Today News
Indian cricketer Hardik Pandya gifted his girlfriend a valuable Mercedes car
بھارتی کرکٹر ہاردک پانڈیا ایک بار پھر اپنی ذاتی زندگی اور لگژری طرزِ زندگی کے باعث خبروں میں آ گئے ہیں، انہوں نے اپنی گرل فرینڈ مہیکا شرما کو قیمتی مرسڈیز گاڑی تحفے میں دے دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہاردک پانڈیا نے مہیکا شرما کو مرسڈیز بینز وی کلاس (Mercedes-Benz V-Class) گاڑی تحفے میں دی جس کی قیمت تقریباً 1.7 کروڑ بھارتی روپے بتائی جا رہی ہے۔
Hardik Pandya gifted India’s first Mercedes-Benz V-Class to his girlfriend Mahieka sharma today, and its price is around ₹1.7 crore.🫡 pic.twitter.com/JXdn6dD5Jk
— 𝐑𝐮𝐬𝐡𝐢𝐢𝐢⁴⁵ (@rushiii_12) March 29, 2026
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں دونوں کو شو روم میں نئی گاڑی وصول کرتے دیکھا جا سکتا ہے جس کے بعد یہ خبر تیزی سے پھلنے لگی اور یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی جب ہاردک پانڈیا انڈین پریمیئر لیگ میں ممبئی انڈینز کی قیادت کے لیے میدان میں اترنے والے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ہاردک پانڈیا لگژری گاڑیوں کے شوقین ہیں اور ان کے پاس پہلے ہی کئی مہنگی گاڑیاں موجود ہیں جن میں رولز رائس، لیمبورگینی اور آڈی جیسے برانڈز کی گاڑیاں شامل ہیں جبکہ حال ہی میں انہوں نے ایک مہنگی فیراری بھی خریدی تھی۔
اس مہنگے تحفے پر سوشل میڈیا صارفین کی رائے منقسم نظر آئی جہاں کچھ مداحوں نے اسے محبت کا اظہار قرار دیا، وہیں بعض افراد نے اسے غیر ضروری خرچ بھی کہا۔
واضح رہے کہ ہاردک پانڈیا اور مہیکا شرما گزشتہ کچھ عرصے سے اپنی دوستی اور مشترکہ عوامی تقریبات کے باعث خبروں میں ہیں۔
Today News
ایران کے اسرائیلی شہروں پر حملے، کیمیکل پلانٹ سمیت اہم تنصبیات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کی 86 ویں لہر کے دوران خطے کے مختلف مقامات پر امریکی اور اسرائیلی فضائی اور ڈرون انفرا اسٹرکچر اور ان کی افواج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ آپریشن وعدہ صادق 4" کی 86ویں لہر اتوار کی علی الصبح کئی مراحل پر مشتمل انداز میں شروع کی گئی، جس میں پاسداران کی ایرو اسپیس فورس اور بحریہ کی جانب سے مربوط میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جن کا ہدف خطے میں امریکی اور اسرائیلی تنصیبات تھیں۔
بیان میں کہا گیا کہ آپریشن کے پہلے مرحلے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے امریکی اڈوں پر فضائی اور ڈرون آپریشنل انفرا اسٹرکچر اور اسلحے کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا، جن میں وکٹوریہ، عریفجان اور الخرج شامل ہیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس دوران امریکی اور اسرائیلی افواج کے مبینہ ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ کوملہ گروپ سے وابستہ عناصر کو بھی مختلف علاقوں میں نشانہ بنایا گیا، جن میں اراد، نقب (نیگیو)، تل ابیب، اربیل، امریکی پانچویں بحری بیڑا اور الظفرہ شامل ہیں۔
غیرملکی میڈیا نے رپورٹس میں بتایا کہ ایرانی میزائل حملے میں جنوبی اسرائیل میں ایڈاما کیمیکلز پلانٹ متاثر ہوا ہے، اسی طرح جنوبی اسرائیل میں قائم ماختشیم پلانٹ بھی ایرانی میزائل سے متاثر ہوا ہے تاہم کوئی جانی نقصان کی رپورٹ نہیں ملی ہے۔
اسرائیل کی فائر اور ریسکیو سروس نے کہا کہ جنوبی اسرائیل کے صنعتی علاقے میں آگ لگی ہے، جہاں متعدد کیمیائی اور صنعتی پلانٹس موجود ہیں اور یہ ممکنہ طور پر ایرانی میزائل یا روکے گئے میزائل کے ملبے کی وجہ سے پیش آیا۔
اسرائیلی فائر بریگیڈ نے عوام سے کہا کہ وہ نیوٹ ہوواب صنعتی علاقے سے دور رہیں کیونکہ وہاں خطرناک مواد موجود ہے جبکہ 34 فائر فائٹنگ ٹیمیں آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں تاہم صنعتی علاقے سے 800 میٹر کے فاصلے یا اس دور عوام کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پلانٹ کے قریب مقیم شہریوں کو ہدایت دی جاتی ہیں کہ وہ اندر رہیں، کھڑکیاں اور وینٹیلیشن بند کریں اور سیکیورٹی اور ایمرجنسی فورسز کی ہدایات پر عمل کریں جب تک واقعے پر مکمل قابو نہیں پایا جاتا۔
اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ صنعتی زون میں اثر ممکنہ طور پر میزائل کے ملبے کی وجہ سے ہوا، اس کے فوراً بعد ایران کی جانب سے نئے حملوں کا پتا چلا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ میزائل کے ملبے کا اثر ہےجبکہ اسرائیلی ٹی وی چینلز نے جنوبی اسرائیل کے رامات ہوواب صنعتی زون سے بلند سیاہ دھوئیں کی تصاویر دکھائیں۔ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
فوج نے بتایا کہ اتوار کو ایران کی جانب سے پانچ لہروں پر مشتمل میزائل حملوں کا علم ہوا ہے اور ہر بار دفاعی نظام خطرے کو ناکارہ بنانے کے لیے فعال ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایران نے جنوبی اسرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں اور دو میزائل روکے گئے جبکہ تیسرا کھلی جگہ پر گر گیا، ایک اور رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیل بھر میں 40 بار سائرن بجے ہیں۔
Source link
Today News
قومی فٹبال ٹیم مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اترنے کو تیار
پاکستان فٹبال ٹیم کے کھلاڑی محب اللہ اور وقار نے میانمار کے خلاف شیڈول اہم میچ سے قبل بھرپور خوداعتمادی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی ٹیم پہلے سے کہیں زیادہ بہتر تیاری اور ہم آہنگی کے ساتھ میدان میں اترنے کے لیے تیار ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وقار کا کہنا تھا کہ اس بار ٹیم کی تیاری ماضی کے مقابلے میں زیادہ جامع اور مؤثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں پر مکمل یقین ہے اور امید ہے کہ ٹیم شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے فتح حاصل کرے گی۔
دوسری جانب محب اللہ کا کہنا تھا کہ کوشش ہوگی کہ ماضی کے مقابلے میں مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔ٹیم میں پائی جانے والی اس امید کی بڑی وجہ وہ تربیتی کیمپ ہے جس میں کھیل کے تمام شعبوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ محب اللہ نے ٹیم کی پیشرفت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کھلاڑیوں نے کوچنگ اسٹاف کے وضع کردہ پلان پر مثبت ردعمل دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تیاری بہت اچھے انداز میں جاری ہے اور تمام لڑکے بہترین رسپانس دے رہے ہیں جو کیمپ کے اندر ایک پرعزم ماحول کی نشاندہی کرتا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حال ہی میں مضبوط حریفوں کے خلاف کھیلے گئے میچز نے ٹیم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
محب اللہ کے مطابق مسلسل تجربے اور کھیل کے میدان میں گزارے گئے وقت نے کھلاڑیوں کے درمیان تال میل اور سمجھ بوجھ کو بہتر بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر کیمپ کے ساتھ ہم میں بہتری آرہی ہے، ہمیں کھیل کا اچھا تجربہ مل رہا ہےاور ٹیم میانمار کے خلاف اپنے معیار کو مزید بلند کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس تبدیلی میں ہیڈ کوچ شہزاد انور سولانو کا کردار مرکزی رہا ہے۔ وقار نے کوچ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹیم میں پیشہ ورانہ مہارت اور اظہارِ رائے کی آزادی کا ایک متوازن امتزاج پیدا کیا ہے۔
وقار نے بتایا کہ وہ ہمیں ایک دوستانہ اور پرسکون ماحول دے رہے ہیں اور ہمیں کھیل سے لطف اندوز ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوچ کا مقامی ٹیلنٹ پر بھروسہ کرنے کا فیصلہ ٹیم میں نئی توانائی لے آیا ہے اور مقامی مقابلوں سے منتخب ہونے والے کھلاڑیوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کے اس موقع کو بھرپور طریقے سے اپنایا ہے۔
وقار نے تربیتی معیار کو بھی سراہا۔ ان کے بقول مشقوں کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ اس سے کھلاڑیوں کے تادیبی نظم و نسق اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ فٹنس کے حوالے سے ٹرینر رایان عباسی کے کردار کو سراہتے ہوئے وقار نے سکواڈ کی موجودہ حالت کو شاندار قرار دیا۔ کئی سینئر اور غیر ملکی (اوورسیز) کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کے باوجود محب اللہ نے اسکواڈ کی کیمسٹری پر اعتماد کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کھلاڑی پہلے بھی ساتھ کھیل چکے ہیں جس سے ٹیم میں تسلسل برقرار ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں نے بھی سسٹم کے ساتھ جلد ہم آہنگی پیدا کر لی ہے۔ محب اللہ نے شائقین کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خالی اسٹیڈیم میں کھیلنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ فٹ بال شائقین کے جوش و خروش کا کھیل ہے تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ ٹیم میدان میں اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم ہے۔
وقار نے شام اور افغانستان جیسی مسابقتی ٹیموں کے خلاف پاکستان کی حالیہ کارکردگی کو حوصلہ افزا قرار دیا اور اس امید ظاہر کی کہ اس بار ہماری تیاری مزید بہتر ہے اور ہم یہ میچ جیتنے کی پوری کوشش کریں گے۔
Source link
Today News
ایران میں اسرائیلی حملے میں پاکستانی شہری شہید، اہل خانہ جسد خاکی کے منتظر
ایران کی بندرگاہ چابہار پر اسرائیلی حملے میں کراچی سے تعلق رکھنے والے شہری یاسر خان شہید ہوگئے جن کا جسد خاکی تاحال وطن واپس نہ پہنچ سکا، شہید نوجوان کے اہل خانہ اپنے پیارے کے آخری دیدار کے منتظر ہیں۔
کراچی کے ضلع کیماڑی کے علاقے ماڑی پور میں واقع یونس آباد کا شہری یاسر خان نے 6 ماہ قبل ایران کی چابہار بندررگاہ پر ملازمت حاصل کی تھی جہاں وہ ڈک بوٹ پر فرائض انجام دے رہا تھے لیکن گزشتہ ماہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر شروع کیے گئے حملوں کے دوران ایران کی چابہار بندرگاہ پر ایک میزائل کی زد میں آ کر شہید ہوگئے۔
شہید کے بھائی واجد خان نے بتایا کہ 23 مارچ کو ہونے والے میزائل حملے کی اطلاع 24 مارچ کو یاسر خان کے ساتھ بندرگاہ پر کام کرنے والے کراچی کے علاقے بنارس کے رہائشی سبحان اللہ نے دی جو خود اس میزائل حملے میں زخمی ہوئے ہیں، اور ایران کے اسپتال میں زیر علاج تھے۔
انہوں نے بتایا کہ میرا بھائی یاسر خان اور سبحان اللہ دونوں روم میٹ تھے، 24 مارچ کی رات رات لگ بھگ ڈھائی سے تین بجے کا وقت سبحان نے ہمیں ایران کے نمبر سے فون کیا، ہماری ایک منٹ کی بات ہوئی جس میں انہوں نے بتایا کہ یاسر شہید ہوگیا ہے جبکہ میزائل حملے کے وقت کشتی پر موجود دیگر تمام افراد ڈوب گئے تھے جن کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
یاسر کے حوالے ان کے بھائی نے مزید بتایا کہ یاسر کا ڈیک پر صفائی کا کام تھا جس کے تمام کورس یاسر نے کر رکھے تھے، اپنا 9 ماہ کا کنٹریکٹ پورا کرنے کے بعد یاسر کو واپس کراچی آنا تھا اور یہ کنٹریکٹ ختم ہونے میں صرف 3 ماہ باقی رہ گئے تھے۔
واجد نے بتایا کہ جنگی حالات کے دوران بھائی سے رابطہ نہیں ہوا تھا ایجنٹ کے پاس بھی گئے لیکن موبائل نیٹ ورکس نہیں ہونے کے باعث چابہار بندرگاہ پر ایجنٹ کا بھی کسی سے رابطہ نہیں ہوسکا، جب بھائی کے دوست سبحان سے رابطہ ہوا تو اس نے بتایا کہ ہمارے بھائی یاسر کی لاش پانی کے اندر چار دن تک رہی، جس کے بعد لاش ملنے پر ان کی شناخت عمل میں آسکی۔
یاسر کے بھائی نے مزید بتایا کہ جنگی حالات کے دوران آخری بار رمضان المبارک میں ان کی اپنے بھائی سے ویڈیو کال پر بات ہوئی تھی، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ ایران میں جنگی حالات ہیں اور مجھے یہاں سے نکالنے کے لیے انتظامات کریں، جس کے بعد میں ہم نے بہت جتن کیے، ایجنٹ کے علاوہ دیگر اداروں تک بھی رسائی کی کوشش کی لیکن کہیں سے کوئی مدد نہیں ملی۔
ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کے مالک انصر اور ایجنٹ نے بھی کوئی مدد فراہم نہیں کی، نیٹ ورک کے مسائل کے باعث رابطہ بھی نہیں ہوپایا۔
انہوں نے بتایا کہ میزائل حملے کا نشانہ بننے والی ڈک بوٹ پر دو پاکستانی موجود تھے جن میں سے ایک میرا بھائی یاسر اور دوسرا سبحان ہے جو تاحال ایران میں زخمی حالت میں موجود ہے۔
ایکسپریس نیوز کو یاسر کے دوست معصوم علی نے بتایا کہ یاسر انتہائی خوش اخلاق اور خوش شکل انسان تھا، جو ایران اپنے بچے اور اہلیہ کے اچھے مستقبل کے لیے گیا تھا، یاسر کا کوئی دن اپنے والدین سے بات کیے بغیر نہیں گزرتا تھا، یاسر کی شہادت کے بعد اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ گیا ہے۔
یاسر کی شہادت کے بعد یاسر کی بیوہ اور معصوم بچے امداد کے منتظر ہیں، اہل خانہ نے حکومت پاکستان، صدر پاکستان، حکومت سندھ، وزیر اعلی سندھ سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے بیوی اور بچے کی دادرسی اور مدد کی درخواست کی ہے کہ بیوہ اور بچے کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
یاسر خان کے بھائی واجد نے بتایا کہ دیگر بھائی اور رشتے دار تفتان بارڈر پہنچ گئے ہیں، بھائی یاسر کی میت لانے کے لیے وہاں قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی اور اس حوالے سے میت کی جلد حوالگی کے لیے ایرانی حکام سے رابطہ بھی کیا جارہا ہے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ تفتان بارڈر پر ہمارا کیمپ قائم ہے اور رضاکار موجود ہیں، یاسر کی میت بارڈر سے کراچی منتقل کرنے کے لیے ہمارے انتظامات مکمل ہیں اس حوالے سے یاسر کے ورثا سے بھی رابطہ کرلیا گیا ہے۔
Source link
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pumped up Pakistan face Bangladesh in ODI series decider – Sport
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pakistan win toss, opt to bowl in final ODI against Bangladesh – Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Emaan Fatima’s Latest Message after Reconciliation News
-
Entertainment2 weeks ago
Sana Faysal Replies To Saba Faisal’s Viral Statement
-
Entertainment2 weeks ago
Faiza Hasan Reveal’s Husband’s Reaction To Daughter Becoming Actress
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport