Connect with us

Today News

وزیراعظم سے ملاقات، ایم کیو ایم کا 28 ویں ترمیم جلد لانے، کراچی پیکیج پر کام تیز کرنے کا مطالبہ

Published

on



وزیراعظم شہباز شریف سے ایم کیوایم کی قیادت نے ملاقات کی اور 28ویں ترمیم لانے سمیت کراچی ترقیاتی پیکج پر کام تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں ایم کیو ایم کے وفد نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔

ایم کیو ایم کے وفد میں وفاقی وزیر سید مصطفی کمال ، ڈاکٹر فاروق ستار، سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری، فیصل سبزواری اور امین الحق شریک تھے۔

کراچی میں ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی ایکسپریس نیوز کو موصول ہوئی، جس میں ایم کیوایم وفد نے 28ویں ترمیم لانے اور 140اے کو اس میں شامل کئے جا نے کی تجویز دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم پاکستان کے وفد نے مقامی حکومتوں کے حوالے سے 28ویں ترمیم جلد لانے اور تمام سیاسی جماعتوں سے بات کرنے کا ایم کیوایم نے وزیر اعظم کے سامنے مطالبہ رکھ دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے  اس حوالے سے آئندہ ہفتے ایم کیوایم قیادت سے ایک اورملاقات طے کی جس میں آئینی ترمیم پر مز ید گفتگو کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے گورنرسندھ کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ ایم کیوایم قیادت سے رابطے میں رہے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق ایم کیوایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ کے عہدے سے ہٹانے پر شکوہ کیا اور کہا کہ اس معاملے پر ایم کیوایم کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

فاروق ستار کے شکوے پر وزیر اعظم نے گورنر کی تبدیلی کو سیاسی فیصلہ قرار دیا جبکہ ایم کیو ایم نے ملاقات میں کراچی پیکچ پر کام تیز کرنے کی درخواست بھی کی جس پر وزیر اعظم کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

  وزیر اعظم شہباز شریف نے سابق گورنر سندھ کامران  ٹیسوری کی والدہ کی صحت کے لئے دعا کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم وفد الگے ہفتے اسلام آباد میں وزیر اعطم سے سے اہم ملاقات کرے گا۔

 وزیر اعظم  کے ہمراہ ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار، رانا ثناء اللہ، وزیر اطلاعات عطاء  تارڈ اور وزیر قانون  نذیر تارڈ شامل تھے۔

ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے وفد کو پاکستان کی خطے میں امن کے قیام کیلئے سفارتی کوششوں و اقدامات سے آگاہ کیا۔

دریں اثنا وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ایم کیوایم پاکستان کے وفد سے ملاقات کے دوران گورنر سندھ نے ایم کیو ایم پاکستان سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو گورنر ہاؤس آنے کی دعوت دی۔

ترجمان گورنر ہاؤس کےمطابق ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے دعوت قبول کرتے ہوئے جلد گورنر ہاؤس آنے کا عندیہ دیا ہے۔

اُدھر مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاق کی جانب سے مسلم لیگ ن اور ایم کیوایم پاکستان کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ میں مزید بہتری کے لیے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو اہم سیاسی ٹاسک سپرد کیا گیا ہے۔

اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک رابطہ کار کمیٹی قائم کی جائے گی، جس میں رانا ثناء اللہ ۔اعظم نذیر تارڈ اور احسن اقبال شامل ہوں گے۔

ن لیگی ذرائع کے مطابق یہ کمیٹی وزیر اعظم کی ہدایت پر کام کرے گی۔اس کمیٹی کا قیام جلد عمل میں لایا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اس بات کا عندیہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایم کیوایم پاکستان کے وفد کو ملاقات میں دیا۔مسلم لیگ ن کے زرائع کے مطابق ملاقات میں وفاقی حکومت کے وفد نے کراچی سمیت سندھ کی ترقی کے لیے ایم کیوایم پاکستان اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت میں ورکنگ ریلیشن شپ کی بہتری پر زور دیا اور اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

وفاقی حکومت کے وفد نے واضح کیا کہ آئینی اور قانونی معاملات پر ایم کیوایم سے مشاورت وفاقی وزیر قانون کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ گورنر سندھ نہال ہاشمی بھی ایم کیوایم پاکستان سے رابطے میں رہیں گے۔

کفایت شعاری پروگرام اور ممکنہ توانائی بحران کے لیے کسی بھی پالیسی پر وفاق ایم کیوایم پاکستان کو اعتماد میں لے گا۔ وفاقی وزرا جلد کراچی آ ئیں گے اور وفاقی منصوبوں پر وفاقی وزیر احسن اقبال ایم کیوایم پاکستان کی قیادت سے رابطے میں ہوں گے جبکہ ممکنہ کمیٹی کے ساتھ ایم کیوایم پاکستان کی ملاقات اتفاق رائے سے طے ہوگی۔

 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

گوادر پورٹ پر نئے جہاز کی کامیاب برتھنگ، علاقائی کشیدگی میں اہمیت بڑھ گئی

Published

on


گوادر پورٹ پر خصوصی جہاز ایم وی ایچ ایم او لیڈر کی کامیاب برتھنگ کی گئی جہاں 35 یونٹس ٹرانس شپمنٹ کارگو ہینڈل کیا گیا۔

وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے دوران گوادر بندرگاہ محفوظ بحری مرکز کے طور پر ابھر رہی ہے اور عالمی شپنگ لائنز محفوظ متبادل کے طور پر گوادر کا رخ کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث روایتی شپنگ روٹس متاثر ہوئے ہیں جس سے گوادر کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹرانس شپمنٹ کارگو کے لیے مفت اسٹوریج سہولت دستیاب ہے جس سے بندرگاہ کی مسابقتی حیثیت مزید بہتر ہو رہی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق گوادر پورٹ اور فری زون میں 16 ہزار ٹی ای یوز کنٹینرز ہینڈلنگ کی استعداد موجود ہے جبکہ جنرل کارگو کے لیے 90 ہزار مربع میٹر سے زائد اسٹوریج گنجائش بھی دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ بلیو اکانومی اور علاقائی تجارت میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

وزارت عظمیٰ سے ہٹنے کے بعد نیتن یاہو جیل میں جائیں گے، امریکی تحقیقاتی رپورٹ

Published

on


تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کے الزامات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں جب کہ ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ اور مبینہ ویڈیوز سامنے آنے کے بعد ان کی سیاسی اور قانونی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے ایک دستاویزی مواد اور ویڈیو سامنے لانے کا دعویٰ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ شواہد نیتن یاہو کے خلاف قانونی کارروائی کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور انہیں جیل تک لے جا سکتے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے اسلحہ کے تاجروں سے قیمتی تحائف حاصل کیے اور اس کے بدلے انہیں کاروباری فائدے پہنچائے۔ مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس تحقیقات کے دوران نیتن یاہو نے اپنے اور اپنی اہلیہ کے نام پر تحائف لینے کا اعتراف کیا۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایک مبینہ ویڈیو بھی لیک ہوئی ہے جس میں نیتن یاہو کو انکوائری افسران کو دھمکاتے ہوئے دکھایا گیا ہے تاہم اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو نیتن یاہو کو وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے کے بعد قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور ممکنہ طور پر انہیں جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب نیتن یاہو یا ان کے دفتر کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اسرائیلی سیاست میں ایک بڑا بحران پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی سکیورٹی اور جنگی حالات سے گزر رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

فیفن کا سندھ میں معلومات تک رسائی کے قانون میں فوری اصلاحات کا مطالب

Published

on


غیر سرکاری تنظیم فیفن نے سندھ ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ جاری پالیسی بریف میں شفافیت کے وعدوں کو عملی شکل دینے پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں صوبائی اسمبلی، حکومت اور انفارمیشن کمیشن کو مشترکہ اقدامات کی تجویز دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں غلط معلومات کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے مؤثر قانون سازی ضروری ہے۔ فیفن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 19 اے کے باوجود قانون پر عملدرآمد کمزور ہے۔

رپورٹ کے مطابق سندھ کے 61 اداروں میں سے صرف 54 فیصد معلوماتی تقاضوں پر عملدرآمد کر رہے ہیں، جبکہ قانون میں مبہم تعریفیں اور رپورٹنگ کا مؤثر نظام نہ ہونا بڑی خامیاں ہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ آر ٹی آئی نظام میں ڈیجیٹلائزیشن کی کمی اور درخواستوں کی ٹریکنگ کا فقدان بھی مسائل میں شامل ہے۔

فیفن نے نشاندہی کی کہ انفارمیشن کمیشن کی خودمختاری اور مالی وسائل ناکافی ہیں، جبکہ مخبروں کے تحفظ کے لیے قانون میں ترامیم کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں انفارمیشن کمشنرز کی شفاف تعیناتی اور معلومات تک رسائی کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending