Connect with us

Today News

ایرانی حملوں کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنا مہنگا پڑ گیا، امارات میں 70 برطانوی شہری گرفتار

Published

on


ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں حکام نے ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں سے ہونے والے نقصانات کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنے کے الزام میں برطانیہ کے 70 شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار افراد میں سیاح، یو اے ای میں مقیم برطانوی شہری اور فضائی عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔ بعض افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے، تاہم ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے ہیں تاکہ وہ ملک چھوڑ کر نہ جا سکیں۔

رپورٹس کے مطابق اماراتی قوانین کے تحت حساس نوعیت کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنا ہی نہیں بلکہ بعض صورتوں میں انہیں وصول کرنا بھی جرم شمار ہوتا ہے۔ ایسے جرائم پر 10 سال تک قید اور 2 لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

حکام کے مطابق یہ اقدام قومی سلامتی اور حساس معلومات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں ایران کے ساتھ کشیدگی عروج پر ہے۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ جنگ سے قبل تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار برطانوی شہری دبئی میں مقیم تھے، تاہم ایران کے ساتھ تنازع شروع ہونے کے بعد ان میں سے بڑی تعداد واپس برطانیہ جا چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ گرفتاریاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جنگی حالات میں خلیجی ممالک سیکیورٹی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کر رہے ہیں، اور سوشل میڈیا پر مواد شیئر کرنے کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سندھ پولیس کی کراچی پریس کلب کے باہر کارروائی، قوم پرست سیاسی جماعت کے 6 رہنما زیر حراست

Published

on


ساوتھ پولیس نے کراچی پریس کلب کے باہر سے جئے سندھ قومی محاذ بشیر قریشی گروپ کے 6 رہنمائوں کو حراست میں لے لیا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ ریڈ زون دفعہ 144 نافذ ہے اور حالات کے سبب سیکیورٹی الرٹ ہے۔پولیس کو اطلاع ملی کہ جئے سندھ قومی محاذ کوئی اجتماع منعقد کرنے جارہی ہے اور اس سے امن کی صورتحال خراب ہونے کے خدشات تھے۔

پولیس نے اس لیے کراچی پریس کلب کے باہر سیکورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔پولیس نے پریس کلب آنے والے جسقم بشیر قریشی گروپ  کے 6 رہنمائوں کو حراست میں لے کرقریبی تھانہ منتقل کیا۔

حراست میں لیے گئے رہنمائوں میں ڈاکٹر نیاز کالانی۔ غلام مرتضی ۔ چا کر خان ۔کاشف اللہ بچایو۔آصف بالادی اور پہنل ساریو شامل ہیں۔پولیس کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد کے حوالے سے مذید کوئی فیصلہ قانون کے مطابق ہوگا۔

جسقم بشیر قریشی گروپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جئے سندھ قومی محاذ بشیر قریشی گروپ میں قوم پرست آْصف بالادی شمولیت کا اعلان کرنے والے تھے۔اس لیے  کراچی پریس کلب میں منعقد کرنی تھی ۔تاہم پولیس نے پریس کلب کا گھیرائو کرکے  کلب آنے والے تمام رہنمائوں کو باہر سے حراست میں لے لیا۔

انہوں نے ان گرفتاریوں کی مذمت کی اور کہا کہ یہ عمل جمہوریت کے خلاف ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی میں حوالہ ہنڈی کے خلاف کریک ڈاؤن، ملزم گرفتار

Published

on


حوالہ ہنڈی کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے جس میں ایف آئی اے سی سی سی کراچی کی کارروائی میں ایک ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کارروائی ڈائریکٹر کراچی زون کی ہدایات اور ڈپٹی ڈائریکٹر کی نگرانی میں کی گئی، انکوائری نمبر 17/2026 کی بنیاد پر چھاپہ مارا گیا۔

کارروائی ایم اے جناح روڈ نزد گل پلازہ کراچی میں کی گئی، ملزم محمد ثاقب سلیم ولد محمد سلیم کو گرفتار کیا گیا جس کے قبضے سے 2 کروڑ روپے نقدی برآمد ہوئی۔

ایک موبائل فون بھی برآمد ہوا۔ موبائل فون میں حوالہ ہنڈی سے متعلق واٹس ایپ چیٹس موجود تھیں۔ تمام برآمد شدہ رقم اور شواہد کو قانونی تقاضوں کے مطابق تحویل میں لے لیا گیا۔

ملزم کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ (FERA) کے تحت مقدمہ درج کیا جا رہا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران جنگ پورے خطے کو طویل بحران میں دھکیل سکتی ہے، سربراہ ترک انٹیلی جنس سروس

Published

on


انقرہ: ترکیہ کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ابراہیم قالن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ ایک طویل اور خطرناک علاقائی تنازع کی بنیاد رکھ رہی ہے، جو کئی دہائیوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

اپنے ایک خطاب میں ابراہیم قالن کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال صرف ایک محدود جنگ نہیں بلکہ پورے خطے کو ایک بڑے اور دیرپا بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے اثرات صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے نتائج عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔

انہوں نے قیامِ امن کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترکیہ پاکستان کی سفارتی کوششوں اور مذاکراتی اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتکاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔

ابراہیم قالن نے واضح کیا کہ اگرچہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملے ناقابل قبول ہیں، لیکن اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس جنگ کا آغاز کس نے کیا۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچائیں۔

ترک انٹیلی جنس سربراہ نے مزید کہا کہ یہ جنگ ترکیہ، کرد، عرب اور فارسی اقوام کے درمیان طویل المدتی تقسیم کا سبب بن سکتی ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ جائے گا۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف ماضی میں ہونے والی محدود جنگیں دراصل موجودہ بڑے تصادم کی تیاری کا حصہ تھیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ جاری رہی تو لبنان، شام، فلسطین اور دیگر علاقوں میں نئے جغرافیائی اور سیاسی حقائق جنم لے سکتے ہیں، جبکہ اس تنازع کی قیمت پوری دنیا کو چکانا پڑ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ابراہیم قالن کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، اور فوری سفارتی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending