Connect with us

Today News

’گلیمر کوئن‘ کا جعلی اغوا بے نقاب، وائرل ہونے کی خواہش نے جیل پہنچا دیا

Published

on



سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کی دوڑ نے ایک برازیلین انفلوئنسر کو بڑی مشکل میں ڈال دیا۔ پولیس نے گلیمر ماڈل مونیکی فراگا کو ایک مبینہ جعلی اغوا کیس میں گرفتار کرلیا ہے، جس میں انہوں نے خود اور اپنے شوہر کے اغوا کی منصوبہ بندی کی تھی۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ سال اپریل میں پیش آیا، جب مونیکی نے ایک جذباتی ویڈیو شیئر کی تھی۔ ویڈیو میں وہ روتے ہوئے دعویٰ کر رہی تھیں کہ وہ اور ان کے شوہر لوکاس ایگاراسو گھر کے باہر موجود تھے کہ اچانک مسلح افراد نے حملہ کر کے انہیں اغوا کر لیا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ ملزمان نے انہیں سنسان جنگل میں لے جا کر یرغمال بنایا اور بھاری تاوان کا مطالبہ کیا۔

اپنی ویڈیو میں مونیکی نے کہا تھا کہ اغوا کاروں نے ان کے شوہر کو سونے کی چین کے لیے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ انہیں خود بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ مونیکی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے جنگل میں خوف کے عالم میں کئی گھنٹے گزارے اور انہیں اپنی جان کا شدید خطرہ لاحق تھا۔

تاہم پولیس تحقیقات کے دوران اس پوری کہانی کا رخ بدل گیا۔ تفتیشی افسر کلے اینڈرسن کے مطابق جیسے جیسے شواہد سامنے آئے، یہ انکشاف ہوا کہ یہ اغوا دراصل ایک منصوبہ بند ڈرامہ تھا، جس کا مقصد سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنا اور فالوورز میں اضافہ کرنا تھا۔

اس کیس کی تحقیقات کے لیے پولیس نے ’’اسموک اسکرین آف لائکس‘‘ نامی آپریشن شروع کیا، جس کے دوران درجنوں اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے گرفتاریاں کیں اور مختلف مقامات کی تلاشی لی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس سازش میں مونیکی کے علاوہ مزید افراد بھی شامل تھے۔

حیران کن بات یہ سامنے آئی کہ مونیکی کے شوہر لوکاس اس پورے منصوبے سے بے خبر تھے۔ انہیں واقعی اغوا کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور لوٹا گیا، جبکہ وہ اس سب کو حقیقی واقعہ سمجھتے رہے۔

پولیس کے مطابق مونیکی فراگا پر بلیک میلنگ، عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے اور ریاستی وسائل ضائع کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب ملزمہ اب بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ ان کا اغوا حقیقی تھا، جبکہ ان کے وکلاء بچوں کا حوالہ دے کر عدالت سے گھر میں نظر بندی کی درخواست کر رہے ہیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

چمن اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا

Published

on



کوئٹہ:

بلوچستان کے سرحدی شہر چمن اور اس کے گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔

کوئٹہ کے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3.1 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی تقریباً 14 کلومیٹر تھی۔

حکام کے مطابق زلزلے کا مرکز چمن سے تقریباً 120 کلومیٹر دور واقع تھا۔

زلزلے کے جھٹکے اگرچہ مختصر دورانیے کے تھے تاہم اچانک لرزش سے شہریوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے باعث کسی جانی یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم متعلقہ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

حیدرآباد، کھلے سیوریج ہولز خطرہ بن گئے، شہریوں کی جانیں داؤ پر لگ گئیں

Published

on



حیدرآباد:

شہر میں بغیر ڈھکن کے کھلے سیوریج ہولز شہریوں کے لیے سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں، جہاں آئے روز حادثات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد چوک روڈ پر ایک نوجوان کھلے سیوریج ہول میں گر گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق نوجوان مکمل طور پر گٹر میں ڈوب گیا تھا تاہم موقع پر موجود راہگیروں نے فوری طور پر اپنی مدد آپ کے تحت اسے باہر نکال لیا جس کے باعث اس کی جان بچ گئی۔

واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں نوجوان کو گٹر سے نکلنے کے بعد بھیگی حالت میں سڑک کنارے بیٹھا دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اس کے گرد شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہے۔

دوسری جانب اتوار کی دوپہر ٹنڈوجام کے علاقے میں بھی ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں 5 سالہ بچہ کھلے گٹر میں گر گیا۔

خوش قسمتی سے وہاں موجود افراد نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بانس کی مدد سے بچے کو باہر نکال لیا جس سے اس کی جان محفوظ رہی۔

شہریوں نے انتظامیہ کی غفلت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کھلے سیوریج ہولز کو فوری طور پر ڈھانپا جائے تاکہ مزید حادثات سے بچا جا سکے۔





Source link

Continue Reading

Today News

لبنان میں 4 اسرائیلی فوجی ہلاک، نیتن یاہو کا جنوبی لبنان میں کارروائیوں میں توسیع کا حکم

Published

on



اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے حزب اللہ کے راکٹ حملے روکنے کے لیے اپنی فوج کو جنوبی لبنان میں کارروائیوں میں مزید توسیع کا حکم دے دیا ہے جبکہ جھڑپوں میں 4 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی ناردرن کمانڈ سے جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ میں نے ہدایت دی ہے کہ موجودہ سیکیورٹی زون کو مزید وسیع کیا جائے تاکہ حملوں کے خطرے کو مکمل طور پر ناکام بنایا جا سکے اور اینٹی ٹینک میزائل فائر کو ہماری سرحد سے دور دھکیلا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اسرائیل کی شمالی سرحد پر سیکیورٹی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے اور ہم نے حزب اللہ کے ہزاروں جنگجوؤں کو ختم کیا اور سب سے بڑھ کر ایک لاکھ 50 ہزار میزائلوں اور راکٹوں کے بڑے خطرے کو بھی ختم کردیا جو اسرائیل کے شہروں کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ حزب اللہ کے پاس اب بھی اسرائیل پر حملوں کے لیے راکٹ فائر کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن شمال میں صورت حال کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ اور غزہ میں حماس سمیت ایران اور اس کے اتحادی گروپس کے خلاف کئی محاذوں پر کارروائیاں کر رہا ہے اور دعویٰ کیا کہ اسرائیلی اقدامات ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو کمزور کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے حملوں کے حوالےسے بتایا کہ جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران اس کے 4 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

قبل ازیں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اسرائیلی افواج باقی پلوں اور سیکیورٹی زون کو دریائے لیتانی تک کنٹرول میں لے لیں گی، جو اسرائیلی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال میں بحیرۂ روم سے جا ملتا ہے۔

کہا گیا تھا کہ وہ سرحد پر قائم اپنے بفر زون کو دریائے لیتانی تک توسیع دے رہا ہے تاہم یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ نیتن یاہو اسی علاقے کی طرف اشارہ کر رہے تھے یا مزید علاقے پر قبضے کی بات کر رہے تھے۔

دوسری جانب لبنان کی مسلح تحریک حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملے شروع کردیے گئے ہیں جبکہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملے جاری ہیں۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں لبنان میں ایک ہزار 100 سے زائد شہری شہید ہوئے ہیں، جن میں بچے، خواتین اور طبی عملہ بھی شامل ہیں۔

 



Source link

Continue Reading

Trending