کو پولیس اور شہری دفاع کی پریڈ ہو یا چھ ستمبر کو یوم دفاع کی سرگرمیاں، ان سب کی کام یابی سرکار ہی نہیں عوام کے ذہن میں بھی ہمارے جانے پہچانے ہارون الرشید تبسم ہی کا نام آتا۔
سماجی زندگی میں جس طرح انھوں نے مستقل مزاجی سے کام لیا، تحریر و تصنیف کے شعبے میں بھی انھوں نے خود کو ہمیشہ مصروف رکھا۔
ان کے علمی کام پر آرا مختلف ہو سکتی ہیں لیکن اپنے علمی سفر میں انھوں نے جتنا علمی سرمایہ کتابی شکل میں ایک جگہ اکٹھا کر دیا، وہ بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ اللہ ان کی قبر کو نور سے بھر دے، سرگودھا انھیں کبھی بھول نہ پائے گا۔
کسی گم نام محنت کش گھرانے کے چشم و چراغ نے جس طرح نام پیدا کیا، ہارون الرشید تبسم اس کی منفرد مثال ہیں۔
-
Magazines1 week ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story time: The price of a typo
-
Sports2 weeks ago
Samson rises from year of struggle to become India’s World Cup hero – Sport
-
Magazines2 weeks ago
REGION: DEATH OF THE ‘RULES-BASED ORDER’ – Newspaper
-
Magazines1 week ago
STORY TIME: CLEARER THAN BEFORE – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Trio set for debuts as Pakistan commence 2027 preparations with Bangladesh ODIs – Sport
-
Magazines2 weeks ago
NON-FICTION: THE LEGACY OF PAKISTAN CRICKET – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Amber Khan & Nadia Khan On Anchors Exploiting Broken Marriages