Connect with us

Today News

خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈے ناکارہ ہو گئے، ایرانی حملوں سے خوفزدہ فوجی ہوٹلوں میں منتقل

Published

on


امریکی اخبار کی ایک اہم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکا کے متعدد فوجی اڈے شدید نقصان کے باعث ناقابلِ رہائش ہو گئے ہیں جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کو ہنگامی طور پر ہوٹلوں اور دفتری عمارتوں میں منتقل کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق اس غیر معمولی صورتحال نے امریکی فوجی نظام کو متاثر کیا ہے اور اب امریکی زمینی افواج کا بڑا حصہ روایتی اڈوں کے بجائے دور سے کارروائیاں کرنے پر مجبور ہے جبکہ صرف محدود فضائی عملہ ہی متاثرہ اڈوں پر موجود رہ گیا ہے۔

ایرانی حملوں میں خلیجی ممالک کویت، قطر، بحرین اور سعودی عرب میں قائم اہم امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں العدید ایئر بیس، علی السالم ایئر بیس اور پرنس سلطان ایئر بیس شامل ہیں، جبکہ ان حملوں میں متعدد امریکی اہلکار ہلاک اور زخمی بھی ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 13 میں سے بیشتر امریکی فوجی اڈے متاثر ہوئے ہیں اور خاص طور پر کویت میں موجود تنصیبات کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے جس کے بعد امریکی افواج کو اپنی موجودگی اور آپریشنل طریقہ کار تبدیل کرنا پڑا۔

ادھر پاسداران انقلاب نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکی فوجیوں کے نئے ٹھکانوں کی نشاندہی کریں جبکہ ایران نے امریکا پر شہری علاقوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق اس صورتحال نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو دباؤ میں ڈال دیا ہے کیونکہ بدلتی ہوئی جنگی حکمت عملی اور فوجی اڈوں کی کمزوری نے امریکا کی تیاریوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

گوادر پورٹ پر نئے جہاز کی کامیاب برتھنگ، علاقائی کشیدگی میں اہمیت بڑھ گئی

Published

on


گوادر پورٹ پر خصوصی جہاز ایم وی ایچ ایم او لیڈر کی کامیاب برتھنگ کی گئی جہاں 35 یونٹس ٹرانس شپمنٹ کارگو ہینڈل کیا گیا۔

وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے دوران گوادر بندرگاہ محفوظ بحری مرکز کے طور پر ابھر رہی ہے اور عالمی شپنگ لائنز محفوظ متبادل کے طور پر گوادر کا رخ کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث روایتی شپنگ روٹس متاثر ہوئے ہیں جس سے گوادر کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹرانس شپمنٹ کارگو کے لیے مفت اسٹوریج سہولت دستیاب ہے جس سے بندرگاہ کی مسابقتی حیثیت مزید بہتر ہو رہی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق گوادر پورٹ اور فری زون میں 16 ہزار ٹی ای یوز کنٹینرز ہینڈلنگ کی استعداد موجود ہے جبکہ جنرل کارگو کے لیے 90 ہزار مربع میٹر سے زائد اسٹوریج گنجائش بھی دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ بلیو اکانومی اور علاقائی تجارت میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

وزارت عظمیٰ سے ہٹنے کے بعد نیتن یاہو جیل میں جائیں گے، امریکی تحقیقاتی رپورٹ

Published

on


تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کے الزامات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں جب کہ ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ اور مبینہ ویڈیوز سامنے آنے کے بعد ان کی سیاسی اور قانونی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے ایک دستاویزی مواد اور ویڈیو سامنے لانے کا دعویٰ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ شواہد نیتن یاہو کے خلاف قانونی کارروائی کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور انہیں جیل تک لے جا سکتے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے اسلحہ کے تاجروں سے قیمتی تحائف حاصل کیے اور اس کے بدلے انہیں کاروباری فائدے پہنچائے۔ مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس تحقیقات کے دوران نیتن یاہو نے اپنے اور اپنی اہلیہ کے نام پر تحائف لینے کا اعتراف کیا۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایک مبینہ ویڈیو بھی لیک ہوئی ہے جس میں نیتن یاہو کو انکوائری افسران کو دھمکاتے ہوئے دکھایا گیا ہے تاہم اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو نیتن یاہو کو وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے کے بعد قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور ممکنہ طور پر انہیں جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب نیتن یاہو یا ان کے دفتر کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اسرائیلی سیاست میں ایک بڑا بحران پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی سکیورٹی اور جنگی حالات سے گزر رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

فیفن کا سندھ میں معلومات تک رسائی کے قانون میں فوری اصلاحات کا مطالب

Published

on


غیر سرکاری تنظیم فیفن نے سندھ ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ جاری پالیسی بریف میں شفافیت کے وعدوں کو عملی شکل دینے پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں صوبائی اسمبلی، حکومت اور انفارمیشن کمیشن کو مشترکہ اقدامات کی تجویز دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں غلط معلومات کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے مؤثر قانون سازی ضروری ہے۔ فیفن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 19 اے کے باوجود قانون پر عملدرآمد کمزور ہے۔

رپورٹ کے مطابق سندھ کے 61 اداروں میں سے صرف 54 فیصد معلوماتی تقاضوں پر عملدرآمد کر رہے ہیں، جبکہ قانون میں مبہم تعریفیں اور رپورٹنگ کا مؤثر نظام نہ ہونا بڑی خامیاں ہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ آر ٹی آئی نظام میں ڈیجیٹلائزیشن کی کمی اور درخواستوں کی ٹریکنگ کا فقدان بھی مسائل میں شامل ہے۔

فیفن نے نشاندہی کی کہ انفارمیشن کمیشن کی خودمختاری اور مالی وسائل ناکافی ہیں، جبکہ مخبروں کے تحفظ کے لیے قانون میں ترامیم کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں انفارمیشن کمشنرز کی شفاف تعیناتی اور معلومات تک رسائی کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending