Connect with us

Today News

بھارتی جریدہ بھی پاکستانی سفارتکاری کے گُن گانے لگا، مودی سرکار کی خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید

Published

on



نیو دہلی:

بھارتی جریدے دی وائر نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی مؤثر اور متوازن سفارت کاری نے بھارت کی خارجہ پالیسی کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور خطے میں اسلام آباد کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں نئی دہلی کے بجائے اسلام آباد کی اہمیت کو تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔

جریدے نے لکھا کہ نریندر مودی حکومت کے بلند و بانگ دعوے عملی میدان میں ناکام ثابت ہوئے، جبکہ پاکستان نے سفارتی توازن برقرار رکھتے ہوئے دونوں اہم فریقین کا اعتماد حاصل کیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت کی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی حکمت عملی بری طرح ناکام ہوئی ہے اور بھارت کو اب خطے میں ایک کمزور کھلاڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ پاکستان علاقائی استحکام کے ایجنڈے پر مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔

دی وائر کے مطابق دنیا بھارت کو اسرائیل اور امریکا کا حد سے زیادہ تابع سمجھتی ہے جس کے باعث اس کی اسٹریٹجک خودمختاری متاثر ہوئی ہے جبکہ پاکستان نے متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے اپنی ساکھ مضبوط کی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان، مصر اور ترکیہ کے درمیان سفارتی تعاون نے بھارت کو مغربی ایشیائی قیادت سے باہر کر دیا ہے جبکہ چاہ بہار منصوبے میں بھارت کی سرمایہ کاری بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

جریدے کے مطابق جس ملک کو مودی حکومت نے غیر اہم قرار دیا تھا وہی آج عالمی امن میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے جبکہ بھارت کی پالیسیز اسے تنہائی کی طرف لے جا رہی ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

یہ وہ قیادت ہے جو مشکل حالات میں بھی عوام کو تنہا نہیں چھوڑتی، مریم اورنگزیب کا پیغام

Published

on



لاہور:

مسلم لیگ ن کی رہنما اور پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ میں ‏وزیراعظم شہباز شریف کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں جنہوں نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باوجود ایک ماہ تک اس کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں ہونے دیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک فیصلہ نہیں بلکہ ذمہ دار قیادت، مؤثر حکمتِ عملی اور بہترین فِسکل مینجمنٹ کی واضح مثال ہے۔

سینئر وزیر کے مطابق وزیراعظم نے نہایت دانشمندی کے ساتھ فِسکل اسپیس پیدا کی، کفایت شعاری کے اقدامات اختیار کیے، غیر ضروری اخراجات میں کمی کی، اور ہر ممکن طریقے سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی۔

یہ امر بھی قابلِ تحسین ہے کہ عالمی سطح پر جہاں مختلف ممالک میں پٹرول کی قلت اور قیمتوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا، وہاں پاکستان کو اس بحران سے محفوظ رکھا گیا، یہ مضبوط پالیسی اور مؤثر سپلائی چین مینجمنٹ کا ثبوت ہے۔

‏مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ یہ فرق ہوتا ہے ایک ذمہ دار قیادت اور ایک ایسی قیادت میں جس نے اپنی جھوٹی اور مصنوعی سیاست کو بچانے کے لیے ملک کو بحرانوں میں دھکیل دیا۔

مسلم لیگی رہنما نے کہا کہ ‏آج ہر پاکستانی کو فخر ہونا چاہیے کہ اس کی قیادت شہباز شریف جیسے ذمہ دار اور سنجیدہ رہنما کے ہاتھ میں ہے، جو مشکل ترین حالات میں بھی عوام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔

‏آج بھی جب قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا، تو اسے عام عوام پر مکمل بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹارگیٹڈ سبسڈی کے ذریعے متوازن کیا گیا۔

2 ویلرز استعمال کرنے والے محنت کش طبقے، چھوٹے کسانوں (25 ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے)، اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو خصوصی ریلیف دے کر مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے۔

‏یہ وہ قیادت ہے جو مشکل حالات میں بھی عوام کو تنہا نہیں چھوڑتی، بلکہ ہر ممکن حد تک سہارا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پاکستان ایسے رہنما کے ہاتھوں میں ہے جو عوام کے دکھ درد کو سمجھتا ہے اور ان کے لیے عملی اقدامات کرتا ہے۔

‏میں اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کو  وفاق کی اکائیوں اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو اکھٹا ہونے پہ مبارکباد دیتی ہوں اور تمام وزرائےاعلیٰ کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔

‏ہم انشااللہ ایک قوم بن کر ان مشکل حالات کامقابلہ کریں گے انشاءاللہ

‏انشاءاللہ، جیسے جیسے عالمی حالات بہتر ہوں گے، اسی عزم اور حکمت کے ساتھ مزید ریلیف بھی فراہم کیا جائے گا۔

‏پاکستان ہمیشہ زندہ باد





Source link

Continue Reading

Today News

پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ

Published

on



حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ کردیا۔

حکومت نے ایک ہفتے کیلیے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 137 روپے 23 پیسے، ڈیزل فی لیٹر 184 روپے 49 پیسے کا اضافہ کرنے کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

اوگرا کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق مٹی کا تیل بھی  34روپے 8 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا ہے۔

اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 467روپے 48 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

دوسری سہ ماہی میں اقتصادی شرح نمو 3.9 فیصد تک پہنچ گئی

Published

on



اسلام آباد:

وفاقی حکومت نے جمعرات کو کہا ہے کہ رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران معیشت کی شرح نمو 3.9 فیصد رہی، جو تینوں بڑے شعبوں کی کارکردگی کے باعث قومی پیداوار میں معقول اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔

تاہم مرکزی بینک نے نیشنل اکائونٹس کمیٹی (این اے سی) کے اجلاس کے دوران فصلوں، خصوصاً گندم کی اصل پیداوار کے اعدادوشمار کی عدم دستیابی پر سوالات اٹھائے۔

اسی اجلاس میں ان اعدادوشمار کی منظوری دی گئی۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ بیان کے مطابق، مالی سال 2025-26 کی دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) میں معیشت کی شرح نمو 3.89 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

تاہم پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں زرعی اور صنعتی شعبوں کی شرح نمو میں کمی آئی، جبکہ خدمات کے شعبے میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔زرعی شعبہ 1.8 فیصد کی شرح سے بڑھا، جو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں کم ہے۔

صنعتی شعبے کی شرح نمو 7.4 فیصد رہی، جو گزشتہ سہ ماہی میں 8.9 فیصد تھی۔اس کے برعکس، خدمات کے شعبے نے 3.7 فیصد کی شرح سے ترقی کی، جو پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں بہتر ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں ’’بلا روزگار ترقی‘‘ (Jobless Growth) پر تنقید کی جا رہی ہے، کیونکہ یہ ترقی روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غربت میں کمی لانے میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہی۔

پلاننگ کمیشن کے تازہ ترین ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کے مطابق غربت کی شرح بڑھ کر 29 فیصد ہو گئی ہے، جو گزشتہ 11 برس کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ بے روزگاری 7.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو 21 سال کی بلند ترین سطح ہے۔

پلاننگ کمیشن کے مطابق آمدنی میں عدم مساوات بھی 27 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔این اے سی نے نوٹ کیا کہ سیلاب کے اثرات کے باعث کپاس کی پیداوار میں کمی آئی، جبکہ اہم فصلوں کی پیداوار دوسری سہ ماہی میں 1.87 فیصد کم ہوئی۔

سبز چارے میں کمی کے باعث دیگر فصلوں کی پیداوار میں 5.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔اجلاس کے دوران مرکزی بینک کے نمائندے نے زرعی شعبے کی پیداوار میں اضافے کے دعووں پر وضاحت طلب کی۔

گندم کی پیداوار کے حوالے سے بار بار سوالات اٹھائے گئے، تاہم پی بی ایس نے اس بارے میں کوئی حتمی اعدادوشمار فراہم نہیں کیے۔چیف اسٹیٹسٹیشن نے وضاحت کی کہ ملک کے کئی حصوں میں ابھی فصل کی کٹائی شروع نہیں ہوئی، اس لیے اصل پیداوار کا تعین ممکن نہیں۔

تاہم گندم کی کاشت میں 3.4 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو ممکنہ پیداوار میں اضافے کا عندیہ دیتا ہے۔حکومت نے رواں مالی سال کے لیے 4.2 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باوجود یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی حکام نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھی آگاہ کیا ہے کہ شرح نمو 4 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جس کی بنیاد آٹو موبائل، تعمیرات اور گارمنٹس کے شعبوں میں جاری سرگرمیاں ہیں۔

این اے سی کے مطابق مویشیوں کے شعبے میں 5.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جنگلات اور ماہی گیری کے شعبوں کی شرح نمو بالترتیب 3.8 فیصد اور 0.8 فیصد رہی۔

بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) میں 5.7 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ آٹو موبائل، ٹرانسپورٹ آلات اور پیٹرولیم مصنوعات کی بہتر کارکردگی ہے۔

بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں 15.11 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ سبسڈیز میں اضافہ اور ڈیفلیٹر میں کمی ہے۔ تعمیرات کے شعبے کی شرح نمو 10.53 فیصد رہی، جس کی وجہ تعمیراتی اشیا کی پیداوار میں اضافہ ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending