Connect with us

Today News

ایران کا اسرائیل اور امریکی اڈوں کیخلاف حملوں کی 80 ویں لہر شروع کرنے کا اعلان

Published

on


ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف حملوں کی 80 ویں لہر شروع کر دی ہے۔ یہ بیان ایرانی خبر ایجنسی فارس کے ذریعے جاری کیا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس نئی کارروائی میں اسرائیل کے شمالی شہر صفد میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ تل ابیب، کریات شمونہ اور بنی براک میں بھی مختلف اہداف پر میزائل حملے کیے گئے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا، جن میں کویت، اردن اور بحرین میں واقع تنصیبات شامل ہیں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے جاری کشیدگی کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب اسرائیل اور امریکا کی طرف سے بھی جوابی کارروائیاں جاری ہیں، جس کے باعث خطے میں صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ٹینکر مافیا بے لگام کب تک؟

Published

on


کراچی میں حادثات روز کا معمول اور روزانہ ہی سات اضلاع پر مشتمل کراچی میں مختلف ٹریفک حادثات کی خبریں میڈیا پر آتی ہیں مگر حادثات کم نہیں ہورہے۔ کراچی میں ٹینکر اور کنٹینرز مافیا بے حد مضبوط اور بااثر ہے، جس پر قابو پانے میں کراچی ٹریفک پولیس ناکام اور مافیاز کے آگے بے بس ہے جس کی ایک بڑی وجہ رشوت کے علاوہ پولیس افسروں کی اپنی گاڑیاں، ٹینکر، ٹرک، کنٹینر اور پبلک ٹرانسپورٹ ہے اور غیر مقامی با اثر ٹرانسپورٹرز بھی ہیں۔

حکومت آئے دن ٹینکر مافیا، واٹر ٹینکروں اور ہیوی گاڑیوں اور کنٹینروں کے لیے شہر میں داخلے کے اوقات مقرر کرتی ہے جو عمل نہیں محض دکھاوے کے لیے ہوتے ہیں جن پر با اثر ان کے مالکان عمل نہیں ہونے دیتے اور ٹریفک پولیس ان پابندیوں پر عمل کرانے کی بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں سال رواں کے تقریباً ڈھائی ماہ میں 151افراد صرف ٹینکروں کی زد میں آکر اپنی قیمتی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ بعض افراد تو اس بری طرح کچلے جاتے ہیں کہ ان کی شناخت بھی ممکن نہیں ہوتی اور ان کی لاشیں دیکھ کر دل دہل جاتا ہے یہ لاشیں اٹھانے نہیں بلکہ سمیٹیں جانے کے قابل ہوتی ہیں۔

اس سلسلے میں شرمناک بات تو یہ ہے کہ لوگوں کو کچلنے والے ان تیز رفتار ٹینکروں کے ڈرائیور اپنے ٹینکر چھوڑ کر رش میں فرار ہوجاتے ہیں جو بھاگ نہیں پاتے اور عوام کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں تو عوام کے تشدد کا نشانہ بنتے ہیں جنھیں بچانے کے لیے پولیس جلد موقع پر پہنچ جاتی ہے۔ حادثے کے بعد مشتعل افراد حادثہ کرنے والے ٹینکر کو جلانے کی کوشش کرتے ہیں جو ٹینکر جلنے سے بچ جاتے ہیں وہ علاقہ پولیس اپنے کنٹرول میں لے لیتی ہے مگر چند گھنٹوں بعد حادثہ کرنے والا ٹینکر سفارش اور رشوت پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور اعتراض کرنے والوں کو کہا جاتا ہے کہ جب ضرورت ہوگی وہ پیش کردیا جائے گا۔

کسی بھی حادثے کی ذمے دار گاڑی کو پولیس اپنی تحویل میں لے کر عدالت میں پیش کرنے کی قانونی طور پر پابند ہے مگر ٹینکر و کنٹینر مافیا اس قدر طاقتور ہے کہ وہ حادثے میں ملوث اپنی کسی گاڑی کو چند گھنٹوں کے لیے بھی پولیس تحویل میں نہیں رہنے دیتی اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے تھانوں سے چھڑا لیتی ہے اور دوسرے ڈرائیور کو یہ گاڑی دے کر اسے شہریوں کو مزید کچلنے کے لیے چھوڑ دیتی ہے اور اگر مذکورہ ٹینکر کا ڈرائیور پولیس یا عوام نے پکڑا ہو تو اسے ضمانت پر چھڑا لیتی ہے یا بھاگے ہوئے اپنے ڈرائیور کو گرفتاری سے بچانے کے لیے عدالتوں سے ضمانت کرالیتی ہے کیونکہ اس ڈرائیور کا یہ جرم قابل ضمانت شمار ہوتا ہے جو اتفاقی حادثہ کہلاتا ہے اور ڈرائیور پر قتل کی دفعہ 302 نہیں لگتی اور ڈرائیوروں کو عدالتوں سے اتنا بڑا قانونی ریلیف مل جاتا ہے کہ وہ بے گناہوں کی زندگی ختم کرنے کو جرم ہی نہیں سمجھتا اور رہا بھی جلد ہوجاتا ہے۔

شہر کی عام شاہراؤں پر تو مختلف واٹر ٹینکر، بجری، ریت کے ٹرک اور سامان کی ترسیل کرنے والے ٹرالر، کنٹینر اور ہیوی گاڑیاں تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتی ہی ہیں مگر جن شاہراؤں پر تعمیری و ترقیاتی کام ہورہے ہیں ان تنگ شاہراؤں پر بھی ان گاڑیوں کے ڈرائیور احتیاط کرتے ہیں نا مناسب اسپیڈ میں گاڑی چلاتے ہیں اور اسپیڈ کم نہیں رکھتے جس کی مثال سالوں سے زیر تعمیر یونیورسٹی روڈ ہے جہاں تیز چلائے جانے والی گاڑیوں سے دیگر گاڑی والوں کو اور خصوصاً موٹر سائیکل والوں کو خود ہی محفوظ رہنے کے لیے بچنا پڑتا ہے کیونکہ انھیں بچانا بے حس، انسانیت سے عاری اور نشئی ڈرائیور اپنی ذمے داری نہیں سمجھتے۔ اگر ایسے ڈرائیوروں پر اتفاقی حادثے کی بجائے قتل عمد کے مقدمے درج ہوں اور انھیں کڑی سزا کا خوف ہو تو وہ احتیاط پر مجبور ہوں گے وگرنا یہ قتل عام جاری رہے گا۔

کوئی دن بمشکل ہی ایسا گزرتا ہے کہ ان ٹینکروں کی زد میں آنے سے شہری اور راہگیر اور بائیک سوار محفوظ رہے ہوں۔ ٹینکرز کے تیز رفتار ڈرائیوروں کی وجہ سے عام گاڑیوں والوں کے برعکس بائیک سواروں کا جانی نقصان زیادہ ہورہا ہے اور وہ ہی تیز رفتار ٹینکروں کی زد میں آکر کچلے جاتے ہیں اور ان کے تیز رفتار ڈرائیوروں سے بے قابو ہوجانے والے ٹینکرز سے حادثے ہوتے ہیں۔

موٹر سائیکل سوار تو جلد بازی کرتے ہی ہیں مگر تیز رفتار واٹر ٹینکر، آئل ٹینکر، ریتی بجری والے ٹینکرز ڈرائیوروں کو بھی اپنی منزل پر پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے اور وہ رش والی سڑکوں پر بھی احتیاط نہیں برتتے اور ٹینکرز ان سے بے قابو ہوکر لوگوںکو کچل رہے ہیں۔

ٹینکروں کی تیز رفتاری کا یہ حال ہے کہ کنواری کالونی کراچی میں سڑک کنارے کھڑے ٹینکر سے پیچھے سے آنے والا آئل ٹینکر ٹکرا جاتا ہے اور منگھوپیر میں دو افراد تیز رفتار ٹینکر کی زد میں کچلے جاتے ہیں اور حادثے کے بعد دونوں ٹینکرز کے ڈرائیور فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوجاتے ہیں اور حادثات دیکھنے والے افراد ذمے دار ڈرائیوروں کی بجائے ٹینکرز کی زد میں آنے والوں پر فوری توجہ دے کر انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بے حس ڈرائیوروں کو فرار کا موقع مل جاتا ہے۔

حال ہی میں صفورا میں واٹر ٹینکر نے دو بائیک سواروں کو کچلا اور حادثے کے بعد ڈرائیور نے ٹینکر کے ذریعے فرار ہونے کی کوشش کی مگر اس کے تعاقب میں آنے والی پولیس نے ڈرائیور کو پکڑ کر واٹر ٹینکر تحویل میں لے لیا۔ شہر میں ٹینکروں کی زد میں لوگ کچلے جارہے ہیں مگر ان حادثات میں کمی نہیں آرہی اور حکومتی اقدامات کی سرعام خلاف ورزی ہورہی ہے کیونکہ جان بوجھ کر تیز رفتاری کرنے والوں کے سرپرست مضبوط اور بااثر ہیں جن پر مہربان سرکاری حکام بس بیان بازی کرکے ذمے داری پوری کرلیتے ہیں مگر جن کے جانی نقصان ہو رہے ہیں ان کی حکومت اور ذمے داروں کو پرواہ نہیں ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

نام میں کیا رکھا ہے

Published

on


عمران کرکٹ اسٹیڈیم۔ کیا ذہنیت ہے، کیا شرافت ہے کیا انسانیت ہے بلکہ کیا ڈھٹائی ہے۔ خلیل جبران نے لکھا ہے کہ ایک جگہ ایک پل تعمیر ہوگیا تو اس پر بادشاہ وقت کا نام لکھا گیا حالانکہ بادشاہ نے اسے کبھی دیکھا تک نہیں تھا۔اور ان گدھوں کا کہیں ذکر نہیں تھا نہ ان آدمیوں کا جو اس پل کی تعمیر میں مرگئے تھے۔

تاج محل کو شاہ جہان کا کارنامہ کہا جاتا ہے لیکن گول کنڈہ کی کانوں سے پتھر لاتے ہوئے جو لوگ کچل کچل کر مرگئے تھے۔ان کی قبروں کا تو کیا، ان قبرستانوں کا بھی کسی کو پتہ نہیں جہاں وہ مٹی ہوگئے ہیں۔مصر کے اہراموں کو ان فارعین کے ناموں سے تو موسوم کیا گیا ہے جن کے عہد میں تعمیر ہوئے لیکن دور افریقہ کے پہاڑوں سے اتنے بڑے بڑے پتھر، اس زمانے میں نکال نکال کر، کشتیوں میں لاد کر پہنچانے اور اوپر چڑھانے والوں کا، مرنے والوں کا کوئی نام ونشان تک نہیں۔ہاں البتہ یہ ذکر موجود ہے کہ ان کی تعمیر میں کام کرنے والوں نے روٹی کے ساتھ کتنا پیاز اور لہسن کھایا تھا ۔

گویا انسان پیاز و لہسن سے بھی سستا تھا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان کو اجرتیں دی جاتی تھیں لیکن اجرتیں کہاں سے لائی جاتی تھیں کیونکہ وہ تو پھول بھی اپنے گلدانوں کے لیے خود نہیں توڑتے۔خیر یہ تو بے شمار انسانی المیوں میں سے صرف ایک المیہ ہے لیکن دوسروں کے کارناموں کو اتنی ڈھٹائی سے اپنے نام کرنا؟۔اس معاملے میں پشتو کی ایک کہاوت ہے لیکن وہ کچھ بے وضو ہے اس لیے دوسری کہاوت سے کام چلاتے ہیں۔تورے دے لالا وھی نوڑئی دے عبداللہ وھی۔ ترجمہ۔تلوار لالا چلائے اور لقمے عبداللہ کھائے۔یہ جس اسٹیڈیم کا ہم ذکر کررہے ہیں اس کا پہلے والا نام بھی غلط تھا کہ ان صاحب نے بھی اس کی تعمیر میں کچھ نہیں کیا تھا۔

اگر نام رکھنا ہی تھا تو اس سرزمین کے رہنے والوں کا رکھنا چاہیے جن کے خون پسینے کی کمائی اس پر خرچ ہوئی ہے۔پشاور اسٹیڈیم سے اچھا اور مبنی بر انصاف نام اور کیا ہوسکتا ہے لیکن دکھ سہے فاختہ اور انڈے کھائے کوا۔یہاں ایک اسپتال تعمیر کیا گیا تھا کہ ایوب خان نے اس کی منظوری دی تھی اور اسی کے عہد میں تعمیر ہوئی تھی لیکن افتتاح کے وقت ایک پارٹی کی حکومت تھی جسے دوسروں کے کام پر اپنے نام رکھنے کا جنون تھا۔ویسے سوچا جائے تو نام رکھنے میں اس نام والے کو کتنی رکعتوں کا ثواب ملتا ہے عذاب ہی ملتا ہوگا شاید لیکن پھر بھی ذرہ بھی نہیں شرماتے۔نام سے ہوتا کیا ہے۔اس ملک کا نام بھی تو ’’ریاست مدینہ‘‘ رکھا گیا تھا۔اور اس کے چپے چپے پر یہاں تک کہ دکانوں پر بھی مقدس نام لکھے گئے ہیں۔

ہمارے گاؤں میں ایک صاحب کو جنون ہوگیا تھا اس نے چھوٹے چھوٹے ٹین کے بورڈ لکھوائے اور ان پرمقدس نام لکھ کر گلیوں پر نصب کردیے۔ ہم نے اسے کہا، ذرا یہ تو بتاؤ کہ تم نے ان پاک ہستیوں کا احترام کیا ہے یا ان کی توہین کی ہے کہ گندے بدمعاش، جھوٹے، چوروں، بے ایمانوں کے محلوں پر مقدس اور پاک ہستیوں کے نام لکھ دیے۔ ہمارے عوام کالانعام کی رگ رگ سے خون نچوڑ کر بے نظیر کے نام سے موسوم کرنے سے بیچاری بے نظیر کو کیا فائدہ ملے گا۔اسے کہتے ہیں حلوائی کی دکان پر داداجی کا فاتحہ۔ جب اس نام والے کو کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچا تو خوامخوا کسی حقدار سے اس کا حق چھیننا کہاں کی شرافت بلکہ انصاف ہے، البتہ تحریک انصاف ہوسکتا ہے اور ہے۔کہ یہ اسٹیڈیم کا کارنامہ تحریک انصاف کا انصاف ہے۔خیر چھوڑیے سیاسی لوگ تو ہوتے ہی نرالے ہیں، اب تھوڑی سی گپ شپ کرتے ہیں۔

یوں تو اس ملک میں ہر چھوٹی بڑی چیز پر نام رکھنے کا رواج ہے لیکن ایک چیز بلکہ تعمیر ایسی بھی ہے جس پر کوئی بھی اپنا نام رکھنے کو تیار نہیں ہوتا اور وہ چیز ہے ’’سرنگ‘‘حالانکہ ہر لحاظ سے یہ ایک بڑا کارنامہ ہوتا ہے اور مہنگا بھی۔ہمیں یاد ہے نام اور جگہ ہم نہیں بتائیں گے لیکن ہمارے اس صوبے کا واقعہ ہے کہ ملک کے وزیراعظم نے ایک بہت بڑی سرنگ کا افتتاح کیا تو کسی نے اس سرنگ کو اس وزیراعظم کی سرنگ کہا۔ اس پر وزیراعظم نے کہا نہیں۔ اس نے صوبائی وزیراعلیٰ کا نام لیا۔لیکن وزیراعلیٰ نے بھی اپنا نام اس پر نہیں رکھا اس وقت سے ہم دیکھ رہے ہیں کتنی بڑی بڑی سرنگیں زرکثیر سے تعمیر ہوتی ہیں لیکن ان پر کسی کا نام نہیں رکھا جاتا ہے، البتہ عوام اسے کسی کے نام کردیتے ہیں۔

اس پر ہم نے ایک مرتبہ ’’توجہ دلاؤ ‘‘کالم بھی لکھا تھا،کہ جہاں ایک دو اینٹیں یا پتھر رکھنے پر نام رکھے جاتے ہیں وہاں اتنی مہنگی اور محنت طلب تعمیر پر کوئی بھی نام نہیں رکھا جاتا ہے،بہت بے انصافی ہے، ان دنوں روڈ ٹوسوات یعنی موٹروے کی تعمیر ہوئی تھی جس میں کئی بڑی بڑی سرنگیں بھی تعمیر ہوئی تھیں تو ہم نے مشورہ دیا،کہ ان میں ایک وزیراعلیٰ محمودخان سرنگ کا نام رکھا جائے اور ان دنوں مراد سعید کے بھی جوانی کے دن اور امنگوں کا سن تھا، اس لیے ایک پر مراد سعید سرنگ کا نام رکھا جائے لیکن کسی نے کان نہیں دھرا۔دراصل اس میں کچھ رکاوٹ زبان کی بھی ہے کہ پشتو میں اردو کی طرح فلاں سرنگ نہیں کہا جاتا ہے بلکہ’’فلاں کی سرنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایک اور بات یہ بھی ہے کہ یہ سرنگ بڑی شریر سی چیز ہے یہ خود پر کسی کا نام نہیں رکھنے دیتی بلکہ دوسروں کو اپنے نام سے موسوم کردیتی ہے۔

ہمارے گاؤں میں ایک چالاک شخص نے ایک وزیر کو جھانسہ دے کر سڑک کے نیچے اپنی دکانوں کے لیے ایک سرنگ بنوائی۔وہ ایک بہت فراخ سرنگ تھی۔چنانچہ اس کے اندر کچھ لوگوں کو اپنی دکانیں سجانے کی سوجھی۔ پہلے ایک سائیکل ساز نے اپنی دکان سجائی تو لوگوں نے اسے ’’سرنگی‘‘ کا نام دیا یہاں تک کہ اس کے نام اور سائیکل کی جگہ وہ’’سرنگی‘‘ کہلائی پھر ایک سبزی فروش نے دکان سجائی۔تو کون سبزی فروش؟وہ سرنگی۔جا سرنگی سے یہ لا سرنگی سے وہ لا۔پھر ایک چائے والا بھی آ گیا۔ جب’’سرنگی‘‘ چائے والا‘‘کہلائی تو لوگوں نے وہاں دکان سجانے سے توبہ کرلی کہ کسی کو سرنگی بننا منظور نہیں تھا۔





Source link

Continue Reading

Today News

ٹرمپ کے خطاب کے دوران اعلیٰ امریکی عسکری و سیاسی قیادت بھی موجود

Published

on



واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی خطاب کے دوران وائٹ ہاؤس کے کراس ہال میں اعلیٰ امریکی عسکری اور سیاسی قیادت بھی موجود رہی۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق خطاب کے دوران امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین اور پیٹ ہیگسیٹ نے بھی خطاب کو براہ راست سنا۔

اس کے علاوہ وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت ٹرمپ کابینہ کے دیگر ارکان نے بھی اس موقع پر شرکت کی۔

تقریب کے دوران اعلیٰ فوجی حکام کی موجودگی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Trending