Connect with us

Today News

نوکری سے برطرفی کے دوران دیگر ادارے میں ملازمت کرنے والے ملازم کو مراعات دینے کی استدعا مسترد

Published

on


سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ برطرفی کے دوران اگر کوئی ملازم کسی دوسرے ادارے میں باقاعدہ ملازمت کرتا رہے تو وہ اس عرصے کے بیک بینیفٹس (تنخواہ و مراعات) کا حقدار نہیں ہوتا، عدالت نے اس بنیاد پر ایک شہری کی اپیل مسترد کرتے ہوئے لیو ٹو اپیل دینے سے انکار کر دیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سنایا جس میں افتخار احمد کی جانب سے دائر سول پٹیشن نمبر 1545 آف 2019 کو خارج کر دیا گیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار، جو نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات کے طور پر کام کر رہے تھے، پر 2011 کے انٹری ٹیسٹ کے پرچے لیک کرنے کا الزام لگا، جس پر انکوائری کے بعد انہیں 30 مارچ 2012 کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔

بعد ازاں عدالت کی ہدایت پر محکمہ نے انہیں بحال کر دیا اور کچھ عرصے کی تنخواہ و مراعات بھی ادا کیں۔تاہم ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار نے 21 دسمبر 2012 سے 5 ستمبر 2016 تک یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر خدمات انجام دیں، جس پر متعلقہ ادارے نے اس عرصے کو بغیر تنخواہ چھٹی قرار دیا اور بیک بینیفٹس دینے سے انکار کر دیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ بیک بینیفٹس کا اصول صرف ایسے ملازمین کے لیے ہے جو برطرفی کے دوران بے روزگار رہے ہوں۔ اگر کوئی شخص اس دوران کسی اور جگہ ملازمت یا کاروبار کر رہا ہو تو وہ اس مدت کی تنخواہ کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

عدالت نے مزید کہا کہ ایسے دعوے کے لیے لازم ہے کہ درخواست گزار اپنی درخواست میں یہ واضح کرے کہ وہ اس دوران بے روزگار رہا۔عدالت نے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی سقم نہیں، لہٰذا سول پٹیشن مسترد کرتے ہوئے اپیل کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

جب قوانین مقصد کو کچل رہے ہوں

Published

on



جب دنیا میں ایڈز کی بیماری تیزی سے پھیل رہی تھی، ہزاروں لاچار مریض علاج کی راہ تک رہے تھے۔ اس دوران امید کی کرن دوا زیڈوویڈین پر تحقیق جاری تھی مگر اس وقت کلینیکل ٹرائلز اور منظوری کے ضابطے سخت اور سست رفتار تھے کہ منظوری کوسوں دور نظر آتی تھی۔ مریضوں کی بے چینی میں شدت کا پھیلنا اور ڈاکٹروں میں اضطراب و کوفت اپنے عروج پر تھا۔

تحقیقی اداروں کا مؤقف تھا کہ مکمل سائنسی ثبوت کے بغیر دوا کو عام استعمال کی اجازت دینا خطرناک ہوگا۔ دوسری طرف مریضوں کا سوال یہ تھا کہ جب بیماری مہلک ہے اور متبادل علاج موجود نہیں تو کیا ضابطوں کی سختی انسانوں کی فوری ضرورت سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے؟

اس کشمکش نے بالآخر ریگولیٹری نظام کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا ہر صورتحال کے لیے ایک ہی قسم کا ضابطہ مناسب طریقہ ہے۔ بعد میں اسی دباؤ کے نتیجے میں فاسٹ ٹریک اور ہمدردانہ استعمال کی اجازت جیسے راستے تراشے گئے، جنہوں نے شدید بیماریوں کے علاج میں نئی ادویات تک رسائی کو نسبتاً تیز کیا۔

یہ ہمیں ایک قدیم استعارے کی یاد دلاتا ہے۔ یونانی دیومالا کا تصوراتی کردار کچھ یوں ہے کہ پروکرسٹس اپنی چارپائی کے سائز کے مطابق مسافروں کو زبردستی ڈھالنے کی کوشش کرتا تھا۔ جو مسافر چارپائی سے زیادہ لمبا ہوتا اس کے پاؤں کاٹ دیتا اور جو چارپائی سے چھوٹا ہو اسے کھینچ کر لمبا کرتا۔ اسی سے پروکرسٹین اپروچ کی اصطلاح پیدا ہوئی، یعنی حقیقت کو سمجھنے کے بجائے اسے ایک پہلے سے طے شدہ سانچے میں سمونے کی کوشش۔

ادویاتی اور حیاتی علوم کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے یہ استعارہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ دوا کی تیاری، کلینیکل ٹرائلز اور منظوری کا عمل یقیناً انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے۔ انسانی صحت سے جڑے معاملات میں ذرا سی لاپرواہی سنگین اور ناقابل تلافی نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میں سخت ریگولیٹری نظام مریضوں کے مفادات کے تحفظ کےلیے کام کرتے ہیں۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ضابطے مقصد کے بجائے خود مقصد بن جائیں۔

سائنس کی فطرت مسلسل تبدیلی اور دریافت پر مبنی ہے۔ نئی بائیولوجیکل تھراپیز، جین پر مبنی علاج اور ذاتی نوعیت کی ادویات پرسنالائنز میڈیسن جیسے میدان روایتی فریم ورک سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ اگر ہر نئی تحقیق کو پرانے پیمانوں میں ناپنے پر اصرار کیا جائے تو بعض اوقات تحقیق کی رفتار غیر ضروری طور پر سست ہوجاتی ہے۔

ایک پیشہ ور کی حیثیت سے یہ احساس بار بار سامنے آتا ہے کہ ضابطوں کا اصل مقصد تحقیق کو روکنا نہیں بلکہ اسے محفوظ اور ذمے دار بنانا ہے اور یہی رہنا چاہیے۔ جب قوانین لچکدار ہوں، سائنسی فہم کے ساتھ ترقی کریں اور مختلف حالات کے مطابق ڈھل سکیں تو وہ علم کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بنتے بلکہ ترقی کی ضمانت کے محافظ بن جاتے ہیں۔

مشکل یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف ادویاتی علوم تک محدود نہیں۔ تعلیم، معیشت، شہری منصوبہ بندی اور انتظامی ڈھانچوں میں بھی اکثر یہی رجحان دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک ہی طریقہ ہر مسئلے پر نافذ کر دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نظام بظاہر منظم نظر آتا ہے مگر حقیقت کی پیچیدگیوں کو سنبھال نہیں پاتا۔ شاید اسی لیے پروکرسٹس کی کہانی آج بھی ہمارے لیے ایک تنبیہ ہے۔ 

ضابطے ضروری ہیں، مگر ان کا مقصد زندگی اور علم کو ایک تنگ بستر میں فٹ کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل حکمت یہی ہے کہ نظام، حقیقت کے مطابق ڈھلے، کیونکہ جب حقیقت کو نظام کے مطابق کاٹا چھانٹا جاتا ہے تو نہ صرف تحقیق متاثر ہوتی ہے بلکہ انسانی فلاح کا مقصد بھی کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔

اکیسویں صدی میں بیسویں صدی کے اوزار یا معیار استعمال نہ کریں۔ ہر ایک کی انفرادی خصوصیات کو دوسرے کی معیار میں گڈمڈ نہ کریں۔ پرندوں کی آنکھ سے اونچائی پر جاکر مشاہدہ کریں، مطالعہ کریں، گفت و شنید کریں، نکتے جوڑ کر بڑی تصویر کے مصور بنیں اور دانشمندانہ فیصلے میں شواہد و معقولیت کو جگہ دیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔



Source link

Continue Reading

Today News

چینی کی درآمد پر رعایتی ٹیکس کی مدت میں اضافہ

Published

on



اسلام آباد:

حکومت نے چینی کی درآمد پر رعایتی ٹیکس کی مدت میں اضافہ کردیا جس کا اطلاق 28 فروری 2026 تک درآمد کی گئی چینی پر ہوگا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس قوانین میں ترامیم کا نوٹی فکیشن جاری کردیا جس کے مطابق رعایتی مدت نومبر 2025ء سے بڑھا کر فروری 2026ء کردی گئی ہے، ٹریڈنگ کارپوریشن، متعلقہ کمپنیاں درآمدی چینی پر 0.25 فیصد ٹیکس دیں گی۔

ایف بی آر کے مطابق پاکستان میں جنرل سیلز ٹیکس کا اصل اسٹینڈرڈ ریٹ 18 فیصد ہے، رعایت میں تین ماہ کی توسیع کا مقصد چینی کی مقامی قیمتیں کنٹرول کرنا ہے، ٹیکس چھوٹ میں توسیع وفاقی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں کی گئی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

اونلی فینز  کے مالک لیونیڈ ریڈونسکی 43 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

Published

on



دنیا کے معروف ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’’اونلی فینز‘‘ کے مالک لیونیڈ ریڈونسکی 43 سال کی عمر میں کینسر سے طویل جدوجہد کے بعد انتقال کرگئے۔

کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق لیونیڈ ریڈونسکی طویل علالت کے بعد پُرسکون انداز میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ان کے اہل خانہ نے اس مشکل وقت میں نجی زندگی کے احترام کی اپیل کی ہے، جبکہ دنیا بھر سے ان کے لیے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔

یوکرین کے شہر اوڈیسا میں پیدا ہونے والے اور شکاگو میں پرورش پانے والے ریڈونسکی نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی پہچان بنائی۔ انہوں نے 2004 میں ویب کیم پلیٹ فارم ’’مائی فری کیمز‘‘ قائم کیا، جس کے بعد 2018 میں انہوں نے ’’اونلی فینز‘‘ کی پیرنٹ کمپنی خرید کر اس کے بڑے شیئر ہولڈر اور ڈائریکٹر بن گئے۔

ان کی قیادت میں ’’اونلی فینز‘‘ دنیا کے کامیاب ترین سبسکرپشن پلیٹ فارمز میں شامل ہوگیا، جہاں کریئیٹرز کو براہ راست اپنے مداحوں سے آمدن حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اگرچہ یہ پلیٹ فارم بالغ مواد کی وجہ سے زیادہ مشہور ہوا، تاہم وقت کے ساتھ اس نے دیگر شعبوں میں بھی اپنی موجودگی بڑھائی۔

لیونیڈ ریڈونسکی عوامی سطح پر کم ہی نظر آتے تھے اور نسبتاً سادہ پروفائل رکھتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ فلاحی سرگرمیوں میں بھی سرگرم رہے، خاص طور پر کینسر ریسرچ اور انسانی ہمدردی کے منصوبوں کی معاونت کرتے رہے۔



Source link

Continue Reading

Trending