Connect with us

Today News

راولپنڈی میں انسانیت سسک اُٹھی، قوت سماعت اور گویائی سے محروم معذور نوجوان سے اجتماعی زیادتی

Published

on



راولپنڈی:

راولپنڈی کے علاقے گرجا، تھانہ دھمیال کی حدود میں ایک ایسا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ قوت سماعت اور گویائی سے محروم 18 سالہ نوجوان مبینہ طور پر درندگی کا نشانہ بن گیا۔

پولیس کے مطابق چار افراد نے معذور لڑکے کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور اس کے ساتھ نہ صرف زیادتی کی بلکہ اخلاق سوز حرکات بھی کرتے رہے۔

واقعے کے بعد متاثرہ نوجوان شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہے۔

متاثرہ لڑکے کے والد کے مطابق ان کا بیٹا گونگا اور بہرہ ہے، جو گھر سے اچانک لاپتہ ہوگیا تھا۔

وہ بیٹے کی تلاش میں نکلے اور طویل جستجو کے بعد اسے محلے سے ہی ڈھونڈ نکالا۔ والد کا کہنا ہے کہ جیسے ہی وہ بیٹے تک پہنچے وہ رونے لگا اور اشاروں کی زبان میں اپنی آپ بیتی بیان کی۔

مدعی کے مطابق نوجوان نے بتایا کہ حمزہ نامی شخص اور تین نامعلوم افراد نے مل کر اس کے ساتھ زیادتی کی متاثرہ لڑکے نے اپنے موبائل پر عبداللہ نامی ایک اور ملزم کی تصویر بھی دکھائی۔

اہلِ خانہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ ہی دیر بعد ایک ملزم عبداللہ کا والد ان کے گھر پہنچا اور مبینہ طور پر زبردستی صلح نامہ کرنے اور پولیس کے پاس جانے سے روکنے کی کوشش کرتا رہا۔

واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

نااہل مودی کی ناکام  پالیسیوں نے بھارتی عوام کو گیس کے ہولناک بحران میں دھکیل دیا

Published

on


خلیج میں کشیدگی سے پوری دنیا توانائی کے بحران سے دوچار ہے لیکن مودی سرکار کی  دوغلی پالیسیوں نے  بھارت کیلئے توانائی بحران مزید سنگین کردیا

معروف برطانوی جریدہ ” دی اکانومسٹ” نااہل مودی کی ناکام پالیسیوں کے بھارتی عوام پر پڑنے والے منفی اثرات دنیا کے سامنے لے آیا۔

برطانوی جریدے میں کہا گیا کہ بھارت میں گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے، اس وقت  پورے بھارت میں ریسٹورنٹس گیس نہ ہونے کی وجہ سے بند ہیں۔ کھاد کی فیکٹریاں اور  گیس پر منحصردیگر کاروبار اپنی سرگرمیاں روک چکے ہیں۔ 

دی اکانومسٹ کے مطابق کئی شہروں میں بھارتی شہری گیس سلنڈر کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور  ہیں، بھارتی عوام  پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے تھے  اب  مودی سرکار کی ناقص پالیسیوں کے باعث گیس سلنڈرز کے حصول  کیلئے سڑکوں پر خوار ہو رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے ایران کیخلاف اپنی تمام تر توجہ اسرائیل کیساتھ گٹھ جوڑپر رکھی اور  ملکی توانائی کی ضرورتیں پورے کرنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔





Source link

Continue Reading

Today News

منا لی عید آپ نے!!

Published

on


اللہ کا کرم ہوا اور پانچ جمعتہ المبارک کا رمضان گزار کر ہم نے انعام کے طورپر بروز ہفتہ عید منائی۔ رمضان کا پہلا عشرہ اللہ کے فضل اور رحمت سے سرد تھا ، موسم انتہائی خوش گوار اور دن چھوٹے کہ دس روزے گزرنے کا علم بھی نہ ہوا اور پھر یک لخت موسم نے کروٹ بدلی اور درجہء حرارت بڑھ گیا۔

دن چھوٹے سہی مگر کافی گرم ہو گئے اور نصف روزہ گزار کر حالت خراب ہوجاتی تھی، ناطاقتی اور کسملندی ایسی کہ کچھ کرنے کو جی نہیں چاہتا تھا… جی تو جو بھی چاہے مگر ہم خواتین کو کہاں شارٹ لیو بھی ملتی ہے کہ کسی دن افطاری بنانے کا ناغہ کر لیں ، اللہ ہی ہمیں اس کا اجر دے سکتا ہے۔

دل سے دعائیں نکلتی تھیں کہ گرمی کا زور ذرا ٹوٹے تو روزہ گزارنا سہل ہو جائے۔ اپنی علالت اور دوائیں ایسی ہیں کہ حلق میں جیسے کانٹے اگ آتے تھے اور یہ بھی سننا پڑتا تھا کہ خود پر جبر کر کے روزہ کیوں رکھا جائے۔

مگر یہ ایک دل ہے نا، اسے معلوم ہے کہ ہم یہ فرض چھوڑنا نہیں چاہتے اور سال میں ایک بار آنے والے اس ماہ مبارکہ کی برکتوں سے فیض یاب ہونا چاہتے ہیں ۔ اللہ نے سن لی اور آخری دس روزے تو یوں لگ رہا تھا کہ دنیا میں ہی جنت مل گئی ہو۔

سردیوں کے جو کپڑے اور بستر درمیان کے دس روزوں میں محنت کر کے سمیٹے تھے، وہ ایک ایک کرکے واپس نکلنے لگے۔

آخری روزے میں تو پیک کی ہوئی رضائی بھی نکالنا پڑ گئی، پنکھے تک بند ہیں اور پھر بھی سردی تھی۔ اللہ کا ہم پر خاص فضل و کرم ہوا اور ہم اس کا جتنا بھی شکر بجا لائیں وہ کم ہے۔

حکومت کی طرف سے پٹرول بم نے تو ارمانوں کا خون کردیا لیکن تان پھر وہیں آ کر ٹوٹی کہ تعلیمی ادارے بندکر دیے جائیں، اس سے اس پٹرول کی بچت ہو گئی ہو گی جو تمام بچے سویرے اسکول کالج جاتے ہوئے پی کر جاتے تھے مگر جو حرج ان کی تعلیم کا ہو رہا ہے، اس کی بھی کسی کو فکر ہے؟؟

پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے اس بار تو کمر ہی توڑ دی مگر انسان کیا کرے، مجبوری تو مجبوری ہے۔ اسکول کالج بند مگر بازار اور دکانیں تو کھلی تھیں، جو وقت مائیں بچوں کو اسکول لانے لے جانے میں گزارتی تھیں ، وہ تمام وقت بازاروں اور مالز میں گزرنے لگا ۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی کہ دنیا کے حالات اور پٹرول کی قیمتوں میں بے انتہا اضافے کے باعث امسال شاید پاکستانی (ملک میں رہنے والے) شاید عید منا ہی نہ سکیں اور حساب کتاب ہی کرتے رہ جائیں کہ کہاں سے بچائیں اور کہاں سے لائیں کہ عید کی خوشیاں منا سکیں۔

میرے حساب سے اس بار عید کی رونقیں ماند پڑی ہوں گی، بازار سامان سے بھرے ہوں گے اور دکاندار انتظار کرتے رہ جائیں گے مگر کوئی خریدار ہی نہ ہو گا مگر دیکھنے کو بالکل اس کے الٹ ملا۔ گوشت لینے گئی تو قصاب نے کہا ، ’’ ماں جی، گھنٹے کے بعد آجائیں، رش کافی ہے، آپ کو روزے میں خواہ مخواہ انتظار کرنا پڑے گا ۔‘‘

ایک گھنٹے کے بعد مجھے بھلاگوشت اچھا کہاں ملے گا، سوچا کہ بیٹھنے کو جگہ مل جائے تو بیٹھ جاؤں ۔ ’’ آپ کو جو کچھ چاہیے، وہ مجھے فون پر پیغام بھیج دیں،  میںآپ کے لیے رکھ لوں گا۔‘‘ اس نے میرا ذہن پڑھ لیا تھا۔

اتنی دیر میں پھل اورسبزی لے لیتی ہوں … سوچ کر نزدیکی سبزی اور پھل کی دکان پر پہنچی اور وہاں ایک اور میلہ لگا ہوا دیکھ کر بوکھلا گئی، اب کیا اس کو بھی فہرست دے کر جانا پڑے گا، باقاعدہ دکان میں کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔

خالی ٹوکری مانگی تو وہ بھی نہ ملی، ایک پھل والا خالی کریٹ دکاندار کے چھوٹے نے میرے قریب رکھا اور کہا کہ جو کچھ بھی مجھے لینا ہے وہ اس کریٹ میں ڈالتی جاؤں ، بعد میں وہ میری گاڑی میں وہی کریٹ رکھ دے گا۔

صاحب باربر کی دکان سے دو دفعہ ہو کر لوٹ کر آئے تھے، ان کا اسٹیمنا نہیں تھا کہ وہ ایک گھنٹہ انتظار میں بیٹھ جائیں ۔ دو دفعہ ہو کر واپس آ گئے تھے، اس امید پر کہ شاید وہ کسی ایک بار جائیں تو لوگ بالکل نہیں ہوں گے مگر یہ بھی ایک اندازہء غلط تھا، کسی ایک بار تو انھیں جا کر ایک گھنٹہ انتظار کرنا ہی تھا۔

لگ ہی نہیں رہا تھا کہ ہم کسی غریب ملک کے وہ عوام ہیں جن کے حکمرانوں سے لے کر نیچے تک سب مانگ تانگ کر گزارا کرتے ہیں۔ ہم ایک ایسا غریب ملک ہیں جس کے لوگ امیر ہیں، مانگنے والا بھی امیر ہے اور دینے والا بھی۔  

اس سال موسم نے کافی آنکھ مچولی کھیلی، پہلے دوسرے اور تیسر ے عشرے میں موسم نے تین رنگ بدلے۔ لوگو ں نے اس پر کافی میم بھی بنائے کہ یہ وہ ماہ رمضان ہے جس کا پہلا عشرہ رضائیوں، دوسرا پنکھوں اور اے سی میں اور تیسرا عشرہ واپس کمبلوں اور سویٹروں کے ساتھ گزرا ہے ۔

 جتنی خوشی امیر ترین کو ہوتی ہے، اتنی ہی ایک سفید پوش کو اور ایک غریب کو بھی ہوتی ہے، مزدور بھی اپنے گھر والوں کو ہر روز کی سادہ دال روٹی سے بہتر ایک دن کھانا کھلا کر خود وہ خوشی محسوس کرتا ہے جو عام حالات میں اسے میسر نہیں ہوتی۔

یہی ہماری زکوۃ اور فطرانے کا بہترین مصرف ہے کہ ہم اپنی دولت کو بھی مصفا کر سکیں اور اس سے کسی کے چہرے پر وہ مسکراہٹ بکھیر دیں جو کہ ہمیں ثواب کی صورت میں ملے گی۔

اللہ تعالی ہمارے احسان کو اپنے پاس نہیں رکھتا ہے بلکہ ہمیں اس کے صلے میں اس سے بہت بہترین اور بے بہا عطا کرتا ہے ۔ آپ سب کو عید کی خوشیاں مبارک ہوں اور اللہ تعالی آپ سب کی ماہ رمضان کی عبادات قبول فرمائے ۔ آمین





Source link

Continue Reading

Today News

ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز

Published

on


ایک صحافی و تجزیہ کار جن کا تعلق اندرون سندھ سے ہے، نے دعویٰ کیا ہے کہ کامران خان ٹیسوری ایم کیو ایم کے آخری گورنر سندھ تھے اور آیندہ کبھی سندھ کا گورنر ایم کیو ایم سے نہیں ہوگا۔

تجزیہ کرنے اور اپنی مرضی کی سیاسی حمایت کرنے کا ہر ایک کو حق ہے مگر پاکستان میں حتمی دعوے کبھی پورے ہوئے اور نہ ہی ہوں گے۔

2007سے قبل کبھی کسی نے دعویٰ کیا تھا اور نہ ہی کبھی آصف زرداری نے سوچا تھا کہ وہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے نتیجے میں صدر پاکستان بن جائیں گے، وہ ایک نہیں دو بار صدر مملکت بن کر ریکارڈ بنا چکے ہیں۔

جو 2024 میں اپنے بیٹے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری کو وزیر اعظم بنوانے کی کوشش کر رہے تھے مگر پی پی کی اکثریت نہ ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کے ووٹوں سے دوبارہ صدر مملکت بن گئے۔

2008 میں بھی انھیں ایم کیو ایم کے بانی نے صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا اور وہ اپنی پارٹی کی حکومت میں (ن) لیگ کی حمایت کے بغیر ایم کیو ایم کی حمایت سے صدر منتخب ہوئے تھے اور ان کی حکومت نے ایم کیو ایم کے عشرت العباد کو گورنر سندھ رہنے دیا تھا جو جنرل پرویز کی حکومت میں گورنر بنے تھے اور چودہ سال سندھ کے گورنر رہے۔

جنھیں 2013 کے بعد وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی کچھ عرصہ برقرار رکھا تھا اور بعد میں ایک سابق جج کوگورنر سندھ بنایا تھا اور بعد میں انھوں نے محمد زبیر عمر پر اعتماد کیا اور انھیں (ن) لیگ کی طرف سے گورنر بنایا جس احسان کا بدلہ زبیر عمر اب (ن) لیگ کے سخت مخالف بن کر چکا رہے ہیں۔

سندھ کے نئے گورنر نہال ہاشمی (ن) لیگ کے سینیٹر تھے اور اپنی پارٹی کی حمایت میں انھوں نے اپنے بیانات سے سینیٹر شپ گنوائی اور جیل بھی کاٹی تھی تو اس وقت بھی ایک پیش گوئی ہوئی تھی کہ (ن) لیگ حکومت دوبارہ آئی تو ممکن ہے کہ نہال ہاشمی سندھ کے گورنر بنا دیے جائیں اور وہ اب سندھ کے گورنر بن چکے ہیں۔

مگر ساڑھے تین سال ٹیسوری ایم کیو ایم کی طرف سے گورنر سندھ رہے اور پیپلز پارٹی اور صدر زرداری کی مخالفت کے باعث اچانک فارغ کر دیے گئے اور (ن) لیگی گورنر ان کی جگہ آگئے۔

 صدر جنرل پرویز مشرف کا تعلق کراچی سے تھا جن کی متحدہ قومی موومنٹ حامی تھی اور انھوں نے ہی متحدہ کے ڈاکٹر عشرت العباد کو سندھ کا گورنر مقرر کیا تھا جو (ق) لیگ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں میں طویل عرصہ سندھ کے گورنر رہے۔

2015 میں متحدہ قومی موومنٹ ایم کیو ایم پاکستان بنی جس نے اپنے قائد سے اظہار لاتعلقی کیا تھا۔ متحدہ اور ایم کیو ایم پاکستان مسلم لیگ (ن)، (ق)، پیپلز پارٹی، پی ڈی ایم کے بعد آج بھی (ن) لیگ حکومت میں شامل ہے۔

مگر اب سندھ میں پیپلز پارٹی کو اس کی ضرورت نہیں ہے اور سندھ میں پی پی کی حکومت میں اب کراچی، حیدرآباد اور سکھر کی میئر شپ بھی ایم کیو ایم سے چھین چکی ہے جس سے ایم کیو ایم کا گورنر بھی برداشت نہیں ہوا کیونکہ وہ سندھ حکومت کی ہاں میں ہاں ملاتا تھا نہ پی پی سندھ حکومت کی کارکردگی کی تعریف کرتا تھا اور نہ پی پی قیادت کے قصیدے پڑھتا تھا جو پی پی کے لیے ناگوار اور ناقابل برداشت تھا۔

 جب پی ٹی آئی اپنے مخالف کو وزیر اعلی پنجاب بنا سکتی ہے تو یہاں کی ہر پارٹی وہ کچھ کر سکتی ہے جس میں اس کا مفاد ہو۔ نواز شریف نے بھی جنرل پرویز کے ساتھیوں کو مسلم لیگ (ن) میں نہ لینے کا کہا تھا مگر بعد میں وہ بھی مجبور ہو گئے تھے۔

سندھ میں ایم کیو ایم کے دوگورنر ساڑھے 17 سال تک اقتدار میں رہے اور سندھ میں پیپلز پارٹی کے مسلسل اقتدارکو 18 واں سال چل رہا ہے اور یہ دونوں پارٹیوں کا ریکارڈ ضرور ہے مگر ہر ایک کے اقتدار کا موازنہ ضرور ہوتا ہے۔

سندھ میں 14 سال گورنر رہنے والے عشرت العباد اقتدار سے الگ ہو کر دبئی جا بسے تھے اور انھیں ایم کیو ایم کا کوئی دھڑا اچھا نہیں کہتا۔

انھوں نے طویل اقتدار قابل ذکر نہیں چھوڑا تھا اور ہر برسر اقتدار کی خوشامد میں اپنا اقتدار بچاتے رہے۔ انھوں نے کوئی ایسا قابل ذکر کام نہیں کیا کہ انھیں یاد رکھا جائے۔ مصطفیٰ کمال نے پی ایس پی بنا کر انھیں گورنری سے ہٹوانے کی مہم چلائی تھی۔

ایم کیو ایم کے تقریباً ساڑھے تین سال گورنر رہنے والے کامران ٹیسوری ایم کیو ایم میں بھی متنازع تھے وہ کبھی رکن اسمبلی بھی نہیں رہے مگر انھوں نے گورنر ہاؤس میں رہ کر جو کارکردگی دکھائی وہ پورے ملک میں نمایاں اور ممتاز ہے جس پر (ن) لیگ، پی پی اور ایم کیو ایم کے مخالف صحافی اور تجزیہ کار بھی تعریف کر رہے ہیں اور ان کے اقدامات کو کراچی ہی نہیں ملک بھر میں سراہا جا رہا ہے۔

ان کی کارکردگی میں 50 ہزار طلبا کو آئی ٹی کی تعلیم دلانا اورگورنر ہاؤس میں منعقدہ تمام پروگرامات سرکاری فنڈز کے بغیر چلانا اہمیت کے حامل ہیں۔

کامران ٹیسوری اقتدار سے الگ ہو کر بھی کراچی ہی میں ہیں اور انھوں نے اپنے اس عزم کا اظہارکیا ہے کہ وہ آئی ٹی کورسز کو اپنے طور پر مکمل کرائیں گے اور انھوں نے عوامی گورنر کے طور پر جو کام کیے ان کی عوام نے تعریف کی ہے اور انھیں سراہا ہے، اس لیے وہ گورنری کے بعد بھی عوامی فلاح کے منصوبوں کو اپنے خیر خواہوں کے تعاون سے تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔





Source link

Continue Reading

Trending