Connect with us

Today News

سی سی ڈی پنجاب میں ایک ہزار نئی بھرتیوں کا فیصلہ، 491 ملین روپے کے فنڈز منظور

Published

on



لاہور:

سی سی ڈی پنجاب میں ایک ہزار نئی بھرتیوں کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں 491 ملین روپے کے فنڈز بھی منظور کرلیے گئے  ہیں۔

صوبائی کابینہ نے سی سی ڈی میں نفری کی شدید کمی کو پورا کرنے کے لیے مختلف کیڈرز میں ایک ہزار افسران اور اہلکاروں کی فوری بھرتی کی منظوری دے دی ہے۔

یہ فیصلہ صوبے بھر میں خطرناک ڈاکوؤں، مجرموں اور اشتہاریوں کی سرکوبی کے لیے کیا گیا ہے۔

سرکاری مراسلے کے مطابق سی سی ڈی کا محکمہ مارچ 2025 میں قائم کیا گیا تھا، جس کے لیے 7486 افسران و اہلکاروں کی نفری منظور شدہ ہے،  تاہم اس وقت صرف 3904 اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں اور 3582 اسامیاں خالی ہیں۔

صوبے کو اسلحہ سے پاک کرنے میں سی سی ڈی کا کردار انتہائی اہم رہا ہے، جس کے قیام کے بعد ڈکیتی کی وارداتوں میں 55 فیصد اور قتل کے واقعات میں 45 فیصد تک واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ پنجاب پولیس کی نفری نئے بننے والے محکمے ’پیرا‘  کو بھجوائی گئی ہے، جس کی وجہ سے پولیس سے سی سی ڈی کو مزید نفری فراہم کرنا ممکن نہیں رہا۔

نفری کی کمی دور کرنے کے لیے آئی جی پنجاب نے ایک ہزار کانسٹیبلز اور ڈرائیور کانسٹیبلز کی بھرتی کی سمری حکومت کو بھجوائی تھی۔ جس پر کابینہ نے نئی سیٹوں کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

منظوری کے مطابق سی سی ڈی میں 8 ایس پی جنرل ایگزیکٹیو کیڈر، 3 ایس پی لیگل کیڈر، 19 ڈی ایس پی جنرل ایگزیکٹیو کیڈر اور 10 ڈی ایس پی لیگل کیڈر کے افسران بھرتی کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ 51 انسپکٹر جنرل ایگزیکٹیو کیڈر، 141 سب انسپکٹر، 173 اے ایس آئی، 35 ہیڈ کانسٹیبل، 100 ڈرائیور کانسٹیبل اور 460 کانسٹیبلز کی بھرتی کا عمل بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔

حکومت نے ان بھرتیوں اور انتظامی امور کے لیے رواں مالی سال 2025/26 کے سپلیمنٹری بجٹ میں 491 ملین روپے کے فنڈز جاری کرنے کی بھی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

گوادر پورٹ پر نئے جہاز کی کامیاب برتھنگ، علاقائی کشیدگی میں اہمیت بڑھ گئی

Published

on


گوادر پورٹ پر خصوصی جہاز ایم وی ایچ ایم او لیڈر کی کامیاب برتھنگ کی گئی جہاں 35 یونٹس ٹرانس شپمنٹ کارگو ہینڈل کیا گیا۔

وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے دوران گوادر بندرگاہ محفوظ بحری مرکز کے طور پر ابھر رہی ہے اور عالمی شپنگ لائنز محفوظ متبادل کے طور پر گوادر کا رخ کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث روایتی شپنگ روٹس متاثر ہوئے ہیں جس سے گوادر کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹرانس شپمنٹ کارگو کے لیے مفت اسٹوریج سہولت دستیاب ہے جس سے بندرگاہ کی مسابقتی حیثیت مزید بہتر ہو رہی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق گوادر پورٹ اور فری زون میں 16 ہزار ٹی ای یوز کنٹینرز ہینڈلنگ کی استعداد موجود ہے جبکہ جنرل کارگو کے لیے 90 ہزار مربع میٹر سے زائد اسٹوریج گنجائش بھی دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ بلیو اکانومی اور علاقائی تجارت میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

وزارت عظمیٰ سے ہٹنے کے بعد نیتن یاہو جیل میں جائیں گے، امریکی تحقیقاتی رپورٹ

Published

on


تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کے الزامات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں جب کہ ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ اور مبینہ ویڈیوز سامنے آنے کے بعد ان کی سیاسی اور قانونی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے ایک دستاویزی مواد اور ویڈیو سامنے لانے کا دعویٰ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ شواہد نیتن یاہو کے خلاف قانونی کارروائی کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور انہیں جیل تک لے جا سکتے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے اسلحہ کے تاجروں سے قیمتی تحائف حاصل کیے اور اس کے بدلے انہیں کاروباری فائدے پہنچائے۔ مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس تحقیقات کے دوران نیتن یاہو نے اپنے اور اپنی اہلیہ کے نام پر تحائف لینے کا اعتراف کیا۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایک مبینہ ویڈیو بھی لیک ہوئی ہے جس میں نیتن یاہو کو انکوائری افسران کو دھمکاتے ہوئے دکھایا گیا ہے تاہم اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو نیتن یاہو کو وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے کے بعد قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور ممکنہ طور پر انہیں جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب نیتن یاہو یا ان کے دفتر کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اسرائیلی سیاست میں ایک بڑا بحران پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی سکیورٹی اور جنگی حالات سے گزر رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

فیفن کا سندھ میں معلومات تک رسائی کے قانون میں فوری اصلاحات کا مطالب

Published

on


غیر سرکاری تنظیم فیفن نے سندھ ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ جاری پالیسی بریف میں شفافیت کے وعدوں کو عملی شکل دینے پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں صوبائی اسمبلی، حکومت اور انفارمیشن کمیشن کو مشترکہ اقدامات کی تجویز دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں غلط معلومات کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے مؤثر قانون سازی ضروری ہے۔ فیفن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 19 اے کے باوجود قانون پر عملدرآمد کمزور ہے۔

رپورٹ کے مطابق سندھ کے 61 اداروں میں سے صرف 54 فیصد معلوماتی تقاضوں پر عملدرآمد کر رہے ہیں، جبکہ قانون میں مبہم تعریفیں اور رپورٹنگ کا مؤثر نظام نہ ہونا بڑی خامیاں ہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ آر ٹی آئی نظام میں ڈیجیٹلائزیشن کی کمی اور درخواستوں کی ٹریکنگ کا فقدان بھی مسائل میں شامل ہے۔

فیفن نے نشاندہی کی کہ انفارمیشن کمیشن کی خودمختاری اور مالی وسائل ناکافی ہیں، جبکہ مخبروں کے تحفظ کے لیے قانون میں ترامیم کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں انفارمیشن کمشنرز کی شفاف تعیناتی اور معلومات تک رسائی کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending