Today News
منا لی عید آپ نے!!
اللہ کا کرم ہوا اور پانچ جمعتہ المبارک کا رمضان گزار کر ہم نے انعام کے طورپر بروز ہفتہ عید منائی۔ رمضان کا پہلا عشرہ اللہ کے فضل اور رحمت سے سرد تھا ، موسم انتہائی خوش گوار اور دن چھوٹے کہ دس روزے گزرنے کا علم بھی نہ ہوا اور پھر یک لخت موسم نے کروٹ بدلی اور درجہء حرارت بڑھ گیا۔
دن چھوٹے سہی مگر کافی گرم ہو گئے اور نصف روزہ گزار کر حالت خراب ہوجاتی تھی، ناطاقتی اور کسملندی ایسی کہ کچھ کرنے کو جی نہیں چاہتا تھا… جی تو جو بھی چاہے مگر ہم خواتین کو کہاں شارٹ لیو بھی ملتی ہے کہ کسی دن افطاری بنانے کا ناغہ کر لیں ، اللہ ہی ہمیں اس کا اجر دے سکتا ہے۔
دل سے دعائیں نکلتی تھیں کہ گرمی کا زور ذرا ٹوٹے تو روزہ گزارنا سہل ہو جائے۔ اپنی علالت اور دوائیں ایسی ہیں کہ حلق میں جیسے کانٹے اگ آتے تھے اور یہ بھی سننا پڑتا تھا کہ خود پر جبر کر کے روزہ کیوں رکھا جائے۔
مگر یہ ایک دل ہے نا، اسے معلوم ہے کہ ہم یہ فرض چھوڑنا نہیں چاہتے اور سال میں ایک بار آنے والے اس ماہ مبارکہ کی برکتوں سے فیض یاب ہونا چاہتے ہیں ۔ اللہ نے سن لی اور آخری دس روزے تو یوں لگ رہا تھا کہ دنیا میں ہی جنت مل گئی ہو۔
سردیوں کے جو کپڑے اور بستر درمیان کے دس روزوں میں محنت کر کے سمیٹے تھے، وہ ایک ایک کرکے واپس نکلنے لگے۔
آخری روزے میں تو پیک کی ہوئی رضائی بھی نکالنا پڑ گئی، پنکھے تک بند ہیں اور پھر بھی سردی تھی۔ اللہ کا ہم پر خاص فضل و کرم ہوا اور ہم اس کا جتنا بھی شکر بجا لائیں وہ کم ہے۔
حکومت کی طرف سے پٹرول بم نے تو ارمانوں کا خون کردیا لیکن تان پھر وہیں آ کر ٹوٹی کہ تعلیمی ادارے بندکر دیے جائیں، اس سے اس پٹرول کی بچت ہو گئی ہو گی جو تمام بچے سویرے اسکول کالج جاتے ہوئے پی کر جاتے تھے مگر جو حرج ان کی تعلیم کا ہو رہا ہے، اس کی بھی کسی کو فکر ہے؟؟
پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے اس بار تو کمر ہی توڑ دی مگر انسان کیا کرے، مجبوری تو مجبوری ہے۔ اسکول کالج بند مگر بازار اور دکانیں تو کھلی تھیں، جو وقت مائیں بچوں کو اسکول لانے لے جانے میں گزارتی تھیں ، وہ تمام وقت بازاروں اور مالز میں گزرنے لگا ۔
ہاں تو بات ہو رہی تھی کہ دنیا کے حالات اور پٹرول کی قیمتوں میں بے انتہا اضافے کے باعث امسال شاید پاکستانی (ملک میں رہنے والے) شاید عید منا ہی نہ سکیں اور حساب کتاب ہی کرتے رہ جائیں کہ کہاں سے بچائیں اور کہاں سے لائیں کہ عید کی خوشیاں منا سکیں۔
میرے حساب سے اس بار عید کی رونقیں ماند پڑی ہوں گی، بازار سامان سے بھرے ہوں گے اور دکاندار انتظار کرتے رہ جائیں گے مگر کوئی خریدار ہی نہ ہو گا مگر دیکھنے کو بالکل اس کے الٹ ملا۔ گوشت لینے گئی تو قصاب نے کہا ، ’’ ماں جی، گھنٹے کے بعد آجائیں، رش کافی ہے، آپ کو روزے میں خواہ مخواہ انتظار کرنا پڑے گا ۔‘‘
ایک گھنٹے کے بعد مجھے بھلاگوشت اچھا کہاں ملے گا، سوچا کہ بیٹھنے کو جگہ مل جائے تو بیٹھ جاؤں ۔ ’’ آپ کو جو کچھ چاہیے، وہ مجھے فون پر پیغام بھیج دیں، میںآپ کے لیے رکھ لوں گا۔‘‘ اس نے میرا ذہن پڑھ لیا تھا۔
اتنی دیر میں پھل اورسبزی لے لیتی ہوں … سوچ کر نزدیکی سبزی اور پھل کی دکان پر پہنچی اور وہاں ایک اور میلہ لگا ہوا دیکھ کر بوکھلا گئی، اب کیا اس کو بھی فہرست دے کر جانا پڑے گا، باقاعدہ دکان میں کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔
خالی ٹوکری مانگی تو وہ بھی نہ ملی، ایک پھل والا خالی کریٹ دکاندار کے چھوٹے نے میرے قریب رکھا اور کہا کہ جو کچھ بھی مجھے لینا ہے وہ اس کریٹ میں ڈالتی جاؤں ، بعد میں وہ میری گاڑی میں وہی کریٹ رکھ دے گا۔
صاحب باربر کی دکان سے دو دفعہ ہو کر لوٹ کر آئے تھے، ان کا اسٹیمنا نہیں تھا کہ وہ ایک گھنٹہ انتظار میں بیٹھ جائیں ۔ دو دفعہ ہو کر واپس آ گئے تھے، اس امید پر کہ شاید وہ کسی ایک بار جائیں تو لوگ بالکل نہیں ہوں گے مگر یہ بھی ایک اندازہء غلط تھا، کسی ایک بار تو انھیں جا کر ایک گھنٹہ انتظار کرنا ہی تھا۔
لگ ہی نہیں رہا تھا کہ ہم کسی غریب ملک کے وہ عوام ہیں جن کے حکمرانوں سے لے کر نیچے تک سب مانگ تانگ کر گزارا کرتے ہیں۔ ہم ایک ایسا غریب ملک ہیں جس کے لوگ امیر ہیں، مانگنے والا بھی امیر ہے اور دینے والا بھی۔
اس سال موسم نے کافی آنکھ مچولی کھیلی، پہلے دوسرے اور تیسر ے عشرے میں موسم نے تین رنگ بدلے۔ لوگو ں نے اس پر کافی میم بھی بنائے کہ یہ وہ ماہ رمضان ہے جس کا پہلا عشرہ رضائیوں، دوسرا پنکھوں اور اے سی میں اور تیسرا عشرہ واپس کمبلوں اور سویٹروں کے ساتھ گزرا ہے ۔
جتنی خوشی امیر ترین کو ہوتی ہے، اتنی ہی ایک سفید پوش کو اور ایک غریب کو بھی ہوتی ہے، مزدور بھی اپنے گھر والوں کو ہر روز کی سادہ دال روٹی سے بہتر ایک دن کھانا کھلا کر خود وہ خوشی محسوس کرتا ہے جو عام حالات میں اسے میسر نہیں ہوتی۔
یہی ہماری زکوۃ اور فطرانے کا بہترین مصرف ہے کہ ہم اپنی دولت کو بھی مصفا کر سکیں اور اس سے کسی کے چہرے پر وہ مسکراہٹ بکھیر دیں جو کہ ہمیں ثواب کی صورت میں ملے گی۔
اللہ تعالی ہمارے احسان کو اپنے پاس نہیں رکھتا ہے بلکہ ہمیں اس کے صلے میں اس سے بہت بہترین اور بے بہا عطا کرتا ہے ۔ آپ سب کو عید کی خوشیاں مبارک ہوں اور اللہ تعالی آپ سب کی ماہ رمضان کی عبادات قبول فرمائے ۔ آمین
Today News
بابِ خیبر پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا
پاکستان کا تاریخی مقام بابِ خیبر پر یومِ پاکستان کی پروقار تقریب ہوئی جس میں عسکری و سول حکام سمیت قبائلی مشران نے شرکت کی۔
تفصیلات کے مطابق تقریب میں عسکری حکام ، پولیس و دیگر حکام شریک مقررین نے یومِ پاکستان کی تاریخی اہمیت پر زور دیا۔
قبائلی عوام نے ملکی سلامتی کیلئے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام ہمیشہ افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
تقریب کے اختتام پر بابِ خیبر سے جمرود بازار تک پیدل مارچ کیا گیا۔ شرکا کی جانب سے قومی پرچم اٹھا کر ملی نغموں پر جوش و خروش کا اظہار کیا گیا۔
مقررین نے کہا کہ یومِ پاکستان تقریبات کا مقصد نئی نسل کو قومی تاریخ سے آگاہ کرنا ہے.
Today News
پیٹرول مہنگا؛ پاکستان میں پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیاں مقبول ہونے لگیں
کراچی:
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث ملک میں پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیاں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔
ملک میں پیٹرول کی قیمتیں 320روپے فی لیٹر سے متجاوز ہونے سے گاڑی چلانے کی لاگت میں نمایاں اضافے کے باعث اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل (SUV) استعمال کرنے والوں کی ترجیحات تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔
ماہرین اور صنعت سے وابستہ شخصیات کے مطابق اب پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز اور رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز پاکستانی صارفین کے لیے زیادہ موزوں اور معاشی طور پر فائدہ مند انتخاب بنتے جارہے ہیں۔
چیری ماسٹر پاکستان کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ سید آصف احمد کے مطابق موجودہ پیٹرول قیمتوں نے روایتی گاڑیوں کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اب یہ صرف ماحولیات کا معاملہ نہیں رہا بلکہ براہ راست صارف کے ماہانہ اخراجات کا سوال بن چکا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق عام پیٹرول پر چلنے والی سی سیگمنٹ SUV، جو اوسطاً 10 کلومیٹر فی لیٹر مائلیج دیتی ہے، موجودہ قیمتوں پر تقریباً 32 روپے فی کلومیٹر خرچ کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں روایتی ہائبرڈ گاڑیاں، جو تقریباً 18کلومیٹر فی لیٹر مائلیج دیتی ہیں، ان کی لاگت بھی کم ہو کر تقریباً 18روپے فی کلومیٹر رہتی ہے، تاہم وہ اب بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر ہوتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل تبدیلی پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیوں کے ذریعے آرہی ہے، جو شہری استعمال کے دوران زیادہ تر سفر بجلی پر مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
مثال کے طور پر ایک جدید پلگ اِن SUV کی بیٹری کو مکمل چارج کرنے پر تقریباً 170 کلومیٹر تک کا سفر کیا جا سکتا ہے۔ اگر بجلی کی اوسط قیمت 50 روپے فی یونٹ لی جائے تو ایک مکمل چارج کی لاگت تقریباً 1700 روپے بنتی ہے، جو فی کلومیٹر تقریباً 10 روپے کے برابر ہے۔
اس طرح ایک پلگ اِن ہائبرڈ SUV کی یومیہ لاگت روایتی پیٹرول گاڑی کے مقابلے میں تقریباً 22 روپے فی کلومیٹر کم ہو سکتی ہے، جو ماہانہ بنیاد پر صارفین کے لیے نمایاں بچت کا باعث بنتی ہے۔
ماہرینِ توانائی کے مطابق پاکستان میں تیزی سے بڑھتا ہوا سولر انرجی کا رحجان بھی اس تبدیلی کو مزید تقویت دے رہا ہے۔ ملک میں نیٹ میٹرنگ اور گھریلو سولر سسٹمز کی تنصیب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے صارفین نہ صرف بجلی کے بل کم کر رہے ہیں بلکہ اپنی گاڑیوں کو بھی کم لاگت پر چلا سکتے ہیں۔
سید آصف احمد کے مطابق یہ وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی توانائی اور ٹرانسپورٹ دونوں تبدیلیاں آپس میں جڑ رہی ہیں۔ جو گھرانے اپنی بجلی خود پیدا کر رہے ہیں، وہ نہ صرف بجلی بلکہ ایندھن کے اخراجات میں بھی بڑی کمی لا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پلگ اِن ہائبرڈ اور REEV گاڑیاں پاکستانی صارفین کے لیے اس لیے بھی موزوں ہیں کیونکہ یہ مکمل الیکٹرک گاڑیوں کے برعکس چارجنگ انفرا اسٹرکچر پر مکمل انحصار نہیں کرتیں اور طویل سفر کے لیے پیٹرول بیک اپ فراہم کرتی ہیں۔
معاشی ماہرین اس رجحان کو قومی معیشت کے تناظر میں بھی اہم قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کا انحصار درآمدی تیل پر ہے اور عالمی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست ملکی مالیاتی دباؤ میں اضافہ کرتا ہے۔
سرکاری اندازوں کے مطابق عالمی تیل کی قیمتوں میں 20فیصد اضافہ مالی خسارے میں سیکڑوں ارب روپے کا اضافہ کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صارفین کی بڑی تعداد کم ایندھن استعمال کرنے والی یا بجلی پر چلنے والی گاڑیوں کی طرف منتقل ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف انفرادی سطح پر بچت ہوگی بلکہ ملک کے درآمدی بل پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔
موجودہ صورتحال میں واضح ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان میں SUV استعمال کرنے والے صارفین کے لیے مستقبل کا انتخاب تبدیل ہورہا ہے، جہاں پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیاں مہنگے ایندھن کے دور میں ایک عملی اور معاشی حل کے طور پر سامنے رہی ہیں۔
Today News
عمران خان کے ویژن کے تحت وزیراعلیٰ کےپی نے شجر مہم کا آغاز کر دیا
عمران خان کے کلین اینڈ گرین پاکستان ویژن کے تحت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے احساسِ شجر مہم کا آغاز کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا ہاؤس میں پودا لگا کر مہم کا باضابطہ اجراء کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ یومِ پاکستان اور عید کے موقع پر تاریخی اور ریکارڈ شجرکاری مہم شروع کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک ہی دن میں سرکاری سطح پر 10 لاکھ پودے لگانے کا ہدف ہے، عوام بھی اپنی سطح پر مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے اقدامات سے صوبے کے جنگلاتی رقبے میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم اپنے ماحول، مستقبل اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کے سنجیدہ ہیں، عملی اقدامات جاری ہیں۔ ماحولیاتی چیلنجز کے پیش نظر جنگلات کا فروغ و تحفظ ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے 285 مقامات پر بیک وقت شجرکاری سرگرمیاں جاری، تمام انتظامات پہلے سے مکمل ہیں۔ مہم کی نگرانی کے لیے جدید ویب پورٹل اور مرکزی کنٹرول سسٹم فعال کردیا گیا ہے۔
-
Magazines1 week ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Samson rises from year of struggle to become India’s World Cup hero – Sport
-
Magazines1 week ago
Story time: The price of a typo
-
Magazines1 week ago
STORY TIME: CLEARER THAN BEFORE – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Amber Khan & Nadia Khan On Anchors Exploiting Broken Marriages
-
Sports2 weeks ago
Trio set for debuts as Pakistan commence 2027 preparations with Bangladesh ODIs – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Rajab Butt Replies to Emaan Rajab’s Divorce Story
-
Entertainment2 weeks ago
Eman Fatima’s Mother’s Message For Rajab Butt