Today News
فرزند سرگودھا – ایکسپریس اردو
یہ تذکرہ اس شخص کا ہے جسے میں نے مدتوں دور سے دیکھا۔ پھر اتفاق ایسا ہوا کہ ملاقات ہوئی اور وہی آخری ثابت ہوئی۔ یہ تذکرہ اقبال کی برکت تھی کہ قریب و دور سے بہت سے لوگ کوئٹہ میں اکٹھے ہوئے۔ ان میں ایک ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم بھی تھے۔ انھوں نے مجھے دیکھا تو محبت سے ملے اور کہا ؎
آیا ہے آسماں سے اڑ کر کوئی ستارہ
یا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرن میں
یا شب کی سلطنت میں دن کا سفیر آیا
غربت میں آ کے چمکا، گمنام تھا وطن میں
یہ ان کی محبت کا انداز تھا۔ میں نے ان کے گھٹنے چھوئے اور عرض کی کہ ایسا نہ کریں ڈاکٹر صاحب!یہ ستارہ تو غربت میں آپ کی عظمت کا اسیر ہوا ہے۔
خیر، یہ ہماری پہلی تفصیلی ملاقات تھی جس نے ہمیں یوں ملا دیا جیسے بچھڑے ہوئے ملتے ہیں اور اس خوف سے کہ کہیں پھر بچھڑ نہ جائیں، ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں چھوڑتے۔
ہارون الرشید تبسم کیا تھے اور کیا نہیں تھے؟ اس سوال پر بات ہو سکتی ہے لیکن بہتر ہے کہ اصل بات کی جائے۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر خود اعتمادی اور مستقل مزاجی کو مجسم دیکھنے کی آرزو ہے تو انھیں دیکھا جائے۔
ہارون الرشید تبسم کی رحلت پر کسی نے لکھا کہ ان کے بغیر سرگودھا سونا دکھائی دیتا ہے۔ ایسی بات بڑے لوگوں اور دولت مندوں کے لیے کہنے کی روایت ہے۔ کیا ہارون بہت دولت مند تھے؟
اس سوال کے جواب میں یہ کہنا شاید مناسب نہ ہو کہ وہ دل کے غنی تھے۔ وہ یقیناً دل کے غنی تھے۔ دل کے غنی تو بہت ہوتے ہیں لیکن انھیں کوئی گھاس نہیں ڈالتا۔
یہ دنیا مادی وسائل اور دھن دولت کو دیکھتی ہے۔ یہ چیز تو ان کے پاس نہیں تھی۔ وہ ایک ایسے خاندان کے چشم و چراغ تھے جیسے ہم آپ سب ہوتے ہیں یعنی معمولی اور گم نام سا خاندان اور ویسے ہی محنت کش اور اپنے کام سے کام رکھنے والے مٹے ہوئے لوگ۔ ہارون الرشید بھی مٹے ہوئے اور گم نام لوگوں کے گھر میں پیدا ہوئے۔
اس بچے کی پیشانی کی کشادگی اور آنکھوں کی چمک دیکھنے والوں کو چندھیا دینے والی تھی۔ یہ دیکھ کر دائی نے پرجوش ہو کر زچہ کا ماتھا چوما اور کہا:
‘ نی مغل زادیے، تیرا بچہ قسمت آلا ہوئے گا’
بچے کی پیدائش پر لوگ باگ شگون سے کام لیتے ہیں اور اچھے بول زبان سے نکالتے ہیں۔ اس مغل زادی نے بھی دائی کی بات سن کر کچھ ایسا ہی سوچا ہو گا لیکن وہ جو کہا جاتا ہے کہ پوت کے پاؤں پالنے میں۔
یہ بچہ بھی جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا، لوگ یقین کرتے گئے کہ یہ بڑا ہو کر ضرور نام پیدا کرے گا پھر ایسا ہی ہوا۔
ہارون الرشید تبسم نے نام ضرور پیدا کیا لیکن یہ سفر مختصر تھا اور نہ آسان۔ ان کی اور میری عمر میں کافی فرق تھا۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جب یہ نوجوان شہرت کی بلندیوں پر پاؤں دھرنے ہی والا تھا، ان سطور کا لکھنے والا لڑکپن کی دہلیز پر ابھی پہنچا ہی ہو گا۔
ان دنوں ہارون کے مشغلے دل چسپ تھے۔ ان کی سرگرمیاں کیا ہوتی تھیں، اتنا زمانہ گزر جانے کے بعد بہت کچھ بھول جاتا ہے لیکن مجھے آج بھی یاد ہے کہ ان دنوں وہ شہری دفاع کی کالی قمیص اور خاکی پینٹ پہنتے سڑکوں پر گھوما کرتے۔
شہری دفاع کے محکمے کا وجود خبر نہیں آج ہے یا نہیں لیکن اس زمانے میں بہت سے لوگ اس سے وابستہ ہوتے اور مبلغ 25 روپے وظیفہ پایا کرتے تھے۔ محکمے کی وردی یہ لوگ بھی زیب تن کیا کرتے ہیں لیکن ہارون کی بات اور تھی۔
وردی تو سب لوگوں کو ایک جگہ سے ایک ہی جیسی ملتی یعنی ڈھیلی ڈھالی اور بے ڈھنگی لیکن یہی بے ڈھنگا لباس جب ہارون پہنتے تو صورت بدل جاتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں لباس پہننے کا سلیقہ تھا۔
وہ اپنے ہم عصروں کی طرح جیسے کپڑے ملتے، ویسے ہی نہیں پہن لیتے تھے بلکہ تھوڑی سی محنت کر کے وہ انھیں درست کرا کے پہنتے۔ سلیقے اور لباس کی پھبن سے ان کا زندگی بھر کا ساتھ رہا۔ تیاری کے بغیر گھر سے باہر قدم رکھتے ہوئے خال ہی کسی نے انھیں دیکھا ہو گا۔ ایسا اہتمام کرنے والے دنیا میں کم لوگ ہوتے ہیں۔
مجھے یہ تو معلوم نہیں ہے کہ سرگودھا کا وہ کون خوش قسمت ڈپٹی کمشنر ہوگا، ہارون جس کی نگاہ میں آئے اور اس نے ان سے کام لینے کا سوچا لیکن اتنا میں جانتا ہوں کہ وہ اچھا زمانہ تھا، حکومت کو گھر میں قید بہو بیٹیوں کی دل چسپی کی فکر ہوا کرتی تھی جس کا سب بڑا مظہر مینا بازار تھا۔
یوں شہر کی ساری رونق کمپنی باغ میں سمٹ جاتی۔ رونق میلے یوں ہی نہیں ہو جاتے، ان کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔ اس مقصد کے لیے بہت سے لوگ خون پسینہ ایک کیا کرتے ہوں گے، میں انھیں تو نہیں جانتا لیکن ایک دل چسپ مضمون کا پوسٹر مجھے آج بھی یاد ہے۔ پوسٹر کا عنوان ہوا کرتا تھا:
اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک
شعلہ سا لپک جائے ہے، آواز تو دیکھو
یہ پوسٹر ہارون الرشید تبسم شائع کیا کرتے تھے جس میں بعضے پر ان کی تصویر بھی ہوتی۔ پوسٹر پر وہ نک سک سے درست شہری دفاع کے یونیفارم میں سیلیوٹ کرتے ہوئے دکھائی دیتے۔
شہری دفاع، اس کا یونیفارم اور ہارون الرشید میرے لیے لازم و ملزوم ہیں تو اس کا سبب یہی پوسٹر ہے جسے میں نے اپنے لڑکپن میں سال ہا سال سرگودھا کے در و دیوار پر دیکھا۔ مینا بازار اور اس کی دل چسپ سرگرمیوں کے انتظام میں انھوں نے اتنی جان ماری اور اس خلوص سے کام کیا کہ رفتہ رفتہ وہ شہر کی دوسری سرگرمیوں کا بھی حصہ بنتے چلے گئے۔
14 اگست کو پرچم کشائی ہو، 23 مارچ کو پولیس اور شہری دفاع کی پریڈ ہو یا چھ ستمبر کو یوم دفاع کی سرگرمیاں، ان سب کی کام یابی سرکار ہی نہیں عوام کے ذہن میں بھی ہمارے جانے پہچانے ہارون الرشید تبسم ہی کا نام آتا۔
سماجی زندگی میں جس طرح انھوں نے مستقل مزاجی سے کام لیا، تحریر و تصنیف کے شعبے میں بھی انھوں نے خود کو ہمیشہ مصروف رکھا۔
ان کے علمی کام پر آرا مختلف ہو سکتی ہیں لیکن اپنے علمی سفر میں انھوں نے جتنا علمی سرمایہ کتابی شکل میں ایک جگہ اکٹھا کر دیا، وہ بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ اللہ ان کی قبر کو نور سے بھر دے، سرگودھا انھیں کبھی بھول نہ پائے گا۔
کسی گم نام محنت کش گھرانے کے چشم و چراغ نے جس طرح نام پیدا کیا، ہارون الرشید تبسم اس کی منفرد مثال ہیں۔
Today News
یوم پاکستان کی 86 ویں سالگرہ پر صدر مملکت اور وزیر اعظم کی قوم کو دلی مبارکباد
اسلام آباد:
یوم پاکستان کی 86 ویں سالگرہ کے موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اتحاد، استحکام اور قومی عزم کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ 23 مارچ 1940 وہ تاریخی دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں نے قراردادِ پاکستان منظور کی اور ایک آزاد وطن کا تصور پیش کیا، جہاں اسلامی اقدار کے مطابق زندگی گزاری جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم اپنے بزرگوں کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جن کی بدولت پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔
صدر نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے وقت ملک کو بے شمار چیلنجز کا سامنا تھا، تاہم قوم نے باہمی تعاون، محنت اور صلاحیت کے ذریعے مشکلات پر قابو پایا اور ہر شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مضبوط ریاستی ادارے قائم کیے، دفاعی صلاحیت کو ناقابلِ تسخیر بنایا اور جوہری قوت حاصل کی۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف طویل اور کامیاب جنگ لڑی گئی جبکہ قدرتی آفات کے دوران قوم نے ایثار اور یکجہتی کی مثالیں قائم کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج بھی ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز درپیش ہیں اور قومی اتحاد و یکجہتی ہی ان سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ پاکستان ایک تاریخ ساز دن ہے جب مسلم قیادت نے ایک آزاد وطن کے قیام کے لیے متحد ہو کر بنیاد رکھی۔
انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال کے تصور نے ایسی ریاست کی بنیاد فراہم کی جہاں مسلمانوں کے آئینی و سیاسی حقوق محفوظ ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ 14 اگست 1947 کو پاکستان کا قیام ہمارے آبا و اجداد کی عظیم قربانیوں کا نتیجہ ہے اور قوم نے ہر آزمائش میں عزم و ہمت کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سفر ایک نوزائیدہ ریاست سے جوہری طاقت بننے تک استقامت اور مضبوط عزم کی داستان ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے چیلنجز کے باوجود معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا، افراطِ زر میں کمی آئی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مثبت اقتصادی اعشاریے درست سمت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے حب الوطنی کے جذبے کے تحت ملکی آزادی اور خودمختاری کا دفاع کر رہے ہیں، جبکہ افواجِ پاکستان نے دشمن کے عزائم ناکام بنا کر عسکری تاریخ کا سنہرا باب رقم کیا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیاں قومی عزم کی علامت ہیں اور ملک کے دفاع کو مزید مضبوط بنا رہی ہیں۔
صدر اور وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ متحد ہو کر پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال ملک بنایا جائے گا۔
Today News
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
یومِ پاکستان محض ایک قومی تعطیل یا رسمی تقریب کا دن نہیں بلکہ ایک فکری، نظریاتی اور تاریخی شعور کی تجدید کا موقع ہے تاکہ اپنے اسلاف کی جدوجہد اور قربانیوں کا علم بھی ہو اور قیام پاکستان کی غرض و غائت بھی پوری طرح واضح اور عیاں ہو جائے۔
یہ دن ہمیں اُس تاریخ ساز جدوجہد کی یاد دلاتا ہے جو برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے اپنی الگ قومی شناخت، اپنے عقائد اور اقدار کے تحفظ اور اپنے سیاسی و معاشی حقوق کے حصول کے لیے کی۔
23 مارچ 1940 کو پیش کی جانے والی قرارداد نے دراصل ایک ایسی سمت کا تعین کیا جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو منتشر ہجوم سے ایک باوقار قوم میں تبدیل کر دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب غلامی کے اندھیروں میں امید کی ایک روشن کرن نے جنم لیا اور ایک ایسا خواب حقیقت کے قریب ہونے لگا جس کی تعبیر 14 اگست 1947 کو پاکستان کی صورت میں سامنے آئی۔
آج کے عالمی حالات میں پاکستان کو جن ہمہ جہت اور پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے، وہ محض وقتی یا محدود نوعیت کے نہیں بلکہ ایک گہری عالمی تبدیلی کے مظہر ہیں، جن کے اثرات ہماری معیشت، سیاست، سفارت کاری اور سماجی ڈھانچے تک پھیلے ہوئے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بالخصوص ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں کی صورت میں، نہ صرف ایک نئے علاقائی بحران کو جنم دے رہی ہے بلکہ اس کے اثرات براہِ راست پاکستان جیسے ممالک پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ کسی بھی براہِ راست تصادم سے خود کو دور رکھتے ہوئے سفارتی سطح پر امن، مذاکرات اور کشیدگی کے خاتمے کی حمایت کرے۔ سفارتی سطح پر حکومت پاکستان کی پالیسی متوازن اور مدبرانہ ہے ، جب کہ اس جنگ کے نتیجے میں معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے مسائل اور عالمی سیاسی کشمکش جیسے عوامل نے ہمارے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
درحقیقت یوم پاکستان کے تاریخی پس منظر کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ ہم یومِ پاکستان کی روح کو صحیح معنوں میں جان سکیں۔آج کی نوجوان نسل کے لیے یہ تاریخی پس منظر سمجھنا اور ذہن نشین کرنا انتہائی ضروری ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کا قیام کسی حادثے یا وقتی سیاسی مصلحت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک منظم جدوجہد، واضح نظریے اور بے مثال قربانیوں کا حاصل تھا۔
اس جدوجہد میں لاکھوں لوگوں نے اپنے گھر بار چھوڑے، اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اپنے مستقبل کو ایک غیر یقینی راستے پر ڈال دیا۔
ان قربانیوں کا تقاضا صرف ایک آزاد ریاست کا حصول نہیں تھا بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل تھا جو انصاف، مساوات، رواداری اور فلاحی اصولوں پر قائم ہو۔
بدقسمتی سے، آزادی کے بعد کے سفر میں ہم ان اصولوں کو پوری طرح عملی جامہ پہنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے، اگر ہم دیانتداری سے اپنا جائزہ لیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ آج بھی ہمارا معاشرہ کئی بنیادی مسائل سے دوچار ہے۔
کرپشن، ناانصافی، اداروں کی کمزوری، سیاسی عدم استحکام اور معاشی مشکلات وہ چیلنجز ہیں جو نہ صرف ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ ہمارے قومی تشخص کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ یہ مسائل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے بانیان کے وژن کو کہیں نہ کہیں نظر انداز کیا ہے۔
یومِ پاکستان کا ایک اہم تقاضا خود احتسابی ہے۔ یہ دن ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم خود سے سوال کریں کہ ہم نے اس ملک کے لیے کیا کیا ہے اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیسا پاکستان دینا چاہتے ہیں۔
کیا ہم نے اپنی ذمے داریوں کو اسی طرح نبھایا ہے جس طرح ہمیں نبھانا چاہیے تھا؟ کیا ہم نے قانون کی بالادستی کو تسلیم کیا ہے؟ کیا ہم نے اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح نہیں دی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ہمیں نہایت ایمانداری سے تلاش کرنے ہوں گے۔
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے نظریات پر قائم رہتی ہیں اور وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالتی ہیں۔ پاکستان کے قیام کا نظریہ دو قومی نظریہ تھا، جس کی بنیاد اس حقیقت پر تھی کہ مسلمان اپنی مذہبی، ثقافتی اور سماجی شناخت کے لحاظ سے ایک الگ قوم ہیں۔
اس نظریے نے ہمیں ایک پلیٹ فارم فراہم کیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری تھا کہ ہم ایک ایسا نظام قائم کرتے جو اسلامی اصولوں اور جدید تقاضوں کا حسین امتزاج ہوتا۔ افسوس کہ ہم اس توازن کو قائم رکھنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکے۔
تعلیم اس تناظر میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک قوم کی ترقی کا دارومدار اس کی تعلیمی بنیادوں پر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے، ہمارے ہاں تعلیمی نظام کئی مسائل کا شکار ہے۔ نصاب کی فرسودگی، تحقیق کی کمی اور عملی مہارتوں پر عدم توجہ نے ہماری نئی نسل کو وہ صلاحیتیں فراہم نہیں کیں جو موجودہ دور کے لیے ضروری ہیں۔
ہمیں تعلیم کو محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے کردار سازی، تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کی ترقی کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی اور جدید علوم پر خصوصی توجہ دینی ہوگی تاکہ ہم عالمی سطح پر اپنا مقام بنا سکیں۔
معاشی استحکام بھی یومِ پاکستان کے تقاضوں میں شامل ہے۔ ایک مضبوط معیشت کے بغیر کوئی بھی ملک حقیقی معنوں میں خودمختار نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔
اس میں ٹیکس نظام کی بہتری، برآمدات میں اضافہ، مقامی صنعتوں کی ترقی، اور غیر ضروری درآمدات میں کمی شامل ہے۔ ہمیں اپنے وسائل کو دانشمندی سے استعمال کرنا ہوگا اور خود انحصاری کی طرف بڑھنا ہوگا۔
اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتے ہیں۔
قانون کی بالادستی ایک مضبوط ریاست کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر قانون سب کے لیے یکساں نہ ہو تو معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ قانون کا اطلاق بلا امتیاز ہو اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔
انصاف کی فوری اور شفاف فراہمی بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ تاخیر سے ملنے والا انصاف دراصل ناانصافی کے مترادف ہوتا ہے۔قومی یکجہتی بھی یومِ پاکستان کا ایک اہم پہلو ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں اور قومیتوں کا حسین امتزاج ہے۔
یہ تنوع ہماری طاقت ہو سکتا ہے اگر ہم اسے مثبت انداز میں اپنائیں۔ ہمیں لسانی، نسلی اور صوبائی تعصبات سے بالاتر ہو کر ایک قوم کے طور پر سوچنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری اصل شناخت پاکستانی ہونا ہے، اور یہی شناخت ہمیں متحد رکھ سکتی ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی اس دور میں نہایت اہم ہو چکا ہے۔ یہ ذرائع نہ صرف معلومات کی ترسیل کا ذریعہ ہیں بلکہ رائے عامہ کی تشکیل میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
ہمیں ان ذرائع کا مثبت استعمال یقینی بنانا ہوگا اور جھوٹی خبروں، نفرت انگیز مواد اور بے بنیاد پروپیگنڈے سے بچنا ہوگا۔ ہر فرد کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس کی ایک پوسٹ یا ایک بیان بھی معاشرے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یومِ پاکستان ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔ ایمانداری، محنت، دیانتداری اور نظم و ضبط کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
ہمیں اپنے فرائض کو اسی طرح اہمیت دینی ہوگی جس طرح ہم اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ ایک اجتماعی ذمے داری ہے جسے ہر شہری کو سمجھنا ہوگا۔
یومِ پاکستان ہمیں ایک نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے انتھک جدوجہد جاری رکھنے‘اندرونی اتحاد اور نظم و نسق قائم رکھنے کا پیغام دیتا ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم داخلی طور پر متحد ہوں، پاکستان کے اتحاد اور ترقی کے عمل میں شریک ہونے کے لیے مخلص ہوں اور مسلسل محنت کریں تو ہم ہر مشکل پر قابو پا سکتے ہیں۔
ہمیں اپنے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے حال کو بہتر بنانا ہوگا اور اپنے مستقبل کو روشن کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم ایک ایسا پاکستان تعمیر کریں گے جو اپنے قیام کے مقاصد کی حقیقی عکاسی کرے، جہاں انصاف ہو، مساوات ہو، اور ہر شہری کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ یہی یومِ پاکستان کا اصل تقاضا ہے اور یہی ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔
Today News
کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، زخمی سمیت 3 ملزمان گرفتار
کراچی:
شہر قائد کے مختلف علاقوں میں مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران زخمی سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ سٹی کے علاقے کھارادر میں دوران پیٹرولنگ پولیس کا ڈاکوؤں سے آمنا سامنا ہوا۔
ملزمان کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس پر پولیس نے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ملزم عدنان ولد فاروق شدید زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔
ترجمان ڈسٹرکٹ سٹی پولیس کے مطابق ملزم کے قبضے سے ایک پستول بمعہ راؤنڈز اور چھینی ہوئی موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے۔
ملزم کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ اس کا سابقہ کریمنل ریکارڈ بھی چیک کیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم اس سے قبل بھی متعدد مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جا چکا ہے۔
دوسری جانب کیماڑی کے علاقے مچھر کالونی میں ڈاکس پولیس کا دو مسلح ملزمان سے ریلوے لائن کے قریب مقابلہ ہوا۔
پولیس کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ایک زخمی سمیت دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت جعفر عالم اور یونس کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے ایک پستول اور کھارادر کے علاقے سے چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد کی گئی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیے جا رہے ہیں جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔
-
Magazines1 week ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story time: The price of a typo
-
Sports2 weeks ago
Samson rises from year of struggle to become India’s World Cup hero – Sport
-
Magazines1 week ago
STORY TIME: CLEARER THAN BEFORE – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Trio set for debuts as Pakistan commence 2027 preparations with Bangladesh ODIs – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Amber Khan & Nadia Khan On Anchors Exploiting Broken Marriages
-
Entertainment2 weeks ago
Eman Fatima’s Mother’s Message For Rajab Butt
-
Entertainment2 weeks ago
Rajab Butt Replies to Emaan Rajab’s Divorce Story