Connect with us

Today News

آپریشن غضب للحق میں وقفہ اور ناقابلِ اعتبارطالبان

Published

on


عید الفطر تو امن سے گزر گئی ۔ الحمد للہ۔ آج عید کا تیسرا روز ہے ۔ اِسے بھی بعض مقامی بول چال میں ’’ٹرو مرو‘‘ کے نام سے عید الفطر ہی کا ’’ایکسٹینشن‘‘ کہا جاتا ہے ۔

آج 23مارچ 2026 بھی توہے ۔ یومِ پاکستان ! دیکھا جائے تو ’’ یومِ پاکستان ‘‘بھی عید ہی ہے کہ آج سے 86برس قبل اِسی تاریخ کو اسلامیانِ ہند نے لاہور کے ایک میدان میں ایک علیحدہ مملکت کا خواب دیکھا تھا۔

اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے، صرف سات برس کے اندر اندر، حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی بے مثل اور اولوالعزم قیادت میں مسلمانانِ برصغیر نے ’’ پاکستان‘‘ کے دلنواز نام سے ایک علیحدہ، آزاد وطن بھی حاصل کر لیا ۔

غلامی کی طویل سیاہ رات کے بعد آزادی کا سویرا حاصل کرنا ہی حقیقی عید کہلا سکتا ہے : ایک مستقل عید!! آج بوجوہ ’’یومِ پاکستان‘‘ قدرے سادگی کے ساتھ منایا جا رہا ہے ۔

ایران پر مسلّط کی گئی ہلاکت خیز صہیونی و مسیحی امریکی جنگ نے ہم سب کو (بظاہر) سادگی اور کفائت شعاری اپنانے پر مجبور کر دیا ہے ۔

 یومِ پاکستان سے پانچ دن اور عید الفطر سے 4 روز قبل پاکستان نے افغان شہریوں ،افغانستان اور جنوبی ایشیا کے مجموعی اور وسیع تر امن کی خاطر پانچ دنوںکے لیے ’’آپریشن غضب للحق‘‘ میں عارضی وقفے کا اعلان کیا تھا ۔

18اور19مارچ کی درمیانی شب سے لے کر 23اور24مارچ کی درمیانی شب تک مبینہ عارضی وقفہ جاری رہے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات ( عطاء اللہ تارڑ) نے ساتھ ہی سب کو بتا دیا تھا کہ ’’اگر افغانستان کی جانب سے (مذکورہ ایام کے دوران) پاکستان پر حملہ ہُوا تو آپریشب غضب للحق بحال ہو کر پوری قوت سے پھر بروئے کار آ جائے گا۔‘‘

متشدد طالبان کے افغانستان کے خلاف شروع کیے جانے والے آپریشن غضب للحق نے حقیقی معنوں میں دہشت گرد افغان طالبان کی پاکستان مخالف خونی وارداتوں کو نَتھ ڈال دی ہے۔

دہشت گرد افغان طالبان نے پاکستان کی نرمی اور بھائی چارے بارے غلط اندازے لگا لیے تھے۔ مگر صبر کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔

پاکستان نے تنگ آکر آپریشن غضب للحق جاری کیا تو افغان طالبان قیادت کی چیخیں آسمان تک بلند ہو گئیں ۔

اب پاکستان نے از راہِ مسلم اخوت اس لیے دہشت گرد افغان طالبان کے خلاف(عید کے ایام میں) مذکورہ آپریشن میں عارضی وقفہ کیا ہے کہ مبینہ طور پر تین اہم اسلامی ممالک نے پاکستان کو ( بمشکل) اِس پر راضی کیا ہے ۔

طالبان نے بھی خدا کا شکر ادا کیا ہوگا کہ پاکستان نے آپریشن غضب للحق میں وقفہ کیا ہے ۔

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ افغان طالبان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہے۔ اور یہ حرکات مذکورہ آپریشن کا وقفہ توڑنے کا باعث بن سکتی ہیں ۔

مثال کے طور پر دو روز قبل افغان طالبان کی وزارتِ دفاع کے ایک نام نہاد ترجمان (عنائت اللہ خوارزمی) نے جھوٹ بول کر پاکستان پر بے بنیاد تہمت عائد کر دی کہ ’’پاکستان نے( آپریشن میں) وقفے بارے جو وعدہ کیا تھا، اُسے توڑ ڈالا ہے ۔‘‘

خوارزمی ’’صاحب‘‘ نے پاکستان پر یہ الزام تو لگا دیا مگر اِس کا ثبوت کوئی نہیں دیا ، بالکل اُسی طرح جس طرح جھوٹے افغان طالبان نے اگلے روز پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ ’’پاکستان نے کابل کے ایک اسپتال پر بمباری کرکے 400’’مریض‘‘ مار ڈالے ہیں۔‘‘

ہمارے وزیر اطلاعات نے اِس منافقانہ اور کاذبانہ الزام کے مقابل جو تردیدی بیان جاری کیا ہے، وہ عنائت اللہ خوارزمی کو جھوٹا ثابت کر دیتا ہے ۔

حیرت کی بات ہے کہ افغان طالبان کے ’’سپریم لیڈر‘‘ملّا ہبت اللہ نے عید کے موقع پر جو خطبہ ’’ارشاد‘‘ فرمایا ہے ، اِس میں بھی پاکستان کا نام لیے بغیر پاکستان پر اشارتاً طنز کیے گئے ہیں ۔

مُلّا ہبت اللہ کے الفاظ غیر مناسب ہیں اور دونوں ممالک میں امن سازی کی رُوح کے بالکل منافی بھی ۔ موصوف کو اِن الفاظ سے اعراض کرنا چاہیے تھا ۔ ہمیں مگر زیادہ افسوس اور رنج دہشت گرد افغان طالبان کے ترجمان (عنائت اللہ خوارزمی) کے بیان سے ہُوا ہے ۔

 منافق کی جو نشانیاں بیان کی گئی ہیں ، اُن میں سے دو بڑی یہ ہیں:(۱) جب بھی بات کرے، جھوٹ بولے(۲) جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے ۔ یہ نہائت شاندار، تاریخی اور بے مثال کسوٹی ہے ۔

جب ہم اِس کسوٹی پر مُلّا و مقتدر افغان طالبان کو پرکھتے ہیں تو حیران کن طور پر یہ دہشت پسند جتھے اِن پر پورے اُترتے ہیں۔ کذب گوئی میں چھوٹی بڑی افغان طالبان قیادت یکساں ہو چکی ہے اور یوں پاکستان سمیت دُنیا بھر کے لیے ناقابلِ اعتبار بھی۔

پچھلے ہی ہفتے افغان طالبان نے دعویٰ کیا اور ریاستی سطح پر کئی ٹویٹس بھی کیے کہ ’’ پاکستان نے کابل پر حملہ کرکے ایک اسپتال میں زیر علاج 400لوگوں کو مار ڈالا ہے ۔‘‘ بھارتی میڈیا نے افغان طالبان کے اِس جھوٹ کو بانس پر چڑھانے کی ناکام کوشش کی۔

مگر بعد ازاں افغان طالبان نے اپنی ہی کی گئی جملہ ٹویٹس حذف (Delete) کردیں ۔ اور جب عالمی میڈیا نے افغان طالبان سے مبینہ400 ’’مریضوں‘‘ کے مبینہ قتل کے ثبوت مانگے تو اِس کا جواب بھی اِن کذابوں کے پاس نہیں تھا۔

افغان طالبان نے یہ جھوٹ بول کر دُنیا کی ہمدردیاں بھی سمیٹنا چاہی تھیں اور یہ بھی تمنا کی تھی کہ پاکستان نے خونخوار دہشت گردوں کے خلاف جو گرم تعاقب جاری رکھا ہُوا ہے، اِس میں بھی کمی آ جائے گی ۔

پاکستان نے آپریشن غضب للحق میں عارضی وقفہ کرکے خوفزدہ افغان طالبان کی ایک تمنا تو قدرے پوری کر دی ہے ۔

وعدہ شکنی میں تو افغان طالبان نے دوامی ، عالمی اور بے نظیر شہرت حاصل کر رکھی ہے ۔ چار سال قبل دوحہ ( قطر) میں اِس جتھے نے دُنیا کے سامنے عہد کیا تھا کہ ’’افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہو گی نہ افغانستان کو کسی بھی دہشت گرد گروہ کو استعمال کرنے دیا جائے گا۔‘‘

وقت نے ثابت کیا کہ اِس عہد کی ابھی سیاہی بھی خشک نہیں ہُوئی تھی کہ افغانستان پر مسلّط طالبان جتھے نے عہد شکنی شروع کر دی ۔

اور اُسی پاکستان کو انھوں نے ہدف بنایا جس نے انھیں اور ان کی آل اولادوں کو برسہا تک پناہ دیے رکھی اور انھیں پالا پوسا تھا۔ اِس جتھے نے ثابت کیا کہ اِن کی گھٹی ہی میں احسان فراموشی ہے ۔ حیرانی کی بات ہے کہ پاکستان نے بھی اِن پر اعتبار کر لیا ۔

حالانکہ یہ وہی جتھے تھے جن کے بڑوں نے 1993 میں( خانہ کعبہ میں بیٹھ کر) افغانستان میں قیامِ امن بارے وعدے کیے اور قرآن پاک پر حلف دیے تھے، مگر پھر اِن سب نے اپنی جبلّت کے تحت سب قسمیں توڑ ڈالیں۔

 حیرت انگیز بات ہے کہ اِن وعدہ شکنوں پر پاکستان نے بحیثیتِ ریاست اور پاکستانی عوام نے بطورِ قوم اعتبار کیا ۔ شائد اِسی لیے ہمارے وزیر دفاع ، خواجہ محمد آصف، کو 17مارچ2026 کو ، بالآخر،اپنی ایک ٹویٹ میں یوں کہنا پڑا:’’ ہم نے اپنی78سالہ تاریخ میں بہت غلطیاں کیں ، لیکن افغانوں کی مہمان نوازی سب سے بڑی غلطی تھی۔

محسن کش افغان طالبان اُس ریاست پر حملہ آور ہیں جس نے 50سال اِنہیں پناہ دی ‘‘ ۔ خواجہ صاحب نے مذکورہ پیغام لکھ کر دراصل اِس راکشش و عفریت بارے تاریخی حقائق کو واشگاف کیا ہے ۔

ہم سب نے افغان طالبان پر اعتماد اور احسانات کرکے جو فاش غلطیاں کیں ، شائد خواجہ صاحب کا اعتراف و اقرار ہماری غلطیوں کا کچھ کفارہ ہو سکے ۔

خواجہ صاحب کا مذکورہ اعتراف و اقرار اِس امر کو بھی سب پر عیاں کرتا ہے کہ افغانستان بطورِ سر زمین اور افغان بطورِ قوم کبھی بھی ہمارے ’’برادر‘‘ نہیں تھے ۔ناقابلِ اعتبار و برادر کش افغان طالبان قیادت کے کذب وریا کو ہمارے ہاںاعلیٰ سطح پر بھی بے نقاب کیا گیا ہے ۔

یہ تازہ ’’نقاب کشائی‘‘ ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کی ہے ۔ جنرل احمد شریف چوہدری صاحب نے چند روز قبل دلائل کے ساتھ افغان طالبان کے سبھی جھوٹوں کا پردہ فاش کر دیا ہے ۔

اُن کے یہ الفاظ شائد افغان طالبان قیادت نے بطورِ وارننگ بھی سُنے ہوں گے:’’طالبان فیصلہ کرلیں کہ اُنھوں نے دہشتگردوں کو بچانا ہے یا افغانستان کو ۔‘‘ اور یہ الفاظ شائد وہ تین اسلامی ممالک بھی ( زیادہ آسان الفاظ کے ساتھ) افغان طالبان قیادت تک پہنچا دیں جن کی درخواست پر پُرعزم پاکستان نے ’’آپریشن غضب للحق‘‘ میں چند دنوں کے لیے عارضی وقفہ کررکھا ہے ۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

یوم پاکستان اور اس کے تقاضے

Published

on


یومِ پاکستان محض ایک قومی تعطیل یا رسمی تقریب کا دن نہیں بلکہ ایک فکری، نظریاتی اور تاریخی شعور کی تجدید کا موقع ہے تاکہ اپنے اسلاف کی جدوجہد اور قربانیوں کا علم بھی ہو اور قیام پاکستان کی غرض و غائت بھی پوری طرح واضح اور عیاں ہو جائے۔

یہ دن ہمیں اُس تاریخ ساز جدوجہد کی یاد دلاتا ہے جو برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے اپنی الگ قومی شناخت، اپنے عقائد اور اقدار کے تحفظ اور اپنے سیاسی و معاشی حقوق کے حصول کے لیے کی۔

23 مارچ 1940 کو پیش کی جانے والی قرارداد نے دراصل ایک ایسی سمت کا تعین کیا جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو منتشر ہجوم سے ایک باوقار قوم میں تبدیل کر دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب غلامی کے اندھیروں میں امید کی ایک روشن کرن نے جنم لیا اور ایک ایسا خواب حقیقت کے قریب ہونے لگا جس کی تعبیر 14 اگست 1947 کو پاکستان کی صورت میں سامنے آئی۔

آج کے عالمی حالات میں پاکستان کو جن ہمہ جہت اور پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے، وہ محض وقتی یا محدود نوعیت کے نہیں بلکہ ایک گہری عالمی تبدیلی کے مظہر ہیں، جن کے اثرات ہماری معیشت، سیاست، سفارت کاری اور سماجی ڈھانچے تک پھیلے ہوئے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بالخصوص ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں کی صورت میں، نہ صرف ایک نئے علاقائی بحران کو جنم دے رہی ہے بلکہ اس کے اثرات براہِ راست پاکستان جیسے ممالک پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ کسی بھی براہِ راست تصادم سے خود کو دور رکھتے ہوئے سفارتی سطح پر امن، مذاکرات اور کشیدگی کے خاتمے کی حمایت کرے۔ سفارتی سطح پر حکومت پاکستان کی پالیسی متوازن اور مدبرانہ ہے ، جب کہ اس جنگ کے نتیجے میں معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے مسائل اور عالمی سیاسی کشمکش جیسے عوامل نے ہمارے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ 

 درحقیقت یوم پاکستان کے تاریخی پس منظر کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ ہم یومِ پاکستان کی روح کو صحیح معنوں میں جان سکیں۔آج کی نوجوان نسل کے لیے یہ تاریخی پس منظر سمجھنا اور ذہن نشین کرنا انتہائی ضروری ہے۔

یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کا قیام کسی حادثے یا وقتی سیاسی مصلحت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک منظم جدوجہد، واضح نظریے اور بے مثال قربانیوں کا حاصل تھا۔

اس جدوجہد میں لاکھوں لوگوں نے اپنے گھر بار چھوڑے، اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اپنے مستقبل کو ایک غیر یقینی راستے پر ڈال دیا۔

ان قربانیوں کا تقاضا صرف ایک آزاد ریاست کا حصول نہیں تھا بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل تھا جو انصاف، مساوات، رواداری اور فلاحی اصولوں پر قائم ہو۔

بدقسمتی سے، آزادی کے بعد کے سفر میں ہم ان اصولوں کو پوری طرح عملی جامہ پہنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے، اگر ہم دیانتداری سے اپنا جائزہ لیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ آج بھی ہمارا معاشرہ کئی بنیادی مسائل سے دوچار ہے۔

کرپشن، ناانصافی، اداروں کی کمزوری، سیاسی عدم استحکام اور معاشی مشکلات وہ چیلنجز ہیں جو نہ صرف ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ ہمارے قومی تشخص کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ یہ مسائل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے بانیان کے وژن کو کہیں نہ کہیں نظر انداز کیا ہے۔

یومِ پاکستان کا ایک اہم تقاضا خود احتسابی ہے۔ یہ دن ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم خود سے سوال کریں کہ ہم نے اس ملک کے لیے کیا کیا ہے اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیسا پاکستان دینا چاہتے ہیں۔

کیا ہم نے اپنی ذمے داریوں کو اسی طرح نبھایا ہے جس طرح ہمیں نبھانا چاہیے تھا؟ کیا ہم نے قانون کی بالادستی کو تسلیم کیا ہے؟ کیا ہم نے اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح نہیں دی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ہمیں نہایت ایمانداری سے تلاش کرنے ہوں گے۔

تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے نظریات پر قائم رہتی ہیں اور وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالتی ہیں۔ پاکستان کے قیام کا نظریہ دو قومی نظریہ تھا، جس کی بنیاد اس حقیقت پر تھی کہ مسلمان اپنی مذہبی، ثقافتی اور سماجی شناخت کے لحاظ سے ایک الگ قوم ہیں۔

اس نظریے نے ہمیں ایک پلیٹ فارم فراہم کیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری تھا کہ ہم ایک ایسا نظام قائم کرتے جو اسلامی اصولوں اور جدید تقاضوں کا حسین امتزاج ہوتا۔ افسوس کہ ہم اس توازن کو قائم رکھنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکے۔

تعلیم اس تناظر میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک قوم کی ترقی کا دارومدار اس کی تعلیمی بنیادوں پر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے، ہمارے ہاں تعلیمی نظام کئی مسائل کا شکار ہے۔ نصاب کی فرسودگی، تحقیق کی کمی اور عملی مہارتوں پر عدم توجہ نے ہماری نئی نسل کو وہ صلاحیتیں فراہم نہیں کیں جو موجودہ دور کے لیے ضروری ہیں۔

ہمیں تعلیم کو محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے کردار سازی، تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کی ترقی کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی اور جدید علوم پر خصوصی توجہ دینی ہوگی تاکہ ہم عالمی سطح پر اپنا مقام بنا سکیں۔

معاشی استحکام بھی یومِ پاکستان کے تقاضوں میں شامل ہے۔ ایک مضبوط معیشت کے بغیر کوئی بھی ملک حقیقی معنوں میں خودمختار نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔

اس میں ٹیکس نظام کی بہتری، برآمدات میں اضافہ، مقامی صنعتوں کی ترقی، اور غیر ضروری درآمدات میں کمی شامل ہے۔ ہمیں اپنے وسائل کو دانشمندی سے استعمال کرنا ہوگا اور خود انحصاری کی طرف بڑھنا ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتے ہیں۔

قانون کی بالادستی ایک مضبوط ریاست کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر قانون سب کے لیے یکساں نہ ہو تو معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ قانون کا اطلاق بلا امتیاز ہو اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔

انصاف کی فوری اور شفاف فراہمی بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ تاخیر سے ملنے والا انصاف دراصل ناانصافی کے مترادف ہوتا ہے۔قومی یکجہتی بھی یومِ پاکستان کا ایک اہم پہلو ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں اور قومیتوں کا حسین امتزاج ہے۔

یہ تنوع ہماری طاقت ہو سکتا ہے اگر ہم اسے مثبت انداز میں اپنائیں۔ ہمیں لسانی، نسلی اور صوبائی تعصبات سے بالاتر ہو کر ایک قوم کے طور پر سوچنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری اصل شناخت پاکستانی ہونا ہے، اور یہی شناخت ہمیں متحد رکھ سکتی ہے۔

میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی اس دور میں نہایت اہم ہو چکا ہے۔ یہ ذرائع نہ صرف معلومات کی ترسیل کا ذریعہ ہیں بلکہ رائے عامہ کی تشکیل میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

ہمیں ان ذرائع کا مثبت استعمال یقینی بنانا ہوگا اور جھوٹی خبروں، نفرت انگیز مواد اور بے بنیاد پروپیگنڈے سے بچنا ہوگا۔ ہر فرد کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس کی ایک پوسٹ یا ایک بیان بھی معاشرے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

یومِ پاکستان ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔ ایمانداری، محنت، دیانتداری اور نظم و ضبط کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔

ہمیں اپنے فرائض کو اسی طرح اہمیت دینی ہوگی جس طرح ہم اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ ایک اجتماعی ذمے داری ہے جسے ہر شہری کو سمجھنا ہوگا۔

یومِ پاکستان ہمیں ایک نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے انتھک جدوجہد جاری رکھنے‘اندرونی اتحاد اور نظم و نسق قائم رکھنے کا پیغام دیتا ہے۔

یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم داخلی طور پر متحد ہوں، پاکستان کے اتحاد اور ترقی کے عمل میں شریک ہونے کے لیے مخلص ہوں اور مسلسل محنت کریں تو ہم ہر مشکل پر قابو پا سکتے ہیں۔

ہمیں اپنے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے حال کو بہتر بنانا ہوگا اور اپنے مستقبل کو روشن کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم ایک ایسا پاکستان تعمیر کریں گے جو اپنے قیام کے مقاصد کی حقیقی عکاسی کرے، جہاں انصاف ہو، مساوات ہو، اور ہر شہری کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ یہی یومِ پاکستان کا اصل تقاضا ہے اور یہی ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔
 





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، زخمی سمیت 3 ملزمان گرفتار

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے مختلف علاقوں میں مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران زخمی سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ 

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ سٹی کے علاقے کھارادر میں دوران پیٹرولنگ پولیس کا ڈاکوؤں سے آمنا سامنا ہوا۔

ملزمان کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس پر پولیس نے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ملزم عدنان ولد فاروق شدید زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔

ترجمان ڈسٹرکٹ سٹی پولیس کے مطابق ملزم کے قبضے سے ایک پستول بمعہ راؤنڈز اور چھینی ہوئی موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے۔

ملزم کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ اس کا سابقہ کریمنل ریکارڈ بھی چیک کیا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم اس سے قبل بھی متعدد مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جا چکا ہے۔

دوسری جانب کیماڑی کے علاقے مچھر کالونی میں ڈاکس پولیس کا دو مسلح ملزمان سے ریلوے لائن کے قریب مقابلہ ہوا۔

پولیس کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ایک زخمی سمیت دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت جعفر عالم اور یونس کے نام سے ہوئی ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے ایک پستول اور کھارادر کے علاقے سے چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد کی گئی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیے جا رہے ہیں جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، جھگڑے کے دوران فائرنگ سے 2 بچوں سمیت 3 افراد زخمی

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں نارتھ ناظم آباد کے علاقے واحد کالونی میں فائرنگ کے واقعے میں 2 بچوں سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے۔

ریسکیو حکام کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں میں 7 سالہ راحیل ولد سانول، 14 سالہ شہادت حسین ولد غلام شبیر اور 20 سالہ احد ولد نظیر شامل ہیں۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔

ایس ایچ او تھانہ ناتھ ناظم آباد شاہد آدم کا کہنا ہے کہ تفتیش کے مطابق واقعہ مبینہ طور پر تیز آواز میں میوزک چلانے پر ہونے والے جھگڑے کے باعث پیش آیا۔

عینی شاہدین نے پولیس۔کو بتایا کہ شیرو نامی شخص کی جانب سے گاڑی میں اونچی آواز میں گانے بجانے پر تنازع کھڑا ہوا، جس پر عمران نامی شخص نے منع کیا تو تلخ کلامی بڑھ گئی۔

جھگڑے نے شدت اختیار کی اور مبینہ طور پر ملزمان نے دیگر افراد کو بلا کر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 2 بچے بھی زخمی ہوگئے۔ 

پولیس ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث  شیرو نامی شخص  مبینہ طور پر نشے کی حالت میں تھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ملوث ملزمان کی تلاش کے لیے کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending