Connect with us

Today News

پی ایس ایل: آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے نامور کھلاڑی پاکستان پہنچ گئے

Published

on


پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن میں شرکت کے لیے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے نامور کھلاڑی پاکستان پہنچ گئے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں نیوزی لینڈ کے ڈیوون کونوے اور مارک چیپمین نے ایئرپورٹ پر پہنچ کر اپنے مداحوں کو اردو زبان میں پیغام دیا۔

ویڈیو میں دونوں کھلاڑیو کو ایک ساتھ دیکھا جاسکتا ہے جبکہ مارک چیپمین کہتے ہیں ’ہم آگئے ہیں شیروز‘۔

دوسری جانب ملتان سلطانز کے آسٹریلوی لیجنڈ اسٹیو اسمتھ بھی لاہور پہنچ گئے ہیں۔

ان کے علاوہ تبریز شمسی، جوش فلپ، پیٹر سڈل اور کوچ ٹم پین سمیت ملتان سلطانز کے تمام غیر ملکی کھلاڑی پاکستان پہنچ چکے ہیں۔

واضح رہے کہ پی ایس ایل 11 کے شیڈول میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔

پی سی بی نے کفایت شعاری اقدامات کے تحت ٹورنامنٹ کو صرف دو شہروں میں اور تماشائیوں کے بغیر کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

چیئرمین پی سی بی نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ شائقین سے معذرت خواہ ہیں، ٹکٹ کے پیسے واپس کیے جائیں گے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان کی تاریخ میں سونے کی قیمت میں سب سے بڑی کمی

Published

on



کراچی:

عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں بہت بڑی کمی کے بعد ملکی تاریخ میں سونے کی قیمت میں آج تک کی سب سے بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید نمایاں کمی واقع ہوئی ہے،  بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت یک دم 436ڈالر کی کمی سے 4ہزار 250ڈالر کی سطح پر آگئی۔

اس کے اثرات مقامی مارکیٹ پر مرتب ہوئے جس کے بعد ملکی سطح پر فی تولہ سونے کی قیمت 43ہزار 600روپے کی تاریخی کمی سے 4لاکھ 47ہزار 762 روپے کی سطح پر آگئی، یہ ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کمی ہے۔

اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت 37ہزار 380روپے گھٹ کر 3لاکھ 83ہزار 883روپے کی سطح پر آگئی۔

سونے کی طرح چاندی کی قیمت میں بھی کمی واقع ہوئی، فی تولہ چاندی کی قیمت 800 روپے کی کمی سے 6ہزار 884 روپے کی سطح پر آگئی، فی دس گرام چاندی کی قیمت 686روپے کی کمی سے 5ہزار 901روپے کی سطح پر آگئی۔





Source link

Continue Reading

Today News

سائنسدانوں کی نئی دریافت نے 300 سال پرانا قانون توڑ ڈالا

Published

on



سائنس دانوں کی نئی دریافت نے 300 برس سے زیادہ عرصے سے درست سمجھے والے قانون کو غلط ثابت کردیا۔

یونیورسٹی آف کونسٹانز کے سائنس دانوں نے ایک بالکل نئی قسم کی سلائڈنگ فرکشن {رگڑ} کی نشاندہی کی ہے۔

اس معاملے میں حرکت میں مزاحمت دو اشیاء کے طبعی راطبے کے بغیر پیدا ہوتی ہے اور مقناطیسی عناصر کے مجموعی رویے کے سبب سامنے آتی ہے۔

تحقیق کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ رگڑ ہمیشہ وزن کے ساتھ نہیں بڑھتی {جیسا کہ ایمنٹنز لا میں بتایا جاتا ہے} بلکہ جب اندرونی نظام میں مقناطیسی ترتیب جب خراب ہوجاتی ہے تو فرکشن اپنے عروج پر پہنچ سکتی ہے۔

300 برس سے ایمنٹنز لا کے تحت یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ رگڑ کا براہ راست تعلق اس بات سے ہے کہ دو سطحوں کو کتنی طاقت سے دبایا جا رہا ہے اور اس کی مثال عام زندگی میں بکثرت ملتی ہے جیسے کہ بھاری اشیاء کا ہلایا جانا مشکل جبکہ کم وزن اشیاء کو باآسانی ہلایا جا سکتا ہے۔

جس کی وضاحت عام طور پر یوں دی جاتی ہے کہ پریشر پڑنے پر سطحوں کی شکل بگڑ جاتی ہے جس کے بعد سطح کے خردبینی کانٹیکٹ پوائنٹس بڑھ جاتے ہیں اور مزاحمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

اس امکان کی جانچ کے لیے محققین نے ایک ٹیبل ٹاپ تجربہ ترتیب دیا، جس میں آزادانہ طور پر گھومنے والے مقناطیسی عناصر کی دو جہتی قطار کو ایک دوسری مقناطیسی تہہ کے اوپر رکھا گیا۔ حیران کن بات یہ تھی کہ دونوں تہیں کبھی براہِ راست ایک دوسرے کو چھوتی نہیں تھیں، پھر بھی ان کے درمیان مقناطیسی تعامل ایک قابلِ پیمائش رگڑ کی قوت پیدا کر رہا تھا۔

مزید دلچسپ یہ کہ تہوں کے درمیان فاصلے کو کم یا زیادہ کرکے ٹیم مؤثر بوجھ (لوڈ) کو قابو میں رکھنے میں کامیاب رہی اور ساتھ ہی حرکت کے دوران مقناطیسی ساخت میں آنے والی تبدیلیوں کو براہِ راست مشاہدہ بھی کیا۔



Source link

Continue Reading

Today News

اسکاٹ لینڈ کے ساحل سے ملنے والا بوتل میں بند پیغام

Published

on



اسکاٹ لینڈ میں ایک ساحل پر ایک فرد کو سیر کے دوران بوتل میں بند پیغام ملا ہے جو کینیڈا کے پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ سے پانی پھینکا گیا تھا۔

مائیک اسکاٹ کا کہنا تھا کہ تقریباً دو ہفتے قبل وہ اپنے کتوں کے ساتھ ایبرڈین میں ایک ساحل سینٹ سائرس پر سیر کر رہے تھے جب ان کے ایک کتے نے اتھلے پانی میں ایک بوتل دیکھی۔

مائیک نے دیکھا کہ بوتل میں ایک خط تھا جس کو پانی سے بچانے کے لیے پلاسٹک کی تھیلی میں سِیل کیا گیا تھا۔

یہ خط فرانسیسی زبان میں اگست 2024 میں لکھا گیا تھا۔ خط میں لکھا تھا کہ اس بوتل کو پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ سے کیوبک میں آئلس ڈی لا میڈیلن کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔

خط لکھنے والی اینی چائیسن کا کہنا تھا کہ جس کو بھی یہ خط ملے وہ فیس بک کے ذریعے ان سے رابطے کریں۔



Source link

Continue Reading

Trending