Connect with us

Today News

پاکستانی صحافی سے ملاقات پر بھارتی گلوکار کو انڈین آئیڈل سے نکالنے کا مطالبہ

Published

on



بھارتی گلوکار اور میوزک کمپوزر وشال دادلانی ایک پاکستانی صحافی سے ملاقات کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور بائیکاٹ مہم کا سامنا کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو لندن میں ریکارڈ کی گئی، جہاں وشال دادلانی کو پاکستانی صحافی صفینہ خان کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کرتے دیکھا گیا۔ ویڈیو سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی اور متعدد بھارتی صارفین نے اس ملاقات پر سخت ردعمل دیا۔

بھارتی صارفین نے نہ صرف وشال دادلانی کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ انہیں گلوکاری کے ریئلٹی شو انڈین آئیڈل سے نکالنے کا مطالبہ بھی کیا۔ کچھ افراد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر مہم چلاتے ہوئے شو کے بائیکاٹ کی اپیل بھی کی۔

سوشل میڈیا پر مختلف تبصروں میں بعض صارفین نے سخت زبان استعمال کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وشال دادلانی کا یہ اقدام قابلِ اعتراض ہے، جبکہ کچھ نے ناظرین سے مطالبہ کیا کہ ایسے پروگرامز دیکھنا بند کر دیے جائیں۔

یہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب مذکورہ صحافی کے بارے میں متنازع خیالات سے متعلق دعوے بھی زیر بحث آئے، جس کے باعث اس ویڈیو کو وسیع پیمانے پر شیئر کیا گیا اور مختلف آراء سامنے آئیں۔

اب تک وشال دادلانی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی، جس کے باعث سوشل میڈیا پر بحث کا سلسلہ جاری ہے۔

 

 

 

 

View this post on Instagram

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

قومی فٹبال ٹیم مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اترنے کو تیار

Published

on



پاکستان فٹبال ٹیم کے کھلاڑی محب اللہ اور وقار نے میانمار کے خلاف شیڈول اہم میچ سے قبل بھرپور خوداعتمادی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی ٹیم پہلے سے کہیں زیادہ بہتر تیاری اور ہم آہنگی کے ساتھ میدان میں اترنے کے لیے تیار ہے۔

 میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وقار کا کہنا تھا کہ اس بار ٹیم کی تیاری ماضی کے مقابلے میں زیادہ جامع اور مؤثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں پر مکمل یقین ہے اور امید ہے کہ ٹیم شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے فتح حاصل کرے گی۔

دوسری جانب محب اللہ کا کہنا تھا کہ کوشش ہوگی کہ ماضی کے مقابلے میں مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔ٹیم میں پائی جانے والی اس امید کی بڑی وجہ وہ تربیتی کیمپ ہے جس میں کھیل کے تمام شعبوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ محب اللہ نے ٹیم کی پیشرفت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کھلاڑیوں نے کوچنگ اسٹاف کے وضع کردہ پلان پر مثبت ردعمل دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تیاری بہت اچھے انداز میں جاری ہے اور تمام لڑکے بہترین رسپانس دے رہے ہیں جو کیمپ کے اندر ایک پرعزم ماحول کی نشاندہی کرتا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حال ہی میں مضبوط حریفوں کے خلاف کھیلے گئے میچز نے ٹیم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

 محب اللہ کے مطابق مسلسل تجربے اور کھیل کے میدان میں گزارے گئے وقت نے کھلاڑیوں کے درمیان تال میل اور سمجھ بوجھ کو بہتر بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر کیمپ کے ساتھ ہم میں بہتری آرہی ہے، ہمیں کھیل کا اچھا تجربہ مل رہا ہےاور ٹیم میانمار کے خلاف اپنے معیار کو مزید بلند کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس تبدیلی میں ہیڈ کوچ شہزاد انور سولانو کا کردار مرکزی رہا ہے۔ وقار نے کوچ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹیم میں پیشہ ورانہ مہارت اور اظہارِ رائے کی آزادی کا ایک متوازن امتزاج پیدا کیا ہے۔

وقار نے بتایا کہ وہ ہمیں ایک دوستانہ اور پرسکون ماحول دے رہے ہیں اور ہمیں کھیل سے لطف اندوز ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوچ کا مقامی ٹیلنٹ پر بھروسہ کرنے کا فیصلہ ٹیم میں نئی توانائی لے آیا ہے اور مقامی مقابلوں سے منتخب ہونے والے کھلاڑیوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کے اس موقع کو بھرپور طریقے سے اپنایا ہے۔

وقار نے تربیتی معیار کو بھی سراہا۔ ان کے بقول مشقوں کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ اس سے کھلاڑیوں کے تادیبی نظم و نسق اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ فٹنس کے حوالے سے ٹرینر رایان عباسی کے کردار کو سراہتے ہوئے وقار نے سکواڈ کی موجودہ حالت کو شاندار قرار دیا۔ کئی سینئر اور غیر ملکی (اوورسیز) کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کے باوجود محب اللہ نے اسکواڈ کی کیمسٹری پر اعتماد کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کھلاڑی پہلے بھی ساتھ کھیل چکے ہیں جس سے ٹیم میں تسلسل برقرار ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں نے بھی سسٹم کے ساتھ جلد ہم آہنگی پیدا کر لی ہے۔ محب اللہ نے شائقین کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خالی اسٹیڈیم میں کھیلنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ فٹ بال شائقین کے جوش و خروش کا کھیل ہے تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ ٹیم میدان میں اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم ہے۔

وقار نے شام اور افغانستان جیسی مسابقتی ٹیموں کے خلاف پاکستان کی حالیہ کارکردگی کو حوصلہ افزا قرار دیا اور اس امید ظاہر کی کہ اس بار ہماری تیاری مزید بہتر ہے اور ہم یہ میچ جیتنے کی پوری کوشش کریں گے۔



Source link

Continue Reading

Today News

ایران میں اسرائیلی حملے میں پاکستانی شہری شہید، اہل خانہ جسد خاکی کے منتظر

Published

on



ایران کی بندرگاہ چابہار پر اسرائیلی حملے میں کراچی سے تعلق رکھنے والے شہری یاسر خان شہید ہوگئے جن کا جسد خاکی تاحال وطن واپس نہ پہنچ سکا، شہید نوجوان کے اہل خانہ اپنے پیارے کے آخری دیدار کے منتظر ہیں۔

کراچی کے ضلع کیماڑی کے علاقے ماڑی پور میں واقع یونس آباد کا شہری یاسر خان نے 6 ماہ قبل ایران کی چابہار بندررگاہ پر ملازمت حاصل کی تھی جہاں وہ ڈک بوٹ پر فرائض انجام دے رہا تھے لیکن گزشتہ ماہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر شروع کیے گئے حملوں کے دوران ایران کی چابہار بندرگاہ پر ایک میزائل کی زد میں آ کر شہید ہوگئے۔

شہید کے بھائی واجد خان نے بتایا کہ 23 مارچ کو ہونے والے میزائل حملے کی اطلاع 24 مارچ کو یاسر خان کے ساتھ بندرگاہ پر کام کرنے والے کراچی کے علاقے بنارس کے رہائشی سبحان اللہ نے دی جو خود اس میزائل حملے میں زخمی ہوئے ہیں، اور ایران کے اسپتال میں زیر علاج تھے۔

انہوں نے بتایا کہ میرا بھائی یاسر خان اور سبحان اللہ دونوں روم میٹ تھے، 24 مارچ کی رات رات لگ بھگ ڈھائی سے تین بجے کا وقت سبحان  نے ہمیں ایران کے نمبر سے فون کیا، ہماری ایک منٹ کی بات ہوئی جس میں انہوں نے بتایا کہ یاسر شہید ہوگیا ہے جبکہ میزائل حملے کے وقت کشتی پر موجود دیگر تمام افراد ڈوب گئے تھے جن کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

یاسر کے حوالے ان کے بھائی نے مزید بتایا کہ یاسر کا ڈیک پر صفائی کا کام تھا جس کے تمام کورس یاسر نے کر رکھے تھے، اپنا 9 ماہ کا کنٹریکٹ پورا کرنے کے بعد یاسر کو واپس کراچی آنا تھا اور یہ کنٹریکٹ ختم ہونے میں صرف 3 ماہ باقی رہ گئے تھے۔

واجد نے بتایا کہ جنگی حالات کے دوران بھائی سے رابطہ نہیں ہوا تھا ایجنٹ کے پاس بھی گئے لیکن موبائل نیٹ ورکس نہیں ہونے کے باعث چابہار بندرگاہ پر ایجنٹ کا بھی کسی سے رابطہ نہیں ہوسکا، جب بھائی کے دوست سبحان سے رابطہ ہوا تو اس نے بتایا کہ ہمارے بھائی یاسر کی لاش پانی کے اندر چار دن تک رہی، جس کے بعد لاش ملنے پر ان کی شناخت عمل میں آسکی۔

یاسر کے بھائی نے مزید بتایا کہ جنگی حالات کے دوران آخری بار رمضان المبارک میں ان کی اپنے بھائی سے ویڈیو کال پر بات ہوئی تھی، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ ایران میں جنگی حالات ہیں اور مجھے یہاں سے نکالنے کے لیے انتظامات کریں، جس کے بعد میں ہم نے بہت جتن کیے، ایجنٹ کے علاوہ دیگر اداروں تک بھی رسائی کی کوشش کی لیکن کہیں سے کوئی مدد نہیں ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کے مالک انصر اور ایجنٹ نے بھی کوئی مدد فراہم نہیں کی، نیٹ ورک کے مسائل کے باعث رابطہ بھی نہیں ہوپایا۔

انہوں نے بتایا کہ میزائل حملے کا نشانہ بننے والی ڈک بوٹ پر دو پاکستانی موجود تھے جن میں سے ایک میرا بھائی یاسر اور دوسرا سبحان ہے جو تاحال ایران میں زخمی حالت میں موجود ہے۔

ایکسپریس نیوز کو یاسر کے دوست معصوم علی نے بتایا کہ یاسر انتہائی خوش اخلاق اور خوش شکل انسان تھا، جو ایران اپنے بچے اور اہلیہ کے اچھے مستقبل کے لیے گیا تھا، یاسر کا کوئی دن اپنے والدین سے بات کیے بغیر نہیں گزرتا تھا، یاسر کی شہادت کے بعد اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ گیا ہے۔

یاسر کی شہادت کے بعد یاسر کی بیوہ اور معصوم بچے امداد کے منتظر ہیں، اہل خانہ نے حکومت پاکستان، صدر پاکستان، حکومت سندھ، وزیر اعلی سندھ سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے بیوی اور بچے کی دادرسی اور مدد کی درخواست کی ہے کہ بیوہ اور بچے کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

یاسر خان کے بھائی واجد نے بتایا کہ دیگر بھائی اور رشتے دار تفتان بارڈر پہنچ گئے ہیں، بھائی یاسر کی میت لانے کے لیے وہاں قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی اور اس حوالے سے میت کی جلد حوالگی کے لیے ایرانی حکام سے رابطہ بھی کیا جارہا ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ تفتان بارڈر پر ہمارا کیمپ قائم ہے اور رضاکار موجود ہیں، یاسر کی میت بارڈر سے کراچی منتقل کرنے کے لیے ہمارے انتظامات مکمل ہیں اس حوالے سے یاسر کے ورثا سے بھی رابطہ کرلیا گیا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

امریکا-ایران کا پاکستان پر اعمتاد، آنے والے دنوں میں مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہیں، اسحاق ڈار

Published

on



نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خطے میں جاری تنازع کے خاتمے اور امن کے لیے پاکستان بھرپور اقدامات کر رہا ہے اور آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، جس کے لیے دونوں ممالک نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے چار فریقی اجلاس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب، ترکیے اورمصر کے وزرائے خارجہ اسلام آباد میں موجود ہیں اور تینوں وزرائے خارجہ سے دو طرفہ تعمیری ملاقاتیں ہوئی اور تینوں وزرائے خارجہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ وزرائے خارجہ کے دورے کا مقصد پاکستان، سعودی عرب، ترکیے اور مصر کے درمیان مشاورت کا دوسرا اجلاس تھا جو آج اسلام آباد میں ہوا، ہماری پہلی ملاقات 19 مارچ 2026 کو ہوئی تھی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ آج چاروں وزرائے خارجہ کے اجلاس میں خطے کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور خطے میں فوری طور پر امن قائم کرنے کے طریقوں اور جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ طریقوں پر بھی بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزرائے خارجہ نے تشویش کا اظہار کیا کہ جاری تنازع بدترین اثرات کی وجہ سے انتہائی افسوس ناک ہے، جس کے پورے خطے پر جانی اور مالی اثرات پڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اتفاق کیا کہ یہ جنگ کسی کے حق میں نہیں ہے، جو صرف تباہی اور نقصان کا باعث ہے اور اس امتحان کے وقت میں مسلم امہ کے درمیان اتحاد انتہائی ضروری ہے۔

نائب وزیراعظم نے بتایا کہ میں نے دورے پر آئے ہوئے وزرائے خارجہ کو ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے آگاہ کیا اور انہوں نے اس اقدام کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا اور انہوں نے صورت حال کو بہتر کرنے، عسکری کشیدگی روکنے اور متعلقہ فریقین کے درمیان سودمند مذاکرات کے لیے ماحول پیدا کرنے کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ وزرائے خارجہ نے حمایت کی کہ مذاکرات اور سفارت کاری تنازع کو روکنے اور خطے میں امن و بھائی چارے کے لیے واحد راستہ ہے اور ہم نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے تحت تمام ریاستوں کی خود مختاری اور سرحدی سالمیت کا احترام کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزرائے خارجہ چاروں برادر ممالک کے درمیان باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے مختلف امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان اپنے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور پاکستان کی امن کی کوششوں کے لیے تعاون پر سعودی عرب، ترکیے اور مصر کے وزرائے خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہم اس تنازع کے خاتمے کے مقصد کے لیے تمام تر کوششوں اور اقدامات کے ساتھ بدستور سرگرم عمل رہے ہیں، پاکستان کے امریکا کے ساتھ بھی انتہائی اہم تعلقات ہیں، ہم امریکی قیادت کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں جو کشیدگی کے خاتمے اور اس کے پرامن حل کے لیے ہمارے اقدامات کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس حوالے سے خوشی ہے کہ ایران اور امریکا دونوں نے پاکستان پر اعتماد کیا کہ مذاکرات کے لیے ثالثی کرے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان آنے والے دنوں میں دونوں فریقین کے درمیان جاری تنازع کے جامع اور پائیدار حل کے لیے فیصلہ کن مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین کے وزیرخارجہ وانگ یی کے ساتھ بھی تفصیلی بات ہوئی ہے اور چین بھی ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی میزبان کے پاکستانی اقدام کی مکمل حمایت کرتا ہے، اسی طرح اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے بھی تفصیلی بات ہوئی ہے اور انہوں نے بھی امن کے لیے کیے جانے والے پاکستانی اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے دنیا کے دیگر کئی ممالک کے ہم منصبوں سے ٹیلی فون پر بات کی ہے جنہوں نے ہمارے اقدامات کی مکمل حمایت اور اعتماد کا اظہار کیا ہے، ہم اپنی کوششیں دیانت داری اور بھرپور عزم کے ساتھ جاری رکھیں گے، جس کے لیے پاکستان کو پوری عالمی  برادری کا تعاون درکار ہے تاکہ امن اور مستقل طور پر اس جنگ کا مکمل خاتمہ ہو۔



Source link

Continue Reading

Trending