Connect with us

Today News

چینی کی درآمد پر رعایتی ٹیکس کی مدت میں اضافہ

Published

on



اسلام آباد:

حکومت نے چینی کی درآمد پر رعایتی ٹیکس کی مدت میں اضافہ کردیا جس کا اطلاق 28 فروری 2026 تک درآمد کی گئی چینی پر ہوگا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس قوانین میں ترامیم کا نوٹی فکیشن جاری کردیا جس کے مطابق رعایتی مدت نومبر 2025ء سے بڑھا کر فروری 2026ء کردی گئی ہے، ٹریڈنگ کارپوریشن، متعلقہ کمپنیاں درآمدی چینی پر 0.25 فیصد ٹیکس دیں گی۔

ایف بی آر کے مطابق پاکستان میں جنرل سیلز ٹیکس کا اصل اسٹینڈرڈ ریٹ 18 فیصد ہے، رعایت میں تین ماہ کی توسیع کا مقصد چینی کی مقامی قیمتیں کنٹرول کرنا ہے، ٹیکس چھوٹ میں توسیع وفاقی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں کی گئی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

افغان مہاجرین کی مرحلہ وار واپسی، طورخم بارڈر کھولنے کی منظوری

Published

on



خیبرپختونخوا کی حکومت نے صوبے میں موجود افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے پاک-افغان طورخم بارڈر جزوی طور پر کھولنے کی منظوری دے دی ہے اور پہلے مرحلے میں جیلوں میں قید افغان شہریون کی واپسی ہوگی۔

پولیس اور حکومتی ذرائع کے مطابق طورخم بارڈر صرف مخصوص قافلوں کے لیے کھولا جائے گا اور واپسی کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا اور پہلا مرحلہ جیلوں میں موجود قیدیوں سے شروع ہوگا جہاں اس وقت بڑی تعداد میں افغان باشندے قید ہیں۔

محکمہ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق پشاور سینٹرل جیل میں ایک ہزار سے زائد، کوہاٹ اور ہری پور کی جیلوں میں تقریباً 1200 افغان قیدی موجود ہیں، جن کی دیکھ بھال پر روزانہ لاکھوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، اہل خانہ کی مسلسل آمد اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر حکومت نے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں جیلوں سے افغان باشندوں کو نکال کر ناصر باغ کیمپ منتقل کیا جائے گا، جہاں ان کی رجسٹریشن مکمل کی جائے گی۔

مزید بتایا گیا کہ رجسٹریشن کے بعد مہاجرین کو باقاعدہ قافلوں کی شکل میں طورخم بارڈر کے راستے افغانستان روانہ کیا جائے گا، اس دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور خیبر پولیس جمرود سے طورخم بارڈر تک قافلوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ واپسی کا دوسرا مرحلہ مہاجر کیمپوں میں مقیم افغان باشندوں پر مشتمل ہوگا، تیسرے مرحلے میں صوبے کے مختلف شہروں میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جائے گا، حکام کا کہنا تھا کہ یہ تمام عمل باعزت اور منظم طریقے سے مکمل کیا جائے گا۔

پولیس ذرائع کے مطابق طورخم بارڈر عام آمد و رفت کے لیے نہیں بلکہ صرف مخصوص قافلوں کے لیے کھولا جائے گا اور افغان مہاجرین کے قافلے کل سے روانہ ہونے کا امکان ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی سے جیلوں پر دباؤ کم ہوگا، اخراجات میں کمی آئے گی اور صوبے میں امن و امان کی صورت حال مزید بہتر بنائی جا سکے گی۔



Source link

Continue Reading

Today News

پیٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، وفاقی وزیرخزانہ

Published

on



وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بروقت منصوبہ بندی، متنوع درآمدی حکمت عملی اور متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطے کی بدولت عالمی اتار چڑھاؤ کے باوجود ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی مستحکم رہی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں ملک میں توانائی کی فراہمی کی صورت حال اور عالمی سطح پر تیل اور گیس کی منڈیوں میں جاری تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں قومی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی آئندہ دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور شرکا کو بتایا گیا کہ خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر موجود ہیں، جنہیں درآمدی معاہدوں اور جاری پیداوار کی بدولت تقویت حاصل ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ درآمدی ٹرمینلز سے لے کر ریفائنریز، ذخیرہ گاہوں اور ریٹیل آؤٹ لیٹس تک سپلائی چین معمول کے مطابق اور مستحکم انداز میں کام کر رہی ہے، جس سے ملک بھر میں ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ بحری اور لاجسٹک نظام کے ذریعے ایندھن کی ترسیل مقررہ شیڈول کے مطابق جاری ہے، مارچ اور اپریل کے لیے پیٹرول کے کارگو بڑی حد تک یقینی بنائے جا چکے ہیں جبکہ مزید کھیپیں بھی منصوبہ بندی میں شامل ہیں تاکہ ذخائر کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔

اس موقع پر بتایا گیا کہ ریفائنریز اپنی معمول کی استعداد کے مطابق کام کر رہی ہیں اور خام تیل کی مؤثر پراسیسنگ کے لیے اقدامات جاری ہیں، کمیٹی کو عالمی توانائی منڈیوں میں قیمتوں کے رجحانات اور ان کے ملکی سطح پر اثرات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔

شرکا نے بین الاقوامی اور مقامی قیمتوں کے درمیان فرق کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حکومت متوازن اور بروقت پالیسی سازی کے لیے ان عوامل کا مسلسل تجزیہ کر رہی ہے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ملکی ریفائنریز اپنی پیداواری صلاحیت کو بہتر سطح پر برقرار رکھیں تاکہ سپلائی میں استحکام قائم رہے اور کسی بھی ممکنہ خلل سے بچا جا سکے، اس کے علاوہ عالمی جغرافیائی و سیاسی حالات اور ان کے توانائی کی فراہمی پر اثرات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے حکومت کے درمیان (جی ٹو جی) معاہدوں اور اقدامات کا بھی جائزہ لیا، جن کا مقصد توانائی کی فراہمی کو مزید محفوظ بنانا اور ممکنہ خطرات کو کم کرنا ہے اور اس سلسلے میں مختلف ممالک کے ساتھ متنوع ذرائع سے تیل کی فراہمی، ذخیرہ اندوزی اور ترسیل کے بہتر انتظامات پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ بروقت منصوبہ بندی، متنوع درآمدی حکمت عملی اور متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطے کی بدولت عالمی اتار چڑھاؤ کے باوجود ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی مستحکم رہی ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ عالمی حالات، ذخائراور سپلائی چین کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے تاکہ بروقت اورمؤثر فیصلے کیے جا سکیں۔

وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے مربوط حکمت عملی اور دانش مندانہ منصوبہ بندی جاری رکھا جائے گی۔



Source link

Continue Reading

Today News

اسرائیل میں پاور پلانٹ پر حملے کی ویڈیو وائرل، حقیقت کیا ہے؟

Published

on



سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں ایک پاور پلانٹ کو شعلوں میں گھرا دکھایا گیا ہے، اور دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ اسرائیل کے شہر حیفا میں بازن گروپ کے پاور پلانٹ پر ایرانی حملے کی فوٹیج ہے۔

تاہم تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ یہ ویڈیو دراصل یمن کے دارالحکومت صنعا میں واقع ہیزیاز سینٹرل جنریٹنگ اسٹیشن پر ہونے والے حملے کی ہے، جو مئی 2025 میں پیش آیا تھا۔ اس وقت اسرائیلی حملوں کے دوران یمن کے توانائی کے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

یہ ویڈیو پہلے بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی جاچکی تھی، جہاں اسے درست تناظر میں یمن کے پاور پلانٹ پر حملے کے طور پر پیش کیا گیا تھا، تاہم بعد میں اسے غلط کیپشن کے ساتھ دوبارہ وائرل کردیا گیا۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں حیفا میں میزائل حملوں کے واقعات ضرور پیش آئے، جن میں عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا، لیکن اس ویڈیو کا ان واقعات سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

مزید یہ کہ ویڈیو میں دکھایا گیا منظر 2024 کی سیٹلائٹ تصاویر سے بھی مطابقت رکھتا ہے، جو یمن کے اسی پاور پلانٹ کی ہیں، نہ کہ حیفا میں موجود بازن گروپ کی تنصیبات کی۔

یہ ویڈیو حیفا، اسرائیل کی نہیں بلکہ یمن کے شہر صنعا میں پاور پلانٹ پر ہونے والے پرانے حملے کی ہے، جسے غلط دعوے کے ساتھ دوبارہ شیئر کیا جارہا ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending