Today News
میکسیکو: کھدائی کے دوران قدیم قربان گاہ دریافت
میکسیکو میں ماہرین نے کھدائی کے دوران ایک قدیم قربان گاہ دریافت کی ہے جس کے اطراف انسانی کھوپڑیاں موجود تھیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ تقریباً 1000 برس قبل چار افراد کی بَلی چڑھائی گئی تھی۔
میکسیکو میں قائم نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اینتھروپولوجی اینڈ ہسٹری (آئی این اے ایچ) سے تعلق رکھنے والے ماہرین آثارِ قدیمہ نے یہ دریافت ایک مسافر ٹرین کے راستے کے ساتھ کی۔
موموزٹلی نامی اس قربان گاہ کو ٹولٹیک تہذیب 950 سے 1150 عیسوی کے درمیان اپنی رسومات (بشمول انسانوں کی قربانی) کے لیے استعمال کرتے تھے۔
یہ تقریباً ہر طرف سے ایک میٹر کے برابر ہے، اس کی بنیاد تراشے ہوئے پتھروں پر مشتمل ہے اور غالب امکان ہے کہ اس میں کم از کم تین نچلے، بغیر سیڑھیوں والے خانے موجود ہوں۔
قربان گاہ کی بنیاد کے گرد چار کھوپڑیاں احتیاط سے ترتیب دی گئی ہیں۔
Source link
Today News
آبنائے ہرمز کی لہریں اور سورج کا راستہ
اسلام آباد کی بلند عمارتوں میں بیٹھے پالیسی سازوں کے قلم کی ایک جنبش سے اربوں روپے ادھر سے ادھر ہو رہے تھے۔ دوسری طرف شہر کے مضافات میں ایک بیوہ ماں اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے مٹی کا تیل ڈال رہی ہوگی، کیونکہ جب اس نے سنا ہوگا کہ مٹی کا تیل 70.73 روپے مہنگا کرکے 428.74 روپے کا کر دیا گیا ہے۔
اس خبر سے تو امیروں کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ ہائی اوکٹین پر لیوی 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے لیٹر مقرر کرنے کے بعد نئی قیمت 533.88 روپے ہو گئی ہے۔
حکومت کہتی ہے کہ اس طرح ماہانہ 9 ارب روپے بچ جائیں گے اور اس طرح سالانہ 108 ارب روپے۔ پاکستانی معیشت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف عالمی مالیاتی ادارے کی خوشنودی اور دوسری طرف غریب کی بدحالی۔ ان کی قوت خرید کی شکستگی، چند روز قبل ہائی اوکٹین فی لیٹر اضافے سے متمول طبقے کی جیب پر کوئی خاص اثر تو نہیں پڑا۔لیکن مہنگائی کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ مہنگائی کی سطح بلند ہو کر رہ گئی ہے اور اس نے پاکستان کی اکثریت کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے جہاں اس کی قوت خرید جواب دے رہی ہے۔
ایک غریب مزدور کی بیوی جو ایک ماں بھی ہے اپنے بچے کو اسکول بھیجنے کے لیے شاید اسے ناشتہ دینے کی خاطر اپنے حصے کی ایک روٹی کم کر رہی ہو۔ شاید مزدور اپنے دوپہر کے لذت کام و دہن کے لیے بچے کچھے ٹکڑے اپنے رومال میں باندھ رہا ہو۔
حکومت 200 روپے اضافہ کرے یا 400 روپے امیر کی فکر نہ کرے، کیونکہ معیشت صرف اعداد و شمار کا نام نہیں، یہ انسانی رویوں اور ان کی حالت کا نام ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پاکستان کے غریب متاثر ہوئے ہیں اور اب امیروں کے لیے ہائی اوکٹین اور غریبوں کے لیے مٹی کا تیل دونوں کی قیمت میں اضافہ کرکے حکومت نے شاید جتایا ہو کہ اس کے نزدیک امیر و غریب سب برابر ہیں۔ سب کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
کراچی کی بندرگاہ پر کھڑے اہلکاروں کی آنکھیں دور افق پر جمی ہو ئی ہو سکتی ہیں اور ان کے کان بحیرہ عرب کی لہروں کی سرگوشیاں سن رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی لہریں اچھل اچھل کر پیغام دے رہی ہیں کہ تمہارے بڑے بڑے دیوہیکل تیل بردار جہاز جن میں کروڑوں بیرل تیل لدا ہوا ہے بس پہنچ رہے ہیں۔ جیسے ہی کسی جہاز کے لنگرانداز ہونے کی خبر متعلقہ دفاتر میں پہنچتی ہے تو قیمتوں کا تعین، لیوی کا حساب اور مہنگائی کے نئے گراف تیار ہونے لگتے ہیں۔ اس مرتبہ ایک طرف ہائی اوکٹین کی لیوی میں اضافہ کیا ہی تھا کہ معیشت کا ترازو جھکنے لگا لہٰذا انصاف کا تقاضا تھا کہ برابر ناپ تول کر دیا جائے۔
اس کے ساتھ ہی ایک اور فیصلہ صادر ہوا کہ مٹی کا تیل بھی تقریباً 71 روپے مہنگا کر دیا گیا ہے۔ شاید لالٹین جلانے والے، مٹی کے تیل کا چولہا جلانے والے سوچ رہے ہوں گے کہ سمندر کی لہروں کا بھی یہی انصاف ہے۔ کسی کے لیے موتی لاتے ہیں اور کسی کے لیے صرف جھاگ۔ اسی لیے میرے گھر کی لالٹین اب بہت جلدی بجھ جایا کرے گی۔ یہ کیسی معیشت ہے جہاں ایک طرف بڑی گاڑیوں کا دھواں غریب کے پھیپھڑوں میں اترتا ہے اور دوسری طرف گزشتہ 7 ماہ میں 9 ارب 4 کروڑ ڈالرز کا درآمدی تیل منگوایا جاتا ہے۔
ایران امریکا جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے مد و جزر کے اثرات تیل کی قیمتوں پر زیادہ مرتب ہو رہے ہیں۔ کبھی کوئی لہر قیمت بڑھاتی ہے اور کوئی لہر دو چار ڈالر کم کر دیتی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور علاقائی کشیدگی کے باعث ماہرین کا خیال ہے کہ صورت حال بتا رہی ہے کہ تیل کا درآمدی بل 20 ارب ڈالر سے بھی زائد ہو سکتا ہے۔
سمندر کی لہریں سرگوشیاں کر رہی ہیں کہ ہم نے آبنائے ہرمز کے مد و جزر سے اپنی تقدیر وابستہ کر لی ہے اور تُو ہائی اوکٹین کے دھوئیں میں 9 ارب روپے کی بچت کرکے اپنی منزل ڈھونڈتا ہے۔ شام ہونے سے پہلے ذرا لالٹین کی لُو تیز کر تو معلوم ہوگا کہ تیرا رب تیرے سر پر روزانہ سورج کی صورت میں سخاوت کا سمندر مد و جزر کے مراحل طے کراتا ہوا شاید پیغام دے رہا ہو کہ تُو نے تیل بردار دیو ہیکل جہازوں کا انتظار کرتے کرتے اس روشنی کو بھلا دیا جو مفت میں تیری چھت پر روز برستی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ تیل کی اس غلامی کا بوجھ کم کریں، کیونکہ ماہرین کا خیال ہے کہ سولر سسٹم ہی ہمارا مستقبل ہے۔ سولر پینلز کے تاجروں کو خاص طور پر مراعات دینا ہوں گی۔ خصوصاً ان تاجروں کو ’’محسن قوم‘‘ کا خطاب دینا ہوگا جنھوں نے اس وقت دھوپ کو بجلی میںبدلنے کا خواب بیچا جب لوگ اسے دیوانے کی بڑ سمجھتے تھے۔
ان تاجروں نے اس وقت مارکیٹ بنائی جب نیٹ میٹرنگ کا تصور تھا نہ گرین انرجی کی اتنی پکار تھی۔ آج ان لوگوں کے لیے آسانیاں فراہم کرنا ہوں گی، سولر پینلز، انورٹرز، لیتھیم بیٹریوں کی درآمد کو آسان کرنا ہوگا، جس طرح 1969 میں اپالو الیون نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ اسی طرح آج بھی ہمیں ایسے ’’اپالو‘‘ مشن کی ضرورت ہے اور ’’سولر کا اپالو‘‘ تلاش کرنا ہوگا جو ہمیں تیل کے بوجھ سے نجات دلا کر خودکفالت کے آسمان تک لے جائے۔
Today News
ایران کے اسرائیلی شہروں پر حملے، کیمیکل پلانٹ سمیت اہم تنصبیات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کی 86 ویں لہر کے دوران خطے کے مختلف مقامات پر امریکی اور اسرائیلی فضائی اور ڈرون انفرا اسٹرکچر اور ان کی افواج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ آپریشن وعدہ صادق 4" کی 86ویں لہر اتوار کی علی الصبح کئی مراحل پر مشتمل انداز میں شروع کی گئی، جس میں پاسداران کی ایرو اسپیس فورس اور بحریہ کی جانب سے مربوط میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جن کا ہدف خطے میں امریکی اور اسرائیلی تنصیبات تھیں۔
بیان میں کہا گیا کہ آپریشن کے پہلے مرحلے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے امریکی اڈوں پر فضائی اور ڈرون آپریشنل انفرا اسٹرکچر اور اسلحے کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا، جن میں وکٹوریہ، عریفجان اور الخرج شامل ہیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس دوران امریکی اور اسرائیلی افواج کے مبینہ ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ کوملہ گروپ سے وابستہ عناصر کو بھی مختلف علاقوں میں نشانہ بنایا گیا، جن میں اراد، نقب (نیگیو)، تل ابیب، اربیل، امریکی پانچویں بحری بیڑا اور الظفرہ شامل ہیں۔
غیرملکی میڈیا نے رپورٹس میں بتایا کہ ایرانی میزائل حملے میں جنوبی اسرائیل میں ایڈاما کیمیکلز پلانٹ متاثر ہوا ہے، اسی طرح جنوبی اسرائیل میں قائم ماختشیم پلانٹ بھی ایرانی میزائل سے متاثر ہوا ہے تاہم کوئی جانی نقصان کی رپورٹ نہیں ملی ہے۔
اسرائیل کی فائر اور ریسکیو سروس نے کہا کہ جنوبی اسرائیل کے صنعتی علاقے میں آگ لگی ہے، جہاں متعدد کیمیائی اور صنعتی پلانٹس موجود ہیں اور یہ ممکنہ طور پر ایرانی میزائل یا روکے گئے میزائل کے ملبے کی وجہ سے پیش آیا۔
اسرائیلی فائر بریگیڈ نے عوام سے کہا کہ وہ نیوٹ ہوواب صنعتی علاقے سے دور رہیں کیونکہ وہاں خطرناک مواد موجود ہے جبکہ 34 فائر فائٹنگ ٹیمیں آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں تاہم صنعتی علاقے سے 800 میٹر کے فاصلے یا اس دور عوام کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پلانٹ کے قریب مقیم شہریوں کو ہدایت دی جاتی ہیں کہ وہ اندر رہیں، کھڑکیاں اور وینٹیلیشن بند کریں اور سیکیورٹی اور ایمرجنسی فورسز کی ہدایات پر عمل کریں جب تک واقعے پر مکمل قابو نہیں پایا جاتا۔
اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ صنعتی زون میں اثر ممکنہ طور پر میزائل کے ملبے کی وجہ سے ہوا، اس کے فوراً بعد ایران کی جانب سے نئے حملوں کا پتا چلا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ میزائل کے ملبے کا اثر ہےجبکہ اسرائیلی ٹی وی چینلز نے جنوبی اسرائیل کے رامات ہوواب صنعتی زون سے بلند سیاہ دھوئیں کی تصاویر دکھائیں۔ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
فوج نے بتایا کہ اتوار کو ایران کی جانب سے پانچ لہروں پر مشتمل میزائل حملوں کا علم ہوا ہے اور ہر بار دفاعی نظام خطرے کو ناکارہ بنانے کے لیے فعال ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایران نے جنوبی اسرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں اور دو میزائل روکے گئے جبکہ تیسرا کھلی جگہ پر گر گیا، ایک اور رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیل بھر میں 40 بار سائرن بجے ہیں۔
Source link
Today News
قومی فٹبال ٹیم مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اترنے کو تیار
پاکستان فٹبال ٹیم کے کھلاڑی محب اللہ اور وقار نے میانمار کے خلاف شیڈول اہم میچ سے قبل بھرپور خوداعتمادی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی ٹیم پہلے سے کہیں زیادہ بہتر تیاری اور ہم آہنگی کے ساتھ میدان میں اترنے کے لیے تیار ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وقار کا کہنا تھا کہ اس بار ٹیم کی تیاری ماضی کے مقابلے میں زیادہ جامع اور مؤثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں پر مکمل یقین ہے اور امید ہے کہ ٹیم شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے فتح حاصل کرے گی۔
دوسری جانب محب اللہ کا کہنا تھا کہ کوشش ہوگی کہ ماضی کے مقابلے میں مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔ٹیم میں پائی جانے والی اس امید کی بڑی وجہ وہ تربیتی کیمپ ہے جس میں کھیل کے تمام شعبوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ محب اللہ نے ٹیم کی پیشرفت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کھلاڑیوں نے کوچنگ اسٹاف کے وضع کردہ پلان پر مثبت ردعمل دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تیاری بہت اچھے انداز میں جاری ہے اور تمام لڑکے بہترین رسپانس دے رہے ہیں جو کیمپ کے اندر ایک پرعزم ماحول کی نشاندہی کرتا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حال ہی میں مضبوط حریفوں کے خلاف کھیلے گئے میچز نے ٹیم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
محب اللہ کے مطابق مسلسل تجربے اور کھیل کے میدان میں گزارے گئے وقت نے کھلاڑیوں کے درمیان تال میل اور سمجھ بوجھ کو بہتر بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر کیمپ کے ساتھ ہم میں بہتری آرہی ہے، ہمیں کھیل کا اچھا تجربہ مل رہا ہےاور ٹیم میانمار کے خلاف اپنے معیار کو مزید بلند کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس تبدیلی میں ہیڈ کوچ شہزاد انور سولانو کا کردار مرکزی رہا ہے۔ وقار نے کوچ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹیم میں پیشہ ورانہ مہارت اور اظہارِ رائے کی آزادی کا ایک متوازن امتزاج پیدا کیا ہے۔
وقار نے بتایا کہ وہ ہمیں ایک دوستانہ اور پرسکون ماحول دے رہے ہیں اور ہمیں کھیل سے لطف اندوز ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوچ کا مقامی ٹیلنٹ پر بھروسہ کرنے کا فیصلہ ٹیم میں نئی توانائی لے آیا ہے اور مقامی مقابلوں سے منتخب ہونے والے کھلاڑیوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کے اس موقع کو بھرپور طریقے سے اپنایا ہے۔
وقار نے تربیتی معیار کو بھی سراہا۔ ان کے بقول مشقوں کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ اس سے کھلاڑیوں کے تادیبی نظم و نسق اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ فٹنس کے حوالے سے ٹرینر رایان عباسی کے کردار کو سراہتے ہوئے وقار نے سکواڈ کی موجودہ حالت کو شاندار قرار دیا۔ کئی سینئر اور غیر ملکی (اوورسیز) کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کے باوجود محب اللہ نے اسکواڈ کی کیمسٹری پر اعتماد کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کھلاڑی پہلے بھی ساتھ کھیل چکے ہیں جس سے ٹیم میں تسلسل برقرار ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں نے بھی سسٹم کے ساتھ جلد ہم آہنگی پیدا کر لی ہے۔ محب اللہ نے شائقین کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خالی اسٹیڈیم میں کھیلنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ فٹ بال شائقین کے جوش و خروش کا کھیل ہے تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ ٹیم میدان میں اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم ہے۔
وقار نے شام اور افغانستان جیسی مسابقتی ٹیموں کے خلاف پاکستان کی حالیہ کارکردگی کو حوصلہ افزا قرار دیا اور اس امید ظاہر کی کہ اس بار ہماری تیاری مزید بہتر ہے اور ہم یہ میچ جیتنے کی پوری کوشش کریں گے۔
Source link
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pumped up Pakistan face Bangladesh in ODI series decider – Sport
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pakistan win toss, opt to bowl in final ODI against Bangladesh – Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Emaan Fatima’s Latest Message after Reconciliation News
-
Entertainment2 weeks ago
Sana Faysal Replies To Saba Faisal’s Viral Statement
-
Entertainment2 weeks ago
Faiza Hasan Reveal’s Husband’s Reaction To Daughter Becoming Actress
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport