Today News
آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کے ذمہ واشنگٹن اور تل ابیب ہیں، ایرانی وزیر خارجہ
ایران نے آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ پر واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس صورتحال کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرا دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں جو رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، وہ دراصل اس تنازع کا نتیجہ ہیں جس کا آغاز امریکا اور اسرائیل نے کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اس صورتحال کا مورد الزام ٹھہرانا حقائق کے منافی ہے۔
عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی قسم کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی ذمہ داری بھی انہی قوتوں پر عائد ہوتی ہے جو کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بھی اسی مؤقف کو دہرایا گیا اور کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطرناک حالات کے براہِ راست ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولا نہ گیا تو سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے۔
Today News
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز
ایک صحافی و تجزیہ کار جن کا تعلق اندرون سندھ سے ہے، نے دعویٰ کیا ہے کہ کامران خان ٹیسوری ایم کیو ایم کے آخری گورنر سندھ تھے اور آیندہ کبھی سندھ کا گورنر ایم کیو ایم سے نہیں ہوگا۔
تجزیہ کرنے اور اپنی مرضی کی سیاسی حمایت کرنے کا ہر ایک کو حق ہے مگر پاکستان میں حتمی دعوے کبھی پورے ہوئے اور نہ ہی ہوں گے۔
2007سے قبل کبھی کسی نے دعویٰ کیا تھا اور نہ ہی کبھی آصف زرداری نے سوچا تھا کہ وہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے نتیجے میں صدر پاکستان بن جائیں گے، وہ ایک نہیں دو بار صدر مملکت بن کر ریکارڈ بنا چکے ہیں۔
جو 2024 میں اپنے بیٹے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری کو وزیر اعظم بنوانے کی کوشش کر رہے تھے مگر پی پی کی اکثریت نہ ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کے ووٹوں سے دوبارہ صدر مملکت بن گئے۔
2008 میں بھی انھیں ایم کیو ایم کے بانی نے صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا اور وہ اپنی پارٹی کی حکومت میں (ن) لیگ کی حمایت کے بغیر ایم کیو ایم کی حمایت سے صدر منتخب ہوئے تھے اور ان کی حکومت نے ایم کیو ایم کے عشرت العباد کو گورنر سندھ رہنے دیا تھا جو جنرل پرویز کی حکومت میں گورنر بنے تھے اور چودہ سال سندھ کے گورنر رہے۔
جنھیں 2013 کے بعد وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی کچھ عرصہ برقرار رکھا تھا اور بعد میں ایک سابق جج کوگورنر سندھ بنایا تھا اور بعد میں انھوں نے محمد زبیر عمر پر اعتماد کیا اور انھیں (ن) لیگ کی طرف سے گورنر بنایا جس احسان کا بدلہ زبیر عمر اب (ن) لیگ کے سخت مخالف بن کر چکا رہے ہیں۔
سندھ کے نئے گورنر نہال ہاشمی (ن) لیگ کے سینیٹر تھے اور اپنی پارٹی کی حمایت میں انھوں نے اپنے بیانات سے سینیٹر شپ گنوائی اور جیل بھی کاٹی تھی تو اس وقت بھی ایک پیش گوئی ہوئی تھی کہ (ن) لیگ حکومت دوبارہ آئی تو ممکن ہے کہ نہال ہاشمی سندھ کے گورنر بنا دیے جائیں اور وہ اب سندھ کے گورنر بن چکے ہیں۔
مگر ساڑھے تین سال ٹیسوری ایم کیو ایم کی طرف سے گورنر سندھ رہے اور پیپلز پارٹی اور صدر زرداری کی مخالفت کے باعث اچانک فارغ کر دیے گئے اور (ن) لیگی گورنر ان کی جگہ آگئے۔
صدر جنرل پرویز مشرف کا تعلق کراچی سے تھا جن کی متحدہ قومی موومنٹ حامی تھی اور انھوں نے ہی متحدہ کے ڈاکٹر عشرت العباد کو سندھ کا گورنر مقرر کیا تھا جو (ق) لیگ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں میں طویل عرصہ سندھ کے گورنر رہے۔
2015 میں متحدہ قومی موومنٹ ایم کیو ایم پاکستان بنی جس نے اپنے قائد سے اظہار لاتعلقی کیا تھا۔ متحدہ اور ایم کیو ایم پاکستان مسلم لیگ (ن)، (ق)، پیپلز پارٹی، پی ڈی ایم کے بعد آج بھی (ن) لیگ حکومت میں شامل ہے۔
مگر اب سندھ میں پیپلز پارٹی کو اس کی ضرورت نہیں ہے اور سندھ میں پی پی کی حکومت میں اب کراچی، حیدرآباد اور سکھر کی میئر شپ بھی ایم کیو ایم سے چھین چکی ہے جس سے ایم کیو ایم کا گورنر بھی برداشت نہیں ہوا کیونکہ وہ سندھ حکومت کی ہاں میں ہاں ملاتا تھا نہ پی پی سندھ حکومت کی کارکردگی کی تعریف کرتا تھا اور نہ پی پی قیادت کے قصیدے پڑھتا تھا جو پی پی کے لیے ناگوار اور ناقابل برداشت تھا۔
جب پی ٹی آئی اپنے مخالف کو وزیر اعلی پنجاب بنا سکتی ہے تو یہاں کی ہر پارٹی وہ کچھ کر سکتی ہے جس میں اس کا مفاد ہو۔ نواز شریف نے بھی جنرل پرویز کے ساتھیوں کو مسلم لیگ (ن) میں نہ لینے کا کہا تھا مگر بعد میں وہ بھی مجبور ہو گئے تھے۔
سندھ میں ایم کیو ایم کے دوگورنر ساڑھے 17 سال تک اقتدار میں رہے اور سندھ میں پیپلز پارٹی کے مسلسل اقتدارکو 18 واں سال چل رہا ہے اور یہ دونوں پارٹیوں کا ریکارڈ ضرور ہے مگر ہر ایک کے اقتدار کا موازنہ ضرور ہوتا ہے۔
سندھ میں 14 سال گورنر رہنے والے عشرت العباد اقتدار سے الگ ہو کر دبئی جا بسے تھے اور انھیں ایم کیو ایم کا کوئی دھڑا اچھا نہیں کہتا۔
انھوں نے طویل اقتدار قابل ذکر نہیں چھوڑا تھا اور ہر برسر اقتدار کی خوشامد میں اپنا اقتدار بچاتے رہے۔ انھوں نے کوئی ایسا قابل ذکر کام نہیں کیا کہ انھیں یاد رکھا جائے۔ مصطفیٰ کمال نے پی ایس پی بنا کر انھیں گورنری سے ہٹوانے کی مہم چلائی تھی۔
ایم کیو ایم کے تقریباً ساڑھے تین سال گورنر رہنے والے کامران ٹیسوری ایم کیو ایم میں بھی متنازع تھے وہ کبھی رکن اسمبلی بھی نہیں رہے مگر انھوں نے گورنر ہاؤس میں رہ کر جو کارکردگی دکھائی وہ پورے ملک میں نمایاں اور ممتاز ہے جس پر (ن) لیگ، پی پی اور ایم کیو ایم کے مخالف صحافی اور تجزیہ کار بھی تعریف کر رہے ہیں اور ان کے اقدامات کو کراچی ہی نہیں ملک بھر میں سراہا جا رہا ہے۔
ان کی کارکردگی میں 50 ہزار طلبا کو آئی ٹی کی تعلیم دلانا اورگورنر ہاؤس میں منعقدہ تمام پروگرامات سرکاری فنڈز کے بغیر چلانا اہمیت کے حامل ہیں۔
کامران ٹیسوری اقتدار سے الگ ہو کر بھی کراچی ہی میں ہیں اور انھوں نے اپنے اس عزم کا اظہارکیا ہے کہ وہ آئی ٹی کورسز کو اپنے طور پر مکمل کرائیں گے اور انھوں نے عوامی گورنر کے طور پر جو کام کیے ان کی عوام نے تعریف کی ہے اور انھیں سراہا ہے، اس لیے وہ گورنری کے بعد بھی عوامی فلاح کے منصوبوں کو اپنے خیر خواہوں کے تعاون سے تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔
Today News
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
توقع اور خدشات کے عین مطابق ایران اور امریکا اسرائیل جنگ کی شدت میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ ہر دو جانب سے حملے کیے جا رہے ہیں اور اپنے اپنے دعوؤں کے مطابق اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکا خلیجی ممالک میں قائم اپنے فوجی اڈوں سے ایران پر حملے کر رہا ہے تو جواب میں ایران برادر دوست مسلم ملکوں میں امریکی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے، بعینہ اسرائیل پر براہ راست میزائل حملے کر رہا ہے جب کہ اسرائیل ایران کے پہلو بہ پہلو لبنان پر بھی حملے کرکے جنگ کے دائرے کو مزید بڑھانے کی راہ پر گامزن ہے۔
امریکا و اسرائیل کے تازہ حملوں میں ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی، ان کا بیٹا اور پاسداران انقلاب کی بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی بھی شہید ہو گئے ہیں، جو ایران کا یقینا ایک بڑا نقصان ہے۔
علی لاریجانی نے شہادت سے ایک دو روز قبل دنیا بھر کے مسلمانوں اور اسلامی حکومتوں کے نام اپنے چھ نکاتی پیغام میں کہا تھا کہ ایران کو ایک فریب پر مبنی امریکی، صیہونی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا جو مذاکرات کے دوران ایران کو کمزور کرنے کے مقصد سے کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ محض سیاسی بیانات کے سوا کوئی اسلامی ریاست ایرانی عوام کے ساتھ کھڑی نظر نہیں آتی ۔
علی لاریجانی نے بجا طور پر کہا کہ اگر امت مسلمہ حقیقی اتحاد قائم کر لے تو وہ تمام اسلامی ممالک کے لیے سلامتی، ترقی، خوش حالی اور خودمختاری کی ضمانت بن سکتا ہے۔
اس امر میں کوئی کلام نہیں کہ دنیا کے 56 اسلامی ممالک اور تقریباً ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان کوئی معمولی قوت نہیں۔ مسلم دنیا کے پاس قدرتی اور مادی وسائل کی بھی فراوانی ہے بالخصوص تیل کی نایاب دولت کا بیشتر حصہ خلیج کے مسلمان ملکوں کے پاس ہے ان کی افرادی قوت بھی گوناگوں صلاحیتوں سے مالا مال اور جدید ٹیکنالوجی سے بھی کماحقہ آگاہ ہے۔
سب سے بڑھ کر مسلمانوں کے پاس جذبہ ایمان ہے جو غیر مسلموں کے پاس نہیں اسی دولت ایمانی کی بنیاد پر مسلمان باطل قوتوں سے ٹکرا جاتے ہیں بقول علامہ اقبال:
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
حریت پسند کشمیریوں اور نہتے فلسطینیوں کی زندہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں جو نصف صدی سے بھی زائد عرصے سے بھارت اور اسرائیل جیسے جابر و ظالم حکمرانوں کے خلاف آج بھی سینہ سپر ہیں اور اپنے لہو سے تاریخ رقم کر رہے ہیں۔
لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسلم ممالک کے نفاق کی وجہ سے آج مسلمان دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں معصوم فلسطینیوں، نہتے کشمیریوں اور بے بس لبنانیوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
مسلمان ملکوں کی نمایندہ او آئی سی دم سادھے اور خاموشی کی چادر اوڑھے نہ جانے کہاں محو استراحت ہے۔
ایران پر تین ہفتوں سے امریکی و صیہونی یلغار جاری ہے لیکن او آئی سی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ اگست 2006 میں بیروت میں اسلامی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں لبنان کے اس وقت کے وزیر اعظم فواد ستیورہ نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے مسلم امہ سے اپیل کی تھی کہ ان کے ملک کو اسرائیل کی بربریت سے بچایا جائے۔
اسرائیل لبنان کے عوام کا قتل عام کر رہا ہے، ہم اپنے موقف کی بنیاد بیوہ عورتوں، شہید بچوں، زخمیوں اور بے گھر افراد کے دکھوں پر رکھ رہے ہیں۔
انھوں نے بھی علی لاریجانی کی طرح عرب ملکوں سے اپیل کی تھی کہ مصیبت کی اس گھڑی میں آپ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں، یہ آپ کی ذمے داری ہے۔
نومبر 2000 میں سعودی عرب کے اس وقت کے فرمانروا عبداللہ بن عبدالعزیز نے بڑے سخت لب و لہجے میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ امریکا اور یورپ کب تک اسرائیل کی مدد و تعاون جاری رکھیں گے۔
انھوں نے اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف وحشیانہ مظالم سے باز رکھنے کے لیے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کو یہ امر فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ وہ عربوں میں گھرا ہوا ہے اور اسرائیل نے جس رویے کا مظاہرہ کیا ہے اس پر کوئی اعتبار و اعتماد نہیں کرے گا۔
بجا کہ اسرائیل عربوں میں گھرا ہوا ہے لیکن انھی عرب ملکوں نے اسرائیل کے سرپرست اعلیٰ امریکا کو اپنے ملکوں میں فوجی اڈے فراہم کرکے اسرائیل کو طاقت ور اور خود کو کمزور کر لیا ہے نتیجتاً امریکا انھی اڈوں کو استعمال کرکے ایران پر بمباری کر رہا ہے جواب میں ایران خلیجی ملکوں پر حملے کر رہا ہے جس سے مسلم امہ کا اتحاد مزید کمزور اور ٹکڑوں میں تقسیم ہو رہا ہے۔
مگر مسلم حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور متحد و منظم ہو کر امریکا و اسرائیل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے نہ ہوئے تو اس کی سزا ہماری آئندہ نسلوں کو بھگتنا پڑے گی بقول علامہ اقبال:
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
Today News
جنگوں کے سوداگر! – ایکسپریس اردو
عید آئی اور بوجھل سی گزر گئی۔ زمینی حقائق دیکھ کر‘ خوشی کا عنصر کم سے کم ہوتا چلا گیا۔ مگر میڈیا پر وہی بے حقیقت قسم کے رنگین پروگرامز اور روایتی ٹھٹھے ۔
معلوم پڑتا تھا کہ جیسے جعلی خوشی بانٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح ‘ جیسے حکومتی نمائندے یہ بتانے کی کوشش میں مصروف ہیں کہ ہمارے ملک میں کامیاب جمہوریت ہے اور ہاں ‘ کہیں بھول نہ جائیں‘ معیشت بڑی تیزی سے ترقی کی وہ منزلیں طے کر رہی ہے جو آج تک کسی نے نہیں دیکھی۔
معلوم نہیں وہ کون سی ترقی ہے جو کوشش کے باوجود نظر نہیں آ رہی ۔حقیقت سب کو معلوم ہے۔ مگر مخالف آوازیں خاموش ہیںیا کرا دی گئی ہیں۔
پورا نظام‘ صرف ایک کیل پر لٹکا ہوا ہے کہ جیل میں قید ایک شخص سے دو صفحوں پر دستخط کروا لیں کہ اب تک جو کچھ ہوچکا ہے ‘ اس پر کوئی بات نہیں ہو گی لیکن اس میں ناکامی دکھائی دے رہی ہے۔ ناکامی تسلیم کرنے کے بجائے ‘ نظام کو مصنوعی انداز میں مزید جلا دی جا رہی ہے۔
بہر حال ‘ چھوڑیے۔ اب کیا بات کرنی ۔ دو چار برس مزید گزر جائیں گے۔ آٹھ دس عیدیں اورآ جائیںگی۔ آپ کو یہی بتایا جا رہا ہو گا کہ حضور‘ کوئی مسئلہ نہیں ۔ سب کچھ ٹھیک ہے۔
دنیا کی کامیاب قوموں کا جائزہ لیجیے۔ یورپ اور شمالی امریکا کی خیرہ کن ترقی کو پرکھیے ، پھر اپنے ملک کی طرف دیکھئے ۔ ہمارے ملک کی ساری قومی پالیسیوں کو الٹا کر دیجیے۔ تو آپ کو وہ مغربی ممالک میں سیدھی نظر آئیںگی ۔
پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے ہر اس حکمت عملی کو اپنا رہا ہے جو اس کے لیے زہر قاتل ہیں۔ جس سے ملک کے ہر شعبے پر منفی دباؤ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
اس کے بر عکس ترقی یافتہ ممالک‘ ہم سے بالکل متضاد پالیسیاں اپنائے دکھائی دیتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے ‘ کہ کوئی بھی ترقی یافتہ یا برق رفتاری سے ترقی کرنے والا ملک‘ جنگ سے دور رہنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔اوراس نقطے پر کسی قسم کی کوئی دوسری رائے نہیں ہوتی۔
سپر پاور کی بات نہیں کر رہا۔ کیونکہ دنیا کی تاریخ میں کوئی بھی قوم جب طاقت کے عروج پر ہوتی ہے ، وہ قطعاً پرامن نہیں رہتی۔ روم جیسی فقید المثال طاقت سے لے کر آج تک کی سپر پاور ‘ یعنی امریکا ‘ سب کا ریاستی بیانیہ ‘ تشدد کی طرف مائل رہا ہے ۔
اس کے بالکل برعکس‘ وہ تمام ذہین قومیں ‘ جو ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہیں‘ کسی صورت میں بھی‘ جنگ کی طرف نہیں جاتیں۔ موجودہ جاپان اور جرمنی جیسی شاندار ریاستوں‘ پر غورفرمایئے ۔
دونوں ملک‘ جنگ عظیم دوئم کے بعد‘ راکھ کا ڈھیر بن چکے تھے۔ موت‘ بارود اور تباہی کے علاوہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ بھوک‘ ننگ اور آنسوؤں کا راج تھا۔ مگر یہ دونوں ذہین قومیں سمجھ گئیں کہ ان کی پہلی ترجیح قومی اور افرادی ترقی ہے۔
اس کے علاوہ ریاست کا کوئی تصور نہیں ہے۔ صرف دو سے تین دہائیوں میں‘ جرمنی اور جاپان کرہ ارض کی کامیاب ترین معیشتوں میں تبدیل ہو گئیں۔ خوشحالی‘ ان کے شہریوں کی دہلیز پر پہنچ گئی۔
بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا‘ کہ ان کے عقلمند حکمرانوں کی فقید المثال سوچ اور رویوں سے‘ دولت‘ قوم کے ہر باسی کا مقدر بن گئی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے آج تک ان دونوں ریاستوں نے جنگ کے شعلوں کو اپنی سرحد کے اندر آنے ہی نہیں دیا۔
یہ نہیں‘ کہ ان میں قومی تفاخر نہیں تھا‘ بلکہ تھا اور ہے۔ مگر وہ یہ سمجھ چکے ہیں کہ جس دن وہ جنگ کی طرف چلے گئے، ان کی ترقی کو گہن لگ جائے گا۔کیا جاپان‘ ایٹمی طاقت نہیں بن سکتا‘؟ یقیناً ۔
ان کے مالی اور سائنسی وسائل سامنے رکھیے۔ ان کے لیے صرف چند دنوں یا ہفتوں کی بات ہو۔ مگر نہیں۔ وہ ایٹمی تباہی دیکھ چکے ہیں۔ لاکھوں شہری مروانے کے بعد ‘ جاپان کو اندازہ ہے کہ ایٹمی قوت بننے سے زیادہ ملک کی ترقی زیادہ اہم ہے۔
یہی حالت جرمنی کی ہے۔ یہ درست ہے کہ جرمن قوم کو ایک احساس برتری موجود ہے ۔ اور وہ ایٹمی قوت بھی ہیں۔ مگر وہ کسی بھی جنگ کا حصہ نہیں بنتے۔
یہاں جرمنی کی خیرہ کن ترقی کے متعلق ایک واقعہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ Angela Merkel ‘ 2005 سے لے کر 2021 تک‘ جرمنی کی حکومتی سربراہ رہی ۔
یہ عظیم عورت‘ سولہ برس تک‘ چانسلر کے لیے مخصوص سرکاری رہائش گاہ میں منتقل نہیں ہوئی۔ وسطی برلن میں ایک عام سے اپارٹمنٹ میں رہتی رہی۔
آج بھی وہیں قیام پذیر ہے۔حکومتی سربراہ ہونے کے باوجود‘ گھر کا سارا سودا سلف‘ اپنے شوہر کے ساتھ ‘ خود مارکیٹ سے لاتی رہی۔ صبح کا ناشتہ خود بناتی تھی۔
شوہر جو کیمسٹری کے پروفیسر تھے‘ کچن اور امور خانہ داری میں اس کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ دونوں اکٹھے ایک عام سی گھریلو ٹیبل پر ناشتہ کرتے تھے۔ دنیا کی تیسری بڑی اقتصادی قوت کی سربراہ کس قدر سادگی کا پیکر تھی۔
اندازہ اس بات سے لگایئے کہ ایک دن‘ پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے مرکل کے لباس پر پھبتی کسی کہ وہ بہت سادہ اور غیر معیاری کپڑے زیب تن کرتی ہے۔ جواب حیران کن تھا۔ میں‘ جرمنی کی چانسلر ہوں‘ کوئی فیشن ماڈل نہیں‘ اگر آپ نے مجھے پرکھنا ہے تو میرے کام کو دیکھئے ۔
صحافی ‘ اس جواب کے بعد خاموش ہو گیا۔ اس کی ساری چالاکی دھری کی دھری رہ گئی۔ کیونکہ مرکل بالکل درست بات کر رہی تھی۔ اس نے بحیثیت حکومتی لیڈر‘ اپنے ملک میں بے مثال ترقی کروائی۔ اسے ایک مضبوط شناخت دی۔ اگر سچ بولا جائے تو جرمنی‘ اقتصادی طور پر آج یورپ کا بے تاج بادشاہ ہے۔
چین کا بھی یہی حال ہے، اس کی اقتصادی ترقی بے مثال ہے۔ ڈنگ زیاؤ پنگ کی فکر کو عملی جامہ پہنانے کے بعد‘ چین نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
دنیا کی دوسری شاندار ترین قوم بننا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ وہ بھی تین سے چار دہائیوں کی قلیل مدت میں۔ عسکری لحاظ سے بھی وہ بے حد طاقتور ملک ہے۔
مگر ذرا باریک بات کو سمجھئے۔ وہ کسی بھی جنگ کے بذات خود نزدیک نہیں جاتے، بیانات دیتے رہتے ہیں۔ مگر مجال ہے کہ کسی جذباتیت کا حصہ بن جائیں۔ ہندوستان سے سرحدی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ مگر اس میں اسلحہ استعمال کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔
دو سال پہلے تو یہ دونوں طاقتور ملکوں کی افواج ‘ ڈنڈوں پتھروں سے برسر پیکار ہوئیں۔ آج بھی ایران اور امریکا کی جنگ میں کیاآپ نے سنا ہے کہ چین کے کسی سپاہی نے ‘ ایران کی حفاظت کے لیے ایک گولی بھی چلائی ہو؟
یا ان کے بحری بیڑے نے امریکا کے خلاف کسی قسم کی کوئی معمولی سی بھی حرکت کی ہو؟ ایران کی جزوقتی مدد کی باتیں ضرور ہو رہی ہیں۔
مگر یہ کتنا سچ ہے‘ اس کے متعلق وثوق سے کچھ بھی کہنا ممکن نہیں۔ ہاں‘ سفارتی سطح پر زبانی جمع خرچ میں چین‘ کافی کوشش کرتا نظر آتا ہے۔
مگر اس کے الفاظ میں بارود کی کوئی ناگوار مہک شامل نہیں ہوتی۔ وہ عسکری فتح حاصل کرنے کی بجائے ‘ صنعتی طور پر دنیا کو مفتوح کر چکے ہیں۔
اس کے برعکس‘ پاکستان کی پالیسیاں حد درجہ غیر حقیقت پسندانہ رہی ہیں۔ گزشتہ چھ دہائیوں سے ہم مختلف نوعیت کی جنگوں اور بدامنی کا شکار چلے آرہے ہیں۔ 1948 سے لے کر آج تک ‘ ہمارے ہاں جلاؤ گھیراؤ یا تصادم ہورہا ہے یا بے مقصد نعرے چل رہے ہوتے ہیں۔
قوم کو صدر پاکستان جنرل یحییٰ خان کی وہ تقریر یاد ہے جس میں انھوں نے ریڈیو پر فرمایا تھا۔ کہ ہم کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ اور آخری گولی اور آخری سپاہی تک لڑیں گے۔
لڑنا کیا خاک تھا‘ چند گھنٹوں بعد‘ تاریخ کے اوراق میں ہمیں ایک ایسی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کا داغ آج تک ہمارے ماتھے سے نہیں مٹ سکا۔ ملک ٹوٹ گیا۔
اس سانحہ کے باوجود‘ ہمارے حکمران اور سیاسی و مذہبی اشرافیہ حد درجہ ناپختگی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ افغان جنگ کو جہاد کا نام دے کر‘ پاکستان کی سوسائٹی کی ہیت تبدیل کر دی گئی۔
پورے سماج میں فرقہ پرستی اور شدت پسندی کا راج ہو گیا۔ جو آج تک جاری و ساری ہے۔ کارگل جنگ بھی سود مند نہیں رہی۔ اب ‘ افغانستان کی طالبان رجیم مسلسل درد سر بنی ہوئی ہے۔
ملک کے دو صوبے دہشت گردی کی آگ میں جھلس رہے ہیں۔ دراصل ہم داخلی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ معیشت دگرگوں ہے۔ صنعت کا پہیہ سست رفتار ہے۔ دوسری طرف جنگوں کے مستقل عالمی سوداگر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں!
-
Magazines1 week ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story time: The price of a typo
-
Sports2 weeks ago
Samson rises from year of struggle to become India’s World Cup hero – Sport
-
Magazines1 week ago
STORY TIME: CLEARER THAN BEFORE – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Trio set for debuts as Pakistan commence 2027 preparations with Bangladesh ODIs – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Amber Khan & Nadia Khan On Anchors Exploiting Broken Marriages
-
Entertainment2 weeks ago
Rajab Butt Replies to Emaan Rajab’s Divorce Story
-
Entertainment2 weeks ago
Eman Fatima’s Mother’s Message For Rajab Butt