Connect with us

Today News

کراچی؛ گھر سے پانی بھرنے کیلیے آئی بچی واٹر کارپوریشن کی کھلی لائن میں ڈوب گئی

Published

on



کراچی:

گھر سے پانی بھرنے کے لیے آئی بچی واٹر کارپوریشن کی لائن کے کھلے حصے میں ڈوب گئی۔

اسٹیل ٹاؤن کے علاقے گلشن حدید کے قریب واٹر کارپوریشن کی 72 انچ قطر کی لائن میں 14 سالہ بچی ڈوب گئی ، جس کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں  موقع پر پہنچیں اور  بچی کی تلاش شروع کر دی ۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر اطراف کے گوٹھوں کے رہائشی بڑی تعداد جائے وقوع پر جمع ہوگئے۔

بچی کے ڈوبنے کا افسوس ناک واقعہ منگل کی شام کو پیش آیا تھا ۔بعد ازاں رات گئے تک ریسکیو ٹیم بچی کی تلاش کے لیے لائن میں سرچ آپریشن کرتی رہی اور بالآخر تاریکی کے باعث آپریشن روک دیا گیا تھا، جسے آج صبح دوبارہ شروع کیا گیا۔

 پولیس کے مطابق ڈوبنے والی بچی کی شناخت 14 سالہ ثنا دختر نظیر کے نام سے کی گئی جو جائے وقوع کے قریب ہی واقعے ایک گوٹھ کی رہائشی تھی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ثنا واٹر لائن سے پانی بھرنے کے لیے آئی تھی  اور پانی بھرنے کے دوران پاؤں پھسلنے سے گر کر ڈوب گئی۔ اہل علاقہ کے مطابق پانی کی لائن کا کچھ حصہ کھلا ہے، جہاں سے گوٹھ کے افراد پانی بھرتے ہیں۔

واٹر لائن میں ڈوبنے والی بچی کی تلاش تاحال جاری ہے۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

لاہور، گھر میں آتشزدگی سے دو معصوم بچے جاں بحق

Published

on



لاہور:

ڈی ایچ اے فیز 5، جے بلاک میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں گھر میں لگنے والی آگ نے دو کمسن بچوں کی زندگیاں چھین لیں۔

ریسکیو 1122 کے مطابق آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں مگر بدقسمتی سے جب ریسکیو اہلکار گھر میں داخل ہوئے تو دونوں بچے پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔

جاں بحق ہونے والوں میں 5 سالہ سعد ولد عنصر اور 3 سالہ علیزہ ولد عنصر شامل ہیں، جن کی اچانک موت نے گھر میں کہرام مچا دیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق آگ پر قابو پا کر آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

موٹروے ایم-2 پر بڑی کارروائی، 21 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی کوکین برآمد، خاتون سمیت دو ملزمان گرفتار

Published

on



لاہور:

موٹروے ایم-2 ساؤتھ پر سیال موڑ کے قریب موٹروے پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 21 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی کوکین برآمد کرلی اور خاتون سمیت دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

ترجمان سنٹرل ریجن کے مطابق کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب موٹروے پولیس نے لین وائلیشن پر ایک مشکوک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا، تاہم ڈرائیور نے اشارہ نظر انداز کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی۔ پولیس نے فوری تعاقب کرتے ہوئے گاڑی کو قابو میں لے لیا۔

ترجمان موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی کی تلاشی کے دوران 40 پیکٹس سے زائد منشیات برآمد ہوئیں، جن کا مجموعی وزن 21 کلوگرام سے زائد ہے۔ برآمد شدہ کوکین کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مالیت 21 کروڑ روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔

کارروائی سیکٹر کمانڈر ایس ایس پی ملک ظفر اقبال کی قیادت میں کی گئی، جس میں آئی پی سبطِ حسنین، رانا ہارون اقبال اور ہیڈ کانسٹیبل وقاص نے حصہ لیا۔

ملزمان سے برآمد ہونے والی کوکین کو مزید قانونی کارروائی کے لیے کاؤنٹر نارکوٹکس فورس پنجاب کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

میزائل وہاں، مہنگائی یہاں۔ ایران امریکا ٹکرائو کی قیمت

Published

on


آبنائے ہرمز صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ دنیا کی توانائی کی شہ رگ ہے۔ دنیا کا تقریباً 20فیصد تیل اسی راستے سے گزرتا ہے اور جب کسی بھی جنگ یا کشیدگی سے یہ رستہ متاثر ہو تو پاکستان کی معیشت فوراً ہچکولے کھانے لگتی ہے اور پھر ہرمز کی بے چین لہریں کراچی سے خیبر تک مہنگائی کا طوفان کھڑا کردیتی ہے۔ جولائی تا فروری 2026 ان 8ماہ کے دوران پاکستان سے 10ارب 2کروڑ 90لاکھ ڈالرز کی پٹرولیم مصنوعات درآمد کیں۔ جب عالمی سطح پر تیل کی فی بیرل قیمت 60سے 70 ڈالر تھیں ، تادم تحریر تیل کی عالمی قیمت 115ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے بعد مزید بڑھنے کے خدشات ہیں۔

ان حالات میں 30جون تک پاکستان کو تیل کی درآمدات میں مزید کئی ارب ڈالر خرچ کرنا ہوں گے۔ حکومت نے تیل کی عالمی قیمت میں اضافے کے پیش نظر 55  روپے فی لیٹر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کیا اس کے بعد کئی مواقعے پر قیمت میں اضافے کی سفارش کی گئی لیکن حکومت کی طرف سے غریبوں کو ریلیف فراہم کرنے کی پالیسی کے تحت اضافہ نہیں کیاگیا، مزید اضافے کی توقع اپنی جگہ موجود ہے لیکن کیے گئے اضافے کے باعث ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں 20 سے 30 فیصد اضافہ دیکھاگیا۔

خوراک کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافہ ہو رہا ہے۔ ادویات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ مکانات کے کرائے بڑھ گئے اور یوں ایک جنگ نے جو کہ امریکا اور ایران کے بیچ لڑی جا رہی ہے اس نے بغیر گولی چلائے پاکستان کے غریب عوام کی جیبوں پر حملہ کردیا ہے، اسی دوران غیر ملکی پروازیں متاثر ہورہی ہیں۔ فضائی راستے غیر محفوظ ہوکر رہ گئے ہیں۔ ٹکٹوں کی قیمتیں کہیں دگنی بھی ہوگئی ہیں، ہزاروں ٹریول ایجنٹس بیروزگاری، کاروبار کے مندہ ہونے کے باعث شدید نقصان کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں اور یہ عمل ٹریول ایجنسی کی سانس روکنے کے مترادف ہے۔

ادھر لاکھوں پاکستانی جو خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں اور سالانہ اربوں ڈالر ترسیلات زر بھیجتے ہیں جنگ کے مزید طول پکڑنے کے باعث ان کا روزگار متاثر ہوگا، لاکھوں پاکستانی واپس آنے پر مجبور ہوں گے اور یوں پاکستان کا سب سے بڑا ڈالرکا ذریعہ کمزور پڑجائے گا۔گزشتہ 8ماہ کے دوران برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہونے کے باعث جولائی تا فروری 2026پاکستان کا تجارتی خسارہ 25 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، اب تیل کے درآمدی بل بڑھنے کے باعث تجارتی خسارہ خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے اور یہ لگنے والا ایسا زخم ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت بچت پالیسی پر عملدرآمد کر رہی ہے۔

سرکاری اخراجات کم کیے جا رہے ہیں مہنگائی کم کرنے کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں لیکن اب اس طرف فوری توجہ دینا ہوگی کہ جو چیزیں ہم خود بنا سکتے ہیں، ان کو بنانے کی پلاننگ کی جائے۔ توانائی میں خود کفالت کے حصول کے لیے مقامی گیس اور تیل کی تلاش کا کام مزید تیز کیا جائے۔ ایران سے گیس لینے کے معاہدے کا جائزہ لیا جائے۔ رکاوٹوں کو دور کیا جائے خاص طور پر سولر انرجی کے حصول کی کوششیں تیزکی جائیں۔ ترکیہ سے کیے گئے زرعی معاہدے پر عملدرآمد کی رفتار کو تیز کرکے ہم زراعت کو جدید بنا سکتے ہیں تو خوراک کی زائد پیداوار کے حصول سے مہنگائی کو کم کیا جاسکتا ہے۔ وقت کی پکار یہ ہے کہ اگر آج ہم نے خود کو نہ بدلا تو کل ہر عالمی جنگ ہماری گھریلو مہنگائی بن جائے گی۔

پاکستان میں ہر عالمی جنگ کا پہلا دھماکہ بارود سے نہیں بلکہ غریب کی خالی جیب سے سنائی دیتا ہے۔ ایک غریب مزدور امریکا اور ایران کی جنگ کو نہیں سمجھتا، مگر مہنگائی کی زبان کو خوب جانتا ہے، اسے معلوم ہے کہ جب آبنائے ہرمز کے تیور بدلتے ہیں تو اس کے چولہے کی آنچ مدہم پڑجاتی ہے۔ دنیا کے نقشے پر بننے والی جنگی لکیرآٹے، دال ، سبزی کی قیمت میں کھنچ جاتی ہے ۔ یہاں میزائل کے اثرات سے مہنگائی نیا دھماکہ کرتی ہے، ٹینک وہاں چلتے ہیں کرایوں کا پہیہ غریب یہاں کچل دیتا ہے فوجیں وہاں لڑتی ہیں لیکن یہاں مزدور اور دکاندار روز الگ نئی جنگ لڑتے ہیں ہر عالمی تنازعہ پاکستان میں غربت، بھوک ، بیروزگاری کی خبر بن کر آتا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ میزائل وہاں چلتے ہیں اور مہنگائی یہاں ہوجاتی ہے۔ امریکا ایران ٹکراؤ کی ایک قیمت پاکستان کا غریب ادا کررہا ہے گولی ہزاروں میل دور چلتی ہے، میزائل وہاں گرتے ہیں دھماکے ہوتے ہیں مگر اس کی گونج یہاں پٹرول پمپ، سبزی منڈی، فروٹ منڈی ، جوڑیا بازار میں سنائی دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ایسی معیشت جو اپنی توانائی، اپنی خوراک، اپنی پالیسیوں میں خود مختار نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی طرف دیکھتا ہے، اسی لیے ہر عالمی جھٹکے سے پاکستانی معیشت لرز کر رہ جاتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending