Connect with us

Today News

ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز

Published

on


ایک صحافی و تجزیہ کار جن کا تعلق اندرون سندھ سے ہے، نے دعویٰ کیا ہے کہ کامران خان ٹیسوری ایم کیو ایم کے آخری گورنر سندھ تھے اور آیندہ کبھی سندھ کا گورنر ایم کیو ایم سے نہیں ہوگا۔

تجزیہ کرنے اور اپنی مرضی کی سیاسی حمایت کرنے کا ہر ایک کو حق ہے مگر پاکستان میں حتمی دعوے کبھی پورے ہوئے اور نہ ہی ہوں گے۔

2007سے قبل کبھی کسی نے دعویٰ کیا تھا اور نہ ہی کبھی آصف زرداری نے سوچا تھا کہ وہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے نتیجے میں صدر پاکستان بن جائیں گے، وہ ایک نہیں دو بار صدر مملکت بن کر ریکارڈ بنا چکے ہیں۔

جو 2024 میں اپنے بیٹے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری کو وزیر اعظم بنوانے کی کوشش کر رہے تھے مگر پی پی کی اکثریت نہ ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کے ووٹوں سے دوبارہ صدر مملکت بن گئے۔

2008 میں بھی انھیں ایم کیو ایم کے بانی نے صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا اور وہ اپنی پارٹی کی حکومت میں (ن) لیگ کی حمایت کے بغیر ایم کیو ایم کی حمایت سے صدر منتخب ہوئے تھے اور ان کی حکومت نے ایم کیو ایم کے عشرت العباد کو گورنر سندھ رہنے دیا تھا جو جنرل پرویز کی حکومت میں گورنر بنے تھے اور چودہ سال سندھ کے گورنر رہے۔

جنھیں 2013 کے بعد وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی کچھ عرصہ برقرار رکھا تھا اور بعد میں ایک سابق جج کوگورنر سندھ بنایا تھا اور بعد میں انھوں نے محمد زبیر عمر پر اعتماد کیا اور انھیں (ن) لیگ کی طرف سے گورنر بنایا جس احسان کا بدلہ زبیر عمر اب (ن) لیگ کے سخت مخالف بن کر چکا رہے ہیں۔

سندھ کے نئے گورنر نہال ہاشمی (ن) لیگ کے سینیٹر تھے اور اپنی پارٹی کی حمایت میں انھوں نے اپنے بیانات سے سینیٹر شپ گنوائی اور جیل بھی کاٹی تھی تو اس وقت بھی ایک پیش گوئی ہوئی تھی کہ (ن) لیگ حکومت دوبارہ آئی تو ممکن ہے کہ نہال ہاشمی سندھ کے گورنر بنا دیے جائیں اور وہ اب سندھ کے گورنر بن چکے ہیں۔

مگر ساڑھے تین سال ٹیسوری ایم کیو ایم کی طرف سے گورنر سندھ رہے اور پیپلز پارٹی اور صدر زرداری کی مخالفت کے باعث اچانک فارغ کر دیے گئے اور (ن) لیگی گورنر ان کی جگہ آگئے۔

 صدر جنرل پرویز مشرف کا تعلق کراچی سے تھا جن کی متحدہ قومی موومنٹ حامی تھی اور انھوں نے ہی متحدہ کے ڈاکٹر عشرت العباد کو سندھ کا گورنر مقرر کیا تھا جو (ق) لیگ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں میں طویل عرصہ سندھ کے گورنر رہے۔

2015 میں متحدہ قومی موومنٹ ایم کیو ایم پاکستان بنی جس نے اپنے قائد سے اظہار لاتعلقی کیا تھا۔ متحدہ اور ایم کیو ایم پاکستان مسلم لیگ (ن)، (ق)، پیپلز پارٹی، پی ڈی ایم کے بعد آج بھی (ن) لیگ حکومت میں شامل ہے۔

مگر اب سندھ میں پیپلز پارٹی کو اس کی ضرورت نہیں ہے اور سندھ میں پی پی کی حکومت میں اب کراچی، حیدرآباد اور سکھر کی میئر شپ بھی ایم کیو ایم سے چھین چکی ہے جس سے ایم کیو ایم کا گورنر بھی برداشت نہیں ہوا کیونکہ وہ سندھ حکومت کی ہاں میں ہاں ملاتا تھا نہ پی پی سندھ حکومت کی کارکردگی کی تعریف کرتا تھا اور نہ پی پی قیادت کے قصیدے پڑھتا تھا جو پی پی کے لیے ناگوار اور ناقابل برداشت تھا۔

 جب پی ٹی آئی اپنے مخالف کو وزیر اعلی پنجاب بنا سکتی ہے تو یہاں کی ہر پارٹی وہ کچھ کر سکتی ہے جس میں اس کا مفاد ہو۔ نواز شریف نے بھی جنرل پرویز کے ساتھیوں کو مسلم لیگ (ن) میں نہ لینے کا کہا تھا مگر بعد میں وہ بھی مجبور ہو گئے تھے۔

سندھ میں ایم کیو ایم کے دوگورنر ساڑھے 17 سال تک اقتدار میں رہے اور سندھ میں پیپلز پارٹی کے مسلسل اقتدارکو 18 واں سال چل رہا ہے اور یہ دونوں پارٹیوں کا ریکارڈ ضرور ہے مگر ہر ایک کے اقتدار کا موازنہ ضرور ہوتا ہے۔

سندھ میں 14 سال گورنر رہنے والے عشرت العباد اقتدار سے الگ ہو کر دبئی جا بسے تھے اور انھیں ایم کیو ایم کا کوئی دھڑا اچھا نہیں کہتا۔

انھوں نے طویل اقتدار قابل ذکر نہیں چھوڑا تھا اور ہر برسر اقتدار کی خوشامد میں اپنا اقتدار بچاتے رہے۔ انھوں نے کوئی ایسا قابل ذکر کام نہیں کیا کہ انھیں یاد رکھا جائے۔ مصطفیٰ کمال نے پی ایس پی بنا کر انھیں گورنری سے ہٹوانے کی مہم چلائی تھی۔

ایم کیو ایم کے تقریباً ساڑھے تین سال گورنر رہنے والے کامران ٹیسوری ایم کیو ایم میں بھی متنازع تھے وہ کبھی رکن اسمبلی بھی نہیں رہے مگر انھوں نے گورنر ہاؤس میں رہ کر جو کارکردگی دکھائی وہ پورے ملک میں نمایاں اور ممتاز ہے جس پر (ن) لیگ، پی پی اور ایم کیو ایم کے مخالف صحافی اور تجزیہ کار بھی تعریف کر رہے ہیں اور ان کے اقدامات کو کراچی ہی نہیں ملک بھر میں سراہا جا رہا ہے۔

ان کی کارکردگی میں 50 ہزار طلبا کو آئی ٹی کی تعلیم دلانا اورگورنر ہاؤس میں منعقدہ تمام پروگرامات سرکاری فنڈز کے بغیر چلانا اہمیت کے حامل ہیں۔

کامران ٹیسوری اقتدار سے الگ ہو کر بھی کراچی ہی میں ہیں اور انھوں نے اپنے اس عزم کا اظہارکیا ہے کہ وہ آئی ٹی کورسز کو اپنے طور پر مکمل کرائیں گے اور انھوں نے عوامی گورنر کے طور پر جو کام کیے ان کی عوام نے تعریف کی ہے اور انھیں سراہا ہے، اس لیے وہ گورنری کے بعد بھی عوامی فلاح کے منصوبوں کو اپنے خیر خواہوں کے تعاون سے تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بابِ خیبر پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا

Published

on


پاکستان کا تاریخی مقام بابِ خیبر پر یومِ پاکستان کی پروقار تقریب ہوئی جس میں عسکری و سول حکام سمیت قبائلی مشران نے شرکت کی۔

تفصیلات کے مطابق تقریب میں عسکری حکام ، پولیس و دیگر حکام شریک مقررین نے یومِ پاکستان کی تاریخی اہمیت پر زور دیا۔

قبائلی عوام نے ملکی سلامتی کیلئے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام ہمیشہ افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

تقریب کے اختتام پر بابِ خیبر سے جمرود بازار تک پیدل مارچ کیا گیا۔ شرکا کی جانب سے قومی پرچم اٹھا کر ملی نغموں پر جوش و خروش کا اظہار کیا گیا۔

مقررین نے کہا کہ یومِ پاکستان تقریبات کا مقصد نئی نسل کو قومی تاریخ سے آگاہ کرنا ہے.





Source link

Continue Reading

Today News

پیٹرول مہنگا؛ پاکستان میں پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیاں مقبول ہونے لگیں

Published

on



کراچی:

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا  اضافے کے باعث ملک میں پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیاں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

ملک میں پیٹرول کی قیمتیں 320روپے فی لیٹر سے متجاوز ہونے سے گاڑی چلانے کی لاگت میں نمایاں اضافے کے باعث اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل (SUV) استعمال کرنے والوں کی ترجیحات تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔

ماہرین اور صنعت سے وابستہ شخصیات کے مطابق اب پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز اور رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز پاکستانی صارفین کے لیے زیادہ موزوں اور معاشی طور پر فائدہ مند انتخاب بنتے جارہے ہیں۔

چیری ماسٹر پاکستان کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ سید آصف احمد کے مطابق موجودہ پیٹرول قیمتوں نے روایتی گاڑیوں کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اب یہ صرف ماحولیات کا معاملہ نہیں رہا بلکہ براہ راست صارف کے ماہانہ اخراجات کا سوال بن چکا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق عام پیٹرول پر چلنے والی سی سیگمنٹ SUV، جو اوسطاً 10 کلومیٹر فی لیٹر مائلیج دیتی ہے، موجودہ قیمتوں پر تقریباً 32 روپے فی کلومیٹر خرچ کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں روایتی ہائبرڈ گاڑیاں، جو تقریباً 18کلومیٹر فی لیٹر مائلیج دیتی ہیں، ان کی لاگت بھی کم ہو کر تقریباً 18روپے فی کلومیٹر رہتی ہے، تاہم وہ اب بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر ہوتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل تبدیلی پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیوں کے ذریعے آرہی ہے، جو شہری استعمال کے دوران زیادہ تر سفر بجلی پر مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

مثال کے طور پر ایک جدید پلگ اِن SUV کی بیٹری کو مکمل چارج کرنے پر تقریباً 170 کلومیٹر تک کا سفر کیا جا سکتا ہے۔ اگر بجلی کی اوسط قیمت 50 روپے فی یونٹ لی جائے تو ایک مکمل چارج کی لاگت تقریباً 1700 روپے بنتی ہے، جو فی کلومیٹر تقریباً 10 روپے کے برابر ہے۔

اس طرح ایک پلگ اِن ہائبرڈ SUV کی یومیہ لاگت روایتی پیٹرول گاڑی کے مقابلے میں تقریباً 22 روپے فی کلومیٹر کم ہو سکتی ہے، جو ماہانہ بنیاد پر صارفین کے لیے نمایاں بچت کا باعث بنتی ہے۔

ماہرینِ توانائی کے مطابق پاکستان میں تیزی سے بڑھتا ہوا سولر انرجی کا رحجان بھی اس تبدیلی کو مزید تقویت دے رہا ہے۔ ملک میں نیٹ میٹرنگ اور گھریلو سولر سسٹمز کی تنصیب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے صارفین نہ صرف بجلی کے بل کم کر رہے ہیں بلکہ اپنی گاڑیوں کو بھی کم لاگت پر چلا سکتے ہیں۔

سید آصف احمد کے مطابق یہ وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی توانائی اور ٹرانسپورٹ دونوں تبدیلیاں آپس میں جڑ رہی ہیں۔ جو گھرانے اپنی بجلی خود پیدا کر رہے ہیں، وہ نہ صرف بجلی بلکہ ایندھن کے اخراجات میں بھی بڑی کمی لا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پلگ اِن ہائبرڈ اور REEV گاڑیاں پاکستانی صارفین کے لیے اس لیے بھی موزوں ہیں کیونکہ یہ مکمل الیکٹرک گاڑیوں کے برعکس چارجنگ انفرا اسٹرکچر پر مکمل انحصار نہیں کرتیں اور طویل سفر کے لیے پیٹرول بیک اپ فراہم کرتی ہیں۔

معاشی ماہرین اس رجحان کو قومی معیشت کے تناظر میں بھی اہم قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کا انحصار درآمدی تیل پر ہے اور عالمی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست ملکی مالیاتی دباؤ میں اضافہ کرتا ہے۔

سرکاری اندازوں کے مطابق عالمی تیل کی قیمتوں میں 20فیصد اضافہ مالی خسارے میں سیکڑوں ارب روپے کا اضافہ کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صارفین کی بڑی تعداد کم ایندھن استعمال کرنے والی یا بجلی پر چلنے والی گاڑیوں کی طرف منتقل ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف انفرادی سطح پر بچت ہوگی بلکہ ملک کے درآمدی بل پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔

موجودہ صورتحال میں واضح ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان میں SUV استعمال کرنے والے صارفین کے لیے مستقبل کا انتخاب تبدیل ہورہا ہے، جہاں پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیاں مہنگے ایندھن کے دور میں ایک عملی اور معاشی حل کے طور پر سامنے رہی ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

عمران خان کے ویژن کے تحت وزیراعلیٰ کےپی نے شجر مہم کا آغاز کر دیا

Published

on


عمران خان کے کلین اینڈ گرین پاکستان ویژن کے تحت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے احساسِ شجر مہم کا آغاز کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا ہاؤس میں پودا لگا کر مہم کا باضابطہ اجراء کیا۔ انہوں نے کہا کہ  وزیراعلیٰ یومِ پاکستان اور عید کے موقع پر تاریخی اور ریکارڈ شجرکاری مہم شروع کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ہی دن میں سرکاری سطح پر 10 لاکھ پودے لگانے کا ہدف ہے، عوام بھی اپنی سطح پر مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے اقدامات سے صوبے کے جنگلاتی رقبے میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم اپنے ماحول، مستقبل اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کے سنجیدہ ہیں، عملی اقدامات جاری ہیں۔ ماحولیاتی چیلنجز کے پیش نظر جنگلات کا فروغ و تحفظ ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے 285 مقامات پر بیک وقت شجرکاری سرگرمیاں جاری، تمام انتظامات پہلے سے مکمل ہیں۔ مہم کی نگرانی کے لیے جدید ویب پورٹل اور مرکزی کنٹرول سسٹم فعال کردیا گیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending