Connect with us

Today News

پاسداران انقلاب کا متحدہ عرب امارات، بحرین میں ایلومینیم فیکٹریاں تباہ کرنے کا دعویٰ

Published

on



پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین میں امریکی فوج اور ایرو اسپیس کی دو صنعتی فیکٹریوں کو میزائل اور ڈرون سے نشانہ بنادیا۔

پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ممالک سے ہمارے پیارے وطن کے صنعتی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے میں امریکی اور صہیونی دشمن کی مذموم کارروائیوں کے جواب میں پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس اور بحریہ کے جانبازوں نے مشترکہ کارروائی کی اور حملے میں امریکی فوجی اور ایرو اسپیس صنعت سے منسلک دو فیکٹریوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ میزائلوں اور ڈرونز حملوں کا نشانہ بننے والے انفرااسٹرکچر میں متحدہ عرب امارات میں ایمریٹس ایلومینیم (ایمال) فیکٹری اور بحرین میں ایلومینیم بحرین(ایلبا) فیکٹری شامل ہے۔

پاسداران انقلاب کے مطابق ایمال فیکٹری دنیا کی طویل ترین ایلومینیم پیداواری لائن کی حامل ہے جس کی پیداواری صلاحیت 1.3 ملین ٹن ہے، البا ایلومینیم فیکٹری میں امریکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور حصص شامل ہیں اور یہ فیکٹری امریکی فوجی صنعت کے لیے سامان تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

مزید بتایا گیا کہ ایران اپنے دشمنوں کی دھمکیوں اور جارحیت کا جواب اپنے اعلان کے مطابق آنکھ کے بدلے آنکھ کے اصول کے تحت نہیں دے گا بلکہ ہر سطح کی جارحیت سے بڑھ کر دشمن کے فوجی اور معاشی ڈھانچے پر زیادہ مؤثر حملے کرے گا۔

یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو اچانک ایران پر حملہ کردیا تھا، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کے سرکردہ کمانڈرز شہید ہوگئے تھے، جس کے جواب میں ایران نے امریکی بیسز اور اسرائیل پر ڈرون اور میزائلوں کے براہ راست حملے شروع کردیے تھے۔

ایران نے ان حملوں سے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ امریکی حملے کی صورت میں خطےمیں قائم ان کے بیسز کو نشانہ بنایا جائے گا، جس کے مطابق امریکی حملوں کے بعد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، اردن اور دیگر ممالک پر امریکی فوجی بیسز پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

اس حوالے سے ایران نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں اب تک 500 امریکی فوجی ہلاک اور جنگی طیارے بھی مار گرائے ہیں۔

 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو

Published

on


لکھنے کا پہلے شوق تھا، پھر گزشتہ تیرہ برس بلکہ پندرہ سال سے قلم کاری عادت سی بن چکی ہے۔ سات دنوں میں دو کالم رقم کرنا معمولی لگتا ہے تاہم کچھ عرصے سے کہانیاں اور افسانے لکھنے کی طرف مائل ہو چکا ہوں۔ لکھنے والوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ دیوار میں چنے ہوئے کرداروں پر مزید سیاہی انڈیلی جائے۔ اور گھڑسواروں کی تعریف ہو۔ گمان ہے کہ شائد‘ ملک بنایا ہی شاہ سواروں نے تھا۔ مگر شائد اپنے لیے۔ جس کو وہ پاکیزہ اور دودھ کا دھلا کہیں‘ وہ فرشتہ ۔ جس سے ناراض ہوں، وہ شیاطین کی صف میں شامل ۔ تو جناب ‘ہمارے ملک میں تو سارے حکمران فرشتہ صفت ہی چلے آرہے ہیں لیکن اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے  ابلیسی کام بھی کرگزرتے ہیں۔ جب تجوری بھر جاتی ہے‘ تو پھر معصوم اور فرشتہ نظر آنے لگتے ہیں یا کوشش کرتے رہتے ہیں۔

اب خود بتایئے کہ میرے جیسا انسان جو کسی بھی وقت دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، اس کا اپنی اسٹڈی تک محدود ہونا کتنا سہل ہو گا؟ پینتیس برس کی سرکاری نوکری بھی کچھ نہیں بگاڑ سکی ۔ کسی سیاسی جماعت کا کارندہ نہیں بنا جو حد درجہ آسان سا کام تھا۔ آج اس سے بھی زیادہ سہل تر ، بہر حال چھوڑیئے ، اس قصہ کو۔ پندرہ برس پہلے کا واقعہ ہے۔ ملک کے ایک جید کالم نگار سے بڑی چاہ سے ملنے گیا۔ اردو پر گرفت تو ان کی آج بھی مستند ہے۔ کوئی آدھا گھنٹہ یا شاید پینتالیس منٹ گفتگو رہی۔ گمان تھا کہ کچھ لفظی موتی‘ عطا فرمائیں گے، طالب علم کے علم میں اضافہ ہو گا۔ کمال محبت سے پیش آئے۔ مگر آدھا گھنٹہ ٹیلی فون پر ایک سینئر ’’گھڑ سوار‘‘ کو بذریعہ اسٹاف تلاش کرتے نظر آئے۔ ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے رہے۔

میرے سامنے بالآخر ان صاحب سے بات بھی ہوئی۔ تو مضمون یہی تھا کہ چند اہم باتیں کرنی ہیں۔ باہم بیٹھنا ضروری ہے۔اندازہ تو یہی تھا کہ دانائی کے چند ہیرے‘ میری جھولی میں بھی ڈال دیں گے۔ مگر نوبت ہی نہیں آ سکی۔ معلوم پڑا کہ اپنی تحریروں میں خوبصوت الفاظ استعمال کرنے کے سوا ان کے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ وہی ضرورتیں‘ وہی طرز تفاخر اور وہی دوسرے کو جزوی طور پر مرعوب کرنے کی ادنیٰ سی کوشش۔ یقین فرمائیے کہ جب ان سے مل کر واپس دفتر آیا تو طبیعت بوجھل تھی۔ مگر سوال تو یہ بھی ذہن کے پردہ پر ابھرتا ہے کہ جناب کس کے در پر حکمت کے لیے جایا جائے۔ بلکہ کبھی کبھی تو یوں بھی سوچتا ہوں کہ کیوں جاؤں؟ بہر حال یہ ایک فکری کشکمش ہے جو دہائیوں سے جاری ہے۔ البتہ ایک اصول تو طے کر چکا ہوں۔ جس کی تحریر پسند ہو، اس سے کبھی نہیں ملتا ۔ اگر کوئی ملاقات کی صورت بنتی ہوئی نظر آئے ‘ تو فوراً کنارہ کشی کر لیتا ہوں۔

اس لیے کہ کہیں اس کرم فرما کا بنا ہوا تصوراتی بت اسے ملنے کے بعد پاش پاش نہ ہو جائے۔ لہٰذا ملنا بے سود ہے۔ اس سے نقصان ہو سکتا ہے۔ مگر عقل و خرد کے اصل جوہریوں کے سامنے زانوائے ادب طے کرنا‘ باعث افتخار سمجھتا ہوں۔ ان کی کھوج میں لگا رہتا ہوں۔ ویسے وہاں بھی اصل آدمی تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔ ایک شہری بزرگ کا چرچہ سنا کہ دین کی علمی دولت سے مالا مال ہیں، کاروبار بھی فرماتے ہیں یعنی دین اور دنیا میں توازن قائم رکھا ہوا ہے۔ کوئی دس بارہ برس پہلے کا واقعہ ہے بلکہ حادثہ ہے۔ ان کے گھر پر پہنچا تو بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ لوگ ہی لوگ‘ خواتین کی تعداد زیادہ تھی۔ نہ چاہتے ہوئے‘ میں بھی انتظار گاہ میں بیٹھ گیا۔ ایک نوجوان آیا اس نے دریافت کیا کہ آپ حضرت صاحب سے ملنے آئے ہیں۔

مثبت جواب پر ‘ اس کارندے نے ایک ٹوکن میرے ہاتھ میں دے ڈالا کہ آپ کی باری کوئی دو گھنٹے بعد آئے گی۔ جب ٹوکن نمبر پکارا جائے تو آپ بزرگ کے کمرے میں چلے جایئے گا۔ ہاں، پانچ منٹ سے زیادہ رہنا ممنوع ہے۔ کیونکہ اگلا ٹوکن والا بھی انتظار کر رہا ہوگا۔ دماغ میں آیا کہ کیا خدا سے نسبت رکھنے والے بندے‘ ٹوکن دے کر ملتے ہیں؟ کیا رب کے دربار میں رسائی ٹوکن کے ذریعے ہو گی؟دین سے نسبت رکھنے والے بزرگ تو کسی بھی تکلف اور تردد سے پرہیز کرتے ہیں۔ طبیعت اس قدر ابتر ہو گئی کہ ٹوکن واپس کر کے گھر چلا آیا۔آج تک اس شخص کے پاس نہیں گیا۔ معلوم پڑا کہ پورے ملک میں وہ ایک برگزیدہ ہستی مانے جاتے ہیں۔ البتہ میرا دل نہیں مانتا کہ خدا کے ولی ‘ بذریعہ ٹوکن دستیاب ہوتے ہیں۔

کاروبار تو خیر کرتا ہی ہوں جوحد درجہ ایمانداری سے سرانجام دیتا ہوں۔ ریٹائرمنٹ سے تھوڑا سا پہلے شروع کیا تھا۔ خیر اب تو کافی کچھ سیکھ چکا ہوں۔ دن میں صرف پانچ گھنٹے اپنے نجی دفتر میں بیٹھتا ہوں اتنا ہی کافی ہے۔ دن اور رات کا بیشتر حصہ‘ اپنی اسٹڈی میں گزارتا ہوں۔ ایک قدیم سا وائی فائی کا اسپیکر موجود ہے، یوٹیوب کو اس سے منسلک کرنا بڑے بیٹے نے سکھایا تھا۔ کے ایل سہگل‘ بیگم اختر فیض آبادی کو سنتا ہوں اور سردھنتا ہوں۔ کبھی کبھی مہدی حسن کی غزلیں بھی کانوں میں رس گھولتی ہیں۔ ’’دختر رز‘‘ سے مکمل دوری ہے۔ حواس میں رہ کر موسیقی سننے کا لطف ہی کوئی اور ہے۔ ہاں‘ قوالیاں سن کر مزہ آتا ہے۔ خصوصاً غلام فرید صابری قوال کی۔ یہ دونوں بھائی بھی قوالوں کے سپہ سالار ہیں۔ آواز تو خیر کمال ہے ہی‘ مگر اس کے اندر‘ فارسی کی آمیزش بھی قیامت خیز ہے۔ گھر میں ایک ایسا کمرہ۔ جس میں آپ تنہا بیٹھ سکتے ہیں‘حد درجہ ضروری ہے۔ کیونکہ آپ کا اصل گھر وہی بن جاتا ہے اور اسی میں دل لگتا ہے۔ ذاتی اسٹڈی میں کتابیں ہی کتابیں رکھی ہوئی ہیں۔

کبھی لگتا ہے ساری پڑھ چکا ہوں۔ مگر اکثر اوقات ایسے معلوم پڑتا ہے کہ یہ نسخے کیا‘ زندگی میں ایک حرف تک نہیں پڑھ پایا۔ ویسے ایک بات عرض کرنا ضروری ہے۔ جب ملک ملک ‘ سیاحت کا شوق غالب تھا تو غیر ممالک سے ڈیکوریشن پیس لایا کرتا تھا۔ اکثر تو ضایع ہو گئے۔ مگر آج بھی اسٹڈی روم میں بہت سے آراستہ ہیں۔ خصوصاً کینیا اور ساؤتھ افریقہ سے لائے گئے، مصنوعی چہر ے اور شتر مرغ کے رنگین انڈے۔ افریقہ میں ایک نایاب آرٹ ہے، وہ شتر مرغ کے انڈے پر تصاویر دنیا کے نقشے اور قدیم جنگلوں کے ماحول کو اس عرق ریزی سے پینٹ کرتے ہیں کہ انڈا‘ ایک علمی سوغات بن جاتا ہے۔

یہ حسن‘ افریقہ میں گلیوں گلیوں بکھرا ہوا ہے۔ اس طرح کا فن ‘ باقی دنیا میں ناپید ہے۔ ہاں‘ ایک سگار بکس بھی ہے جس میں اچھے کیوبن سگار موجود ہیں۔ کبھی کبھی جب سوچ کا ہالہ بہت بڑھ جائے تو سگار کے کش لگانا اچھا لگتا ہے ۔ سگار کی خوبی یہ بھی ہے کہ آپ اسے پورا پیے بغیر بجھا سکتے ہیں۔ اور اس لیے‘ہر سگار ایک خاص پیکنگ میں آتا ہے۔ آپ جب اکتا جائیں تو اسے بجھا کر اسی کے خول میں ڈال دیجیے۔ تازہ بھی رہے گا اور دوبارہ استعمال کے قابل بھی۔

 اب ایک تمنا یا خواہش ہے بلکہ روز بروز بڑھ رہی ہے۔ لاہور ہی کے کسی مضافاتی علاقے میں تھوڑی سی زمین لے کر وہاں رہنا چاہتا ہوں۔ ایسے پرندے پالنا چاہتا ہوں‘ جنھیں پنجرے میں نہ رکھنا پڑے۔ پرندے کو قید میں رکھنا‘ خلاف قدرت معلوم پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پودوں اور درختوں سے عشق ہے۔ دل چاہتا ہے کہ نئے حاصل شدہ قطعہ پر ‘ پودے لگاؤں جو پھولوں سے بھرے رہیں۔ درخت ہوں جن پر اجنبی پرندے ‘ بغیر کسی خوف کے گھونسلے بنانے اور بے خطر رہنا شروع کر دیں۔ دنیا کی بہترین موسیقی‘ پرندوں کی چہچاہٹ ہے ۔ خصوصاً صبح اور شام کے وقت تو یہ قدرت کی جانب سے موسیقی کا رنگیں سیلاب ہے جو انسان کو بھگوئے بغیر نہال کر ڈالتا ہے۔

اس جگہ پر ایک کمرہ بھی بنواؤں گا ۔ جہاں ‘ اپنی اسٹڈی سے چند اشیاء منتقل کروں گا۔ پھر شام کو اندھیرے ا ور روشنی کے باہمی ملاپ کے وقت‘ سہگل اور بیگم اختر کی غزلیں سنوں گا۔ یہ میرا خواب ہے۔ جسے بہت جلد ‘ تکمیل کے مرحلہ سے گزاروں گا۔ ویسے اپنے آپ سے کبھی کبھی سوال ضرور کرتا ہوں کہ یہ کام پہلے کیوں نہیں کیا؟ اس کا جواب کم از کم میرے پاس تو نہیں ہے۔ شاید ذمے داریاں نبھاتے نبھاتے ‘ معلوم ہی نہ پڑا کہ کب کافی وقت گزر گیا۔ بالوں میں سفیدی چھا گئی۔

پر بالوں کی اس برف نے بہت کچھ سمجھا دیا ہے۔ انسان دنیا میںاکیلا ہی آتا ہے اور واقعی ‘ تنہا ہی واپس چلاجاتا ہے۔ کہاں پرواز کر ڈالتا ہے‘ کس عالم میں ایستادہ ہوتا ہے۔ یہ راز آج تک کوئی بھی مکمل طور پر سمجھ نہیں پایا۔ ویسے اس سنجیدہ سوال کا کوئی بھی جواب تلاش نہیں کرنا چاہے۔ کیونکہ اپنی اپنی دانست میں جو بھی انسان‘ جو کچھ بھی سمجھتا ہے‘ وہ اس کے لیے درست ہے اور جو نکتہ اس کے لیے محترم ہے ‘ اس پر ہم کیوں بحث کریں؟ویسے مجھے تو اب کچھ بھی غلط معلوم نہیں دکھتا۔ دنیا‘ کائنات ‘سماج‘ انسانوں کی حقیقت کیا ہے؟ یہ بھی معلوم کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ہو سکتا ہے سب دکھاوا ہو۔خواب ہو اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ سب کچھ ہی سچ ہو؟





Source link

Continue Reading

Today News

تکبر کا نتیجہ خواری – ایکسپریس اردو

Published

on


تکبر کا شکار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سطح پر یو ٹرن لینے اور گیڈر بھبکیوں کا عالمی ریکارڈ قائم کردیا اور خود جنگ شروع کرکے یا کرا کر پھر خود ہی جنگ بند کرانے کا از خود ریکارڈ بناکر عالمی شہریت کا حامل نوبل پرائز کا خواب دیکھنے والے سپرپاور کے دعویدار ملک امریکا کے صدر کا پتا ہی نہیں چل رہا کہ وہ چاہتے کیا ہیں اور کرنا کیا ہے؟ شاید انھیں خود بھی نہیں پتا مگر ان کے تبدیل ہونے والے فیصلے دنیا کو حیران ضرور کردیتے ہیں شاید وہ شر میں خیر کی توقع کی بجائے خیر میں سے شر نکال لیتے ہیں۔

انھوں نے شر کی بجائے خیر کے لیے ایران سے مذاکرات شروع کرائے مگر جب انھیں لگا کہ یہ مذاکرات کامیاب نہ ہوجائیں انھوں نے خیر کا انتظار کیے بغیر ایران پر حملہ کرکے شر انگیزی کی اور کئی دن جنگ جاری رکھ کر ایران کو 48گھنٹے کا نوٹس دیا اور نوٹس کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی خود اپنی شروع کردہ جنگ میں پانچ دنوں کا وقفہ کرلیا۔

دنیا اور امریکی خود حیران ہیں کہ جنگ کی بجائے مفاہمت کے لیے ایران سے مذاکرات کرانے والے امریکی صدر کو ہوا کیا تھا کہ اپنے تکبر پر ناز کرتے ہوئے انھوں نے مذاکرات چھوڑ کر ایران پر حملہ کرادیا اور تکبر کا شکار گریٹر اسرائیل کا خواب دیکھنے والے اسرائیلی وزیراعظم کے سازشی ذہن کو پڑھے اور دیکھے بغیر اسرائیل کے کہنے پر دونوں نے ایران پر یہ سوچ کر حملہ کیا کہ چار عشروں سے عالمی پابندیوں کا شکار کمزور ملک ایران گھنٹوں میں ہتھیار ڈال دے گا اور پھر اسرائیل محفوظ اور امریکا وینزویلا کی طرح ایران کے آئل کا بھی مالک بن کر آئل کی بھی سپر پاور بن کر اپنی مرضی سے دنیا بھر میں آئل فروخت کرنے کا ٹھیکیدار بن جائے گا۔امریکی صدر کے تکبر نے دنیا کو پیغام دے دیا کہ امریکا دنیا میں جو چاہے کرنے کی طاقت رکھتا ہے وہ چاہے تو رات کی تاریکی میں وینزویلا کے منتخب صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کراکر امریکا لاکر قید کرا دے یا دنیا پر مرضی سے ٹیرف مسلط کردے کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

اسرائیلی وزیراعظم بھی امریکی صدر کی طرح تکبر اور رعونیت میں مبتلا ہوکر خواب دیکھ رہا تھا کہ وہ اور امریکا دونوں مل کر ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے اور ایرانی عوام بھی وینزویلا کے عوام کی طرح اپنے صدر کے اغوا پر خاموش رہنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

اس لیے اسرائیل اور امریکا نے پہلے مرحلے میں ایران کے مذہبی پیشوا اور سپریم لیڈر آیت اﷲ خامنہ ای کو نشانہ بنایا جو دھمکیوں کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم کی طرح چھپ کر بیٹھے اور نہ انھوں نے کسی محفوظ بنکر میں پناہ لی بلکہ وہ اپنے روزمرہ کے معمولات پر غیر محفوظ جگہ پر شہادت کے منتظر رہے اور اپنی خواہش کے مطابق شہادت سے ہمکنار ہوئے جس کا ایرانی عوام پر اثر یہ ہوا کہ وہ اپنے باہمی اختلاف بھلاکر متحد ہوگئے اور بمباری کے خوف سے چھپنے کی بجائے لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکلے اور اپنے سپریم لیڈر سے محبت و عقیدت کے لیے ان کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔

امریکا کی توقع کے برعکس اپنے دیگر رہنماؤں کی شہادت کے بعد بھی ایرانی متحد، پرعزم اور دلیر ثابت ہوئے اور ان کے ملک نے تقریباً ایک ماہ کی جنگ میں ہتھیار ڈالے نہ امریکی خواہش پوری ہونے دی بلکہ اسرائیلی حملوں کا وہ جواب دیا کہ جس کی دنیا کو توقع نہیں تھی۔ ایران نے 48گھنٹوں کی دھمکی دی نہ پانچ روز کے لیے جنگ روکی مگر اسرائیل اور امریکی اہداف پر اپنے حملے جاری رکھ کر دنیا کو حیران کرکے رکھ دیا۔

اسرائیل فلسطین اور لبنان کو تباہ کرنے کے بعد ایران کو چند گھنٹوں کی مار سمجھ رہا تھا اور تکبر کے مارے اسرائیلی شیطان نے ایران کے ساتھ لبنان پر حملہ کرکے لبنان کے بعض علاقے مکمل تباہ کردیے اور پہلی بار ایران کی بمباری سے اپنے بعض شہر اور دس ہزار املاک بھی تباہ کرا بیٹھا کیونکہ اس سے قبل اسرائیل کو کہیں سے اپنے حملوں کا خوفناک جواب نہیں ملا تھا۔ امریکا واقعی سپر پاور ہے اور اسرائیل امریکا کا بغل بچہ ہے جو امریکا کی گود میں بیٹھ کر خود کو بھی سپرپاور سمجھ بیٹھا تھا جو اب اتنا مجبور ہوگیا ہے کہ اسرائیلیوں کو اپنے گھروں میں چھپ کر محفوظ ہونے کا کہہ رہا ہے۔

امریکا ایران سے بہت دور اور محفوظ تو ہے مگر اس نے خلیجی ممالک میں لیے گئے اپنے اڈوں پر ایرانی حملوں میں قابل ذکر جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے اور اس کا تکبر بھی خاک میں ملا اور اسے اپنی شروع کی گئی جنگ خود روکنا پڑی جب کہ نتیجہ یہ نکلا کہ جنگ روکنے کے لیے ایران کو یہ کہنا پڑا کہ جنگ ایران کی مرضی سے ختم ہوگی، امریکا کی مرضی جنگ نہیں رکوا سکتی۔

امریکا اور اسرائیل کو اپنی جنگی طاقت اور صلاحیتوں پر بڑا ناز اور اس کے حکمرانوں کو تکبر تھا مگر پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے سربراہ کے بقول اب ایران سے جنگ میں امریکا اور اسرائیل فیس سیونگ چاہتے ہیں۔ یہ اگر حقیقت ہے تو امریکا اور اسرائیلی حکمرانوں کے بے پناہ تکبر نے امریکا و اسرائیل کو یہ دن دکھا دیے ہیں جس میں امریکا تو تباہی سے محفوظ رہا مگر اسرائیل خود تباہ ہوا مگر امریکا نے خلیجی ممالک کو بھی مکمل تباہ کرانے کی سازش کی جو دونوں کی خواہش تھی۔





Source link

Continue Reading

Today News

آبنائے ہرمز کی لہریں اور سورج کا راستہ

Published

on


اسلام آباد کی بلند عمارتوں میں بیٹھے پالیسی سازوں کے قلم کی ایک جنبش سے اربوں روپے ادھر سے ادھر ہو رہے تھے۔ دوسری طرف شہر کے مضافات میں ایک بیوہ ماں اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے مٹی کا تیل ڈال رہی ہوگی، کیونکہ جب اس نے سنا ہوگا کہ مٹی کا تیل 70.73 روپے مہنگا کرکے 428.74 روپے کا کر دیا گیا ہے۔

اس خبر سے تو امیروں کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ ہائی اوکٹین پر لیوی 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے لیٹر مقرر کرنے کے بعد نئی قیمت 533.88 روپے ہو گئی ہے۔

حکومت کہتی ہے کہ اس طرح ماہانہ 9 ارب روپے بچ جائیں گے اور اس طرح سالانہ 108 ارب روپے۔ پاکستانی معیشت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف عالمی مالیاتی ادارے کی خوشنودی اور دوسری طرف غریب کی بدحالی۔ ان کی قوت خرید کی شکستگی، چند روز قبل ہائی اوکٹین فی لیٹر اضافے سے متمول طبقے کی جیب پر کوئی خاص اثر تو نہیں پڑا۔لیکن مہنگائی کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ مہنگائی کی سطح بلند ہو کر رہ گئی ہے اور اس نے پاکستان کی اکثریت کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے جہاں اس کی قوت خرید جواب دے رہی ہے۔

ایک غریب مزدور کی بیوی جو ایک ماں بھی ہے اپنے بچے کو اسکول بھیجنے کے لیے شاید اسے ناشتہ دینے کی خاطر اپنے حصے کی ایک روٹی کم کر رہی ہو۔ شاید مزدور اپنے دوپہر کے لذت کام و دہن کے لیے بچے کچھے ٹکڑے اپنے رومال میں باندھ رہا ہو۔

حکومت 200 روپے اضافہ کرے یا 400 روپے امیر کی فکر نہ کرے، کیونکہ معیشت صرف اعداد و شمار کا نام نہیں، یہ انسانی رویوں اور ان کی حالت کا نام ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پاکستان کے غریب متاثر ہوئے ہیں اور اب امیروں کے لیے ہائی اوکٹین اور غریبوں کے لیے مٹی کا تیل دونوں کی قیمت میں اضافہ کرکے حکومت نے شاید جتایا ہو کہ اس کے نزدیک امیر و غریب سب برابر ہیں۔ سب کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

کراچی کی بندرگاہ پر کھڑے اہلکاروں کی آنکھیں دور افق پر جمی ہو ئی ہو سکتی ہیں اور ان کے کان بحیرہ عرب کی لہروں کی سرگوشیاں سن رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی لہریں اچھل اچھل کر پیغام دے رہی ہیں کہ تمہارے بڑے بڑے دیوہیکل تیل بردار جہاز جن میں کروڑوں بیرل تیل لدا ہوا ہے بس پہنچ رہے ہیں۔ جیسے ہی کسی جہاز کے لنگرانداز ہونے کی خبر متعلقہ دفاتر میں پہنچتی ہے تو قیمتوں کا تعین، لیوی کا حساب اور مہنگائی کے نئے گراف تیار ہونے لگتے ہیں۔ اس مرتبہ ایک طرف ہائی اوکٹین کی لیوی میں اضافہ کیا ہی تھا کہ معیشت کا ترازو جھکنے لگا لہٰذا انصاف کا تقاضا تھا کہ برابر ناپ تول کر دیا جائے۔

اس کے ساتھ ہی ایک اور فیصلہ صادر ہوا کہ مٹی کا تیل بھی تقریباً 71 روپے مہنگا کر دیا گیا ہے۔ شاید لالٹین جلانے والے، مٹی کے تیل کا چولہا جلانے والے سوچ رہے ہوں گے کہ سمندر کی لہروں کا بھی یہی انصاف ہے۔ کسی کے لیے موتی لاتے ہیں اور کسی کے لیے صرف جھاگ۔ اسی لیے میرے گھر کی لالٹین اب بہت جلدی بجھ جایا کرے گی۔ یہ کیسی معیشت ہے جہاں ایک طرف بڑی گاڑیوں کا دھواں غریب کے پھیپھڑوں میں اترتا ہے اور دوسری طرف گزشتہ 7 ماہ میں 9 ارب 4 کروڑ ڈالرز کا درآمدی تیل منگوایا جاتا ہے۔

ایران امریکا جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے مد و جزر کے اثرات تیل کی قیمتوں پر زیادہ مرتب ہو رہے ہیں۔ کبھی کوئی لہر قیمت بڑھاتی ہے اور کوئی لہر دو چار ڈالر کم کر دیتی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور علاقائی کشیدگی کے باعث ماہرین کا خیال ہے کہ صورت حال بتا رہی ہے کہ تیل کا درآمدی بل 20 ارب ڈالر سے بھی زائد ہو سکتا ہے۔

سمندر کی لہریں سرگوشیاں کر رہی ہیں کہ ہم نے آبنائے ہرمز کے مد و جزر سے اپنی تقدیر وابستہ کر لی ہے اور تُو ہائی اوکٹین کے دھوئیں میں 9 ارب روپے کی بچت کرکے اپنی منزل ڈھونڈتا ہے۔ شام ہونے سے پہلے ذرا لالٹین کی لُو تیز کر تو معلوم ہوگا کہ تیرا رب تیرے سر پر روزانہ سورج کی صورت میں سخاوت کا سمندر مد و جزر کے مراحل طے کراتا ہوا شاید پیغام دے رہا ہو کہ تُو نے تیل بردار دیو ہیکل جہازوں کا انتظار کرتے کرتے اس روشنی کو بھلا دیا جو مفت میں تیری چھت پر روز برستی ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ تیل کی اس غلامی کا بوجھ کم کریں، کیونکہ ماہرین کا خیال ہے کہ سولر سسٹم ہی ہمارا مستقبل ہے۔ سولر پینلز کے تاجروں کو خاص طور پر مراعات دینا ہوں گی۔ خصوصاً ان تاجروں کو ’’محسن قوم‘‘ کا خطاب دینا ہوگا جنھوں نے اس وقت دھوپ کو بجلی میںبدلنے کا خواب بیچا جب لوگ اسے دیوانے کی بڑ سمجھتے تھے۔

ان تاجروں نے اس وقت مارکیٹ بنائی جب نیٹ میٹرنگ کا تصور تھا نہ گرین انرجی کی اتنی پکار تھی۔ آج ان لوگوں کے لیے آسانیاں فراہم کرنا ہوں گی، سولر پینلز، انورٹرز، لیتھیم بیٹریوں کی درآمد کو آسان کرنا ہوگا، جس طرح 1969 میں اپالو الیون نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ اسی طرح آج بھی ہمیں ایسے ’’اپالو‘‘ مشن کی ضرورت ہے اور ’’سولر کا اپالو‘‘ تلاش کرنا ہوگا جو ہمیں تیل کے بوجھ سے نجات دلا کر خودکفالت کے آسمان تک لے جائے۔





Source link

Continue Reading

Trending