Connect with us

Today News

کراچی؛ اے ٹی ایم مشین توڑ کر رقم نکالنے کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

Published

on



گلبہار کے علاقے میں نجی بینک کی اے ٹی ایم مشین توڑ کر کیش نکالنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ملزم گرفتار کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزم نے گلبہار کی حدود میں واقع نجی بینک کے اے ٹی ایم کو نقصان پہنچاتے ہوئے کیش نکالنے کی کوشش کی، جس دوران مشین کی اسکرین، دیگر حصوں اور کیش ڈراؤرز کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

گلبہار پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بینک اسٹاف کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش معلوم ہوا کہ ملزم سابقہ ریکارڈ یافتہ ہے اور اس سے قبل موٹر سائیکل لفٹنگ کے مقدمات میں بھی گرفتار ہو چکا ہے۔

مزید انکشاف ہوا کہ ملزم نے اے ٹی ایم مشین کو توڑنے کے لیے پتھر کا استعمال کیا۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کو مقدمہ درج ہونے کے بعد مزید تفتیش کے لیے تفتیشی افسر کے حوالے کر دیا گیا ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان مخالف بھارتی وزیر خارجہ کو وزارت کیسے ملی؟

Published

on


25مارچ2026 کو بھارتی وزیر خارجہ ، ڈاکٹر ایس جے شنکر، نے پاکستان کے خلاف جس بداخلاقی، بیہودگی اور یاوہ گوئی کا مظاہرہ کیا، اِس کے خلاف ردِ عمل پاکستان میں تو ہُوا ہی ہے ، بھارت میں بھی مہذب اور شائستہ مزاج انٹیلی جنشیا نے جئے شنکر کی سخت گوشمالی کی ہے ۔ اِس سے پہلے کہ ہم جے شنکر کے پاکستان مخالف بیہودہ بیان کا جائزہ لیں ، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے موصوف کے بارے معلوم کر لیا جائے کہ یہ ہیں کون ؟ تاکہ کالم کی تصویر مکمل ہو سکے ۔

جے شنکر دِلّی کے جَم پَل ہیں ۔ عمر70سال ۔ اُن کے والد ( کرشن سوامی سبرامینیم) سینئر سول سرونٹ تھے۔ ڈاکٹرجے شنکر بھارت کے لیے طویل عرصہ کے لیے وزیر خارجہ کی خدمات دینے والے اکلوتے وزیر ہیں ۔نئی دہلی کی ممتاز جامعہ ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ، سے عالمی تعلقات عامہ اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ سیاست بھی کرتے رہے۔ بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا (راجیہ سبھا) کے رکن ہیں ۔

پدماشری ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں ۔ بھارت کے نہ صرف سیکریٹری خارجہ رہے ہیں ، بلکہ کئی ممالک میں بھارت کے سفیر کی حیثیت میں خدمات بھی انجام دیں ۔ مثلاً:امریکا ، چین، چیکو سلواکیہ اور سنگا پور ۔متعصب ہندو مقتدر جماعت ’’بی جے پی‘‘ کے باقاعدہ رکن ہیں ۔ اعلیٰ سفارتی ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد بھارت کے سب سے بڑے صنعتکار ادارے کے عالمی پی آراو بھی رہے۔ موصوف عاشق مزاج بھی ثابت ہُوئے ہیں۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں پڑھتے تھے تو اپنی کلاس فیلو (شوبھا) سے آنکھیں لڑائیں ۔ پھر اُسی سے بیاہ بھی رچایا ۔ شوبھا کینسر سے آنجہانی ہُوئی تو موصوف بطور بھارتی سیکرٹری خارجہ جاپان گئے تو ایک ہوٹل میں ایک عام سی جاپانی خاتون(کیوکو سومی کوا) کو دل دے بیٹھے اوربعد ازاں اُس کے ساتھ سات پھیرے لے لیے ۔ دونوں بیویوں سے ٹوٹل تین بچے ہیں ۔

