Connect with us

Today News

کراچی، اسکیم 33 میں پولیس مقابلہ، زخمی سمیت 3 ڈاکو گرفتار

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں سچل پولیس نے اسکیم 33 کے علاقے وکیل سوسائٹی میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران زخمی سمیت تین ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق مقابلے کے دوران ایک ملزم سیف اللہ زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ دیگر دو ملزمان عتیق اور عفان کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے قبضے سے پستول، موبائل فونز، نقد رقم اور موٹرسائیکل برآمد کی گئی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سوشل میڈیا پر جنگ: میڈیا تھیوریز کے تناظر میں

Published

on


حال ہی میں اسرائیل، امریکا اور ایران کے درمیان جنگ میں اے آئی کی فیک نیوز بہت زیادہ حد تک سوشل میڈیا پر نظر آئیں، بعض ماہرین اسے ”Information War” یا ”Narrative War” کہہ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس جنگ میں AI-enerated ویڈیوز اور تصاویر کا سیلاب آیا ہے، جو پچھلی جنگوں سے کہیں زیادہ ہے۔ بعض جعلی ویڈیوز کو کروڑوں ویوز ملے، حالانکہ وہ ویڈیو گیم یا مصنوعی فوٹیج تھیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بڑی جنگ ہے جس میں AI کو بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا کے لیے استعمال کیا گیا۔ فیک نیوز اب معمولی نہیں رہیں بلکہ جنگ کا باقاعدہ ہتھیار بن چکی ہیں۔سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیلی کہ اسرائیلی وزیراعظم مارے گئے ہیں، حالانکہ وہ زندہ تھے بعد میں انھوں نے ویڈیو بنا کر خود اس خبر کی تردید کی۔ اسی طرح ویڈیوز شیئر کی گئیں جن میں دکھایا گیا کہ امریکی فوجی ایران کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے ہیں، بعض ویڈیوز دراصل ویڈیو گیم کی تھیں۔ جعلی سیٹلائٹ تصویر شیئر کی گئی جس میں امریکی تنصیبات تباہ دکھائی گئیں، لیکن بعد میں یہ غلط ثابت ہوئی۔

سب فریق کسی نہ کسی حد تک میڈیا کی جنگ (information warfare) کر تے نظر آئے۔ بعض ریاستی ادارے اور سوشل میڈیا نیٹ ورکس منظم طریقے سے پروپیگنڈا چلا رہے ہیں یوں ہزاروں جعلی اکاؤنٹس بنا کر عوامی رائے متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔سوال یہ ہے کہ اس قدر جدید دور میں یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اور لوگ جانتے بوجھتے بھی ان ویڈیوز کو کیوں فالو کر رہے ہیں، لائیک کر رہے ہیں۔

آئیے اس کا میڈیا تھیوری کے تناظر میں جائزہ لیں۔

میڈیا سے متعلق چند تھیوریز مذکورہ مسئلہ کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

(علم وعمل میں عدم مطابقت) 1.Cognitive Dissonance Theory 

(ترجیحی انتخاب) 2.Selective Exposure

(ترجیحی ادراک) 3. Selective Perception

(ترجیحی یاد داشت) 4.Selective Retention

Cognitive Dissonance Theory کے مطابق انسان ایسی معلومات سے بچنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کی موجودہ سوچ سے ٹکراتی ہو یعنی اس کے برخلاف ہو جب کہ ایسی معلومات کو ترجیح دیتا ہے جو اس کی سوچ سے ملتی ہو،یہی خیال بعد میں دیگر بیان کردہ تھیوریز کی بنیاد بنا۔

ماہرین ابلاغیات کے ان پیش کردہ نظریات کے مطابق ’’ترجیحی انتخاب ‘‘کے تحت دراصل میڈیا پر جو پیغامات آتے ہیں خواہ وہ تحریر کی شکل میں ہوں یا کسی ویڈیو وغیرہ کی شکل میں ان کو دیکھنے سننے یا پڑھنے کا فیصلہ لوگ اپنے پہلے سے قائم شدہ نظریات یا خیالات یا عقیدے کی بنیاد پر کرتے ہیں یعنی اگر ان کے نظریات خیالات یا عقیدے سے ہم آہنگ ہوں گے تو وہ انھیں ضرور سنیں گے اور پڑھیں گے لیکن اگر وہ اس کے برعکس ہوں گے تو اس کو رد کر دیں گے۔ دوسرے الفاظ میں عموماً لوگ مخالف معلومات کو دیکھنے اور پرکھنے سے بچتے ہیں۔

اسی طرح ’’ترجیحی ادراک‘‘ کی تھیوری کے تحت لوگ میڈیا پر آنے والے ایسے پیغامات جو تحریری شکل میں ہوں یا ویڈیوز وغیرہ کی شکل میں ہوں، بالکل بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے جو ان کے پہلے سے قائم شدہ نظریات خیالات یا قائد کے برعکس ہوں ،لہٰذا ایسے پیغامات خواہ کتنے ہی مضبوط اور حقائق پر مبنی ہوں اپنا اثر نہیں رکھتے، لوگ ان پر یقین نہیں کرتے نہ یہ سوچنے کی زحمت کرتے ہیں کہ حقائق کس حد تک صحیح یا غلط ہیں۔

اسی طرح ’’ترجیحی یادداشت‘‘ تھیوری کا معاملہ ہے جس کے تحت میڈیا سے لوگ جو کچھ بھی صبح و شام پیغامات وصول کرتے ہیں یعنی مختلف تحریریں اور ویڈیوز وغیرہ دیکھنے کے بعد، اپنے ذہن میں سے صرف وہی محفوظ رکھتے ہیں جو ان کے اپنے خیالات اور عقائد کو مضبوط کرتے ہیں یا اس سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ گویا عام لوگوں کے ذہن میں یادداشت بھی صرف اپنے مطلب کے پیغامات کو محفوظ رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر یہی یادداشت ان کے پرانے خیالات کو مزید مضبوط بناتی ہے۔

یوں دیکھا جائے تو یہ مختلف نظریات جو مختلف ماہرین نے 1940 اور 1950 کی دہائی میں پیش کیے تھے آج بھی بہت حد تک درست نظر آتے ہیں ۔خاص طور پہ جب ہم حالیہ اسرائیل، امریکا اور ایران کے جنگ کے معاملے کو سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر عوام کی ایک اکثریت اپنے اپنے عقائد نظریات کے مطابق مصروف نظر آتی ہے۔ ہر گروپ یا گروہ اپنے خیالات کی ہم آہنگی کے لیے خبروں اور ویڈیوز کی تلاش میں نظر آتا ہے اور جوں ہی کوئی انھیں اپنے خیالات کے مطابق خبر یا ویڈیو مل جائے وہ فوراً اس کو بغیر جانچے اور پرکھے فارورڈ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے جس کے سبب فیک ویڈیوز، جعلی خبروں اور اے آئی کے ذریعے بنائی گئی ویڈیوز جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا سوشل میڈیا پہ چھائی ہوئی نظر آتی ہیں اور پروپیگنڈہ کرنے والوں کو آسانی ہو جاتی ہے۔

اے آئی سے بنائی گئیں ویڈیوز اس قدر خطر ناک یعنی حقیقت سے قریب تر لگتی ہیں کہ عام لوگ ہی نہیں، بڑی بڑی شخصیات بھی دھوکہ کھا جاتی ہیں اور انھیں بعد میں معذرت کرنا پڑتی ہے۔ حال ہی میں بانی تحریک انصاف کے بیٹے سے متعلق ایک ویڈیو پر سوشل میڈیا پر بڑا ہنگامہ کھڑا ہوا جس کی بعد میں عمران خان کی ہمشیرہ نے ٹویٹ کے ذریعے تردید کی کہ یہ ویڈیو فیک ہے۔

ایک صحافی نے بعد میں معذرت کی کہ انھوں نے اس پر سخت تنقید کی، انھیں معلوم نہ چل سکا تھا کہ یہ ویڈیو فیک ہے اور بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ سوشل میڈیا خاص کر واٹس ایپ گروپ پر لوگ آپس میں الجھ جاتے ہیں اور لڑ پڑتے ہیں۔ ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے خیالات اور نظریے کے مطابق جو بھی پوسٹ کریں سب اس کی واہ واہ کریں چاہے وہ فیک ہی کیوں نہ ہو۔ آج کل کے حالات کے حوالے سے بے شمار واٹس ایپ گروپس میں لوگ محض ان جعلی ویڈیوز اور خبروں کی بنیاد پر آپس میں اپنے اچھے تعلقات خراب کر چکے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک جنگ تو ایران اور امریکا و اسرائیل لڑ رہے ہیں جب کہ ایک جنگ سوشل میڈیا پر اس کے صارفین لڑ رہے ہیں۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ عمل کسی باشعور فرد کا ہو سکتا ہے؟

غور کیا جائے تو اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ کوئی بھی باشعور شخص کسی بھی خبر کو حقائق کی بنیاد پر پرکھے گا نہ کہ اپنی خواہش کے مطابق دیکھے گا۔ہمارے ایک پروفیسر ساتھی کا بالکل درست کہنا ہے کہ شعور یہ نہیں ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ آپ کے مخالف نظریات رکھنے والے لوگوں یا جماعت میں کیا برائیاں اور کیا خامیاں ہیں بلکہ اصل شعور تو یہ ہے کہ آپ اپنی ہم نظریاتی جماعت میں دیکھیں کہ اس میں کیا کیا خامیاں اور خرابیاں ہیں۔

یہ ہمارا ایک بہت بڑا قومی المیہ بن چکا ہے کہ ہم صرف مخالف میں خامیوں کو دیکھتے ہیں اور یاد رکھتے ہیں جب کہ اپنی طرف نہیں دیکھتے۔ ہم اپنے جذبات کو کنٹرول نہیں کرتے۔ جذبات کی رو میں بہنے کی وجہ ہی سے آج ایک جنگ سوشل میڈیا پر چل رہی ہے جو فیک اطلاعات اور اے آئی جنریٹیڈ ویڈیوز پر مشتمل ہے جس میں جذبات میں ڈوبے لوگ اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کر رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

بھارت کی ایک اور فالس فلیگ آپریشن  کی سازش بے نقاب

Published

on



بھارت ایک اور فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا تھا جسے بے نقاب کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اطلاعات ہیں کہ بے گناہ  پاکستانی بالخصوص کشمیری جو غلطی سے  بارڈر کراس کرگئے انہیں بھارتی سیکیورٹی فورسز زبردستی استعمال کرے گی جبکہ لگ بھگ سینکڑوں بے گناہ پاکستانی بشمول کشمیری بھارتی قید میں موجود ہیں۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق ان میں سے چند بے گناہ افراد کو بھارتی فوج مذموم مقاصد کے لیے  مختلف جیلوں سے نکال کر اکٹھا کررہی ہے اور ان بے گناہ پاکستانیوں کے ساتھ بھارتی جیلوں میں قید چند بھارتیوں کو بھی اس گھناونی سازش میں استعمال کئے جانے کی اطلاعات ہیں تاکہ ڈرامہ بہتر بنایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق ان بے گناہ قیدیوں کو جلد ہی فالس فلیگ آپریشن  کے ذریعے  گودی میڈیا اور جے شنکر پاکستان کے مخالف استعمال کرے گا، ممکنہ طور پر بھارت سفارتی میدان میں ہزیمت کی خفت مٹانے اور  پاکستان سے توجہ ہٹانے کے لیے فرسودہ اور گھسا پٹا ڈرامہ رچا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور  انتہائی دل برداشتہ وزیر خارجہ جے شنکر نے اس اسکیم کو ترتیب دیا ہے  جبکہ دنیا بھارت کی ان مکاریوں،  جھوٹ  اور گھسے پٹے بیانیے سے پہلے ہی تنگ آچکی ہے، اب اس گھسے پٹے اور فرسودہ بیانیئے کی  کوئی  وقعت نہیں رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق پلوامہ  کے بعد پہلگام کو بھی ایک سال گزرنے کے باوجود بھارت ابھی تک اپنے الزامات کے شواہد سامنے نہیں لا سکا اور بھارت ان فالس فلیگ آپریشنز کے حوالے سے دنیا کو یہ نہیں بتاسکا کہ ان میں کون سے لوگ ملوث تھے اور کہاں سے آئے تھے، بھارت کا بے گناہ پاکستانی قیدیوں کو استعمال کرکے میڈیا کے سامنے ایک اور پراپیگنڈہ بھی بری طرح ناکام ہوگا۔



Source link

Continue Reading

Today News

کراچی میں 1 اور شہری ڈکیتی مزاحمت پر جاں بحق، رواں سال کی تعداد 19 ہوگئی

Published

on



شہر میں جاری ڈاکو راج کے دوران ڈاکوؤں نے ایک اور شہری کی جان لے لی جس کے بعد رواں سال میں اب تک جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 19 ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق میمن گوٹھ کے علاقے ملیر پیرڈائز سوسائٹی میں موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کر کے ایک شخص کو قتل کر دیا۔

مقتول کی شناخت 33 سالہ ندیم کے نام سے ہوئی، جس کی لاش کو ابتدائی طور پر قریبی اسپتال لیجایا گیا، جس کے بعد قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

عینی شاہد (بھائی) کے مطابق مقتول ندیم جیسے ہی اپنے گھر کے باہر آکر رکتا ہے کہ اس دوران موٹر سائیکل سوار ڈاکو آئے اور لوٹ مار کی، جس کے دوران مزاحمت کی۔

اس دوران مقتول کا بھائی بھی اسلحے سمیت گھر سے نکلا اور ڈاکوؤں پر فائرنگ کردی تاہم وہ ملزمان فرار ہوگئے۔

بھائی نے پولیس کو بتایا کہ ڈاکو مقتول سے موبائل فون اور نقدی چھین کر فرار ہوئے ہیں۔

ہیڈ محرر میمن گوٹھ فیاض نے بتایا کہ مقتول ندیم شادی شدہ اور ڈینٹنگ پینٹگ کا کام کرتا تھا جبکہ اس کا بھائی ولید سی ٹی ڈی میں تعینات ہے تاہم پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد حاصل کرلیے ہیں اور اس حوالے سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending