Today News
صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا بیگم نصرت بھٹو کی 97 ویں سالگرہ پر پیغام
کراچی:
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بیگم نصرت بھٹو کی 97 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں “مادرِ جمہوریت” کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ ان کی زندگی وقار، ثابت قدمی اور جمہوری اقدار سے مضبوط وابستگی کی علامت تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک کٹھن دور میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کھڑے ہو کر جرات اور وقار کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ذاتی طور پر بڑے صدمات برداشت کیے، مگر جمہوریت کے فروغ کے لیے اپنے عزم پر قائم رہیں۔
1977 کے بعد، انہوں نے جمہوری تحریک کی قیادت بھرپور انداز میں کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن کی حیثیت سے انہوں نے مشکل ترین وقت میں پارٹی کو متحد رکھا۔
صدر مملکت نے کہا کہ انہوں نے جمہوری قیادت کی اگلی نسل کی رہنمائی کی اور ایک اہم مرحلے پہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہیں۔
ان کی مثال آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی اور جمہوری نظام کے لیے کام کرنے والوں کو متاثر کرتی ہے۔ مشکل حالات میں ان کی قیادت نے بہت سے لوگوں کو رہنمائی دی اور یہ ہماری سیاسی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمزور طبقات، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے ان کی خدمات ان کے ورثے کا اہم حصہ ہیں۔
پاکستان بھر کے بہت سے خاندانوں کے لیے، نمائندہ سیاست کے لیے جو جگہ قائم رکھنے میں انہوں نے کردار ادا کیا، اس کے عملی اثرات سامنے آئے۔ اس کا مطلب منتخب بلدیاتی ادارے، جوابدہ نظام کے ذریعے عوامی خدمات تک رسائی، اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے والے فیصلوں میں ایک محدود مگر حقیقی آواز ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ قوم بیگم نصرت بھٹو کی قربانیوں اور بصیرت کی احسان مند رہے گی۔ الّلہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
Today News
آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کے ذمہ واشنگٹن اور تل ابیب ہیں، ایرانی وزیر خارجہ
ایران نے آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ پر واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس صورتحال کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرا دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں جو رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، وہ دراصل اس تنازع کا نتیجہ ہیں جس کا آغاز امریکا اور اسرائیل نے کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اس صورتحال کا مورد الزام ٹھہرانا حقائق کے منافی ہے۔
عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی قسم کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی ذمہ داری بھی انہی قوتوں پر عائد ہوتی ہے جو کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بھی اسی مؤقف کو دہرایا گیا اور کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطرناک حالات کے براہِ راست ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولا نہ گیا تو سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے۔
Today News
یوم پاکستان کی 86 ویں سالگرہ پر صدر مملکت اور وزیر اعظم کی قوم کو دلی مبارکباد
اسلام آباد:
یوم پاکستان کی 86 ویں سالگرہ کے موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اتحاد، استحکام اور قومی عزم کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ 23 مارچ 1940 وہ تاریخی دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں نے قراردادِ پاکستان منظور کی اور ایک آزاد وطن کا تصور پیش کیا، جہاں اسلامی اقدار کے مطابق زندگی گزاری جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم اپنے بزرگوں کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جن کی بدولت پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔
صدر نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے وقت ملک کو بے شمار چیلنجز کا سامنا تھا، تاہم قوم نے باہمی تعاون، محنت اور صلاحیت کے ذریعے مشکلات پر قابو پایا اور ہر شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مضبوط ریاستی ادارے قائم کیے، دفاعی صلاحیت کو ناقابلِ تسخیر بنایا اور جوہری قوت حاصل کی۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف طویل اور کامیاب جنگ لڑی گئی جبکہ قدرتی آفات کے دوران قوم نے ایثار اور یکجہتی کی مثالیں قائم کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج بھی ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز درپیش ہیں اور قومی اتحاد و یکجہتی ہی ان سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ پاکستان ایک تاریخ ساز دن ہے جب مسلم قیادت نے ایک آزاد وطن کے قیام کے لیے متحد ہو کر بنیاد رکھی۔
انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال کے تصور نے ایسی ریاست کی بنیاد فراہم کی جہاں مسلمانوں کے آئینی و سیاسی حقوق محفوظ ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ 14 اگست 1947 کو پاکستان کا قیام ہمارے آبا و اجداد کی عظیم قربانیوں کا نتیجہ ہے اور قوم نے ہر آزمائش میں عزم و ہمت کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سفر ایک نوزائیدہ ریاست سے جوہری طاقت بننے تک استقامت اور مضبوط عزم کی داستان ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے چیلنجز کے باوجود معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا، افراطِ زر میں کمی آئی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مثبت اقتصادی اعشاریے درست سمت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے حب الوطنی کے جذبے کے تحت ملکی آزادی اور خودمختاری کا دفاع کر رہے ہیں، جبکہ افواجِ پاکستان نے دشمن کے عزائم ناکام بنا کر عسکری تاریخ کا سنہرا باب رقم کیا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیاں قومی عزم کی علامت ہیں اور ملک کے دفاع کو مزید مضبوط بنا رہی ہیں۔
صدر اور وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ متحد ہو کر پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال ملک بنایا جائے گا۔
Today News
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
یومِ پاکستان محض ایک قومی تعطیل یا رسمی تقریب کا دن نہیں بلکہ ایک فکری، نظریاتی اور تاریخی شعور کی تجدید کا موقع ہے تاکہ اپنے اسلاف کی جدوجہد اور قربانیوں کا علم بھی ہو اور قیام پاکستان کی غرض و غائت بھی پوری طرح واضح اور عیاں ہو جائے۔
یہ دن ہمیں اُس تاریخ ساز جدوجہد کی یاد دلاتا ہے جو برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے اپنی الگ قومی شناخت، اپنے عقائد اور اقدار کے تحفظ اور اپنے سیاسی و معاشی حقوق کے حصول کے لیے کی۔
23 مارچ 1940 کو پیش کی جانے والی قرارداد نے دراصل ایک ایسی سمت کا تعین کیا جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو منتشر ہجوم سے ایک باوقار قوم میں تبدیل کر دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب غلامی کے اندھیروں میں امید کی ایک روشن کرن نے جنم لیا اور ایک ایسا خواب حقیقت کے قریب ہونے لگا جس کی تعبیر 14 اگست 1947 کو پاکستان کی صورت میں سامنے آئی۔
آج کے عالمی حالات میں پاکستان کو جن ہمہ جہت اور پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے، وہ محض وقتی یا محدود نوعیت کے نہیں بلکہ ایک گہری عالمی تبدیلی کے مظہر ہیں، جن کے اثرات ہماری معیشت، سیاست، سفارت کاری اور سماجی ڈھانچے تک پھیلے ہوئے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بالخصوص ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں کی صورت میں، نہ صرف ایک نئے علاقائی بحران کو جنم دے رہی ہے بلکہ اس کے اثرات براہِ راست پاکستان جیسے ممالک پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ کسی بھی براہِ راست تصادم سے خود کو دور رکھتے ہوئے سفارتی سطح پر امن، مذاکرات اور کشیدگی کے خاتمے کی حمایت کرے۔ سفارتی سطح پر حکومت پاکستان کی پالیسی متوازن اور مدبرانہ ہے ، جب کہ اس جنگ کے نتیجے میں معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے مسائل اور عالمی سیاسی کشمکش جیسے عوامل نے ہمارے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
درحقیقت یوم پاکستان کے تاریخی پس منظر کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ ہم یومِ پاکستان کی روح کو صحیح معنوں میں جان سکیں۔آج کی نوجوان نسل کے لیے یہ تاریخی پس منظر سمجھنا اور ذہن نشین کرنا انتہائی ضروری ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کا قیام کسی حادثے یا وقتی سیاسی مصلحت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک منظم جدوجہد، واضح نظریے اور بے مثال قربانیوں کا حاصل تھا۔
اس جدوجہد میں لاکھوں لوگوں نے اپنے گھر بار چھوڑے، اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اپنے مستقبل کو ایک غیر یقینی راستے پر ڈال دیا۔
ان قربانیوں کا تقاضا صرف ایک آزاد ریاست کا حصول نہیں تھا بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل تھا جو انصاف، مساوات، رواداری اور فلاحی اصولوں پر قائم ہو۔
بدقسمتی سے، آزادی کے بعد کے سفر میں ہم ان اصولوں کو پوری طرح عملی جامہ پہنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے، اگر ہم دیانتداری سے اپنا جائزہ لیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ آج بھی ہمارا معاشرہ کئی بنیادی مسائل سے دوچار ہے۔
کرپشن، ناانصافی، اداروں کی کمزوری، سیاسی عدم استحکام اور معاشی مشکلات وہ چیلنجز ہیں جو نہ صرف ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ ہمارے قومی تشخص کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ یہ مسائل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے بانیان کے وژن کو کہیں نہ کہیں نظر انداز کیا ہے۔
یومِ پاکستان کا ایک اہم تقاضا خود احتسابی ہے۔ یہ دن ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم خود سے سوال کریں کہ ہم نے اس ملک کے لیے کیا کیا ہے اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیسا پاکستان دینا چاہتے ہیں۔
کیا ہم نے اپنی ذمے داریوں کو اسی طرح نبھایا ہے جس طرح ہمیں نبھانا چاہیے تھا؟ کیا ہم نے قانون کی بالادستی کو تسلیم کیا ہے؟ کیا ہم نے اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح نہیں دی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ہمیں نہایت ایمانداری سے تلاش کرنے ہوں گے۔
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے نظریات پر قائم رہتی ہیں اور وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالتی ہیں۔ پاکستان کے قیام کا نظریہ دو قومی نظریہ تھا، جس کی بنیاد اس حقیقت پر تھی کہ مسلمان اپنی مذہبی، ثقافتی اور سماجی شناخت کے لحاظ سے ایک الگ قوم ہیں۔
اس نظریے نے ہمیں ایک پلیٹ فارم فراہم کیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری تھا کہ ہم ایک ایسا نظام قائم کرتے جو اسلامی اصولوں اور جدید تقاضوں کا حسین امتزاج ہوتا۔ افسوس کہ ہم اس توازن کو قائم رکھنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکے۔
تعلیم اس تناظر میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک قوم کی ترقی کا دارومدار اس کی تعلیمی بنیادوں پر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے، ہمارے ہاں تعلیمی نظام کئی مسائل کا شکار ہے۔ نصاب کی فرسودگی، تحقیق کی کمی اور عملی مہارتوں پر عدم توجہ نے ہماری نئی نسل کو وہ صلاحیتیں فراہم نہیں کیں جو موجودہ دور کے لیے ضروری ہیں۔
ہمیں تعلیم کو محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے کردار سازی، تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کی ترقی کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی اور جدید علوم پر خصوصی توجہ دینی ہوگی تاکہ ہم عالمی سطح پر اپنا مقام بنا سکیں۔
معاشی استحکام بھی یومِ پاکستان کے تقاضوں میں شامل ہے۔ ایک مضبوط معیشت کے بغیر کوئی بھی ملک حقیقی معنوں میں خودمختار نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔
اس میں ٹیکس نظام کی بہتری، برآمدات میں اضافہ، مقامی صنعتوں کی ترقی، اور غیر ضروری درآمدات میں کمی شامل ہے۔ ہمیں اپنے وسائل کو دانشمندی سے استعمال کرنا ہوگا اور خود انحصاری کی طرف بڑھنا ہوگا۔
اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتے ہیں۔
قانون کی بالادستی ایک مضبوط ریاست کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر قانون سب کے لیے یکساں نہ ہو تو معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ قانون کا اطلاق بلا امتیاز ہو اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔
انصاف کی فوری اور شفاف فراہمی بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ تاخیر سے ملنے والا انصاف دراصل ناانصافی کے مترادف ہوتا ہے۔قومی یکجہتی بھی یومِ پاکستان کا ایک اہم پہلو ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں اور قومیتوں کا حسین امتزاج ہے۔
یہ تنوع ہماری طاقت ہو سکتا ہے اگر ہم اسے مثبت انداز میں اپنائیں۔ ہمیں لسانی، نسلی اور صوبائی تعصبات سے بالاتر ہو کر ایک قوم کے طور پر سوچنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری اصل شناخت پاکستانی ہونا ہے، اور یہی شناخت ہمیں متحد رکھ سکتی ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی اس دور میں نہایت اہم ہو چکا ہے۔ یہ ذرائع نہ صرف معلومات کی ترسیل کا ذریعہ ہیں بلکہ رائے عامہ کی تشکیل میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
ہمیں ان ذرائع کا مثبت استعمال یقینی بنانا ہوگا اور جھوٹی خبروں، نفرت انگیز مواد اور بے بنیاد پروپیگنڈے سے بچنا ہوگا۔ ہر فرد کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس کی ایک پوسٹ یا ایک بیان بھی معاشرے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یومِ پاکستان ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔ ایمانداری، محنت، دیانتداری اور نظم و ضبط کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
ہمیں اپنے فرائض کو اسی طرح اہمیت دینی ہوگی جس طرح ہم اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ ایک اجتماعی ذمے داری ہے جسے ہر شہری کو سمجھنا ہوگا۔
یومِ پاکستان ہمیں ایک نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے انتھک جدوجہد جاری رکھنے‘اندرونی اتحاد اور نظم و نسق قائم رکھنے کا پیغام دیتا ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم داخلی طور پر متحد ہوں، پاکستان کے اتحاد اور ترقی کے عمل میں شریک ہونے کے لیے مخلص ہوں اور مسلسل محنت کریں تو ہم ہر مشکل پر قابو پا سکتے ہیں۔
ہمیں اپنے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے حال کو بہتر بنانا ہوگا اور اپنے مستقبل کو روشن کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم ایک ایسا پاکستان تعمیر کریں گے جو اپنے قیام کے مقاصد کی حقیقی عکاسی کرے، جہاں انصاف ہو، مساوات ہو، اور ہر شہری کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ یہی یومِ پاکستان کا اصل تقاضا ہے اور یہی ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔
-
Magazines1 week ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story time: The price of a typo
-
Sports2 weeks ago
Samson rises from year of struggle to become India’s World Cup hero – Sport
-
Magazines1 week ago
STORY TIME: CLEARER THAN BEFORE – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Trio set for debuts as Pakistan commence 2027 preparations with Bangladesh ODIs – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Amber Khan & Nadia Khan On Anchors Exploiting Broken Marriages
-
Entertainment2 weeks ago
Eman Fatima’s Mother’s Message For Rajab Butt
-
Entertainment2 weeks ago
Rajab Butt Replies to Emaan Rajab’s Divorce Story