Connect with us

Today News

ملک بھر میں آج 86 واں یوم پاکستان بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے

Published

on



اسلام آباد:

آج پوری قوم 86 واں یوم پاکستان روایتی جوش و جذبے کیساتھ منا رہی ہے، یوم پاکستان کے موقع پر آج ملک میں عام تعطیل ہے۔

 یوم پاکستان کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں 31، صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے دن کا آغاز کیا گیا، مساجد میں وطن عزیز کی سالمیت اور ترقی وخوشحالی کی دعائیں کی گئیں۔

توپوں کی سلامی دینے کی تقریب میں موجود پاک فوج کے جوانوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا، فضا اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی، جوانوں اور افسران کی جانب سے ملک کی سلامتی کیلئے خصوصی طور پر دعائیں بھی کی گئیں۔

اس مرتبہ مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات کے پیش نظر ملک سطح پر جاری کفایت شعاری کے تحت یوم پاکستان سادگی سے منائی جا رہی ہے، اس دن کی مناسبت سے ہونے والی پریڈ منسوخ کر دی گئی ہے جبکہ مرکزی پرچم کشائی کی تقریب بھی سادہ اور پروقار رکھی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت کی طرح ملک بھر میں پرچم کشائی کی تقریبات سادگی اور کفایت شعاری کے تحت منعقد کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ یوم پاکستان 23 مارچ 1959 کو منایا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد 1948 سے 1955 تک یہ دن معمول کی طرح تھا۔

 قیام پاکستان کے سات سال بعد صدر اسکندر مرزا اور وزیراعظم چوہدری محمد علی کی قیادت میں 23 مارچ 1956 کو ملک کا اپنا تیارکردہ نیا آئین نافذ ہوا۔

نیا آئین بنا کر نافذ کرنا بہت بڑی کامیابی تھی، لہٰذا حکومت وقت نے اسے ہمیشہ کےلیے یادگار دن قرار دیا اور فیصلہ کیا کہ اب سالانہ سرکاری سطح پر یہ دن یوم جمہوریہ کے نام سے 23 مارچ کو جوش و خروش کے ساتھ منایا جائے گا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

منا لی عید آپ نے!!

Published

on


اللہ کا کرم ہوا اور پانچ جمعتہ المبارک کا رمضان گزار کر ہم نے انعام کے طورپر بروز ہفتہ عید منائی۔ رمضان کا پہلا عشرہ اللہ کے فضل اور رحمت سے سرد تھا ، موسم انتہائی خوش گوار اور دن چھوٹے کہ دس روزے گزرنے کا علم بھی نہ ہوا اور پھر یک لخت موسم نے کروٹ بدلی اور درجہء حرارت بڑھ گیا۔

دن چھوٹے سہی مگر کافی گرم ہو گئے اور نصف روزہ گزار کر حالت خراب ہوجاتی تھی، ناطاقتی اور کسملندی ایسی کہ کچھ کرنے کو جی نہیں چاہتا تھا… جی تو جو بھی چاہے مگر ہم خواتین کو کہاں شارٹ لیو بھی ملتی ہے کہ کسی دن افطاری بنانے کا ناغہ کر لیں ، اللہ ہی ہمیں اس کا اجر دے سکتا ہے۔

دل سے دعائیں نکلتی تھیں کہ گرمی کا زور ذرا ٹوٹے تو روزہ گزارنا سہل ہو جائے۔ اپنی علالت اور دوائیں ایسی ہیں کہ حلق میں جیسے کانٹے اگ آتے تھے اور یہ بھی سننا پڑتا تھا کہ خود پر جبر کر کے روزہ کیوں رکھا جائے۔

مگر یہ ایک دل ہے نا، اسے معلوم ہے کہ ہم یہ فرض چھوڑنا نہیں چاہتے اور سال میں ایک بار آنے والے اس ماہ مبارکہ کی برکتوں سے فیض یاب ہونا چاہتے ہیں ۔ اللہ نے سن لی اور آخری دس روزے تو یوں لگ رہا تھا کہ دنیا میں ہی جنت مل گئی ہو۔

سردیوں کے جو کپڑے اور بستر درمیان کے دس روزوں میں محنت کر کے سمیٹے تھے، وہ ایک ایک کرکے واپس نکلنے لگے۔

آخری روزے میں تو پیک کی ہوئی رضائی بھی نکالنا پڑ گئی، پنکھے تک بند ہیں اور پھر بھی سردی تھی۔ اللہ کا ہم پر خاص فضل و کرم ہوا اور ہم اس کا جتنا بھی شکر بجا لائیں وہ کم ہے۔

حکومت کی طرف سے پٹرول بم نے تو ارمانوں کا خون کردیا لیکن تان پھر وہیں آ کر ٹوٹی کہ تعلیمی ادارے بندکر دیے جائیں، اس سے اس پٹرول کی بچت ہو گئی ہو گی جو تمام بچے سویرے اسکول کالج جاتے ہوئے پی کر جاتے تھے مگر جو حرج ان کی تعلیم کا ہو رہا ہے، اس کی بھی کسی کو فکر ہے؟؟

پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے اس بار تو کمر ہی توڑ دی مگر انسان کیا کرے، مجبوری تو مجبوری ہے۔ اسکول کالج بند مگر بازار اور دکانیں تو کھلی تھیں، جو وقت مائیں بچوں کو اسکول لانے لے جانے میں گزارتی تھیں ، وہ تمام وقت بازاروں اور مالز میں گزرنے لگا ۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی کہ دنیا کے حالات اور پٹرول کی قیمتوں میں بے انتہا اضافے کے باعث امسال شاید پاکستانی (ملک میں رہنے والے) شاید عید منا ہی نہ سکیں اور حساب کتاب ہی کرتے رہ جائیں کہ کہاں سے بچائیں اور کہاں سے لائیں کہ عید کی خوشیاں منا سکیں۔

میرے حساب سے اس بار عید کی رونقیں ماند پڑی ہوں گی، بازار سامان سے بھرے ہوں گے اور دکاندار انتظار کرتے رہ جائیں گے مگر کوئی خریدار ہی نہ ہو گا مگر دیکھنے کو بالکل اس کے الٹ ملا۔ گوشت لینے گئی تو قصاب نے کہا ، ’’ ماں جی، گھنٹے کے بعد آجائیں، رش کافی ہے، آپ کو روزے میں خواہ مخواہ انتظار کرنا پڑے گا ۔‘‘

ایک گھنٹے کے بعد مجھے بھلاگوشت اچھا کہاں ملے گا، سوچا کہ بیٹھنے کو جگہ مل جائے تو بیٹھ جاؤں ۔ ’’ آپ کو جو کچھ چاہیے، وہ مجھے فون پر پیغام بھیج دیں،  میںآپ کے لیے رکھ لوں گا۔‘‘ اس نے میرا ذہن پڑھ لیا تھا۔

اتنی دیر میں پھل اورسبزی لے لیتی ہوں … سوچ کر نزدیکی سبزی اور پھل کی دکان پر پہنچی اور وہاں ایک اور میلہ لگا ہوا دیکھ کر بوکھلا گئی، اب کیا اس کو بھی فہرست دے کر جانا پڑے گا، باقاعدہ دکان میں کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔

خالی ٹوکری مانگی تو وہ بھی نہ ملی، ایک پھل والا خالی کریٹ دکاندار کے چھوٹے نے میرے قریب رکھا اور کہا کہ جو کچھ بھی مجھے لینا ہے وہ اس کریٹ میں ڈالتی جاؤں ، بعد میں وہ میری گاڑی میں وہی کریٹ رکھ دے گا۔

صاحب باربر کی دکان سے دو دفعہ ہو کر لوٹ کر آئے تھے، ان کا اسٹیمنا نہیں تھا کہ وہ ایک گھنٹہ انتظار میں بیٹھ جائیں ۔ دو دفعہ ہو کر واپس آ گئے تھے، اس امید پر کہ شاید وہ کسی ایک بار جائیں تو لوگ بالکل نہیں ہوں گے مگر یہ بھی ایک اندازہء غلط تھا، کسی ایک بار تو انھیں جا کر ایک گھنٹہ انتظار کرنا ہی تھا۔

لگ ہی نہیں رہا تھا کہ ہم کسی غریب ملک کے وہ عوام ہیں جن کے حکمرانوں سے لے کر نیچے تک سب مانگ تانگ کر گزارا کرتے ہیں۔ ہم ایک ایسا غریب ملک ہیں جس کے لوگ امیر ہیں، مانگنے والا بھی امیر ہے اور دینے والا بھی۔  

اس سال موسم نے کافی آنکھ مچولی کھیلی، پہلے دوسرے اور تیسر ے عشرے میں موسم نے تین رنگ بدلے۔ لوگو ں نے اس پر کافی میم بھی بنائے کہ یہ وہ ماہ رمضان ہے جس کا پہلا عشرہ رضائیوں، دوسرا پنکھوں اور اے سی میں اور تیسرا عشرہ واپس کمبلوں اور سویٹروں کے ساتھ گزرا ہے ۔

 جتنی خوشی امیر ترین کو ہوتی ہے، اتنی ہی ایک سفید پوش کو اور ایک غریب کو بھی ہوتی ہے، مزدور بھی اپنے گھر والوں کو ہر روز کی سادہ دال روٹی سے بہتر ایک دن کھانا کھلا کر خود وہ خوشی محسوس کرتا ہے جو عام حالات میں اسے میسر نہیں ہوتی۔

یہی ہماری زکوۃ اور فطرانے کا بہترین مصرف ہے کہ ہم اپنی دولت کو بھی مصفا کر سکیں اور اس سے کسی کے چہرے پر وہ مسکراہٹ بکھیر دیں جو کہ ہمیں ثواب کی صورت میں ملے گی۔

اللہ تعالی ہمارے احسان کو اپنے پاس نہیں رکھتا ہے بلکہ ہمیں اس کے صلے میں اس سے بہت بہترین اور بے بہا عطا کرتا ہے ۔ آپ سب کو عید کی خوشیاں مبارک ہوں اور اللہ تعالی آپ سب کی ماہ رمضان کی عبادات قبول فرمائے ۔ آمین





Source link

Continue Reading

Today News

ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز

Published

on


ایک صحافی و تجزیہ کار جن کا تعلق اندرون سندھ سے ہے، نے دعویٰ کیا ہے کہ کامران خان ٹیسوری ایم کیو ایم کے آخری گورنر سندھ تھے اور آیندہ کبھی سندھ کا گورنر ایم کیو ایم سے نہیں ہوگا۔

تجزیہ کرنے اور اپنی مرضی کی سیاسی حمایت کرنے کا ہر ایک کو حق ہے مگر پاکستان میں حتمی دعوے کبھی پورے ہوئے اور نہ ہی ہوں گے۔

2007سے قبل کبھی کسی نے دعویٰ کیا تھا اور نہ ہی کبھی آصف زرداری نے سوچا تھا کہ وہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے نتیجے میں صدر پاکستان بن جائیں گے، وہ ایک نہیں دو بار صدر مملکت بن کر ریکارڈ بنا چکے ہیں۔

جو 2024 میں اپنے بیٹے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری کو وزیر اعظم بنوانے کی کوشش کر رہے تھے مگر پی پی کی اکثریت نہ ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کے ووٹوں سے دوبارہ صدر مملکت بن گئے۔

2008 میں بھی انھیں ایم کیو ایم کے بانی نے صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا اور وہ اپنی پارٹی کی حکومت میں (ن) لیگ کی حمایت کے بغیر ایم کیو ایم کی حمایت سے صدر منتخب ہوئے تھے اور ان کی حکومت نے ایم کیو ایم کے عشرت العباد کو گورنر سندھ رہنے دیا تھا جو جنرل پرویز کی حکومت میں گورنر بنے تھے اور چودہ سال سندھ کے گورنر رہے۔

جنھیں 2013 کے بعد وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی کچھ عرصہ برقرار رکھا تھا اور بعد میں ایک سابق جج کوگورنر سندھ بنایا تھا اور بعد میں انھوں نے محمد زبیر عمر پر اعتماد کیا اور انھیں (ن) لیگ کی طرف سے گورنر بنایا جس احسان کا بدلہ زبیر عمر اب (ن) لیگ کے سخت مخالف بن کر چکا رہے ہیں۔

سندھ کے نئے گورنر نہال ہاشمی (ن) لیگ کے سینیٹر تھے اور اپنی پارٹی کی حمایت میں انھوں نے اپنے بیانات سے سینیٹر شپ گنوائی اور جیل بھی کاٹی تھی تو اس وقت بھی ایک پیش گوئی ہوئی تھی کہ (ن) لیگ حکومت دوبارہ آئی تو ممکن ہے کہ نہال ہاشمی سندھ کے گورنر بنا دیے جائیں اور وہ اب سندھ کے گورنر بن چکے ہیں۔

مگر ساڑھے تین سال ٹیسوری ایم کیو ایم کی طرف سے گورنر سندھ رہے اور پیپلز پارٹی اور صدر زرداری کی مخالفت کے باعث اچانک فارغ کر دیے گئے اور (ن) لیگی گورنر ان کی جگہ آگئے۔

 صدر جنرل پرویز مشرف کا تعلق کراچی سے تھا جن کی متحدہ قومی موومنٹ حامی تھی اور انھوں نے ہی متحدہ کے ڈاکٹر عشرت العباد کو سندھ کا گورنر مقرر کیا تھا جو (ق) لیگ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں میں طویل عرصہ سندھ کے گورنر رہے۔

2015 میں متحدہ قومی موومنٹ ایم کیو ایم پاکستان بنی جس نے اپنے قائد سے اظہار لاتعلقی کیا تھا۔ متحدہ اور ایم کیو ایم پاکستان مسلم لیگ (ن)، (ق)، پیپلز پارٹی، پی ڈی ایم کے بعد آج بھی (ن) لیگ حکومت میں شامل ہے۔

مگر اب سندھ میں پیپلز پارٹی کو اس کی ضرورت نہیں ہے اور سندھ میں پی پی کی حکومت میں اب کراچی، حیدرآباد اور سکھر کی میئر شپ بھی ایم کیو ایم سے چھین چکی ہے جس سے ایم کیو ایم کا گورنر بھی برداشت نہیں ہوا کیونکہ وہ سندھ حکومت کی ہاں میں ہاں ملاتا تھا نہ پی پی سندھ حکومت کی کارکردگی کی تعریف کرتا تھا اور نہ پی پی قیادت کے قصیدے پڑھتا تھا جو پی پی کے لیے ناگوار اور ناقابل برداشت تھا۔

 جب پی ٹی آئی اپنے مخالف کو وزیر اعلی پنجاب بنا سکتی ہے تو یہاں کی ہر پارٹی وہ کچھ کر سکتی ہے جس میں اس کا مفاد ہو۔ نواز شریف نے بھی جنرل پرویز کے ساتھیوں کو مسلم لیگ (ن) میں نہ لینے کا کہا تھا مگر بعد میں وہ بھی مجبور ہو گئے تھے۔

سندھ میں ایم کیو ایم کے دوگورنر ساڑھے 17 سال تک اقتدار میں رہے اور سندھ میں پیپلز پارٹی کے مسلسل اقتدارکو 18 واں سال چل رہا ہے اور یہ دونوں پارٹیوں کا ریکارڈ ضرور ہے مگر ہر ایک کے اقتدار کا موازنہ ضرور ہوتا ہے۔

سندھ میں 14 سال گورنر رہنے والے عشرت العباد اقتدار سے الگ ہو کر دبئی جا بسے تھے اور انھیں ایم کیو ایم کا کوئی دھڑا اچھا نہیں کہتا۔

انھوں نے طویل اقتدار قابل ذکر نہیں چھوڑا تھا اور ہر برسر اقتدار کی خوشامد میں اپنا اقتدار بچاتے رہے۔ انھوں نے کوئی ایسا قابل ذکر کام نہیں کیا کہ انھیں یاد رکھا جائے۔ مصطفیٰ کمال نے پی ایس پی بنا کر انھیں گورنری سے ہٹوانے کی مہم چلائی تھی۔

ایم کیو ایم کے تقریباً ساڑھے تین سال گورنر رہنے والے کامران ٹیسوری ایم کیو ایم میں بھی متنازع تھے وہ کبھی رکن اسمبلی بھی نہیں رہے مگر انھوں نے گورنر ہاؤس میں رہ کر جو کارکردگی دکھائی وہ پورے ملک میں نمایاں اور ممتاز ہے جس پر (ن) لیگ، پی پی اور ایم کیو ایم کے مخالف صحافی اور تجزیہ کار بھی تعریف کر رہے ہیں اور ان کے اقدامات کو کراچی ہی نہیں ملک بھر میں سراہا جا رہا ہے۔

ان کی کارکردگی میں 50 ہزار طلبا کو آئی ٹی کی تعلیم دلانا اورگورنر ہاؤس میں منعقدہ تمام پروگرامات سرکاری فنڈز کے بغیر چلانا اہمیت کے حامل ہیں۔

کامران ٹیسوری اقتدار سے الگ ہو کر بھی کراچی ہی میں ہیں اور انھوں نے اپنے اس عزم کا اظہارکیا ہے کہ وہ آئی ٹی کورسز کو اپنے طور پر مکمل کرائیں گے اور انھوں نے عوامی گورنر کے طور پر جو کام کیے ان کی عوام نے تعریف کی ہے اور انھیں سراہا ہے، اس لیے وہ گورنری کے بعد بھی عوامی فلاح کے منصوبوں کو اپنے خیر خواہوں کے تعاون سے تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

Published

on


 توقع اور خدشات کے عین مطابق ایران اور امریکا اسرائیل جنگ کی شدت میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ ہر دو جانب سے حملے کیے جا رہے ہیں اور اپنے اپنے دعوؤں کے مطابق اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

امریکا خلیجی ممالک میں قائم اپنے فوجی اڈوں سے ایران پر حملے کر رہا ہے تو جواب میں ایران برادر دوست مسلم ملکوں میں امریکی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے، بعینہ اسرائیل پر براہ راست میزائل حملے کر رہا ہے جب کہ اسرائیل ایران کے پہلو بہ پہلو لبنان پر بھی حملے کرکے جنگ کے دائرے کو مزید بڑھانے کی راہ پر گامزن ہے۔

امریکا و اسرائیل کے تازہ حملوں میں ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی، ان کا بیٹا اور پاسداران انقلاب کی بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی بھی شہید ہو گئے ہیں، جو ایران کا یقینا ایک بڑا نقصان ہے۔

علی لاریجانی نے شہادت سے ایک دو روز قبل دنیا بھر کے مسلمانوں اور اسلامی حکومتوں کے نام اپنے چھ نکاتی پیغام میں کہا تھا کہ ایران کو ایک فریب پر مبنی امریکی، صیہونی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا جو مذاکرات کے دوران ایران کو کمزور کرنے کے مقصد سے کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ محض سیاسی بیانات کے سوا کوئی اسلامی ریاست ایرانی عوام کے ساتھ کھڑی نظر نہیں آتی ۔

علی لاریجانی نے بجا طور پر کہا کہ اگر امت مسلمہ حقیقی اتحاد قائم کر لے تو وہ تمام اسلامی ممالک کے لیے سلامتی، ترقی، خوش حالی اور خودمختاری کی ضمانت بن سکتا ہے۔

اس امر میں کوئی کلام نہیں کہ دنیا کے 56 اسلامی ممالک اور تقریباً ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان کوئی معمولی قوت نہیں۔ مسلم دنیا کے پاس قدرتی اور مادی وسائل کی بھی فراوانی ہے بالخصوص تیل کی نایاب دولت کا بیشتر حصہ خلیج کے مسلمان ملکوں کے پاس ہے ان کی افرادی قوت بھی گوناگوں صلاحیتوں سے مالا مال اور جدید ٹیکنالوجی سے بھی کماحقہ آگاہ ہے۔

سب سے بڑھ کر مسلمانوں کے پاس جذبہ ایمان ہے جو غیر مسلموں کے پاس نہیں اسی دولت ایمانی کی بنیاد پر مسلمان باطل قوتوں سے ٹکرا جاتے ہیں بقول علامہ اقبال:

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

حریت پسند کشمیریوں اور نہتے فلسطینیوں کی زندہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں جو نصف صدی سے بھی زائد عرصے سے بھارت اور اسرائیل جیسے جابر و ظالم حکمرانوں کے خلاف آج بھی سینہ سپر ہیں اور اپنے لہو سے تاریخ رقم کر رہے ہیں۔

لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسلم ممالک کے نفاق کی وجہ سے آج مسلمان دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں معصوم فلسطینیوں، نہتے کشمیریوں اور بے بس لبنانیوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

مسلمان ملکوں کی نمایندہ او آئی سی دم سادھے اور خاموشی کی چادر اوڑھے نہ جانے کہاں محو استراحت ہے۔

ایران پر تین ہفتوں سے امریکی و صیہونی یلغار جاری ہے لیکن او آئی سی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ اگست 2006 میں بیروت میں اسلامی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں لبنان کے اس وقت کے وزیر اعظم فواد ستیورہ نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے مسلم امہ سے اپیل کی تھی کہ ان کے ملک کو اسرائیل کی بربریت سے بچایا جائے۔

اسرائیل لبنان کے عوام کا قتل عام کر رہا ہے، ہم اپنے موقف کی بنیاد بیوہ عورتوں، شہید بچوں، زخمیوں اور بے گھر افراد کے دکھوں پر رکھ رہے ہیں۔

انھوں نے بھی علی لاریجانی کی طرح عرب ملکوں سے اپیل کی تھی کہ مصیبت کی اس گھڑی میں آپ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں، یہ آپ کی ذمے داری ہے۔

نومبر 2000 میں سعودی عرب کے اس وقت کے فرمانروا عبداللہ بن عبدالعزیز نے بڑے سخت لب و لہجے میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ امریکا اور یورپ کب تک اسرائیل کی مدد و تعاون جاری رکھیں گے۔

انھوں نے اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف وحشیانہ مظالم سے باز رکھنے کے لیے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کو یہ امر فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ وہ عربوں میں گھرا ہوا ہے اور اسرائیل نے جس رویے کا مظاہرہ کیا ہے اس پر کوئی اعتبار و اعتماد نہیں کرے گا۔

بجا کہ اسرائیل عربوں میں گھرا ہوا ہے لیکن انھی عرب ملکوں نے اسرائیل کے سرپرست اعلیٰ امریکا کو اپنے ملکوں میں فوجی اڈے فراہم کرکے اسرائیل کو طاقت ور اور خود کو کمزور کر لیا ہے نتیجتاً امریکا انھی اڈوں کو استعمال کرکے ایران پر بمباری کر رہا ہے جواب میں ایران خلیجی ملکوں پر حملے کر رہا ہے جس سے مسلم امہ کا اتحاد مزید کمزور اور ٹکڑوں میں تقسیم ہو رہا ہے۔

مگر مسلم حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور متحد و منظم ہو کر امریکا و اسرائیل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے نہ ہوئے تو اس کی سزا ہماری آئندہ نسلوں کو بھگتنا پڑے گی بقول علامہ اقبال:

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
 





Source link

Continue Reading

Trending