Connect with us

Today News

کیا آپ کمپیوٹر میں درپیش عام مسائل سے پریشان ہیں؟ یہ آسان ٹپس اپنائیں

Published

on


موجودہ دور میں کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں، تاہم اکثر صارفین کو چھوٹے چھوٹے تکنیکی مسائل کا سامنا رہتا ہے، جن کے لیے وہ فوری طور پر بازار کا رُخ کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی مسائل ایسے ہوتے ہیں جنہیں آپ خود بھی چند آسان اقدامات کے ذریعے حل کر سکتے ہیں۔

ایکسپرٹس کے مطابق رفتار کا سست ہونا کمپیوٹر کا سب سے عام مسئلہ ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ عموماً غیر ضروری پروگرامز کا بیک گراؤنڈ میں چلنا ہوتا ہے۔

صارفین ’ٹاسک مینیجر‘کے ذریعے ایسے پروگرامز بند کر سکتے ہیں اور اسٹارٹ اپ ایپس کو محدود کر کے سسٹم کی رفتار بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈسک کلین اپ اور غیر ضروری فائلز کو حذف کرنا بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

اسی طرح کمپیوٹر کا بار بار ہینگ ہونا بھی ایک عام شکایت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ اکثر ریم کی کمی یا سافٹ ویئر کا بوجھ ہوتا ہے۔ ایسے میں غیر ضروری براؤزر ٹیبز بند کرنا، سسٹم کو ری اسٹارٹ کرنا اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹس انسٹال کرنا مسئلے کو کافی حد تک حل کر سکتا ہے۔

انٹرنیٹ کی سست رفتار بھی صارفین کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے راؤٹر کو ری اسٹارٹ کرنا، غیر ضروری ڈیوائسز کو نیٹ ورک سے ہٹانا اور براؤزر کی کیشے صاف کرنا مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات مسئلہ صرف براؤزر میں ہوتا ہے، جسے تبدیل کر کے بھی بہتری لائی جا سکتی ہے۔

ایک اور عام مسئلہ کمپیوٹر میں وائرس یا میلویئر کا داخل ہونا ہے، جو نہ صرف سسٹم کو سست کر دیتا ہے بلکہ ڈیٹا کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔

ماہرین صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ مستند اینٹی وائرس پروگرام استعمال کریں اور باقاعدگی سے سسٹم اسکین کریں۔ مشکوک لنکس اور غیر معروف سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کرنے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔

اسی طرح اگر کمپیوٹر زیادہ گرم ہو رہا ہو تو اس کی وجہ وینٹیلیشن کا ناقص ہونا یا گرد و غبار ہو سکتا ہے۔ ایسے میں ڈیوائس کو صاف رکھنا اور مناسب ہوا دار جگہ پر استعمال کرنا ضروری ہے۔

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان چھوٹے مسائل کو خود حل کرنے کی عادت نہ صرف وقت اور پیسے کی بچت کرتی ہے بلکہ صارفین کو ڈیجیٹل طور پر زیادہ خود مختار بھی بناتی ہے۔ البتہ اگر مسئلہ پیچیدہ ہو یا بار بار سامنے آئے تو کسی ماہر سے رجوع کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ملک میں مغربی ہواؤں کے اثرات، کراچی میں بادل برسنے کا امکان

Published

on



مغربی ہواؤں کا ایک تازہ سلسلہ آج بلوچستان کے جنوب مغربی علاقوں میں داخل ہوگا جس کے زیر اثر کراچی میں بھی بارش کی پیشگوئی کر دی گئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کل سے ملک کے بیشتر علاقوں میں مغربی ہواؤں کے پھیلنے کا امکان ہے۔

کراچی میں بدھ کو مطلع جذوی ابرآلود رہنے اور ہلکی بارش کا امکان ہے جبکہ جمعرات کو گرج چمک کے ساتھ تیزبارش متوقع ہے۔ بارش کے دوران شہر میں آندھی چلنے کی بھی توقع ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ میں مغربی سسٹم کے زیر اثر ژالہ باری اور آسمانی بجلی گر سکتی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

نوکری سے برطرفی کے دوران دیگر ادارے میں ملازمت کرنے والے ملازم کو مراعات دینے کی استدعا مسترد

Published

on


سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ برطرفی کے دوران اگر کوئی ملازم کسی دوسرے ادارے میں باقاعدہ ملازمت کرتا رہے تو وہ اس عرصے کے بیک بینیفٹس (تنخواہ و مراعات) کا حقدار نہیں ہوتا، عدالت نے اس بنیاد پر ایک شہری کی اپیل مسترد کرتے ہوئے لیو ٹو اپیل دینے سے انکار کر دیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سنایا جس میں افتخار احمد کی جانب سے دائر سول پٹیشن نمبر 1545 آف 2019 کو خارج کر دیا گیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار، جو نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات کے طور پر کام کر رہے تھے، پر 2011 کے انٹری ٹیسٹ کے پرچے لیک کرنے کا الزام لگا، جس پر انکوائری کے بعد انہیں 30 مارچ 2012 کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔

بعد ازاں عدالت کی ہدایت پر محکمہ نے انہیں بحال کر دیا اور کچھ عرصے کی تنخواہ و مراعات بھی ادا کیں۔تاہم ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار نے 21 دسمبر 2012 سے 5 ستمبر 2016 تک یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر خدمات انجام دیں، جس پر متعلقہ ادارے نے اس عرصے کو بغیر تنخواہ چھٹی قرار دیا اور بیک بینیفٹس دینے سے انکار کر دیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ بیک بینیفٹس کا اصول صرف ایسے ملازمین کے لیے ہے جو برطرفی کے دوران بے روزگار رہے ہوں۔ اگر کوئی شخص اس دوران کسی اور جگہ ملازمت یا کاروبار کر رہا ہو تو وہ اس مدت کی تنخواہ کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

عدالت نے مزید کہا کہ ایسے دعوے کے لیے لازم ہے کہ درخواست گزار اپنی درخواست میں یہ واضح کرے کہ وہ اس دوران بے روزگار رہا۔عدالت نے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی سقم نہیں، لہٰذا سول پٹیشن مسترد کرتے ہوئے اپیل کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔





Source link

Continue Reading

Today News

کوئٹہ میں مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

Published

on


عیدالفطر کی خوشیوں کے موقع پر کوئٹہ کی مارکیٹوں میں ایک بار پھر مہنگائی کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں تین دن کے مختصر عرصے میں تقریباً 150 روپے فی کلو کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے شہریوں کے چہرے پر تشویش کی لکیریں نمایاں ہو گئی ہیں۔

مارکیٹ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اب صاف شدہ مرغی کا گوشت 750 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے جبکہ کچھ جگہوں پر یہ 780 روپے تک پہنچ گیا ہے۔

زندہ مرغی کا ریٹ بھی 500 سے 510 روپے فی کلو کے قریب ہے۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا ہے جب مٹن 2400 سو سے 2500 اور بیف پہلے ہی 1400 سے 1600 روپے فی کلو کے درمیان مہنگے داموں دستیاب ہیں۔

دکانداروں اور پولٹری ڈیلرز کا کہنا ہے کہ پولٹری فارمز سے چکن مہنگے ریٹ پر مل رہاہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ، فیڈ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور عید کے باعث طلب میں اچانک اضافے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ایک بڑے پولٹری تاجر نے بتایا کہ “فارم لیول پر لاگت بڑھ گئی ہے، اس لیے ریٹ خود بخود اوپر چلا گیا ہے۔ شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایک متوسط طبقے کے شہری محمد بخش نے بتایا، مٹن اور بیف تو برسوں سے ہماری پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں چکن کم از کم سستا ہوتا تھا کہ ہفتے میں ایک دو بار گھر میں بن جاتا۔ اب یہ بھی ریٹائرڈ شخص یا نوکری پیشہ کے لیے خواب بن گیا ہے۔

شہریوں کی اکثریت کا مطالبہ ہے کہ حکومت نہ صرف عید کے دوران بلکہ مستقل بنیاد پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر حکمت عملی اپنائے، تاکہ غریب اور متوسط طبقے پر مہنگائی کا بوجھ کم ہو سکے۔





Source link

Continue Reading

Trending