 نریندر مودی دوسری بار بھارتی وزیر اعظم بنے تو ڈاکٹر جے شنکر کو بھی دوسری بار بھارت کا وزیر خارجہ بنا دیا۔ وہ اب تک بی جے پی ، مودی اور بھارتی حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں ۔ جے شنکر وزیر خارجہ متعین کیے گئے تو ہمارا خیال تھا کہ اُن کے طویل اور وسیع ڈپلو میٹک کیرئیر کے کارن ہی اُنہیں بھارتی وزارتِ خارجہ کا قلمدان سونپا گیا ہوگا ۔ مگر اب یہ انکشاف ہُوا ہے کہ نہیں ، اُنہیں میرٹ پر وزیرِ خارجہ نہیں بنایا گیا بلکہ اُن کی ’’خدمات‘‘ کچھ اور ہی ہیں اور نرنیدر مودی کے لیے وہی ’’خدمات‘‘ جے شنکر کو بلند ترین ڈپلومیٹک عہدے پر فائز کرنے کا موجب بنی ہیں۔ یہ چشم کشا انکشاف بھارت کے سینئر سیاستدان و سابق مرکزی وزیر اور کئی کتابوں کے مصنف ( سبرامینین سوامی) نے کیا ہے۔

یہ انکشاف بھارت بھر کے لیے بم بن کر بھارتی سیاست اور مودی جی کی ذات اور شخصیت پر گرا ہے۔ واضح رہے سبرامینین سوامی کا تعلق ’’بی جے پی‘‘ سے بھی رہا ہے ، مگر اپنے آزاد منش ہونے کے سبب وہ بی جے پی کے زر خرید غلام بننے سے انکار کرتے ہیں ۔ 26مارچ2026کو ایک بھارتی صحافی کو انٹرویو دیتے ہُوئے سبرامینین سوامی نے یوں بم پھوڑا:’’ نریندر مودی جب گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو 9بار چین کے دَورے پر گئے ۔ کیا کرنے گئے ؟ واپس آکر کسی کو کچھ نہ بتایا۔اور جب مَیں سرکاری طور پر چین کے دَورے پر گیا تو مجھے کئی معتبر ذرائع نے بتایا کہ مودی جی تو وہاں اپنے ’’شوق و عیش‘‘ پورے کرنے گئے تھے ۔ اور مودی جی کے مذکورہ ’’شوق‘‘ پورے کرنے کا بندوبست یہ صاحب ( جے شنکر) کیا کرتے تھے ۔اِنہیں ( جے شنکر کو) جو مسلسل وزارتِ خارجہ کا قلمدان سونپا گیا ہے ، یہ در اصل اُنہی سابقہ ’’خدمات ‘‘ کا صلہ ہے ۔‘‘ سبرامینین سوامی نے اپنے انٹرویو میں جے شنکر کو ’’مسٹر420‘‘کا خطاب بھی دیا ہے ۔ یہ تہلکہ خیز انٹرویو ابھی تک یو ٹیوب پر پڑا ہے ۔ جسے شوق ہو ، خود ملاحظہ کر سکتا ہے ۔

اب جے شنکر نے پاکستان مخالف نہائت بیہودہ بیان دیا ہے ، دیکھا جائے تو یہ درحقیقت موصوف کے مذکورہ کردار کی چغلی کھاتا ہے ۔ ایران پر مسلّط کی گئی مہلک اسرائیلی و امریکی جنگ ( جسے شروع ہُوئے آج ایک ماہ ہو چلا ہے ) کو رکوانے یا ٹھنڈا کروانے یا فریقین میں صلح کروانے یا ثالثی کروانے کی کوششوں اور دوڑ دھوپ کے پس منظر میں پاکستان اورہمارے وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی دُنیا بھر میں تحسین و تعریف ہو رہی ہے ۔ اسلام آباد میں مبینہ طور پر ایران و امریکا کی صلح کروانے کے لیے عالمی مذاکراتی میز بچھانے کی بھی تیاریاں ہیں ۔29مارچ2026 کو اسلام آباد میں 4اسلامی ممالک ( پاکستان ، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ) کے وزرائے خارجہ کا جو اہم اجلاس ہُوا ہے، اِس سے بلند توقعات وابستہ کی گئی ہیں۔

بھارت ، بھارتی میڈیااور جے شنکر کو یہ مناظر دیکھ دیکھ کو بڑی تکلیف پہنچ رہی ہے ۔ جے شنکر سے بھارت بھر میں پوچھا جارہا ہے کہ پاکستان تو عالمی سفارتکار میں بازی لے گیا مگر تم اور تمہاری ڈپلومیسی کہاں ہے ؟ اِس بارے بھارتی کابینہ نے بھی بند کمرے میں جے شنکر سے ایک میٹنگ ( جس کی صدارت بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کررہے تھے) میں اُن کی ناکامیوں بارے استفسار کیا تو مبینہ طور پر جے شنکر نے چِڑ کر کہا:’’ انڈیا، پاکستان کی طرح بروکر (دلال) ملک نہیں بننا چاہتا جو دیگر ممالک کے پاس جا جا کر پوچھتا پھرے کہ اُنہیں اس کی خدمات کی ضرورت تو نہیں ہے؟‘‘۔

 عالمی مروجہ و محتاط سفارتی زبان کے برعکس بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے اِس بیہودہ بیان کا جواب تو ہمارے وزیر خارجہ ( اسحاق ڈار) کو دینا چاہیے تھا ، مگر وہ آج کل ایران ، اسرائیل و امریکی جنگ میں اتنے اُلجھے ہُوئے ہیں کہ اُن کی بجائے پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان، طاہر اندرابی، نے جواباً یوں کہا:’ ’ایسے غیر سفارتی بیانات گہری مایوسی اور جھنجھلاہٹ کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان اس قسم کی بیان بازی اور بھڑکیں مارنے پر یقین نہیں رکھتا۔ ہمارا طرزِ عمل تحمل، شائستگی اور وقار پر مبنی ہے نہ کہ محض بیان بازی پر۔‘‘ جے شنکر کی یاوہ گوئی اور بدتمیزی پر ہمارے وزیر دفاع کہاں خاموش ہونے والے تھے ؟ ؛چنانچہ خواجہ محمد آصف نے ردِ عمل میں کہا:’ ’جے شنکر خود کو ایک ’ہائی فائی دلال‘ سمجھتے ہیں۔

اُن کا یہ بیان اُن کی ذاتی جھنجھلاہٹ کی عکاسی کرتا ہے۔ماضی قریب میں یوکرین کی جنگ رکوانے کی بھارتی کوششوں کو جے شنکر کیا کہیں گے؟ وہاں تو جے شنکر صاحب پیشہ وَر دلال ثابت ہُوئے ۔‘‘ اِن بیانات سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاک بھارت تعلقات میں کس قدر تلخی پیدا ہو چکی ہے۔ پاکستان کے سابق وزیرِ خارجہ( جلیل عباس جیلانی) نے ایکس پر جے شنکر کی بیہودگی کا جواب دیتے ہُوئے کہا:’’ بھارتی وزیر خارجہ کا پاکستان مخالف غیر سنجیدہ بیان ایک بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے ۔‘‘ سابق وزیر، مرتضیٰ سولنگی، نے کہا : ’’حقیقت یہ ہے کہ جے شنکرمودی کے دلال ہیں اور مودی نیتن یاہو کے دلال ‘‘۔سابق گورنر سندھ( محمد زبیر) نے اپنے بیان میں کہا :’’میں نے کبھی کسی وزیرِ خارجہ کو اس قدر گری ہوئی بات کرتے دیکھا نہ سُنا۔‘‘

جیسا کہ ابتدا میں عرض کیا گیا تھا کہ بھارت میں بھی جے شنکر کی اِس یاوہ گوئی اور بدتمیزی کے خلاف سخت ردِ عمل آیا ہے ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اِسی ضمن میںکانگریس کے ترجمان ،جے رام رمیش، نے کہا:’’ ہمارے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ انڈیا کوئی دلال ملک نہیں ہے۔

سچ یہ ہے کہ ہماری (بھارتی) سفارت کاری، روابط، اور بیانئے کی تباہ کن ناکامیوں نے پاکستان کو اِس (بلند) مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔‘‘اور اِسی ضمن میں بھارتی خارجہ امور کی رپورٹنگ کرنے والی معروف صحافی (سوحاسنی حیدر، جو سابق بھارتی مرکزی وزیر سبرامینین کی بیٹی ہیں) نے بھی جے شنکر کی سفارتی آداب کی خلاف ورزی کرتے مذکورہ بیان پر اُن کی سخت گرفت کی ہے۔جے شنکر کے پاکستان مخالف دریدہ دہن بیان نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ بھارتی نیتاؤں ، انڈین اسٹیبلشمنٹ اور بھارتی میڈیا کو پاکستان کی کوئی چھوٹی سی کامیابی بھی ہضم نہیں ہوتی ۔بھارت نے آج کل افغانستان کے پردے میں پاک ایران تعلقات بگاڑنے کے لیے(سوشل میڈیا کے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے) جو مذموم مہمات جاری کررکھی ہیں ، وہ الگ سے قابلِ تشویش ہیں ۔





Source link

Continue Reading

Today News

اسرائیلی حکام نے پام سنڈے پر اعلیٰ عیسائی رہنما کو چرچ جانے سے روک دیا گیا

Published

on


اسرائیلی حکام نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے پام سنڈے کے موقع پر لاطینی کارڈینل کو مقدس چرچ میں داخل ہونے سے روک دیا جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لاطینی کارڈینل پیئر باتیستا پیزابالا پام سنڈے کی خصوصی عبادت میں شرکت کے لیے ہولی چرچ جا رہے تھے کہ اسرائیلی پولیس نے انہیں راستے میں روک لیا۔

ان کے ہمراہ کیتھولک چرچ کے سرپرست پادری فراسسکو لیلپو کو بھی چرچ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اس واقعے پر کیتھولک چرچ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے صدیوں میں پہلی بار پیش آنے والا واقعہ قرار دیا اور کہا کہ مذہبی قیادت کو عبادت سے روکنا اربوں مسیحیوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

ادھر اٹلی نے اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے روم میں اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا جبکہ ایمانوئل میکرون نے بھی مذمت کرتے ہوئے زور دیا کہ بیت المقدس میں تمام مذاہب کو بلا رکاوٹ عبادات کی آزادی دی جائے۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکا اسرائیل ،ایران جنگ کا مستقبل

Published

on


جرمنی کے صدر فرینک والٹر نے امریکا کی ایران جنگ کو تباہ کن سیاسی غلطی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ برلن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس سے با آسانی بچا جا سکتا تھا۔ اگر جنگ کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا تو یہ غیر ضروری جنگ ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے انقرہ کابینہ اجلاس میں کہا کہ اگرچہ یہ جنگ اسرائیل کی جنگ ہے لیکن اس کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ علاقائی امن اور انسانیت کی خاطر نیتن یاہو کی قیادت میں قتل عام کے نیٹ ورک کو فوری طور پر روکنا ہوگا۔ جس کے لیے ہر ملک کو دلیرانہ فعال موقف اختیار کرنا چاہیے۔ دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پز شکیان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان سمیت کئی ممالک کے عوام کی بیداری کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ پاکستان، ترکی، عراق، لبنان ، مصر اور عرب ممالک کے عوام امریکا ، اسرائیل اور ان کے جرائم کے خلاف ببانگ دہل نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

ایک امریکی پروفیسر نے بتایا کہ ہم امریکی کتنے شقی القلب ہیں کہ امریکا 1971سے لے کر 2021 تک 3 کروڑ 80 لاکھ انسانوں کو قتل کر چکا ہے۔ اس سے پہلے امریکا اپنے قیام سے لے کر اب تک مجموعی طور پر کروڑوں افراد کو قتل کر چکا ہے۔ ویت نام کی جنگ کوئی بہت دور کی بات نہیں۔ صرف اسی جنگ میں امریکا نے 33 لاکھ ویت نامیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اسرائیل کے قیام سے پہلے اور اس کے بعد ہزاروں فلسطینیوں کا قتل عام اپنی جگہ ہے۔ غزہ میں امریکی سرپرستی میں اسرائیل نے 80 ہزار سے زائد بے گناہ انسانوں کو قتل کیا جس میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہے۔ اس کے علاوہ زخمی سوا لاکھ سے زائد ہیں۔ امریکی سرپرستی میں آٹھ لاکھ انسان خلیج کی جنگ کا ایندھن بنے۔

اسرائیلی فوج اندر سے ٹوٹ رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ کی سنگین وارننگ جس میں سیکیورٹی کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ فوج اس وقت بڑے خطرات کا سامنا کر رہی ہے۔ جن میں سب سے اہم افرادی قوت میں کمی اور جنگ کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ میں دس لال جھنڈے کھڑے کر کے وارننگ دے رہا ہوں، میدان جنگ میں ریزرو فوجی لڑ نہیں پائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ریزرو فوجیوں سے متعلق قوانین میں ترمیم اور دیگر اقدامات نہ کیے گئے تو اسرائیلی فوج اندرونی طور پر ٹوٹ جائے گی۔ دوسری جانب سابق اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ اسرائیل کو بیس ہزار فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے۔ حکومت نے بغیر حکمت عملی کم وسائل اور کم فوجیوں کے ساتھ جنگ شروع کی۔

امریکی جریدے ٹائم کا کہنا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات اور سائنسدانوں پر حملوں کے باوجود تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایران اب مزید پرعزم ہو کر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی راہ اختیار کر سکتا ہے تا کہ وہ اپنے وجود کو محفوظ بنا سکے۔ امریکی سامراج کی غنڈہ گردی نے دنیا کے دیگر ممالک کو بھی ایسا ہی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اپنی آزادی خودمختاری اور بقا کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانا ناگزیر ہے۔

وینزویلا کی مثال ہمارے سامنے ہے جب صدر اور ان کی بیوی کو امریکا نے اغوا کیا کیونکہ امریکی صدر ٹرمپ صاحب فرماتے تھے کہ وینزویلا کا 80 فیصد تیل میں اپنی مرضی سے فروخت کرونگا جب کہ وینز ویلا کے پاس دنیا کے بہت بڑے تیل کے ذخائر ہیں۔ چند دن پیشتر ایرانی سلامتی کونسل کے ترجمان نے یہ بیان دیا ہے کہ ہم این پی ٹی سے نکلنے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ اس میں شمولیت سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ نقصان ہی ہوا ہے۔ خلیجی ملکوں میں تئیس امریکی فوجی اڈے ہیں جہاں امریکا اسرائیل کے بیک وقت 600 طیارے دن رات حملہ کرتے رہے ہیں۔

امریکا اسرائیل ایران جنگ پر پوری دنیا میں تجزیہ اور تبصرے ہو رہے ہیں۔ العربیہ ٹی وی کے پروگرام کی خاتون میزبان جس میں امریکی مصنف اور سینئر نیشنل سیکیورٹی ایڈیٹر برانڈن نے بتایا کہ اسرائیل اپنے ایرو انٹر سیپٹر ختم ہونے سے محض چند دن کے فاصلے پر ہے۔ برانڈن نے کہا کہ ایران نے ایک شاندار حکمت عملی دکھائی ہے۔ امریکا اسرائیل کو اتنا تھکا دینا کہ ان کے ذخائر ختم ہو جائیں اور امریکا داخلی، سیاسی، معاشی دباؤ کے تحت گھٹنے ٹیک دے۔ انھوں نے کہا کہ میں خود امریکا میں رہتا ہوں۔

حالات واقعی خراب ہو رہے ہیں۔ برطانوی ادارہ رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ جس کے صدر نے تین ہفتے پہلے مجھے احمق کہا تھا ۔ اب وہی میری باتیں تصدیق کر رہے ہیں جو میں نے کہی تھیں۔ اسرائیل محض چند دنوں کے فاصلے پر ہے اپنے انٹرو سیپٹر ختم کرنے میں اور امریکا نے بھی اپنے تھاڈ ذخائر کا چالیس فیصد استعمال کر لیا ہے اور صرف تین ہفتے کا اسٹاک باقی ہے۔ اگر جنگ کی رفتار بڑھی تو یہ مزید جلد ختم ہو جائیں گے۔

ایرانی حکمت عملی دھیرے دھیرے تھکا دینا شروع سے ہی تھی۔ اور ہم نے ان کے میزائل ذخائر کو قلیل اور کم سمجھا تھا ۔ جس کی قیمت اب ادا کر رہے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ نہ ٹرمپ نہ ایران نہ اسرائیل کوئی بھی سنجیدہ مذاکرات کے موڈ میں نہیں۔ لہذا ہم مزید خطرناک سطح پر جا رہے ہیں اور شائد امریکا کو آبنائے ہرمز میں ’’گیلی پولی‘‘ جیسا منظر دوبارہ دیکھنا پڑے۔ یہ اچھا انجام نہیں ہوگا۔ چند دن پیشتر امریکا میں ڈھائی لاکھ افراد نے صدر ٹرمپ کی امپیچمنٹ کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکا اسرائیل ایران جنگ کا مستقبل کیا ہے؟ اس کا پتا 2 اپریل سے 8 سے 12 اپریل کے درمیان چلے گا۔





Source link

Continue Reading

Trending