Connect with us

Today News

عید پر خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقامات توجہ مرکز بن گئے، کتنے سیاحوں نے صوبے کا رخ کیا؟

Published

on



خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقامات عید کے دنوں میں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

عید ایام میں ایک لاکھ سیاحوں نے خیبر پختونخوا کا رخ کیا۔

اعداد و شمار کے مطابق 58 ہزار 216 سیاحوں نے سوات کے پر فضا مقامات پر عید کے دن گزارے۔ 30 ہزار سیاح گلیات، 5 ہزار ناران، 3 ہزار کالاش اور 93 سیاح مستوج گئے۔

عید کے دنوں میں 27 غیر ملکی سیاحوں نے بھی خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں کا رخ کیا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

رحیم یار خان: گنے کی کاشت میں غیر معمولی اضافے سے کپاس کی پیداوار بُری طرح متاثر

Published

on



کراچی:

قیام پاکستان سے تقریباً 15سال قبل تک ملک میں کپاس کی پیداوار میں سرفہرست ضلع رحیم یارخان  میں گنے کی کاشت میں غیر معمولی اضافے نے کپاس کی پیداوار اور معیار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

رحیم یار خان میں گنے کی کاشت میں پہلے ہی اضافے کا رحجان ہے لیکن اس کے باوجود یہاں ایک اور شوگر ملز قائم ہونے اطلاعات زیرگردش ہیں۔

ماضی میں پنجاب کاٹن بیلٹس میں کپاس کی پیداوار سندھ کی نسبت 352فیصد زائد تھیں لیکن اب پنجاب میں گنے کی ریکارڈ پیداوار کی وجہ سے گزشتہ 2 سال سے سندھ میں کپاس کی پیداوار حیران کن طور پر پنجاب کے مقابلے میں زیادہ ہوگئی ہے۔

گرتی ہوئی مقامی معیشت کو سہارا دینے کے لیے کراپ زوننگ قوانین پر مکمل عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت بن گئی ہے تاکہ کپاس کی کاشت بہتر ہونے سے روئی اور خوردنی تیل کی درآمدات کم ہونے سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوسکیں۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق کے مطابق قیام پاکستان سے لے کر  تقریباً 15سال قبل تک ضلع رحیم یار خان میں پیدا ہونے والی کپاس نہ صرف پاکستان بھر میں سب سے زیادہ ہوا کرتی تھی بلکہ قدرتی طور پر اس ضلع میں پڑنے والی سورج کی منفرد کرنوں سے بہترین معیار کی کپاس نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ یورپین ممالک میں ”خان کاٹن“ کے نام سے معروف تھی اور دنیا کے کئی معروف کاٹن ملبوسات کے برانڈز خان کاٹن کے ٹیگ کے باعث انتہائی مہنگے داموں فروخت ہوتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ قیام پاکستان سے لے کر 2011-12 تک ضلع رحیم یار خان پاکستان بھر میں سب سے زیادہ کپاس پیدا کرنے والا ضلع تھا اور یہ ضلع کپاس کی مجموعی ملکی  پیداوار کا 11سے 13فیصد تک کپاس پیدا کرتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2011-12 میں جب پاکستان میں کپاس کی پیداوار ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک کروڑ 48لاکھ روئی کی گانٹھوں کی پیداوار ہوئی تھی تو اس سال ضلع رحیم یار خان میں 15لاکھ 18لاکھ گانٹھوں کی پیداوار ہوئی، سال 2004-05 میں جب پاکستان میں کپاس کی مجموعی پیداوار  ایک کروڑ 43لاکھ گانٹھ ہوئی تھی، اس سال ضلع رحیم یار خان میں ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ 18لاکھ 40ہزار روئی کی گانٹھوں کی پیداوار ہوئی تھی لیکن اس اہم ضلع میں سیاسی بنیادوں پر نئی شوگر ملوں کے قیام اور ان کی پیداواری صلاحیت میں ریکارڈ اضافے کے باعث یہاں کپاس کی کاشت میں ریکارڈ کمی کے باعث ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 2012-13 میں سندھ کے ضلع سانگھڑ میں کپاس کی پیداوار ضلع رحیم یار خان کے مقابلے میں بڑھ گئیں اور یہ تسلسل تاحال برقرار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ضلع رحیم یار خان میں اس وقت 6 شوگر ملز قائم ہیں لیکن ان کی پیداواری صلاحیت 8 شوگر ملز کے مساوی ہے جو کہ تقریباً 150میٹرک ٹن یومیہ ہے جبکہ جب بعض وجوہات کی بنا پر ضلع رحیم یار خان کی حدود میں بعض سیاسی  خاندانوں کو نئی شوگر ملز کے قیام کی اجازت نہ ملی تو پھر انہوں نے سندھ پنجاب بارڈر سے ملحقہ ایریاز میں 2 نئی شوگر ملز قائم کیں جنہیں رحیم یار خان سے سپلائی کیا جاتا ہے جبکہ اس کے علاوہ سندھ کے 2 بڑے سیاسی خاندانوں نے بھی سندھ پنجاب بارڈ پر 2 نئی شوگر ملز قائم کی ہیں جس سے ضلع رحیم یار خان میں کپاس کی کاشت جو پہلے 8لاکھ ایکڑ تک کاشت ہوتی تھی وہ اب کم ہو کر 3لاکھ ایکڑ سے بھی کم ہو گئی ہے اور اس میں بتدریج کمی دیکھی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رحیم یار خان میں ظاہرپیر کے مقام پر اب ایک نئی شوگر مل قائم ہونے کی اطلاعات زیرگردش ہیں جبکہ سندھ پنجاب بارڈر پر بھی ایک نئی شوگر مل کے قیام کی اطلاعات ہیں جس کے باعث ضلع رحیم یار خان میں کپاس کی کاشت میں مزید کمی واقع ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ 2011-12 میں پنجاب میں کپاس کی پیداوار ایک کروڑ 21لاکھ گانٹھیں  تھیں جبکہ سندھ میں یہ پیداوار صرف 26لاکھ 82ہزار گانٹھیں تھیں اور اسی طرح 2012-13 میں پنجاب میں کپاس کی پیداوار 95لاکھ  09ہزار گانٹھ اور سندھ میں صرف 34لاکھ 7ہزار گانٹھ تھی اور پنجاب میں کپاس کی پیداوار سندھ کے مقابلے زیادہ ہونے کا سلسلہ 2023-24 تک جاری رہا۔

 پنجاب میں گنے کی کاشت میں ریکارڈ اضافے کے باعث ملکی تاریخ میں پہلی بار 2024-25 میں سندھ میں کپاس کی پیداوار پنجاب سے بڑھ گئی ہے اور اس سال کے دوران سندھ میں کپاس کی پیداوار 28 لاکھ 7ہزار گانٹھ رہی جبکہ پنجاب میں یہ پیداوار صرف27لاکھ 18ہزار گانٹھ تک محدود رہی جبکہ 2025-26 کے دوران سندھ میں کپاس کی پیداوار 29لاکھ 15ہزار گانٹھ اور پنجاب میں 26لاکھ 93ہزار گانٹھ تک محدود رہی اور خدشہ ہے کہ آئندہ سالوں میں بھی سندھ میں کپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں زیادہ رہے گی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے ایسے علاقے جن میں بلوچستان اور سندھ پنجاب کے چولستان والے اضلاع شامل ہیں وہاں گنا نہ ہونے کے باعث آج بھی وہاں پیدا ہونے والی کپاس معیار کے حوالے سے بہت بہتر  ہے جو دیگر کپاس کے مقابلے میں بہت مہنگی فروخت ہونے کے ساتھ اس کے بیج کا اگاؤ بہتر ہونے اور اس میں تیل کی مقدار بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔

انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے اپیل کی کہ پاکستان میں کراپ زوننگ قوانین پر مکمل عمل درآمد کروایا جائے تاکہ پاکستان میں کپاس زیادہ پیدا ہونے سے ملکی معیشت بھی بہتر ہوسکے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی اس وقت بدترین رہنے والے شہروں میں آتا ہے، ایم کیو ایم رہنما علی خورشیدی

Published

on



سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا ہے کہ ہم عوامی لوگ ہیں جو بات عوام کرتی ہے ہم وہی کرتے ہیں۔ کراچی اس وقت بدترین رہنے والے شہروں میں آتا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے اراکینِ اسمبلی کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی خورشیدی کا مزید کہنا تھا کہ جب جمہوریت کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ رہے تو عوام سوال کرتی ہے ہم کیا کریں ایسی جمہوریت کا؟ ہماری بات کسی کو بری لگتی ہے تو لگنے دو۔ پری بجٹ سیشن پچھلے سال نہیں ہوا پھر بھی پیپلز پارٹی خود کو جمہوری جماعت کہتی ہے۔

علی خورشیدی نے کہا کہ شہر میں جب لوگ ڈمپر گردی کا شکار ہو رہے تھے اس وقت مسئلے کو لسانی رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ جب ڈمپر گردی کے حادثات بڑھے تب سندھ حکومت نے تمام تر سیاسی جماعتوں کو بلایا تھا۔ ہم نے ہمیشہ مسائل کو سیاسی نہیں بنایا بلکہ حل بتایا۔ ہم نے اس وقت بھی بتایا کہ ہم سندھ حکومت کو ڈمپر گردی کے حادثات پر مکمل سپورٹ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر کراچی والے ڈمپر گردی کا شکار ہو رہے ہیں، کیوں اس جیسے سانحات پر حکومت خاموش ہے؟ جب بات کرو تو کہتے ہیں کہ سیاست کر رہے ہیں۔ ہم اس طرح کہانی کو چلنے نہیں دیں گے۔ عیدالفطر کے موقع پر بارش کا بتایا گیا تھا لیکن تیاریاں نہیں کی گئی تھیں۔ بیشر مقامات پر شہری عید گاہوں پر نماز عید ادا نہیں کر سکے۔

علی خورشیدی نے کہا کہ بجٹ کے موقع پر تمام تر حکومتی اراکین کو فنڈ دیا گیا لیکن ہمیں نظر انداز کیا گیا۔ کراچی میں بھی جو حکومتی اراکین ہیں انہیں فنڈ جاری ہوا۔ اگر میں غلط کہہ رہا ہوں تو وزیر اعلی صاحب کی تقریر نکال کر دیکھ لیں۔ بلائیں سندھ اسمبلی کا اجلاس اور پری بجٹ پر بات کرلیں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے کراچی پر سودے بازی کی۔ گلیوں کی ذمے داری ٹاؤنز کے پاس ہے جو جماعت اسلامی لیڈ کر رہی ہے۔

علی خورشیدی نے کہا کہ وفاق کہہ رہا ہے کہ کے فور پر کام ہورہا ہے لیکن کام نہیں ہو رہا۔ گل پلازہ پر جوڈیشل کمیشن ایم کیو ایم کے مطالبے پر بنا۔ گل پلازہ میں دوبارہ آگ لگی یہ کیسے ممکن ہے؟

ایک سوال کے جواب میں علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کی قیادت سب کے لیے قابل احترام ہوتی ہے۔ خالد مقبول صدیقی اور صدر پاکستان کا ملنا اچھی بات ہے۔ ایم کیو ایم نے آصف علی زرداری سے صدر مملکت کی حیثیت میں ملاقات کی تھی۔



Source link

Continue Reading

Today News

کچہ میں ڈاکوؤں کیخلاف آپریشن، بدنام زمانہ ڈاکو منیر نے ہتھیار ڈال دیے

Published

on


پنجاب پولیس رحیم یار خان اور ملٹری انٹیلیجنس کی بڑی مشترکہ کارروائی میں کوش گینگ کے انتہائی مطلوب  بدنام زمانہ ڈاکو منیر عرف منی کوش  نے پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے منیر آف منی کوش پر 50 لاکھ سر کی قیمت مقرر تھی۔ کچہ آپریشن میں اب تک 65 ڈاکو ہلاک، 99 زخمی حالت میں گرفتار، 283 ہتھیار ڈال چکے ہیں۔

ڈی پی او رحیم یارخان عرفان نے بتایا کہ کچہ کے آخری ڈاکو کی گرفتاری یا سرنڈر تک بلا تعطل آپریشن جاری رہے گا۔

آئی جی پنجاب عبدالکریم نے خطرناک ڈاکو کے ہتھیار ڈالنے پر رحیم یار خان پولیس کو شاباشی دی۔

آئی جی پنجاب نے کچہ کریمنلز کیخلاف کامیاب کاروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت کردی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending